وفاق اور صوبوں میں تناؤ، ذمہ دار کون؟


2018 کے عام انتخابات کے بعد مرکز میں حکومت تحریک انصاف کے حصے میں آئی تو عوام امیدوں کی جنت میں چلے گئے۔ سب کو ایسا لگنے لگا کہ وعدوں کے مطابق اب پیٹرول 48 روپے کا ہو جائے گا، ہر چور اب سلاخوں کے پیچھے ہوگا، حزب اقتدار اور حزب اختلاف کا فرق ختم ہوجائے گا۔ کسی کو کوئی چھوٹ نہیں ملی گی، اب پاکستان کی آئی ایم ایف سے جان چھوٹ جائے گی، پاکستان قرضوں کے بوجھ سے آزاد ہوجائے گا، نوجوانوں کو روزگار ملے گا، پنشنرز کو دھکے نہیں کھانے پڑیں گے، پولیس تبدیل ہوجائے گی، سرکاری تعلیمی ادارے بدل جائیں گے۔ ہر جگہ سے رشوت خوری کا صفایا ہاجائے گا۔

لیکن افسوس کہ تبدیلی سرکار کو آئے ہوئے کئی ماہ گزرگئے مگر ایسا کچھ نہ ہوا جس کی امیدیں عوام کو تھیں۔ حقیقت میں ایسا ہونا آسان نہ تھا نہ ہی 100 دن، 4 ماہ یا 6 ماہ میں ممکن تھا۔ پاکستان کی معیشت تباہی کی جانب گامزن ہے آنے والی حکومت کے پاس کوئی ایسا جادو کا چراغ نہیں تھا جسے رگڑتے ہی سب اچھا ہوجائے۔

اگر یہ کہا جائے کہ پاکستان کے حالات تبدیل ہو ہی نہیں سکتے تو یہ کہنا بالکل غلط ہوگا۔ پاکستان کے حالات میں تبدیلی نا ممکن نہیں۔ پاکستان ایٹمی طاقت ہے، پاکستان میں قدرت کی عطا کردہ ہر نعمت ہے، پاکستان میں زیر زمین معدنیات کے خزانے موجود ہیں پاکستان ترقی بھی کرسکتا ہے، ملک میں ایسے ادارے موجود ہیں جو کرپشن کا خاتمہ بھی کر سکتے ہیں، ملک میں ایسے تاجر موجود ہیں جو ملک کا قرضہ اتارنے میں حکومت کی مدد کرسکتے ہیں، بیرون ملک ایسے پاکستانی مقیم ہیں جو اپنے ملک میں پیسہ بھیج کر ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں، ملک میں سرمایہ کاری کے بھی قوی امکانات موجود ہیں۔ لیکن اس سب کے لئے سب سے اہم ہے صوبوں اور صوبائی حکومتوں کا اتحاد۔

تحریک انصاف کی حکومت خوش نصیب ہے کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں بھی اسی کی حکومت ہے، کے پی کے عوام نے بھی تحریک انصاف کا ہی منتخب کیا، بلوچستان میں بھی تحریک انصاف صوبائی حکومت کی اتحادی ہے۔ معاشی لحاظ سے پاکستان کے سب سے اہم صوبے سندھ کے عوام نے 2018 میں اپنا فیصلہ پیپلز پارٹی کے حق میں دیا۔ یہ واحد صوبہ ہے جہاں تحریک انصاف اپوزیشن بنچوں پر ہے اور یہی صوبہ ہے جہاں صوبائی اور وفاقی حکومت کے درمیان شروع سے تناؤ دیکھنے میں آیا ہے۔ یقینی طور پر یہ تناؤ ملک اور عوام کے لئے شدید مشکلات کا باعث بن سکتا ہے اور یہ تناؤ کسی بھی وقت بڑے بحران کو جنم دے سکتا ہے۔ آخر ملک کے اس اہم صوبے اور وفاق کے درمیان تناؤ کیوں ہے؟ اور اس کی وجہ کیا ہے؟

