معاصر روسی افسانوں کے اردو ترجمہ کے بارے میں

( اکادمی ادبیات کی جانب سے شائع کردہ اپنی کتاب منتروس کی منتخب کہانیاں جسے میں نے ”11 معاصر روسی افسانے نام دیا تھا ) روس میں کوئی امریکی ادارہ سائنسی لغات لکھوا رہا تھا۔ مجھ سے رجوع کیا تو میں نے فی لفظ زیادہ سے زیادہ معاوضہ طلب کیا تھا، جو وہ مان گئے تھے۔ بحث کے دوران یہی تاثر دیا گیا کہ اس کہنہ لغت کی درستی بھی کرنی ہے۔ میں نے حیاتیات سے متعلق لغت چن لی

Read more

دشمنی

دشمنی کیوں کر پیدا ہوتی ہے؟ دشمنی کیوں پالی جاتی ہے؟ دشمنی کیوں نبھائی جاتی ہے؟ کیا دشمنی کرنا، پالنا، نبھانا محض نقصان دہ ہے یا اس کا کوئی فائدہ بھی ہوتا ہے؟ اگر سب کچھ سب کا ہو، سب ایک دوسرے کا بھلا چاہیں، سب ایک دوسرے کے معاون و مددگار ہوں تو دوستی نہ سہی یگانگت بہر طور رہے لیکن دشمنی ہرگز نہ ہوگی۔ دشمنی کی عمومی وجوہ تو اکثر بیان کی جاتی ہیں یعنی زر، زن، زمین۔

Read more

فرد فرد مجموعہ خیال

میں نے اپنے دیرینہ شناسا اور ایک عرصہ سے دوست ڈاکٹر ساجد علی کی کتاب ”فرد فرد مجموعہ خیال“ آخر کار پڑھ ہی ڈالی۔ اتنی دیر بعد کیوں؟ وجہ یہ کہ کچھ مضامین پہلے سے پڑھے ہوئے تھے۔ پھر یہ کہ اس سے پہلے اور بعد میں بھی کتابیں موصول ہوئیں جن میں فیاض باقر جو ہیں تو پی ایچ ڈی ہی لیکن ساتھ ڈاکٹر نہیں لکھتے کہ باہر کے ملکوں میں رواج نہیں، کی انگریزی کتاب تھی جو بھیجے

Read more

آشیانہ در قفس

میں نے اکمل شہزاد گھمن کی پنجابی کہانیوں کے مجموعہ ”پنجرے وچ آہلنا“ کو فارسی عنوان اپنی فارسی دانی کے اظہار کی خاطر نہیں دیا بلکہ اس لیے دیا کہ جب جدید فارسی افسانہ نگاروں اور شاعروں نے بول چال کی زبان استعمال کی اور می شود کو میشے لکھنا شروع کیا تو نہ صرف فارسی ادب کی شان بڑھی تھی بلکہ قارئین کی تعداد میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا تھا لیکن اکمل نے نئی چال یہ چلی کہ

Read more

کچھ ذکر کمیونسٹوں، لبرلوں اور سیکیولروں کا

عمر، مطالعے، تجربے، مشاہدے، وسیع تر میل ملاپ اور باہمی تبادلہ خیالات انسان کی سوچ کو جامد نہیں ہونے دیتے۔ ضروری نہیں کہ اگر انسان دس پندرہ بیس سال پہلے کسی معاملے سے متعلق ایک خیال رکھتا تھا اس کا آج اس کے بارے میں دوسرا خیال نہیں ہو سکتا۔ ایسی تبدیلی خیال پر لوگ کیوں سیخ پا ہوتے ہیں، مجھے اس کی سمجھ نہیں آتی۔ کوئی مذہب سے پھر گیا تو مذہبی لوگوں کے ناراحت ہونے کی وجہ ہے

Read more

باجوے تو جماعتیا ہے اور مرزے تو سرخا

اوروں کا تو علم نہیں لیکن میرے لیے نماز کے بعد مانگی جانے والی دعائیں ایک طے کردہ رٹا گیا تواتر ہیں جن میں سے کچھ منفی کرنا ہو تو کئی ماہ لگ جاتے ہیں اور کوئی اضافہ کرنا ہو تو اسے بھی زبان پہ چڑھتے دن یا ہفتے صرف ہوتے ہیں۔ شاید اللہ کے پاس وقت نہیں ہوتا کہ وہ ریکارڈنگ ہی سن لے اس لیے روز ایک سی دعائیں بڑبڑانا پڑتی ہیں۔ اب اس کو ہی لو کہ

Read more

نذیر لغاری: چوکڑی کی کڑی ٹیڑھی

نذیر لغاری سے شناسائی 1986 میں انجمن ترقی پسند مصنفین کی گولڈن جوبلی کانفرنس میں ہوئی تھی جو ڈھل کر دوستی بن گئی۔ جب تک لغاری شام کے وقت چھپنے والے روزنامہ عوام میں رہا، میرے کراچی پہنچنے پر اپنی بیشتر سرگرمیاں ترک کر کے مجھے رفاقت فراہم کرتا۔ اپنی سوزوکی میں مجھے لوگوں سے ملانے کو لے جاتا یا وہاں لے جاتا جہاں میں کہتا۔ نذیر کے توسط سے ہی اخلاق احمد سے جو تب اخبار جہاں کے مدیر

Read more

روس کے پاؤں پہ شدید ضرب

  کسی بھی ملک کی بحریہ اس ملک کی عسکری طاقت کے پاؤں ہوتی ہے۔ روس کی بحریہ کا ہیڈکوارٹر سلطنت روس کی بحری قوت کے پیشرو اور بانی زار پیٹر اعظم کے زمانے سے جزیرہ نما کریمیا کے شہر سیوستوپل میں تھا جو بعد میں تاریخی طور پر ناپید کمیونسٹوں کی قائم کردہ ریپبلک اوکرائنا یعنی کنارے پر دور جسے عام طور پر یوکرین بولا جانے لگا کے حصہ میں تب آیا جب اس علاقے سے کمیونسٹ پارٹی آف

