کشمیر سے محبت اور باکسنگ رنگ کا یونس خان

کشمیر پر بھارتی مظالم کا آغاز تقسیم ہند سے ہی شروع ہوگیا تھا۔ بھارت نے کشمیر میں ظلم کی ایسی داستانیں رقم کیں جن پر شاید انسانیت تو کیا ابلیس بھی شرما جائے۔ یوں تو دنیا کے منصف ہر فورم پر امن امن کی رٹ لگائے رکھتے ہیں لیکن کشمیر کی وادیوں میں بہتا خون…

Read more

منی بجٹ: تحریک انصاف کو اگلا الیکشن خریدنا نہیں پڑے گا

کہا جاتا ہے کہ زبان سے نکلے الفاظ واپس نہیں جاتے اس لئے بولنے سے پہلے کئی بار سوچ لینا چاہیے۔ انسان ناجانے جوش خطابت میں کیا کیا کہہ جاتا ہے۔ سیاست میں بھی جوش خطابت کی کئی مثالیں ملتی ہیں شہباز شریف بھی شاید جوش خطابت میں ہی کہہ گئے تھے کہ زرداری صاحب…

Read more

وفاق اور صوبوں میں تناؤ، ذمہ دار کون؟

2018 کے عام انتخابات کے بعد مرکز میں حکومت تحریک انصاف کے حصے میں آئی تو عوام امیدوں کی جنت میں چلے گئے۔ سب کو ایسا لگنے لگا کہ وعدوں کے مطابق اب پیٹرول 48 روپے کا ہو جائے گا، ہر چور اب سلاخوں کے پیچھے ہوگا، حزب اقتدار اور حزب اختلاف کا فرق ختم…

Read more

پرنٹ میڈیا کی بقا

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ہمیں ریاست اور حکومت پر اعتماد بحال کروانا ہے، مستقبل کے بدلتے رجحانات پر نظر رکھنی ہوگی۔ اس مقصد کے لیے ہم میڈیا یونیورسٹی بنانے جا رہے ہیں، مستقبل میں پرنٹ میڈیا کی بقا ممکن نظر نہیں آ رہی۔ انفارمیشن گروپ کی اہمیت بڑھتی جارہی ہے۔ ، فواد چوہدری نے کہا کہ سوشل میڈیا تیزی سے ترقی کرتا جا رہا ہے، مستقبل میں سنسر شپ حکومت کے ہاتھ سے نکل جائے گی۔

انتہائی محترم وزیر اطلاعات کے بیان کے بعد وہ صحافی جو یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ حکومت ان کے مسائل کو حل کرے گی امید ہار بیٹھے۔ وزیر اطلاعات کے مطابق تو پرنٹ میڈیا کی بقا ممکن نہیں لیکن کیا حکومت اس شعبے سے وابستہ افراد کے روزگار کے لئے کوئی اور انتظام کرے گی۔ اشتہارات نہ ملنے کے باعث جہاں ہزاروں صحافی بیروزگار ہوئے وہیں بہت سوں نے اس فیلڈ کو خیر باد کہہ دیا۔ چند ایک اب بھی اس شعبے سے چمٹے ہیں، ان میں اکثریت معاشرے کے وہ افراد ہیں جو انتہائی تعلیم یافتہ ہیں کیا اخبارات بند ہوجانے کے بعد حکومت ملک کے ان اثاثوں کے لئے وظیفہ جاری کرے گی؟

Read more

بچھڑا کچھ اس ادا سے

ایک دور تھا کہ کراچی میں گھر سے نکلنے سے قبل لوگ خبریں ضرور سنا کرتے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہرگز نہ تھی کہ کراچی کے لوگوں کو با خبر رہنے کا بڑا شوق تھا بلکہ اس کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ جانے سے قبل یہ معلوم کرلیا جائے کہ کس کس راستے پر دھرنا یا احتجاج جاری ہے، کہاں کس کو قتل یا شہید کردیا گیا، کہاں کس کے کہنے پر ہڑتال ہوگئی ہے۔ ان تمام خبروں کے جاننے کے بعد کراچی کے لوگ فیصلہ کرتے تھے کہ گھر سے نکلا جائے یا گھر میں ہی رہنے میں عافیت ہے گویا حال یہ تھا کہ لوگوں کو گھروں سے نکلنے کا بھی استخارہ کرنا پڑتا تھا۔

