لاک ڈاؤن میں نرمی آتے ہی دو دن میں 8 ارب کا کاروبار ہوا اس سے یہ بات تو ظاہر ہے کہ عوام کے پاس پیسہ تو ہے۔ لیکن کہیں کہیں ایسا بھی دیکھنے کو آیا کہ ماں نے اپنے کان سونے کر دیے بالیاں نکال دیں اور لاک ڈاؤن میں نرمی آتے ہی اپنی شادی کی بالیاں سونار بیچ دیں، بیٹی کا نیا جوڑا جو خریدنا تھا۔ لوگ کیا کہتے اگر بیٹی عید پر پرانا جوڑا پہنتی، ایک تو اس غریب کو لوگ کیا کہیں گے مار دیتا ہے۔
خیر اس صورتحال سے قبل راشن تقسیم کا کام جاری تھا کچھ دوستوں کی مدد سے تب تو ہر کوئی مجبور نظر آ رہا تھا لیکن کچھ واقعی مجبور تھے۔ دوستوں کی مدد سے کچھ د ن یہ کام جاری رہا مختلف افراد جنہوں نے تعاون کیا ان کی جانب سے اور ٹیم کی جانب سے سوشل میڈیا پر چندے کی درخواست بھی ہوئی۔ جس دن سوچتے آج آخری دن ہے اسی دن کوئی نہ کوئی ضرورت مند سامنے آ جاتا لہذا دوبارہ دوستوں سے رابطہ کرنا پڑتا اسی طرح ایک دن کو کام کا آخری دن سمجھ کر لیٹا ہی تھا کہ ٹیلی فون کی گھنٹی بجی موبائل اٹھا کر دیکھا تو محلے کے قاری صاحب کا فون تھا۔ قاری صاحب اسلام علیکم کیسے ہیں آپ؟ جی میں ٹھیک ہوں آپ خیریت سے ہیں؟ جی میں خیریت سے ہوں۔ بھائی وہ معلوم پڑا تھا آپ راشن تقسیم کر رہے ہیں۔
قاری صاحب کی یہ بات سن کر میں چکرا گیا۔ قاری صاحب کی تنخواہ صرف 15 ہزار ہے خدا جانے مسجدوں میں
Read more