Read more

یوکرین روس مخاصمہ۔ تازہ صورت احوال

میں نے عرصہ ہوا روس کے بارے میں لکھنا چھوڑ دیا ہے۔ پہلی وجہ یہ کہ پڑھنے والوں کو بہت دور واقع امریکہ کے معاملات جاننے میں تو دلچسپی ہے لیکن ہمسایہ ملک پھلانگتے ہی ایک چوتھائی کے قریب زمین پر پھیلے روس کے بارے میں نہیں۔ ہمارے ہاں معروف ترین اور لبرل ہونے کے بڑے داعی دانشور آج بھی روس کو مغرب کی آنکھ سے ویسے ہی دیکھتے ہیں جیسے سوویت یونین کے زمانے میں اور اس سے پہلے

Read more

معاصر روسی ادب : رجحانات، مسائل، انداز

مارینا کراوچینکو اس وقت نقادوں کے لیے معاصر روسی ادب کو آنکنے کے سلسلے میں مسئلے در پیش ہیں۔ سماج کو جاننے سے متعلق غیر معروضیت در آئی ہے، اکثریت منفی تاثر لیے ہوئے ہیں اور کچھ میں استعداد ہی نہیں ہے۔ معاصر زبان سے متعلق نقطہ نگاہ محض ایک ”اسطور“ ہے۔ تو اس ضمن میں ایسا ہے کہ کچھ کہتے ہیں،۔ ”ہمارے ہاں آج ادب ہے ہی نہیں“۔ ”معاصر روسی ادب کا فنی معیار بہت پائیں ہے“۔ ”آج بہتر

Read more

شعیب سلطان خان: عہد ساز شخصیت

چند روز پہلے ملتان میں کسی خوش حال شخص نے باور کرایا کہ پاکستان میں پہلے کی سی غربت نہیں رہی۔ دیکھیں نا کہ پہلے پاکستان کے بڑے حصے میں لوگ روٹی کپڑا پہ یا زیادہ سے زیادہ سال بھر کے لیے گندم پہ کام کیا کرتے تھے۔ واقعی ایسا تھا کیونکہ جن وقتوں کی بات ہے تب صارفین کا معاشرہ بھی نہیں تھا۔ چونکہ بات سوسائٹی کی بنت بدلنے کی نہیں ہو رہی اس لیے مذکور مظہر کی تفصیل

Read more

من آنم کہ من دانم

میں اپنے اعمال و اطوار کو اپنی نظر سے دیکھوں یا اوروں کی نظر میں۔ اور بھی تو مختلف طرح کے ہوتے ہیں جیسے پیار کرنے والے، دوست، مداح، ناقد۔ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں پیار کا دعوٰی ہوتا ہے اور بعض اوقات بلند بانگ نوع کا مگر تعلق کے کچھ عرصے بعد جب ضرورتیں اور اختلافات ٹکرانے لگتے ہیں تب محبت کی قلعی اگر یک دم نہیں تو بتدریج اترنے لگتی ہے، پھر آپ ان کی نظر میں

Read more

من آنم کہ من دانم

میں اپنے اعمال و اطوار کو اپنی نظر سے دیکھوں یا اوروں کی نظر میں۔ اور بھی تو مختلف طرح کے ہوتے ہیں جیسے پیار کرنے والے، دوست، مداح، ناقد۔ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں پیار کا دعوٰی ہوتا ہے اور بعض اوقات بلند بانگ نوع کا مگر تعلق کے کچھ عرصے بعد جب ضرورتیں اور اختلافات ٹکرانے لگتے ہیں تب محبت کی قلعی اگر یک دم نہیں تو بتدریج اترنے لگتی ہے، پھر آپ ان کی نظر میں

Read more

معاصر روسی افسانہ

الیکساندر سیپکن 28 ستمبر 1975 میں سینٹ پیٹرزبرگ جو تب لینن گراد کہلاتا تھا، میں پیدا ہوئے۔ 2015 میں اپنی افسانوں کی کتاب ”بڑھاپے سے پہلے کی عمر کی عورتیں اور دوسری بے اصول کہانیاں“ سے معروف ہوئے۔ وہ اب روس کے طنزیہ افسانہ نگاروں میں مقبول ترین ادیبوں میں سے ایک ہیں اور ان کی لکھی کہانیاں روس اور امریکا دونوں ہی ملکوں کی محفلوں میں ثقہ اداکار و صدا کار پڑھ کے سناتے ہیں۔ وہ تزویراتی تعلقات عامہ

Read more

مابعد صداقت عہد، ایک ٹوٹتی ہوئی لہر

لا وجودیت کی بنیاد پر مبنی فلسفہ کی شاخ نیہیلزم کے معروف پرچارک فلسفی بریٹ سٹیونز کے مطابق : ”سچ کا، وجود ہی نہیں ہے۔ سچ موجود سے متعلق ہمارا گیان اور اس سے متعلق لگایا گیا اندازہ ہے۔ آپ کو موجود میں سے وہ سچ چننا ہوتا ہے جو آپ کی زندگی کے لیے مناسب تر ہو اور حقیقت میں ہو بھی۔ یاد رہے میں نے یہ نہیں کہا“ آپ کا اپنا سچ ”کیونکہ انفرادیت ہمیشہ کا ڈھونگ ہے۔

Read more

قانون ہاتھ میں لینے والے

میں علی پور ضلع مظفرگڑھ میں اپنے گھر کے نزدیک مدنی جامع مسجد میں حسب معمول نماز عصر پڑھنے پہنچا۔ وسیع مسجد کے برآمدے میں جماعت کے منتظر بیٹھے لوگ مڑ مڑ کے صحن کی جانب دیکھ رہے تھے۔ میں نے ساتھ بیٹھے نوجوان سے پوچھا، معاملہ کیا ہے۔ اس نے بتایا کہ جی چور پکڑا ہے، جوتا چور۔ میں بولا غریب ہو گا۔ اتنے میں امام جائے نماز پہ ان کھڑے ہوئے۔ نماز کے بعد میں روز کی طرح

Read more

شمعون سلیم نے اپنی موت کا عمل ریکارڈ کیا

5 اپریل کو اس نے ایک سال پہلے اور مرض کے دو ڈھائی ہفتوں کے بعد کے دو فوٹو شیئر کیے تھے اور پھر بالترتیب لکھتا رہا۔۔۔ اگرچہ اس کی آخری پوسٹ 5 جون 2024  کی ہے جو وسیم الطاف کی پوسٹ شیئر ہے لیکن اس نے اپنی زندگی کے بارے میں آخری پوسٹ 27 مئی 2024 کو لگائی تھی۔۔۔موصوف 15 مارچ سے بیمار ہوئے اور 14، 15 جون کی درمیانی رات پورے ہو گئے، کل تین ماہ میں (

Read more

شمعون سلیم کو دھکا دے دیا

پہلے سوچا تاسفانہ تحریر کو عنوان دوں، ” ملحد کی موت ” مگر ایک بڑے انسان کے بیٹے نے بتایا تھا کہ اس نے ایسے والد جن کا کسی ذات اولی پر ایقان نہ تھا کی موت سے پہلے کے تمام ثانیے دیکھے تھے، یہ کہہ کے وہ چپ ہو گیا تھا۔ لگتا تھا جیسے مشکل وقت تھا۔ چناں چہ میں نے یہ عنوان نہ دیا کہ شمعون تو تب سے مشکل وقت کاٹ رہا تھا جب سے اسے ہسپتال

Read more

ادب برائے؟

ایک زمانے میں جب کمیونسٹ پارٹی میں ہوا کرتے تھے تو ادب برائے ادب اور ادب برائے زندگی یا ادب برائے مقصد یا ادب برائے نظریہ کی پرانی بحث کبھی پڑھنے کو مل جاتی، کبھی سننے کو تو کبھی اس ضمن میں کچھ کہنے کو۔ نظریہ نظریہ کی تکرار، پیچھے امام کے اللہ اکبر کہنے والوں کی قسم کے احباب ویسے ہی کیا کرتے جیسے طالبان بعد میں شریعت شریعت کی یا ان سے پہلے تبلیغی جماعت والے پورا کا

Read more

ٹرانا منع نہیں

میں یوٹیوب چینلز بلکہ مین سٹریم ڈیجیٹل چینلز تک کے ٹاک شوز ایک عرصہ سے نہیں دیکھ یا سن رہا۔ کبھی کبھار پروگرام ”بیٹھک“ اس لیے دیکھ لیتا ہوں کہ اس میں ایک تو اپنا وجاہت مسعود ہوتا ہے دوسرے باقی لوگ بھی لہوری ہیں دلچسپ اور ایک سندھی لباڑی بھی لیکن اب یہ پروگرام بھی پانچ دس منٹ دیکھ کے چھوڑ دیتا ہوں کہ کسی کا کہا کبھی درست ثابت نہیں ہوا۔ مگر کل ایسے ہی پہلے میں نے

Read more

محبت اور نفسیات

”محبت“ انسان کو پیدائشی طور پر ودیعت نہیں ہوتی شاید اسی لیے یہ اب تک جینیات میں دریافت نہیں ہو سکی ہے۔ اس کا سبق ہمیں بچپن سے پڑھایا جاتا ہے، خدا سے محبت سے لے کر انسان سے محبت تک، جانوروں سے محبت سے لے کر مٹی سے محبت تک۔ جنسی عمل جاندار کی جبلت ہے اور کشش و لگاؤ مامالیائی صفت۔ جبلت اور صفت مل کر اس سبق پر عمل پیرا ہونے کا وصف بنتا ہے جس کی

Read more

پھر کیا کرنا چاہیے؟

معاشی نظام دو ہی طرح کے ہیں ایک سرمایہ دارانہ اور ایک اشتمالی یا بہت حد تک کہا جائے تو اشتراکی، باقی جو بھی نام لیا جائے گا وہ انہیں دو میں کا ذیلی ورژن ہو گا۔ ہم سرمایہ دارانہ نظام کے شاکی ہیں کہ یہ نظام منافع خوری اور استحصال پر استوار ہے۔ دوسری جانب ہم یورپ امریکہ کی مثالیں دیتے ہیں جو سرمایہ دارانہ معاشی نظام کے مراکز ہیں۔ ہم میں بہت سے جو مذکورہ نظام سے نالاں

Read more

احمد سلیم مرتے تھوڑا نہ ہیں

2018 میں ہوئی ہماری تفصیلی ملاقات میں وہ میرے سماجی و معاشی مصائب سن کے یوں پریشان ہو گئے جیسے سگے بڑے بھائی گرچہ ان سے بھائی بندی تھی ہی نہیں اور نہ میں ان سے تعلق کو دوستی کا نام دے سکتا ہوں، ہمارا ایک انسانی رابطہ تھا۔ 2018 کے بعد کئی بار اسلام آباد گیا مگر جان کے ان سے نہ ملا کہ انہوں نے میرے حالات میں مدد سے متعلق میری احتیاج اور مطالبہ کے بغیر اپنے

Read more

ارشاد امین: تم نے بھی ابدی اڑان بھر لی

1986 تھا یا 1985 درست یاد نہیں البتہ کراچی میں ترقی پسند ادیبوں کی ایسوسی ایشن کی گولڈن جوبلی کی تقریب تھی جس میں شرکت کے لیے میں سرائیکی وسیب کے دانشوروں کے گروہ میں شامل تھا۔ میں ان دنوں کوٹ ادو میں میڈیکل پریکٹس کیا کرتا تھا۔ استاد فدا حسین گاڈی اور ان کے فرزند مشتاق گاڈی کے ہمراہ ملتان پہنچا تھا جہاں سے دوسرے دوستوں کے ہمراہ ہم کراچی جانے کے لیے ریل گاڑی میں سوار ہوئے تھے۔

Read more

بدعنوانی کا عفریت

کہا جانے لگا ہے کہ بدعنوانی ایک باقاعدہ متوازی معیشت کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ البتہ یہ متوازی معیشت ملک کی عمومی معیشت کی ترقی کو آگے بڑھنے سے روکتی ہے۔ کرنسی کو جامد کرتی ہے۔ ملک سے سرمائے کی منتقلی کو فروغ دیتی ہے۔ ہوس زر کے لیے مہمیز ثابت ہوتی ہے۔ بہت کم لوگوں کو امیر یا امیر سے امیر تر بنا تی ہے لیکن عام لوگوں کی جیبیں خالی کرتی چلی جاتی ہے۔ بدعنوانی کوئی نیا

Read more

جمہوریت بری نہیں ہوتی کی جاتی ہے

دیو استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب۔ ہم میں سے بہت سوں نے علامہ اقبال کا یہ مصرعہ پڑھا ہوا ہے۔ سن سنا کر یہ بھی جان گئے ہیں کہ اقبال صاحب بتا رہے ہیں، جمہوریت کا جبہ اوڑھے ظلم ڈھانے والا بھوت پاؤں سے عوام کو کچلنے میں مصروف ہوتا ہے۔ آج ہم کہیں گے کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔ مگر یہ بات نظر انداز نہ کریں کہ یہ کس زمانے کی سوچ ہے اور کن ملکوں کے لوگوں

Read more

پاکستان میں انسانی وسائل کی ترقی اور نوجوان

وسیلہ یا Resource کسے کہا جاتا ہے؟ وسیلہ یا Resource ایسی قابل خرچ، استعمال کے بعد فالتو قرار دی جانے والی ”شے“ کو کہا جاتا ہے جس کی ایک قیمت، معاوضہ یا رقم کی صورت میں کسی بھی نام سے بدل ہوتا ہے جیسے بجلی، قابل استعمال پانی یا اشیائے صرف یعنی Consumer goods۔ اس وسیلے کو قیمتی یعنی Precious اسی لیے کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی ایک Price ہوتی ہے۔ پھر ایسا کیوں ہے کہ انسان کی استعداد

Read more

نیٹو: روس کے دل میں اٹکی پھانس

سوویت یونین میں یوری اندروپوو کے خواب کو تعبیر دیے جانے کی خاطر میہائیل گورباچوو پیری ستروئیکا یعنی تعمیر نو کا عمل شروع کر چکے تھے جنہوں نے پہلے ہی افغانستان میں سوویت فوجی دستوں کی موجودگی اور وہاں ہو رہی امریکہ کی پراکسی وار کو ”رستا ہوا زخم“ قرار دے دیا ہوا تھا۔ امریکا کے پروپیگنڈا کرنے والے مجلے ”ٹائم“ اور ”نیوزویک“ اپنے ٹائیٹل پیج پر جناب گورباچوو کی تصاویر چھاپ رہے تھے جو سابق ناکام اداکار اور تب

Read more

مزدور سے متعلق تاثرات کی تصحیح

سوشل میڈیا ہر شخص کا اخبار، ہر شخص کا ڈائجسٹ اور ہر شخص کا اپنا ذریعہ اظہار یعنی میڈیم بن چکا ہے۔ یکم مئی کے روز لوگوں نے یہ جانے بغیر کہ ”یوم مئی“ کی تاریخ کیا ہے، یوم مئی کو سب سے پہلے کہاں سرکاری طور پر منایا جانے لگا اور مزدور جن کے لیے یہ دن اب دنیا بھر میں ماسوائے روس کے ( کیونکہ یہاں اب یکم مئی کو ”یوم بہار و ًمحنت“ کا نام دیا جا

Read more

تجزیے کا تجزیہ

تجزیہ لفظ جزو سے مشتق ہے۔ جزو ٹکڑے یا حصے کو کہا جاتا ہے۔ تجزیہ بنیادی طور پر سائنس سے منسوب ہے۔ کسی بھی کیمیائی مادے کے اجزاء کو علیحدہ کرنے کو تجزیہ یعنی انالیسس کہا جاتا ہے۔ جب اس لفظ کو سماجی یا عمرانیاتی حوالے سے برتا جاتا ہے تو اسے بالعموم آراء شماری کہا جاتا ہے جس کی پھر تحلیل کی جاتی ہے یعنی سنتھیسس۔ اس سے مراد ٹکڑوں یا اجزاء کو نئی، مناسب یا ممکنہ ترتیب میں

Read more

اپنے ہونے کا دیباچہ

” چننا بس کی بات جو ہوتی سارے ہی شبنم چنتے“ یہ میری ایک نظم کی دو سطریں ہیں۔ یعنی ہر شخص پرسکون، مستحکم اور برقرار رکھے جانے کے قابل زندگی کا خواہش مند ہوتا ہے لیکن اختیار خدائی انعام ہے ہی نہیں۔ یہ اختیار جبر یا تقدیر سے بندھا ہوا ہے اور انتخاب عام طور پر دھوکہ دیتا ہے۔ میں نے شاعر ہونا چنا نہیں تھا۔ درست کہ میں ادب کی جانب مائل تھا، اب بھی مجھے اس سے

Read more

مردانہ شاونزم : خواتین کو قبول کیوں؟

اللہ بخشے ہمارے ایک دوست تھے عزیز صاحب، کہتے تھے : ”یہ جو خواتین کی تعظیم اور ان کا خیال رکھے جانے کا سلسلہ ہے یہ اصل میں مردانہ شاونزم کا معکوس اظہار ہے“ ۔ سچ ہے میں نے کبھی عورتوں کو یہ کہتے نہیں سنا اور نہ ہی کہیں لکھا پڑھا کہ ”ہم مردوں کا بے حد احترام کرتی ہیں“ ۔ شاید ایسا ہو کہ انہوں نے مرد کے احترام، مرد کی ان کی زندگی، گھر اور کنبے میں

