چل وے منا ہن پنڈی چلیے

راولپنڈی سے شناسائی تب ہوئی تھی جب مجھے پنڈی والوں نے ”حضرت سلیمان کی جیل“ بطورکپتان قید ہونے بھیجا تھا۔ گلگت کی پرواز ہفتہ بھر نہ جاتی تومیرے جیسے ”ہارڈ ایریا“ میں تعینات افسر ٹرانزٹ افسرز میس میں پڑے رہتے۔ میں صدر کے علاقے میں کتابوں کی معروف دکانوں سے بہترین انگریزی کتابیں خریدتا رہتا…

Read more

کیا معاشرے میں رائج اعمال سے ہٹ کر خوشحال ہونا ممکن ہے؟

میرے ایک دوست ہیں، خاصے انسانیت پسند مگر خوشحال ہوتے ہوتے کچھ سنکی ہو گئے ہیں۔ کہتے ہیں غریبوں سے تمہارا واسطہ نہیں پڑا یہ سب سے زیادہ ظالم ہوتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ سبھی معاملات کے بارے میں سوچنا ہمارا کام نہیں یہ مخصوص لوگوں کا کام ہے جیسے مذہبیات، سیاست، معاشرت وغیرہ وغیرہ۔ مجھے ان کا کہا ایسے سمجھ آیا کہ اگر آپ ایر کنڈیشنڈ کار میں سوار ہیں، اگر ایک پوش علاقے میں آپ کا اچھا اور مجہز مکان ہے، اگر آپ کا معیار زندگی بیشتر لوگوں سے بہتر ہے تو ان اشیاء اور اخراجات کو ممکن اور قائم بناتے ہوئے اپنی یعنی اپنے کنبے کی زندگی بہتر بنانے کی لگن ہونی چاہیے اور بس۔ باقی سب سے آنکھیں موند لو کیونکہ آپ اس سب کو بدلنے سے قاصر ہیں۔

Read more

ناواقف آداب غلامی پرائم منسٹر

تو کہ ناواقف آداب غلامی ہے ابھی رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے ویسے تو یہ انقلابی شاعر جناب حبیب جالب کا شعر ہے جو مبینہ طور پر نواب آف کالا باغ امیر محمد خان کے حکم پر فلم سٹار نیلو کو رقص نہ کرنے بلکہ اقدام خودکشی کرنے کی خبر کے بعد…

Read more

ذوالفقار علی بھٹو سے دو ملاقاتیں اور تیسرا تجاذب

میں تب گورنمنٹ کالج لاہور میں سال دوم کا طالبعلم تھا۔ ایوب خان کے خلاف جلوس نکلا کرتے تھے۔ میں بھی شریک ہوتا تھا۔ میں نے بھٹو کو پہلی بار مال روڈ پر ایسے ہی ایک جلوس میں دیکھا تھا۔ وہ ٹرک کے اوپر کھڑے تھے۔ شلوار قمیص میں ملبوس تھے۔ حسب معمول گریبان کے…

Read more

ملتان اس بار …

میں سوچ رہا تھا کہ وقت بہت بیت گیا۔ نوجوان بھی استراحت کرنا چاہتے ہوں گے اگرچہ وہ کہہ رہے تھے کہ آپ چاہیں تو لیٹ رہیں، آرام کر لیں۔ میں نے جانا چاہا۔ پہلے یوسف مرزا کو فون کیا مگر وہ شہر سے باہر تھا۔ اس نے ڈینٹل ڈاکٹر فضل کا فون نمبر بھیج…

Read more

ملتان کی محبتیں

لاہور سب کے دل میں بیٹھا ہوتا تھا۔ کہیں گورنمنٹ کالج لاہور کے بارے میں پڑھ لیا تھا تو وہاں داخل ہونے کی ضد کر بیٹھا تھا۔ علی پور ضلع مظفرگڑھ جیسی دور افتادہ بستی سے لاہور پہنچا۔ جیسی کے اقبال ہوسٹل میں رہتے ہوئے گھر کی بندھن والی فضا سے نکلا تو دو کام کرنے شروع کیے پہلا صبح دوپہر شام فلمیں دیکھنا اور دوسرا عشق کے بارے میں قطعی انجان ہوتے ہوئے عشق کر بیٹھنا، وہ بھی جوانی کا۔ بڑی کوشش رہی کہ کم نمبر آئیں ‌تو لاہور میں ہی بی اے ایم اے وغیرہ کرلوں مگر اردو اور انگریزی مروا گئیں کہ نمبر پھر بھی اتنے آ گئے کہ میڈیکل کالج میں داخلہ مل جائے۔ زمانہ ٹیگ سسٹم کا تھا، اسی علاقے کے میڈیکل کالج میں داخلہ ملتا جہاں کا آپ نے ڈومیسائل لیا ہوتا۔ اتنی عقل نہیں تھی نہ کسی نے مشورہ دیا کہ ڈومیسائل تو بہن کے گھر لاہور میں بھی بن سکتا تھا، تھوڑی سی بددیانتی کرکے۔ یوں مجھے نشتر میڈیکل کالج ملتان میں داخل ہونا پڑا تھا۔