ایک طویل عرصے تک روشنیوں کا شہر تاریکوں میں ڈوبا رہا۔ کہیں کسی کو قربانی کی کھال نہ دینے پر موت کی نیند سلا دیا جاتا تو کہیں کوئی بھتہ نہ دینے کی وجہ سے دنیا سے رخصت ہوجاتا۔ کبھی تو ایسا بھی ہوتا کہ ایک گلی میں رہنا والا صرف اپنی مخالف جماعت کے زیر اثر گلی میں داخلے پر مار دیا جاتا۔ اس تمام صورت حال کا ذمہ دار کسی ایک جماعت کو نہیں ٹھرایا جاسکتا اس کام میں جس سے جتنا ہو سکا اس نے اپنی طاقت کے مطابق اتنا حصہ ڈالا۔

Read more

صحافیوں پر تشدد، قتل اور معاشی قتل

آج ملک بھر میں یہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے کہ صحافی اپنے کارڈ، مائیک یا کیمرے کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے ملک میں بہت سے ایسے افراد موجود ہیں جو صحافت کا لبادہ اوڑھے اس پیشے کو بدنام کر رہے ہیں لیکن اسی کے ساتھ ملک بھر میں ایسے کئی صحافی موجود ہیں۔ جن کی زندگی جدجہد پر مبنی ہے۔ جنہوں نے صحافت کی تعلیم حاصل کی، تحقیق میں اپنا نام پیدا کیا، اپنی زندگیاں اس شعبے کے لئے وقف کردیا اور ہر خبر عوام تک پہنچائی۔ ایسے صحافیوں کے لئے ہمیشہ سے ہی زمین تنگ کردینے کی کوشش کی گئی ہے۔ صحافیوں پر تشدد کوئی نئی بات نہیں ہے۔

Read more

حکومتی وعدے اور عوام کا حال

پاکستانی سیاست کا جائز ہ لیا جائے تو یہاں تین طرح کی سیاسی شخصیات نظر آتی ہیں۔ پہلی قسم ان سیاستدانوں کی ہے جو طویل جدوجہد کے بعد لیڈر تسلیم کئے گئے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے برصغیر کے مسلمانوں کے لئے طویل سیاسی جدوجہد کی، نہ دن دیکھا نہ رات اور توجہ اپنے مقصد…

Read more

جادوئی گولی کے اثرات

صحافت کا شوق بھی عجیب شوق ہے، جیب میں کچھ نہ ہو پھر بھی خبر کی تلاش گھر نہیں بیٹھنے دیتی۔ صحافت کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد میدان صحافت میں انٹری کے لئے کافی پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ کسی سینیر صحافی کے ساتھ کام کرنا پڑتا ہے تب جاکر کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ پھر آغاز میں ذہن یہ ہوتا ہے کہ کسی بھی ادارے میں ایک بار داخل ہوجائیں پھر بڑے اداروں میں جانے میں آسانی ہوگی۔ صحافیوں کی افطار پارٹی ہو یا کوئی اور دعوت اس میں شرکت کو ہر نیا صحافی بڑی سعادت سمجھتا ہے، پھر نئے صحافیوں کو آغاز میں کسی پریس کانفرنس میں جانے کا موقع مل جائے تو ان کی کیفیت دیکھ کر ایسا گمان ہوتا تھا کہ شاید جنت میں داخلے کا پروانہ مل گیا ہے۔ پھر اگر کسی بڑی سیاسی شخصیت کے ساتھ سیلفی ہوجائے تو عید سی لگتی تھی۔

Read more

مولانا سمیع الحق کی سیاسی و دینی خدمات پر ایک نظر

مولانا سمیع الحق کی دینی خدمات اور اسلامی شعائر کے حوالے سے ان کی حساسیت اور قائدانہ کردار سے سبھی واقف ہیں۔ مولانا سمیع الحق 18 دسمبر 1937 ء کو اکوڑہ خٹک میں پیدا ہوئے، ان کے والد شیخ الحدیث مولانا عبد الحق نے اکوڑہ خٹک میں ممتاز دینی درسگاہ دارلعلوم حقانیہ کی بنیاد رکھی،…

Read more

کراچی میں بچوں کے اغوا کی وارداتیں

کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے۔ ماضی میں اس شہر کے حالات بے حد خراب رہے۔ کراچی کا ہر علاقہ کسی نہ کسی کے لئے نو گو ایریا بن چکا تھا۔ ہر علاقے میں کسی نہ کسی سیاسی جماعت اور قومیت کا زور ہوتا تھا، جہاں جو طاقت میں ہوتا وہ اپنے مخالفین کا وہاں…

Read more