ہم نئی تہذیب کے ادھ ابلے انڈے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے کُچھ سالوں میں انسانی رویوں میں انتہاپسندی، عدم برداشت، جنسی بھوک اور ڈپریشن نے جتنی تیزی سے اپنا زہر گھولا ہے اس کا عملی مظاہرہ نہ صرف ہمارے سامنے ہے بلکہ ایک حساس ذہن رکھنے والے نفیس انسان کے لیے یہ سب کسی سوہان ِ روح سے کم نہیں۔ ویسے تو ہر عمر کا انسان ہی اس قسم کی دماغی اور نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہے پر ہماری نوجوان نسل میں اس قسم کے رویہ کے مظاہرے کی شرح کا تناسب ہماری سوچ سے بھی زیادہ ہے۔ ہر وہ انسان جو اس قسم کے رویہ کی وجوہات اور نتائج کی تھوڑی سی سوجھ بوجھ بھی رکھتا ہے وہ اس کی ہولناکیوں سے نا صرف اچھی طرح واقف ہے بلکہ اس کے تدارک کے لئے فکر مند بھی ہے۔

مگر کریں کیا! ہم جس معاشرے اور سماج کا حصہ بن چُکے ہیں وہاں کوئی اس بات کو سمجھنے کے لیے تیار ہی نہیں کہ نفسیات اور نفسیاتی پژمردگی بھی کسی بلا کا نام ہے۔ اور اگر کسی کی سمجھ میں کُچھ آ بھی جائے تو اول تو وہ اس کی بنیادی وجوہ کا خود یقین نہیں کرتا اور اگر کر بھی لے تو اس کی معاشرتی بزدلی اسے کبھی اجازت نہیں دے گی کہ وہ اس کا سدِباب کر سکے۔

جی ہاں! ہم انتہائی بزدل اور منافق قسم کے لوگ ہیں جو بند کمرے میں پورن فلم دیکھتے ہیں اور باہر نکل کر ایسی فلمیں بنانے والوں، ان میں کام کرنے والوں، ان کو بیچنے اور ان کو دیکھنے والوں پر لعنت بے شمار کرتے ہوئے ان پر جہنمی ہونے کی مہر ثبت کرتے ہوئے ذرا نہیں شرماتے۔ ہماری یہ معاشرتی منافقت اور بزدلی ہی ہمیں لے ڈوبی۔ جی ہاں! ہماری اپنی منافقت اور بزدلی ( چاہے کسی کو ہٖضم نہ ہو مگر حقیقیت یہی ہے ) ۔

ہم نے معاشرے میں شریف اور بدمعاش، مہذب اور غیر مہذب، نیک اور بد، جنتی اور جہنمی، مسلمان اور کافر، اسلامی اور غیر اسلامی، حلال اور حرام کے پیمانے اپنی ذہنی استعداد کے مطابق وضع کر رکھے ہیں۔ افتاد یہ کہ وہ پیمانے اس قدر سخت اور منافقانہ ہیں کہ ان پر پورا اترتے اترتے جہاں ہماری نئی نسل نفسیاتی ہیجانیت، بے چینی، انتہا پسندی اور قنوطیت کا شکار ہوئی ہے وہاں ہمارے بابے بھی ٹھرک پن کے آخری درجے کی پرلی نکڑ پر کھڑے کپڑے جھاڑ رہے ہیں۔

اس ساری صورتحال کو اگر سہل پیرائے میں بیان کروں تو کلام کُچھ یوں ہے کہ جمالیاتی حس اور جمالیات سے پیار، خداوند ِ کریم نے انسانی فطرت میں رکھا ہے۔ انسان کا جوڑا تخلیق کیا تو اس کے رہنے کے لیے خوبصورت زمین بھی تخلیق کی۔ اور حکم دیا کہ اس زمین کی سیر کرو اور اپنے رب کی قدرت کا نظارہ کرو۔ مطلب لطف اٹھاو، سکھی رہو اور اس کی تعریف کرو۔ (عبادت، شکر، حمد )