باوجود سات سال ملتان میں بسر کرنے کے، اس عرصے میں بطور کپتان ملتان میں پوسٹنگ کا دورانیہ بھی شامل ہے، ملتان کبھی نہیں بھایا تھا۔ اب کی بار میں پانچ روز ملتان میں بتا کر آیا ہوں تو ملتان بہت اچھا لگا ہے، کراچی کیا لاہور سے بھی زیادہ۔ لاہور میں تو میٹرو بس کی راہ نے وہاں کے حسن کو دھندلا دیا یا ہے اس کے برعکس ملتان کی سڑکوں کے حسن کو اجاگر کر دیا ہے، شاید سونے پر سہاگہ تجاوزات ہٹایا جانا رہا۔

Read more

جب اچھی خبریں کم ہوتی ہیں

وطن عزیز میں مقتدر زعماء کو خوش خبری سنانے کا بہت شوق ہے۔ کوئی کہیں سے سونے چاندی کے ذخائر نکلنے کی خوش خبری سنا چکا تو کوئی تیل کی بوتل دکھا کے لوگوں کا دل بہلا چکا تو کوئی اب خوش خبری سنانے کی خبر دے کر لوگوں کو اچنبھے میں ڈال چکا۔ منتظر…

Read more

تعلیم یافتہ لوگ لوگوں کو کیا بتائیں؟

کل میں ‌معاشرے کے ایک اہم فرد سے مغز ماری کرتا رہا کہ ہم پڑھے لکھوں کو لوگوں کو کیا بتانا چاہیے مگر انہوں نے یہ کہہ کر جان چھڑا لی کہ میں کوئی دیوانہ ہوں جو عام روش سے ہٹ کر بات کروں تاکہ لوگ نہ صرف یہ کہ مجھ سے ملنے سے گریزاں…

Read more

تقابل اپنے ایسوں کے ساتھ

میں قریب ایک ہفتے سے اس شہر میں ہوں جہاں اس جہان میں آنا میرا مقدر ٹھہرا تھا۔ جب میں گھر کے صحن سے آسمان کی جانب دیکھتا ہوں تب مجھے یوں لگتا ہے جیسے میں کہیں گیا ہی نہیں تھا، نہ پڑھنے کی خاطر، نہ ملک کے اندر کہیں گھوما نہ ملک سے باہر کبھی گیا، ہمیشہ یہیں رہا ہوں۔ اس کے برعکس میں جب دروازہ کھول کر گلی میں داخل ہوتا ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ اتنا عرصہ بیت گیا مگر نالیوں میں وہی تعفن ہے۔ پانچ برس کی عمر میں ناک پر ہاتھ رکھے گھر کے در سے سڑک تک کے تیس پینتیس قدم بھاگ کرکے عبور کرتا تھا اب ناک پر رومال رکھنا پڑتا ہے۔

Read more

ناستلجیا کا دیہانت

ٹہنیوں سے لٹکتے قرمزی پھول، ہر پھول کے بطن سے ابھرنے کی کوشش کرتی لمبی پتلی زرد ڈنڈی جس کے آخری سرے پر زردانوں کا دلکش گچھا، گہرے سبز چمکدار دندانے دار پتوں والے بھرپور گڑھل کے پودے تلے بچھے زمین کی سطح سے چھ انچ بلند تخت پر سجدے کی جگہ پر چنبیلی کی کلیاں دھرے تسبیح و عبادت میں مشغول ماں تو ربع پیشتر کسی اور جہاں سدھار گئی تھیں۔ نہ وہ پودا رہا، نہ وہ پھول رہے نہ وہ تخت رہا۔ اب تو اس پکے برآمدے میں، جو ان کی مرض کے دوران تعمیر ہوا تھا اور اس کمرے سے جہاں وہ ایک عشرہ مفلوج پڑی رہیں، شاید وہ اسے دیکھ ہی نہ پائی ہوں، بچھے اڑھائی فٹ اونچے تخت پر نماز پڑھنے کو چڑھنا، ان کے بوڑھے بیٹے بیٹیوں کے لیے دشوار ہے۔

Read more