Read more

8 مارچ کو مارچ پہ واویلا کیوں؟

میں اس شخص کا نام بھی نہیں لینا چاہتا جس نے ایک خاتون، جو خیر سے معمر ہیں، کے جسم سے متعلق برسرعام مذموم باتیں کہیں۔ اس مذموم رویے کی مذمت کرنے پر کسی ”زن دشمن“ نے چیلنج کیا کہ خواتین مارچ کا ہر حامی اس مارچ میں اپنی ماں، بیوی، بہن اور بیٹی کو  لے کے جائے۔ میری والدہ حیات نہیں، میری بہنیں بہت زیادہ معمر ہیں، میری بیٹی مکہ معظمہ میں مقیم ہے اور میری بیوی ماسکو میں

Read more

خلجان میں مبتلا آبادی

عنوان میں جان بوجھ کر نہ تو ملک لکھا گیا نہ قوم کیونکہ مہذب و متمدن ملک ایسے نہیں ہوا کرتے جہاں ہمہ وقت قانونی، آئینی، معاشی، سیاسی اور سماجی خلفشار برپا رہتا ہو۔ قوم تو وہ ہوتی ہے جو من حیث المجموع قوم ہونے پر اس قدر فاخر ہو کہ اس میں شامل مختلف قومیتوں کے لوگوں کو ماسوائے ثقافتی معاملات کے اپنی قومیت تقریباً فراموش رہتی ہے اس کے متضاد نہیں کہ نہ صرف قومیتوں کو تسلیم نہ

Read more

آزادی نسواں اور انہضام آزادی

وہ آزادی نسواں کا پرچارک ہی نہیں بلکہ اسے عملی جامہ پہنانے کا خواہاں بھی تھا۔ جس طرح ایک زمانے میں انگلستان میں دو چار عملی سوشلسٹ سرمایہ دار پیدا ہوئے تھے جنہوں نے مزدوروں کو بنیادی انسانی سہولیات دینا شروع کی تھیں اسی طرح اس نے بھی یہی خیال کیا کہ جہاں اور جس طرح اس کا بس چلتا ہے وہ عمل کرے گا۔ ماں تو قدامت پرست تھی بہنوں پر ماں اور بڑے بھائیوں کی گرفت تھی۔ وہ

Read more

سیاست دان اور نظام: عوام کی الجھن

معاشی نظام دو ہی طرح کے ہیں ایک سرمایہ دارانہ اور ایک اشتمالی یا بہت حد تک کہا جائے تو اشتراکی، باقی جو بھی نام لیا جائے گا وہ انہیں دو میں کا ذیلی ورژن ہو گا۔ ہم سرمایہ دارانہ نظام کے شاکی ہیں کہ یہ نظام منافع خوری اور استحصال پر استوار ہے۔ دوسری جانب ہم یورپ امریکہ کی مثالیں دیتے ہیں جو سرمایہ دارانہ معاشی نظام کے مراکز ہیں۔ ہم میں بہت سے جو مذکورہ نظام سے نالاں

Read more

تصویر کہاں سے لاؤں؟

مقام گلگت میں استور تھا، جہاں کیپٹن ڈاکٹر مجاہد مرزا کی پہلی تعیناتی ہوئی تھی، وہاں مسلسل شرمسار سی ہنسی ہنسنے والا ایک لیفٹیننٹ تھا نام جس کا اشفاق تھا۔ تھا تو اشفاق حسین لیکن بلاتے سبھی اشفاق تھے کیونکہ مجھ سمیت وہاں سبھی اس سے سینئر تھے۔ ڈی کیو میجر اکبر شریف، بی ایم میجر عبدالعزیز، ایڈجوٹنٹ کیپٹن طاہر، پھر سگنل کے میجر شاہد، آرٹلری کے میجر عالم اور میجر افتخار، انجنیئرز کے میجر ضیا اور کیپٹن فدا، این

Read more

یکم جنوری کا کالم

عیسوی سال نو کا آغاز ہر جگہ مختلف وقت میں ہوتا ہے، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا میں سب سے پہلے نئے سال کا استقبال ہوا، اس سال بھی وہاں آتش بازی کا بڑا مظاہرہ کیا گیا۔ دنیا میں نیووے اور امریکی علاقہ سمووا وہ آخری آباد مقامات ہیں جہاں سال نو کا آغاز سب سے آخر میں ہوتا ہے، یہ کیری باتی کے جنوب مغرب میں جنوبی بحرالکاہل میں واقع ہیں۔ سال نو کی آمد پر جشن کا ماحول ہوتا

Read more

تین قہقہے بلند نہ ہو پائے

تم ہو سارے کے سارے لکیر کے فقیر، پیسے کمانے کی مشینیں، ڈیفنس اور دوسری پوش ہاؤسنگ ایریاز میں کوٹھیاں تعمیر کرانی یا خریدنی ہیں، اعلی فرنیچر اور دو چار نوکر رکھنے ہیں، مہنگی اور دلکش و آرام دہ گاڑیاں استعمال میں لانی ہیں، بچے باہر پڑھانے ہیں، اپنے جیسوں میں ان کے رشتے کرانے ہیں اور پھر وہی وہ بھی یہی چکر چلائیں گے۔ مگر دنیا کا جو بہت بڑا ادیب تھا فیور دستوئیفسکی، اس کا بھائی انقلابی تھا۔