اگر اس معاملہ کی آزاد تشریح کی جائے تو انسانی خمیر اور مٹی کو سامنے رکھ کر خدا نے انسان پر رونقیں، میلے ٹھیلے، ناچنا، گانا، تہوار منانا، ہنسنا کھیلنا، موسیقی سننا اور قدرت کی رنگینیوں سے پیار کرنا حرام نہیں کیا (اگر کہیں کیا ہے تو ثابت کریں ) ۔

ہاں اس پر کُچھ حدود مقرر کی ہیں، خدا کی مقرر کردہ حدود، جس میں زنا، بے لباسی، بے حیائی، جھوٹ بولنا، چوری، شراب پینا جوا کھیلنا اور اس قسم کے دیگر کام حرام کیے۔ آخر کیوں؟ کیونکہ یہ ہم انسانوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔ میرے رب کو تو کوئی فائدہ یا نقصان نہیں ان سے اور فقط ہمارا ہی فائدہ ہے اس میں۔ تو پھر اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر وہ چیز جس میں انسان کے نقصان کے بجائے مثبت فائدہ ہے وہ حرام نہیں ہے۔ ، یقین نہ آئے تو غور فرما لیجیے۔

اب لوٹتے ہیں موضوع کی طرف۔ ہم نے کیا کیا؟ ہم نے رقص، موسیقی، تفریحات، میلوں اور تہواروں غرض قدرت کی رنگینیوں سے پیار کرنا چھوڑ دیا۔ ہر شے کو اسلامی و غیر اسلامی عدسے سے دیکھنا شروع کردیا اور عدسہ بھی وہ جو ہم نے خود تخلیق کیا۔ ہمارے اندر کنڈلی مار کے بیٹھے ایک ہالف بوائلڈ مولوی ( کچا پکا) نے اس پر مہر ثبت کی اور ہم نے اس کے پیچھے نیت باندھ لی۔ تنیجہ کیا نکلا؟

ہر وہ شے جو انسان کو قدرت کے قریب لیجانے کا ذریعہ ہو سکتی تھی وہ حرام ٹھہرائی گئی۔ قدرت کے سبھی رنگ ہم نے ہندوانہ اور غیر اسلامی قرار دے کر اپنی زندگیوں سے نکال باہر کیے اور اپنے تئیں جنت کی ٹکٹیں کھری کیں۔ اب جب پلٹ کے دیکھا تو بچا کیا؟

بے رونقی، بے رنگی، صرف کام کام کی بھاگ دوڑ، روز مرہ زندگی کی پریشانیاں اور اسی قسم کے اور مسائل۔ اور یوں ہماری مثال اُس مشین کی سی ہو گئی جس کے پرزہ جات کو کبھی تیل نہ دیا جائے۔ اسے پر روز بے دردی سے چلایا جائے اور کپڑے سے یوں ڈھانپ کے رکھا جائے کہ کہیں سے ہوا بھی نہ لگ سکے۔ اور بالآخر وہ چل چل کر اتنی گرم ہو کہ پھٹ جائے۔ ۔ یہ ہوا ہے ہمارے ساتھ۔

کوئی نفسا نفسی کے اس دور میں میں دوسرے کو برداشت کرنے کے لیے تیار ہی نہیں، کوئی کسی کو رستہ دینے کے لیے تیار نہیں، کسی کے لیے کُچھ پل نکالنے کو تیار نہیں۔ بالکل ایسے جیسے گرم مشین ہوتی ہے۔

دوسری طرف ہم نے اس ساری ٹینشن، ڈپریشن، بے رونقی، بے رنگی کا علاج شراب، زنا، ننگ دھڑنگ اور ہر اس گناہ میں ڈھونڈ لیا ہے جس سے خدا نے منع فرمایا ہے۔

اوپر سے یہاں ایک اور ستم یہ ہوا کہ اپنی تہذیب، ثقافت، وسیب اور رہن سہن کو ہم نے ہندوانہ اور غیر اسلامی قرار دے کر اُس پر لعنت ڈال دی۔ اب آگے کیا؟ اب کُچھ تو کرنا تھا کیونکہ ہم انسانوں کے لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ ہم زندگی کو بلیک اینڈ وائٹ میں جی سکیں۔

انسانی تہذیب و تمدن، ثقافت اور وسیب انسانی معاشرے کی دلیل ہیں ورنہ تو انسان اور حیوان میں صرف دو ٹانگوں کا فرق رہ جاتا ہے ( کہیں کہیں تو وہ بھی نہیں ہے ) ۔ لہٰذا جب ہم اپنی تہذیبو ثقافت سے دست بردار ہوئے تو پھر نتیجتاً ہمیں ایک دوسری تہذیب کا سہارا لینا پڑا۔

بدیسی بولی، بدیسی فلمیں، بدیسی گانے، بدیسی رسمیں، بدیسی طور طریقے، بدیسی تاریخ، غرض ہر شے بدیسی۔ کیونکہ ہمارے اپنے ہاں تو یہ سب حرام تھا۔

یہی وہ موقع تھا جب ہم میں سے اکثریت نے بڑی ہی آسانی سے یہ فرض کر لیا کہ مغربی تہذیب نے ہمارے بچے خراب کر دیے، جا بجا بے حیائی پھیلا دی، ہمیں اسلام سے دور کر دیا، ریپ عام ہوگیا، کیا مُرغی کیا بکری، کیا بھینس کیا گائے، کیا گدھا کیا گھوڑا، کیا بچھڑا۔ کوئی بھی بھی ہماری اس منہ زور و بے لگام جنسی درندگی سے نہیں بچ سکا۔ سارا مغرب کا قصور۔

مولوی حضرات ممبروں پر گلے پھاڑ پھاڑ مغرب کو گالیاں دینے لگ پڑے، موبائل، ٹی وی، انٹرنیٹ غرض ہر وہ شے جو مغرب یا جدیدیت کی اولاد تھی لعنتی، شیطان، جہنمی، فحش، بے حیا اور حرام ٹھہرا کر ہمارے بچوں کی خرابی اور ”مذہب سے دوری کا موجب“ قرار دے دی گئی۔

جب ایسے معاشرے میں بچوں پر اور پابندیاں عائد کی گئیں تو وہ گٹر پر ڈھکن ثابت ہوئیں۔ ہوا بند ڈھکن۔ اب اس گٹر کے اندر کیسا کیسا زہر بھرا پڑا ہے نہ کوئی دیکھنا چاہتا ہے اور نہ کسی میں اتنی اخلاقی جرات اور ہمت ہے۔ کیونکہ دنیا کا سب سے مشکل کام اپنا اصلی چہرہ دیکھنا ہے۔ کتنا آسان ہے نہ دوسرے کو الزام دے کر سائیڈ پر ہو جانا؟ اور اپنے گریباں میں جھانکنا کتنا ہی مشکل۔

ہم مان کیوں نہیں لیتے کہ تمام تر صورتحال جس نے ہماری معاشرتی اقدار کی دھجیاں اڑا کر رکھ دی ہیں اس کا ذمہ دار مغرب نہیں ہم خود اور ہمارے اندر بیٹھا کچا پکا مولوی ہے۔ جس نے ہمیں ہماری تہذیب و تمدن اور قدرت کی رنگینیوں سے دور جا پھینکا، ہمیں فطرت سے دور کر دیا۔ ہمیں قدرت کے تقاضوں کا منحرف بنا دیا۔ اعر سیدھی سی بات ہے کہ انسان جب فطرت سے دور ہوتا یا کیا جاتا ہے تو پھر نتیجہ ٹوٹ پھوٹ ہی نکلتا ہے۔

