ایدھی ایدھی کردی نی میں ۔ ۔ ۔

1988 میں میرے سب سے بڑے بھائی سے چھوٹے بھائی جو مجھ سے تو بہت بڑے تھے، کراچی کے کیسی علاقے میں موٹر سائیکل پر سوار جا رہے تھے، سامنے سے آتی تیز موٹر کار نے ٹکر ماری وہ اچھلے سر کے بل پکی سڑک پر گرے اور انتقال کر گئے۔ کار والا نو دو گیارہ ہو گیا۔ ان کا بیٹا دبئی گیا ہوا تھا۔ میرا چھوٹا بھائی کراچی میں تھا جس نے ہم سب کے پہنچنے کے انتظار میں ان کا جسد خاکی ایدھی کے سرد خانے میں رکھوا دیا تھا۔ ہم سب پہنچ گئے۔ اگلے روز لاش لینے کی خاطر چھوٹے بھائی کے ہمراہ میرا ایدھی کے سرد خانے جانا ہوا تھا۔ وہاں موجود عملے کی خدمات خالصتاً انسانی تھیں۔
پھر جب میں لاہور کے ایک نواحی قصبے میں مطب چلا رہا تھا تو ایک معروف شخص کی بنا بیاہی بیٹی کے ہاں بچے کی پیدائش کے تمام معاملات سے نمٹنے کے بعد جب متعلقہ شخص نے جو بظاہر بہت انسان دوست ہونے کا داعی تھا، نومولود کو مارنے کی بات کی تو مجھے فوراً کسی دن ایک گاڑی پر ’قتل نہ کر جھولے میں ڈال‘ لکھا دیکھنا یاد آیا تھا اور میں نومولود کو اپنی گاڑی میں ڈال صبح تڑکے لاہور روانہ ہو گیا تھا۔ میں احمد سلیم سے ملنے پونچھ روڈ جایا کرتا تھا اس لیے مجھے یاد تھا کہ وہاں کہیں ایک ’ایدھی سنٹر‘ بھی تھا۔ وہاں موجود عملے نے کوئی سوال نہ کیا، بچی کو میرے ڈسپنسر کے ہاتھوں سے لیا، دودھ سے بھری بوتل منگوائی اور بچی کے منہ سے لگا دی، جس نے اسے فوری طور پر پینا شروع کرکے آنکھیں کھول دیں اور میں مطمئن ہو کر وہاں سے چلا گیا۔

میں نے مودودی صاحب کا اطاق مطالعہ بھی دیکھا جہاں انہوں نے اپنے ہاتھوں سے چائے بنا کر پلائی تھی اور جاوید غامدی کے اطاق ہائے مطالعہ بھی۔ ان شخصیات نے ذوق کی تسکین کی خاطر سادگی سے احتراز کرنے سے متعلق پس و پیش کا مظاہرہ نہیں کیا۔ یہ چونکہ علمی شخصیات ہیں اس لیے شاید علم کے حصول اور اشاعت کی خاطر مطالعے کے کمروں میں اچھا قالین، اچھے پردے، اچھی الماریاں، اچھی اچھی مرصع جلدوں والی کتابیں درکار ہوتی ہوں لیکن ایک عملی کام کرنے والی شخصیت عبدالستار ایدھی کے لیے یہ سب چیزیں بے کار تھیں اور یقین جانیے کہ ایدھی کی کہی سامنے آنے والی باتوں سے تو یہی لگتا ہے کہ وہ علم میں کسی سے کم نہیں تھا البتہ اس نے علم کی بجائے عمل کو شیوہ بنانے کو ترجیح دی تھی۔
ذرا غور فرمائیے عبدالستار ایدھی کیسی باتیں کرتا تھا، ’’ ۔ ۔ ۔ دراصل ہمارے مولویوں اور لیڈروں نے دو لفظوں پر بڑا زور دیا ہے، ایک ہے ’صبر کرو‘ دوسرا ہے ’تقدیر‘، یہ دونوں لفظ دراصل مظلوموں کو اپنا غلام بنانے کے لیے ہیں۔ ہم صبر کرتے رہیں اور وہ ظلم کرتے رہیں، ہمارا حق مارتے رہیں اور ہم اس کے خلاف آواز نہ اٹھائیں کہ بیچ میں تقدیر آ جاتی ہے کہ میری تقدیر ہی خراب ہے۔ یہ دراصل سرمایہ داروں کی ایک چال ہے‘‘۔

مولوی حضرات اور نام نہاد سماجی تنظیمیں عبدالستار ایدھی کی اس لیے مخالف ہو گئے کہ لوگوں نے مولوی حضرات اور نام نہاد سماجی تنظیموں کے زعما کی ’چندہ خوری‘ کی عادت سے واقف ہونے کی بنا پر بیشتر چندہ ایدھی فاؤنڈیشن کو دینا شروع کر دیا تھا۔ ایسے مولویوں کی جانب سے لگائے الزامات کے جواب میں عبدالستار ایدھی نے کہا تھا، ’میں تو اس جنت میں جاؤں گا ہی نہیں جہاں یہ لوگ (نام نہاد مولوی) ہونگے۔ یقیناً ایدھی کی جنت وہ ہوگی جو خالص اور کام کے دھنی لوگوں کی جنت ہوگی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