Read more

ہمیں ایک بار پھر دشمنوں کے لیے ہیبتناک ہونا ہوگا: روسی دانشور کی تحریر

روسی سے براہ راست ترجمہ : ڈاکٹر مجاہد مرزا مشرق میں ایک لوک داستان ہے۔ ایک بار کالے ناگ نے نیک ہونے کا فیصلہ کر لیا اور رینگ کر راہب کے پاس پہنچا تاکہ اس سے مشورہ لے کہ نیک ہونے اور نروان پانے کی خاطر کیا کیا جائے؟ راہب نے کہا کہ تمہیں جارحیت ترک کر دینی چاہیے اور اپنے زہر بھرے دانتوں سے دوسری زندہ مخلوق کو نہیں ڈسنا چاہیے۔ ناگ نے بات مان لی اور ترک رسوم

Read more

محبت، نفرت اور بے وفائی میں گندھی ایک روسی سیریل کی کہانی

آخر بات کرنے کو جی کرتا ہی کیوں ہے؟ شاید اس لیے کہ ضعف نطق کا شکار نہیں ہیں۔ بات جب دل سے دماغ تک جاتی ہے بلکہ سچ تو یہ کہ جب دماغ سے اتر کر دل پر اثر انداز ہونے لگتی ہے تو جی چاہتا ہے کہ کر دی جائے کیونکہ دل دل ہی تو ہے نہ کہ سنگ و خشت، آلام سے گھبرا نہ جائے کیوں؟ یوں ہم بات کر کے اپنی گھبراہٹ میں دوسروں کو شریک

Read more

بائیں بازو والے

اب اس کی بھلا کیا وضاحت کرنی کہ بائیں بازو والے کن کو کہا جاتا تھا اور غلطی سے اب تک کہا جا رہا ہے۔ لوگ تو بس یہی سمجھتے تھے کہ جو ملک میں انقلاب لانا چاہتا ہے ( جو خونی ہی ہو سکتا تھا) جو خدا کو نہیں مانتا، جو سب عورتوں اور آدمیوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا چاہتا ہے اور جو جماعت اسلامی اور امریکہ کا کٹر مخالف ہے اسے بائیں بازو کے ماننے والا

Read more

پسند و ناپسند کے مابین

من پسند، مرغوب، پسندیدہ، قابل قبول، ناقابل قبول، ناپسندیدہ، غیر دلچسپ، مکروہ اور قابل نفرین، یہ سارے محض مختلف الفاظ ہی نہیں ہیں بلکہ ہر ایک کے ساتھ درجہ بدرجہ احساس، رویہ اور رد عمل وابستہ ہے۔ عین ممکن ہے کہ ایک شے، ایک شخص یا ایک عمل مکروہ تو لگتا ہو لیکن کسی طرح بھی قابل نفرین محسوس نہ ہوتا ہو۔ اسی طرح کوئی شے، کوئی شخص یا کوئی عمل پسندیدہ تو ہو لیکن مرغوب اور من پسند نہ

Read more

ناول "زندیق” بارے رائے

لوگ فحش فلمیں کیوں دیکھتے ہیں؟ بہت سی نفسیاتی، سماجی وجوہ کے علاوہ ایک بصری وجہ بھی ہے کہ اپنی جنسی زندگی کے بہت سے ایسے زاویے ہوتے ہیں جنہیں انسان خود نہیں دیکھ سکتا جیسے اگر اپنی پشت دیکھنی ہو تو آئینے کی مدد لے کر گردن کو درد پہنچنے کی حد تک موڑ ماڑ کے بھی پوری طرح نہیں دیکھا جا سکتا لیکن اگر فلم بنی ہو تو کوئی بھی اپنی کمر کو بغور دیکھ سکتا ہے یعنی

Read more

بدعنوانی کا عفریت

کہا جانے لگا ہے کہ بدعنوانی ایک باقاعدہ متوازی معیشت کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ البتہ یہ متوازی معیشت ملک کی عمومی معیشت کی ترقی کو آگے بڑھنے سے روکتی ہے۔ کرنسی کو جامد کرتی ہے۔ ملک سے سرمائے کی منتقلی کو فروغ دیتی ہے۔ ہوس زر کے لیے مہمیز ثابت ہوتی ہے۔ بہت کم لوگوں کو امیر یا امیر سے امیر تر بناتی ہے لیکن عام لوگوں کی جیبیں خالی کرتی چلی جاتی ہے۔ بدعنوانی کوئی نیا مظہر

Read more

وساخ: ناول یا دستاویز؟

کتاب کے اختتام پر تمت بالخیر یا تمام شد نہیں بلکہ 27 اگست 2020، 12 وج کے 21 منٹ درج ہے جیسے مصنف نے کوئی پراجیکٹ پورا کیا ہو یا کوئی فریضہ تمام کیا ہو۔ اس کتاب، جس کا عنوان وساخ ہے جس کا عرف عام میں معانی ڈیرہ یا دیہاتی گھر یا چلیں محض گھر بنتا ہے، کے بارے میں مصنف نذیر لغاری خود کہتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں کہ یہ ناول ہے یا کچھ اور مگر اس

Read more

امریکہ کا آسیب

گزشتہ صدی کا آٹھواں عشرہ ہمارے ملک کے ساتھ وابستہ ملکوں اور خود پاکستان کے لیے بہت زیادہ اہم تھا جب طاقت اور سیاست کے محور بدلے تھے اس خطے کے ملکوں خصوصاً پاکستان، افغانستان، ایران کی اندرونی اور بیرونی پالیسیوں میں رد و بدل ہوا تھا بلکہ یوں سمجھیں کہ اس خطے کے حالات کے پس منظر میں دنیا بھر کے مقدر کے یکسر بدل جانے کا آغاز ہوا تھا۔ پاکستان دو وحدتوں کی بجائے ایک وحدت رہ گیا

Read more

اپنے جیسوں سے رغبت بارے

میں دسویں جماعت میں تھا، زلفی ایک اونچے گھوڑے پر سوار ہو کر ہماری گلی میں داخل ہوتا تھا اور گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھے بیٹھے دروازہ کھٹکھٹا دیا کرتا تھا۔ میری بہنوں میں سے کوئی دروازے کی ریخ میں سے دیکھ کر کہتی، ”تمہارا گھڑ سوار دوست آ گیا“ مجھے لگتا جیسے میرے دانتوں تلے ریت آ گئی ہو۔ بادل نخواستہ اسے ملنے کے لیے گھر کے دروازے سے نکل جاتا اور جتنی جلدی ممکن ہوتا اسے رخصت کرنے

Read more

ذرائع ابلاغ عامہ کیا اور کیوں؟

ذریعہ ابلاغ عامہ سے وابستہ ہونا ایسی اذیت ہے جس کا کوئی مداوا نہیں سوائے ذریعہ ابلاغ سے علیحدہ ہو کر بیروزگاری بھگتنے کے۔ مگر شاید یہ بھی مداوا نہ ہو کیونکہ میں، آپ، ہم سب ذرائع ابلاغ عامہ کے نہ صرف عادی بلکہ محتاج ہو چکے ہیں یا ہماری معلومات کا انحصار یکسر انہی ذرائع پر ہو چکا ہے۔ جس اذیت کا ذکر کیا ہے، اس اذیت سے پہلے شاید وہی ہمکنار ہوتے تھے جو ان ذرائع سے وابستہ

Read more

بایاں بازو کیوں کمزور ہوتا ہے؟

آپ نے بے شک فیودر دستاییوسکی یا کسی بھی روسی مصنف کے ناول میں پڑھ رکھا ہو کہ روسی لوگ وادکا شراب میں پانی یا کوئی اور مشروب ملائے بنا غٹ کر کے ایک ہی گھونٹ میں چڑھا لیتے ہیں، منہ بناتے ہیں پھر نمکین پانی میں محفوظ کیے کھٹے کھیرے ( خیار شور) اور سرکے میں اچار کردہ کچی ہیرنگ مچھلی کھا کر ان کے ذائقوں سے کیف لیتے ہیں، آپ کو اس عمل کی خاک سمجھ نہیں آئے

Read more

محبت کی نفسیات (دوسرا حصہ)

یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ ذات کی تکمیل کے احساس سے بلند کیوں نہیں ہوا جا سکتا یا اس بارے میں صبر کیوں نہیں ہوتا؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ محبت کے اس ”گھن چکر“ یا ”مایا جال“ میں دو افراد اپنے اپنے Ego ideal کا تبادلہ کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے سے محبت کر ہی اس لیے رہے ہوتے ہیں کہ ایک دوسرے میں اپنے لیے چاہے جانے والی صفات کو دیکھتے ہیں۔

Read more

محبت اور نفسیات

”محبت“ انسان کو پیدائشی طور پر ودیعت نہیں ہوتی شاید اسی لیے یہ اب تک جینیات میں دریافت نہیں ہو سکی ہے۔ اس کا سبق ہمیں بچپن سے پڑھایا جاتا ہے، خدا سے محبت سے لے کر انسان سے محبت تک، جانوروں سے محبت سے لے کر مٹی سے محبت تک۔ جنسی عمل جاندار کی جبلت ہے اور کشش و لگاؤ مامالیائی صفت۔ جبلت اور صفت مل کر اس سبق پر عمل پیرا ہونے کا وصف بنتا ہے جس کی

Read more

سیاست خواہشات پوری ہونے کا نام نہیں

کیونکہ ملک میں سیاست کچھ ناقص طرز کی ہو رہی ہے اس لیے عموماً موضوع گفتگو سیاست اور سیاستدان ہوتے ہیں۔ نزلہ سیاستدانوں کے ساتھ فوج کی اشرافیہ پر بھی گرتا ہے جس کی ماضی کی عیاں اور حال کی مخفی روش نے ملکی معیشت کو یہ دن دکھائے کا بیان دے دیے جاتے ہیں اگر سعودی عرب وغیرہ مالی مدد نہ کریں تو ملک ڈیفالٹ کر جائے یعنی دیوالیہ ہو جائے گا۔ ایسے بیان عجیب بھی ہیں اور رندانہ

Read more

یوں گئے خالد کہ جیسے ہوں یہیں

میں پہلی بار لندن، فیض امن میلے میں شرکت کی خاطر گیا تھا۔ تب چونکہ میں خود ڈیجیٹل جرنلزم سے منسلک تھا، ریڈیو وائس آف رشیا کے صدائے روس کہلانے والے اردو شعبہ کے لیے خود بھی اے این پی کے میاں افتخار، سینیٹر افراسیاب خٹک اور سماجی تجزیہ کار پروفیسر ہود بھائی کے انٹرویو کرنے کے سلسلے میں مصروف رہا تھا چنانچہ دوسرے ملکوں اور شہروں سے آئے صحافی اور دانش ور حضرات سے مل نہ سکا تھا۔ بس

Read more

نیٹو: روس کے دل میں اٹکی پھانس

سوویت یونین میں یوری اندروپوو کے خواب کو تعبیر دیے جانے کی خاطر میہائیل گورباچوو پیری ستروئیکا یعنی تعمیر نو کا عمل شروع کر چکے تھے جنہوں نے پہلے ہی افغانستان میں سوویت فوجی دستوں کی موجودگی اور وہاں ہو رہی امریکہ کی پراکسی وار کو ”رستا ہوا زخم“ قرار دے دیا ہوا تھا۔ امریکا کے پروپیگنڈا کرنے والے مجلے ”ٹائم“ اور ”نیوز ویک“ اپنے ٹائیٹل پیج پر جناب گورباچوو کی تصاویر چھاپ رہے تھے جو سابق ناکام اداکار اور

