ختم کیا صبا نے رقص، گل پہ نثار ہو چکی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مورخہ 17 جنوری 2019: آج شام سے عزت مآب چیف جسٹس ثاقب نثار، عزت مآب جج نہیں رہیں گے مگر یہ بات تو ثاقب نثار کے بدترین مخالف بھی مانیں گے کہ انہوں نے اپنا نام تاریخ میں رقم کروا لیا ہے۔ یہ امر بحث طلب ہے کہ روشنائی کی رنگت سنہری تھی یا گن پاؤڈر بلیک، لیکن اس میں کلام نہیں کہ تاریخ کے پنوں پر ان کا نام پاکستانی تاریخ کے لافانی جج مسٹر جسٹس منیر سے دو قدمچے اوپر ہی لکھا جائے گا۔ یہ امر ہرگز بھی بحث طلب نہیں ہے کہ جسٹس ثاقب نثار نے جسٹس منیر سے کہیں بڑھ کر ملک کے وسیع تر مفاد کو سمجھا اور اس کے مطابق ان سے بڑھ کر فیصلے دیے۔

جج تو تاریخ میں بہت گزرے ہیں، مگر کتنے ایسے تھے جن کی عدالتوں کے اندر رپورٹروں کا مجمع لگا ہوتا تھا۔ ٹی وی پر لوگ خبرناک، مذاق رات اور حسب حال جیسے سپر ہٹ شوز کو چھوڑ کر عدالتی کارروائی کا حال دیکھا کرتے تھے۔ بخدا ثاقب نثار کا نام تو عالمی عدالتی تاریخ میں لکھا جائے گا جنہوں نے اس قدیم مفروضے کو غلط ثابت کر دیا کہ ”جج نہیں بولتے، ان کے فیصلے بولتے ہیں“۔ دنیا شاہد ہے کہ کورٹ روم نمبر ون میں فیصلے نہیں بلکہ جج بولتے تھے اور کورٹ روم نمبر ون کے باہر لوگ ان کی تعریف میں رطب اللسان ہوتے تھے۔

اسی وجہ سے اکتوبر 2018 میں جب گیلپ نے اپنے سروے کے ریزلٹ شائع کیے تو 68 فیصد عوام نے ان کی پرفارمنس کو بہترین، اچھا یا مناسب قرار دیا تھا۔ ہماری ناقص معلومات کے مطابق اس سے پہلے ایسی زبردست ریٹنگ سلطان راہی کے سوا کسی کو نصیب نہیں ہوئی۔ سلطان راہی تو خیر خوش قسمت تھے، ان کے سامنے بولنے کو مصطفی قریشی جیسا ہیرا موجود تھا۔ حق تو یہ ہے کہ جسٹس ثاقب نثار نے سولو پرفارمنس پر دل جیتے اس لئے انہیں مولا جٹ سے بڑھ کر جاننا چاہیے۔ بخدا جب ہم کورٹ روم نمبر ون کے ڈائیلاگ پڑھتے تھے تو یہی سوچتے تھے کہ کیا مولا جٹ کے ڈائیلاگ اس سے بہتر ہو سکتے ہیں؟

ہم نے خلیفہ ہارون رشید کی الف لیلہ تو پڑھی تھی کہ کیسے وہ اپنے وزیر جعفر کے ساتھ بھیس بدل کر رات کو شہر کا گشت کیا کرتے تھے تاکہ رعایا کے حالات سے باخبر رہیں۔ اسی چکر میں وہ کبھی کسی حسینہ کی محفل میں پہنچ جاتے تھے کبھی کسی سوداگر کی۔ مگر چیف جسٹس افتخار چوہدری نے ٹی وی ٹکرز کے ذریعے رعایا کے حالات سے باخبر رہنے اور ان پر سو موٹو لینے کی جو طرح ڈالی، اس فن کے امام جناب ثاقب نثار ٹھہرے۔ ہمارے ممدوح نہ صرف ٹکر دیکھ کر موزوں ڈائیلاگ ارزاں کرتے تھے بلکہ بہت سے ٹکرز کی پیدائش ان کے دم سے ہوئی۔