اور جو بچتا ہے وہ ہیں پریشانیاں اور مایوسی۔ جن سے فرار کے رستے ہمارے لیے مزید ہولناک ثابت ہوئے۔

آپ خود بتائیں کہ اگر یہاں موسیقی اور شاعری کی محافل، میلے ٹھیلے، تہوار جیسے کہ لوہڑی، بیساکھی، جشن بہار، ثقافتی میلے اور مقابلے کروائے جاتے، وارث شاہ، بابا فرید، بلھے شاہ، سلطان باہو، گرونانک اور دیگر مُحبت، پیار اور انسانیت کے پیامبر پڑھے اور مانے جاتے تو کیا یہاں انتہا پسندی، عدم برداشت، فرسٹریشن، نفرت، بے چینی اور اپنی تہذیب و اقدار سے دوری کی شرح یہی ہوتی جو آج ہے؟ ہر گز نہیں۔ یہاں نشے، ڈرگز، سکون آور ادویات عام نہ ہوتیں، نفسیاتی اور جنسی ہیجان عام نہ ہوتا۔

مولوی کہتا ہے کہ ریپ کی وارداتوں میں اضافے کا سبب مغربی تہذیب اور جدیدیت ہے۔ حالانکہ اس کی اصل وجوہات وہ ہیں جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے اور مذید ان میں معاشرتی تقسیم کا اضافپ کر لیجیے۔ امیر اور غریب کی تقسیم، جس نے شادی بیاہ کو مشکل تر کر دیا۔ لینے اور دینے کی تقسیم جس نے شادی کو غریب نوجوان کی پہنچ سے دور کر دیا۔

اور آخر میں عورت اور مرد کی معاشرتی تقسیم اس کی وجہ ہے اور میں یہ ثابت کرنے کے لیے تیار ہوں۔ وہ ایسے کہ ہم نے اپنے لڑکوں اور لڑکیوں کو ایک ہی سماج کی دو مختلف اجناس بنا دیا۔ ایک کے لیے دوسرے سے بات کرنا حرام، شجر ممنوعہ۔ پچیس تئیس سال تک تو لڑکی لڑکا کھل کر ایک دوسرے سے بات نہیں کر سکتے، ایک دوسرے کو سمجھنا تو دور کی بات ہے۔ نتیجہ یہ کہ ہمارے ہاں مرد کے لیے عورت کا وجود ایک جنسی کشش سے زیادہ کُچھ نہیں ہے۔ اسے اس بات کا ادراک ہی نہیں کہ عورت اپنے جسم سے آگے بھی کُچھ ہے۔

ہم کہتے ہیں کہ پرانے زمانے اچھے تھے جہاں شرم و حیا ہوتی تھی۔ مگر ہم یہ نہیں سوچتے کہ کہ پرانے وقتوں میں نہ صرف تہذیب ہماری اپنی تھی بلکہ وہ سب کچھ جو اب حرام اور کافرانہ فعل ٹھرایا گیا تب صرف انسانی فعل ہوتا۔ اور انسان کی جمالیاتی حس کی تسکین کے لیے بہت سے صحت مند ذرائع موجود تھے۔

اور پھر اس کے بعد ہوئی مذہب کی پٹی میں لپٹی تہذیبی یلغار، جس نے نہ صرف مذہب کے نام پر لوگوں کے رہن سہن کا استحصال کیا بلکہ کثیر ثقافتی اور قدرتی رنگوں پر چونا پھیر دیا۔ اس بے رنگی اے اکتا کر اکثریت نے دوسری تہذیبوں کی گود میں جائے پناہ حاصل کی۔ اور باقی ماندہ نے بہت سے منفی ذرائع ڈھونڈ لیے۔