سندھ کی حکمران جماعت پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری پر منی لانڈرنگ کے الزامات ہیں، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور بھی مقدمات کی زد میں رہتی ہیں، سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کے خلاف بھی تحقیقات کی گئیں۔ کسی بھی فرد کے خلاف تحقیقات کرنا قانون نافذ کرنے والے اداروں کا حق اور فرض ہے۔ پیپلز پارٹی کے لوگوں نے عدالتوں کا سامنا کیا اور کر بھی رہے ہیں، عدالتیں یا ادارے ان کے خلاف جو بھی فیصلہ دیں گے وہ عوام کو اسی طرح قبول ہوگا جس طرح میاں نواز شریف کے خلاف آنے والے فیصلے کو سب نے تسلیم کیا لیکن فیصلہ آنے سے قبل کسی کو کسی پر الزام لگانے کا حق نہیں۔

تحقیقات کے آغاز کے وقت مملکت کے وزیراعظم نے ایک بیان دیا کہ سندھ سے چیخوں کی آوازیں آرہی ہیں۔ وزیراعظم نے تو بات کسی اور پس منظر میں کہی لیکن کوئی بھی فرد اس کا کچھ بھی مطلب نکال سکتا تھا، اسی طرح وفاقی حکومت کے وزرا بھی سندھ کے ذمہ داروں کے خلاف بیان بازی کرتے رہتے ہیں۔ سندھ کے حکومتی افراد بھی وفاق کے لوگوں کے الزامات کا جواب بڑھ چڑھ کر دے رہے ہیں۔ سیاسی بیان بازی کے نتیجے میں عوام میں اشتعال پیدا ہوسکتا ہے۔ ایوان میں اپوزیشن اور حکومتی افراد ایک دوسرے کو چور کہہ کر مخاطب کر رہے ہیں۔ چیئرمین سینیٹ کارروائی سے الفاظ حذف کر کر کے تھک جاتے ہیں لیکن غیر اخلاقی زبان کا بے دریغ استعمال ہوتا رہتا ہے، افسوس کے کچھ افراد کی جانب سے تو اب پریس کانفرنسز میں گالیوں کا بھی استعمال ہونے لگا ہے۔

حکومت کے کئی ماہ گزر جانے کے بعد یہ تناؤ ختم نہ ہوا اور آصف زردای نے وہ کام کر دکھایا جو میاں نواز شریف یا شہباز شریف نہ کرسکے، اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کرلیا۔ اس فیصلے کے بعد اپوزیشن متحد ہو گئی۔ آصف علی زرداری نے حزب اختلاف کی جماعتوں کی ترجمانی کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اتحاد ہو گیا ہے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن اتحاد کو بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے بتایا ہے کہ اجلاس میں تین نکاتی ایجنڈا طے کیا گیا ہے عوام کے معاشی، انسانی اور جمہوری حقوق پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

یہ اتحاد کسی نہ کسی حد تک حکومت کے لئے مشکلات کا باعث بنے گا۔ حکومتی ذمہ داروں کو بیان بازی کے بجائے صوبوں میں دوریاں ختم کرنا ہوں گیں۔ وفاق اور صوبائی حکومتوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ ملک میں چوروں ڈاکوؤں کو گرفتار کرنے کے لئے ادارے اور ان کو سزا دینے کے لئے عدالتیں موجود ہیں۔ جو احسن طریقے سے اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ لہذا چور چور کا راگ آلاپنے کے بجائے حکومت اور اپوزیشن کو عوام کا سوچنا ہوگا، صوبوں اور وفاق کے درمیان اتحاد ناگزیر ہے اگر ایسا نہ کیا تو ملک اور عوام کو بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، سیاست دانوں کو اس زاویے سے سوچنا ہو گا۔

Facebook Comments HS