پیدائش کی بات چلی تو جناب ثاقب نثار کی شعبہ آبادی میں خدمات کو خراج تحسین پیش نہ کرنا زیادتی ہو گی۔ آبادی میں زیادتی کو روکنے کے لئے جناب ثاقب نثار نے ہر ممکن کوشش کر ڈالی۔ ان کے جذبے اور جنون کو دیکھ کر ایک وقت تو ہمیں یہ گمان ہونے لگا تھا کہ وہ کہیں سپریم کورٹ کے اوپر لگے سبز پرچم کی بجائے سبز ستارہ ہی نہ آویزاں کر دیں۔ بہرحال جس طرح انہوں نے ویک اینڈ پر بھی عدالت لگائیں اس کی وجہ سے آبادی میں کچھ کمی تو ہوئی ہو گی۔

آبادی سے ہٹ کر صحت کی بات کی جائے تو جناب ثاقب نثار نے نہ صرف بڑے بڑے سرکاری ہسپتالوں پر چھاپے مارے، بلکہ ایک بڑے پرائیویٹ ہسپتال کے مالک کی تو ایسی ناک رگڑی کہ وہ اپنا بیرون ملک سے لایا ہوا تمام دھن واپس لے جانے پر آمادہ ہو گیا۔ یہی حال پنجاب کے واحد کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ سینٹر کے سربراہ کا ہوا جو باہر سے آئے تھے اور باہر جانے میں ہی عافیت پانے لگے۔ ورنہ وہ اندر ہو جاتے۔

پھر ایک مسئلہ پانی کا تھا۔ جناب ثاقب نثار نے محسوس کیا کہ پانی کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے اور کوئی بھی بڑا فیصلہ لینے سے ہر شخص بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کتراتا ہے۔ اس لئے جناب ثاقب نثار نے سپریم کورٹ کا ڈیم فنڈ بنا دیا۔ سات مہینے میں اس میں کوئی نو ارب روپے اکٹھے ہو چکے ہیں۔ اس میں سے ایک بڑی رقم تنخواہ دار طبقے نے دی اور کچھ سپریم کورٹ کے وکلا، سائلین اور ملزمان نے۔ باقی صرف ساڑھے انیس کھرب روپے بچے ہیں۔ اسی جذبے سے کام ہوتا رہا تو انشا اللہ کوئی 116 برس میں مطلوبہ رقم اکٹھی ہو جائے گی بشرطیکہ ڈالر کا ریٹ یہی رہا۔

ڈیم فنڈ کے لئے ثاقب نثار نے باہر کے ممالک کا دورہ بھی کیا جو زیادہ بارآور ثابت نہ ہوا جس کی وجہ بیرون ملک پاکستانیوں کا اس معاملے کی اہمیت کو نہ سمجھنا ہے۔ صرف انیل مسرت اور ان جیسے چند دوسرے سرمایہ کار ہی جناب ثاقب نثار کے ساتھ تعاون کر پائے۔

ہمیں یہ دیکھ کر افسوس ہو رہا ہے کہ اب اپنے اختتامی خطبات میں صفائی سی پیش کر رہے ہیں کہ انہوں نے اپنی حدود سے تجاوز نہیں کیا اور کسی کی دل آزاری ہوئی ہو تو وہ معافی چاہتے ہیں۔ ہم انہیں بزبان شاعر یہی مشورہ دیں گے

مت منہ سے نثارؔ اپنے کو اے جان برا کہہ
ہے صاحب غیرت کہیں کچھ کھا کے نہ مر جائے

جناب ثاقب نثار نے خود کو تاریخ میں جسٹس منیر کی طرح امر کر لیا ہے۔ نواز شریف کی بخشش کے لئے کیا یہی کافی نہیں ہے کہ انہوں نے ثاقب نثار جیسی تاریخ ساز شخصیت کا چیف جسٹس بننا ممکن بنایا؟ کیا ان کا قوم پر یہ ایک احسان ہی ثاقب نثار کے تمام قومی احسانات پر بھاری نہیں ہے؟

اب چیف جسٹس ثاقب نثار سابق ہوئے ہیں اور نئے چیف جسٹس نے کورٹ روم نمبر ون سنبھالا ہے تو ہم حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ کی عمارت پر رنگ و روغن کرنے کے لئے کم از کم ایک ارب روپے کی سپیشل گرانٹ دی جائے تاکہ وہ دوبارہ اجلی دکھائی دینے لگے۔

تاریخ  اشاعت: 17 جنوری 2019


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1431 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar