سو دن چور کے اور سو دن پی ٹی آئی حکومت کے ۔۔۔

ایک سرچ انجن ہے گوگل نام کا۔ اس میں انگریزی میں لکھیے ”حکومت کے 100 دن“ تو ماسوائے کیوبا میں 1933 میں کسی 100 روز کی حکومت کے اور تسمانیہ نام کے جزیرے، جو آسٹریلیا کے نزدیک ہے کی لبرل پارٹی کے 100 دن کے پلان کے تحریک انصاف کی حکومت کے 100 روز سے صفحات کے صفحات بھرے ہوئے ہیں جس سے تصدیق ہوتی ہے کہ 100 روز کا درفنطنی نما بکھیڑا میرا، آپ کا یا کسی اور کا گھڑا ہوا نہیں بلکہ خود تحریک انصاف کا گیان ہے جس کے روح رواں عمران خان ہوتے ہیں۔

Read more

مذہب سے متعلق ملانہ رویے

کل جمعہ کی نماز پڑھ کر مسجد کے فرسٹ فلور سے جسے روس میں دوسری منزل کہا جاتا ہے، سیڑھیاں اتر رہا تھا تو ایک پاکستانی صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔ باقاعدہ نمازی ہیں اور ریڈی میڈ کپڑوں کے تاجر بھی، بولے کہ ابھی نماز عصر کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ میں نے جواب دیا کہ…

Read more

پہلے آتی تھی ہنسی

اتنا کچھ کہا اور ہر کہے کی نفی کی مگر ہم اس بارے میں اب کچھ نہیں کہیں گے کیونکہ ماہ نیم شب اس سے متعلق ”یو ٹرن فلسفہ“ بگھار چکے ہیں اور ان کے مغبچے اس لایعنی ”دانشمندی“ کا دفاع کرنے میں بھی پوری طرح مصروف رہے۔ ہم نام نہاد این آر او بارے بھی بات کرنے والے نہیں ہیں چاہے اس کا اطلاق علیمہ خان کی دبئی والی جائیداد کو اسی طرح ریگولرائز کرنے پرہی کیوں نہ ہوتا ہو جیسے بنی گالہ کی جائیداد کو ریگولرائز کروانے کی اجازت دی گئی ہے۔

Read more

عمران خان کے تین ماہ پورے، لب آزاد

ماہ نیم شب نے 18 اگست کو ملک خداد داد، پاکستان کے وزیراعظم ہونے کا حلف خاتم النبیین کو بڑی مشکل سے خاتم النبیون کہتے اور اس پر خود ہنستے ہوئے دیا تھا۔ پھر کچھ عرصہ بعد صحافیوں سے ملاقات میں خواہش کی تھی کہ تین ماہ تک صحافی ان کی حکومت پر تنقید نہ کریں تاکہ وہ اپنی راہیں استوار کر لیں۔ کسی اور لکھنے والے نے ان کے کہے کا پاس کیا ہو یا نہ مگر میں نے ان تین ماہ میں ایسا کوئی مضمون نہیں لکھا جس سے ان کی حکومت پر تنقید کیا جانا ثابت ہو سکے۔ میں وضعدار آدمی ہوں مگر ایک پہاڑی قوم کے شخص کے ساتھ پھر سے ملاقات کے خوف کے باوجود وضعداری سے باغ میں بیٹھے رہنے کی حماقت کرنے والا بھی نہیں۔

آج 17 نومبر ہے، عہد کی پاسداری کا وقت تمام ہوا تو ماہ نیم شب نے خود سے ایک لغو بیان دے کر تنقید کرنے کی راہ کھول دی۔ یاد رہے رہنما کا کہا نہ کوئی ذاتی عمل ہوتا ہے اور نہ ہی اس کے کہے کا اطلاق محض اس کی ذات پر ہوتا ہے بلکہ اس کے رہنما ہونے کے سببب اس کی کہی کوئی بھی بات پیروکاروں کے لیے نہ صرف مشعل راہ کی مانند بلکہ ایک حکم کے مترادف ہوتی ہے۔ ایک ہدایت ہوتی ہے اور ساتھ ہی ایک تلقین بھی۔