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جب آدم اور حوا کو گندم کے پودے کی طرف جانے سے روکا گیا تھا تو انہوں نے وہی کھایا، اور ہم انہیں ماں باپ کی اولاد ہیں، تجسس اور ضد سے بھرے ہوئے لوگ۔ مُختصر یہ ہے کہ اپنے دائیں بائیں بے جا اور بے دلیل پابندیوں کو ختم کریں، ہنسیں کھیلیں، اللہ کی زمین پر اچھے سے زندگی جییں۔ میلوں پر جائیں، میلے منائیں اور میلے کریں۔ مُحبتوں اور فطرت کے لکھاریوں اور پیغمبرانہ سوچ کو سمجھیں اور پڑھیں۔ خود پر اپنی مٹی کے رنگ چڑھائیں۔ حرام نہ کریں اپنی مثبت رسوم و رواج، تہواروں اور رونقوں کو اپنے اوپر۔ اللہ کبھی بھی بندے کو پھیکا اور بے رنگ نہیں دیکھنا چاہتا۔ اگر ایسے ہوتا تو وہ کبھی رنگ پیدا ہی نہ کرتا۔ اس نے رنگ پیدا کیے اور اس کاری گری کو دیکھنے اور اس سے لطف لینے کی دعوت بھی دی۔

یقین کیجیے آپ اک عظیم تر تہذیب کے مالک ہیں اور کلمہ پڑھنے کی شرط اس تہذیب سے دست بردار ہونا ہر گز نہیں ہے۔ اللہ نے مذہب ہم تک پہنچایا اس ہر ایمان لانا فرض کیا مگر اپنی تہذیب کا حق میں ہمیں دیا کہ ہم نے کس طرح رہنا ہے اپنے جغرافیائی حالات کے مطابق۔ اگر تہذیب و ثقافت حرام ہوتی تو پوری زمین پر ایک ہی موسم ہوتا اور ایک جیسے ہی جغرافیائی حالات ہوتے اور ایک ہی زبان۔ مگر یہ بات نہیں سمجھائے کون؟ ہم نے اپنے جغرافیائی اور فطری حالات کے الٹ روش اپنائی جس کا نتیجہ ہمارے سامنے۔ آخر پر اپنی ایک چھوٹی سی پنجابی نظم کا ایک حصہ پیش ِ خدمت ہے۔

اسیں ادھے ابلے آنڈڑے۔ (ہم ادھ ابلے ہوئے انڈوں کی طرح ہیں )

ناں کچے تے ناں پکے (جو نہ کچے ہوتے ہیں نہ پکے )

ناں ایدھر تے ناں اودھر (نہ اس طرف کے رہتے ہیں نہ اس طرف کے )

اک تھال دے اندر کجے (ایک بڑی پلیٹ میں ڈھانپ کے رکھے ہیں )

اسی مس مس بونواں چھڈیاں (اور اس حالت میں ہمارے جسم اور روح بدبو چھوڑ گئے ہیں )

ساہڈی میلاں تیک ہواڑ (جو دور دور تک محسوس کی جا سکتی ہے )

اسی باہروں پوچا پاچیاں (ہمارا ظاہر خوب صاف ستھرا ہے )

ساہڈے اندریں پرپت ڈھیر (مگر ہمارا باطن گندگی سے آلودہ ہو چکا)

اسیں ادھے ابلے آنڈڑے۔ (ہم ادھے ابلے انڈے۔ )

دینہہ پیاں نوں لگ گئے ڈھیر (ہم کافی عرصہ سے ایسے ہی پڑے ہیں )

ہن ناں کوئی کھاوناں چاہوندا (اب ہمیں کوئی بھی کھانا نہیں چاہتا)

ناں رہے سیتن دے لیق۔ (اور نہ ہم اس قابل ہیں کہ ہمیں سیتا جا سکے )

اسیں ادھے ابلے آنڈڑے۔ (ہم ادھ ابلے انڈے۔ )

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •