مالی بدعنوانیوں کا غلغلہ برپا کرنے والے صرف عمران خان ہی نہیں ہیں بلکہ ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے کئی ملکوں کے سیاستدان اقتدار میں آنے کا یہ ”گر“ اپنا چکے ہیں اور بیشتر کامیاب بھی رہے۔ مالی بدعنوانی کی بیخ کنی کرنے میں نہیں بلکہ اقتدار پا لینے میں۔
کسی بھی ملک میں محض وہ لوگ ہی نہیں چاہتے کہ مالی بدعنوانیاں تمام ہوں جو ایسا کرنے میں ملوث ہوتے ہیں۔ ویسے تو بہت زیادہ لوگ ملوث ہوتے ہیں لیکن زیادہ مفاد حاصل کرنے والے، کم مفاد حاصل کر پانے والوں یا مفاد لینے میں ناکام رہنے والوں یا خواہش ہوتے ہوئے بھی مالی بدعنوانی کرنے کی ہمت نہ کر پانے والوں یا مالی بدعنوانی بالکل نہ کر سکنے والوں کی مجموعی تعداد سے خاصی کم ہوتی ہے۔ ظاہر ہے سارے لوگ نہ تو ملک ریاض بن سکتے ہیں، نہ زرداری یا شریف برادران اور لامحالہ عمران خان بھی نہیں بن سکتے جن کی آمدنی ان کے اپنے اور ان کو ماننے والوں کے خیال میں دیانت داری کی کمائی ہے۔
Read more