Read more

کچھ ہو تو بات کی جائے نا

آنیاں جانیاں ہو رہی ہیں، ہو کچھ بھی نہیں رہا۔ ملک عزیز کی حکومتیں اگر ذوالفقار علی بھٹو سا رہنما نہ ہو تو ایسے ہی ماٹھی رہی ہیں۔ کچھ پہلی حکومت کے کیے گئے کاموں پہ پانی پھر دیتی ہیں، کچھ وعدے کر لیتی ہیں جن میں سے کچھ پر آدھ پچادھ کام کر لیتی…

Read more

نسوانی جنسیات اور مذہبی معاشرہ

میں نے کوئی دس سال پہلے " محبت ۔۔ تصور اور حقیقت" کے عنوان سے کتاب لکھی تھی۔ یہ محبت سے متعلق تحقیق پر مبنی کتاب تھی۔ میرا ارادہ تھا کہ اس کے بعد "مباشرت ۔۔۔ تعیش اور ضرورت " کے عنوان سے ایک تحقیقی کتاب لکھوں گا اور پھر " مناکحت ۔۔۔ تسکین اور…

Read more

“سورج پر کمند” کتاب یا دستاویز

اکثر ایسے ملکوں کی طرح جہاں آبادی کی اکثریت بدبخت ہوا کرتی ہے پاکستان میں بھی ایسے لوگ رہے ہیں اور شاید اب بھی ہوں جو فی الواقعی بدبخت لوگوں کو خوش بخت بنانے کی نہ سہی مگر کسی حد تک زندگی سے مطمئن کرنے کی خلش اپنے دل میں محسوس کرنے کے ساتھ ساتھ…

Read more

کیا چینی عمران خان کی شلوار سے متاثر ہو کر معاہدہ کر بیٹھے ہیں؟

تیسری تصویر میڈیکل کالج کے میرے ایک ہم جماعت اور دوست نے پوسٹ کی ہے جس میں خان صاحب کی ایک ٹانگ کی شلوار نیچے سے کافی میں ڈوبی دکھائی گئی ہے جس کے نیچے جلی رنگین نسخ میں لکھا ہے، ”تقریب کے دوران ایک چینی میزبان کے کپ سے شلوار پر گرنیوالی چائے کا برا نہ منائے بغیر اسی شلوار سے کپتان ساب ساری تقریب میں شرکت رہے۔ یہ ادا چینیوں کا دل چرا گئی اور وہ پاکستانی روپوں میں تجارت پر راضی ہو گئے۔ اور یہ چائے چائنا کے ایک بڑے بزنس گروپ ڈالیان وانڈا کے چیئرمین وانگ جیان لن کے کپ سے گری تھی اور وہ شرم سے پانی پانی ہو رہے تھے لیکن کپتان نے الٹا سوری کہ کر انکو شرمندگی سے بچا لیا۔ کپتان ایسی چیزوں کی پروجیکشن پسند نہیں کرتے“

Read more

علی شمس القمر، تو بھی گیا گزر

کرنل ہو کے تو وہ باوقار شخصیت بن گیا تھا مگر جب متعارف ہوا تو دبال پتلا، قدرے سیاہ، انتہائی سنجیدہ رو جیسے مسلسل ناراض ہو، کپڑے ہمیشہ نک سک درست، سیاہ چشمے اور موٹے شیشوں والی عینک مگر نام علی شمس القمر۔ دکھنے میں نہ شمس تھا نہ ہی قمر مگر جب بات کرنے…

Read more

بیاد ہم جماعت مولوی اسمٰعیل، ماہر امراض قلب

ان دنوں داڑھی رکھنے کا رواج عام نہیں تھا جیسے ان دنوں ہے۔ داڑھی وہی رکھتے تھے جو مذہبی اعمال کی جانب زیادہ راغب ہوا کرتے تھے۔ ایسے افراد کو ویسے ہی مولوی کہہ کر پکارا جانے لگتا تھا۔ جس نے داڑھی نہ رکھی ہوتی چاہے وہ مدرسہ نظامیہ کی تکمیل ہی کیوں نہ کیے…

Read more