Read more

کینچلی چڑھا سانپ

نوید کی زندگی میں سب سے بڑا چھناکا تب ہوا جب کوئی اس کی تنہائیوں میں مخل ہو گیا لیکن یہ انجانے میں نہیں بلکہ مدہوشی کے ایک خاص وقفے کے تسلسل میں جانے بوجھے کو انجانے میں گنوانے سے ہوا تھا۔ ہوا یہ تھا کہ وہ اپنی تنہائی کی یکسانیت سے اکتا کر ایکتا کو اس میں شریک کر بیٹھا تھا۔ وہ اپنی زندگی کو سگریٹ کے مرغولوں سے زیادہ اہمیت نہیں دیتا تھا لیکن ایکتا نہ تو سگریٹ

Read more

کینچلی چڑھا سانپ

نوید کی زندگی میں سب سے بڑا چھناکا تب ہوا جب کوئی اس کی تنہائیوں میں مخل ہو گیا لیکن یہ انجانے میں نہیں بلکہ مدہوشی کے ایک خاص وقفے کے تسلسل میں جانے بوجھے کو انجانے میں گنوانے سے ہوا تھا۔ ہوا یہ تھا کہ وہ اپنی تنہائی کی یکسانیت سے اکتا کر ایکتا کو اس میں شریک کر بیٹھا تھا۔ وہ اپنی زندگی کو سگریٹ کے مرغولوں سے زیادہ اہمیت نہیں دیتا تھا لیکن ایکتا نہ تو سگریٹ

Read more

سورج ٹوٹ سکتا ہے

نہ ہی تو وہ فرانز کافکا کی کہانی کے پشت کے بل پڑے ٹانگیں کلبلاتے ہوئے لال بیگ میں تبدیل ہوا تھا نہ ہی ند دنوں میں اس کے کمر پہ کوہان سا کب نکلا تھا۔ وہ یہ سب جانتا تھا مگر کرتا تو کیا کرتا، اسے یقین ہو گیا تھا کہ وہ انسان کی شکل میں امربیل ہے۔ کیونکہ وہ اپنی ضرورتوں کی فہرست کو خاصا پھیلا لیا کرتا، ان کی تکمیل کی غرض سے جس کا طفیلی ہوتا

Read more

عقوبت دے کر اعتراف کرانا کیا جائز ہے؟

پولیس اور طاقت سے وابستہ دیگر اداروں میں تشدد کے سبب ملزم کی موت کا ہر واقعہ عیاں کر دیتا ہے کہ نو آبادکارانہ طرز حکمرانی ختم ہونے کے پون صدی بعد بھی پاکستان میں طاقت سے وابستہ شہری و غیر شہری/ عسکری تفتیش کار تفتیش کرنے کا وہی طریق اختیار کیے ہوئے ہیں جو سمندر پار سے آئے غاصب حکمرانوں نے وضع کیا تھا۔ دلچسپ اور خوش آئند بات یہ ہے کہ نو آبادکار ملک اس طرز تفتیش سے

Read more

اپنے ہی ملک میں زباں نابلد

شاید آٹھ برس پہلے ماسکو کے ایک پاکستانی ریستوران میں پاکستان کی کوئی قومی تقریب تھی جس میں ہندی رقص کرنے والی روسی لڑکیوں کا ایک طائفہ اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کی خاطر بلایا گیا تھا۔ ان رقاص لڑکیوں کے ساتھ ایک طرار نوجوان خاصا شیرو شکر تھا جس کا نام بعد میں راشد معلوم ہوا تھا اور یہ کہ وہ طب کی تعلیم حاصل کر رہا ہے۔ جب میں 2019 میں روس سے آ کر اپنی آپ بیتی

Read more

روس یوکرین مخاصمہ

اٹھارہ روز پہلے روس کی فوج ملک میں داخل ہوئی تھی۔ اس دوران اس بارے میں نے کچھ نہیں لکھا اگرچہ میرا روس اور یوکرین دونوں میں ہی سیاسی سوچ کے حامل پاکستانی دوستوں سے مسلسل رابطہ رہا اور قائم ہے۔ ماسکو میں مقیم دوست یکسر مطمئن ہیں اور روس کے اس اقدام کو ایک خاص تناظر میں درست جانتے ہیں اگرچہ انسانی اور جمہوری حوالے سے اس کی مذمت بھی کرتے ہیں۔ یوکرین میں موجود دوست شروع میں یہ

Read more

نروٹھا آشناؤں میں

عقیل عباس جعفری کسی دوست کے ہاں تھے، انہوں نے زاہد کاظمی کو ملنے کے لیے وہیں آنے کو کہا۔ میں فارغ تھا۔ زاہد کے کہنے پہ میں بھی ساتھ چلا گیا۔ کھانے کے لیے ڈائننگ ہال میں گئے۔ میں نے ایک سرے کی پہلی کرسی پہ بیٹھ کر کے اپنی عینک اور ماسک میز پر دھرے اور ہاتھ دھونے کو دست شوئی کی جانب بڑھا تو شکیل عادل زادہ ہاتھ دھو کے نکل رہے تھے۔ انہوں نے ڈاکٹر شاہد

Read more

بالآخر تھر دیکھ لیا

کئی سال پہلے، شکار پور سندھ میں اپنے مہربان دوست رحیم بخش جعفری سے کہا کہ میں نے آج تک بلوچستان نہیں دیکھا۔ وہ بولے ابھی دکھا لاتے ہیں پھر وہ مجھے سندھ کی سرحد سے پار بلوچستان کے ایک شہر لے گئے جہاں ان کے ایک دوست نے وہاں موجود نہ ہوتے ہوئے بھی ہماری بہترین ضیافت کا اہتمام کیا تھا۔ اسی طرح 2019 میں میں نے اپنے ایک اور سندھی دوست حسین سومرو سے تقاضا کیا کہ مجھے

Read more

ڈاکٹر مہدی حسن: بردبار، سنجیدہ اور حق گو

میرا ان سے براہ راست تو کوئی ربط نہیں تھا البتہ وہ میرے ماموں پھوپھی زاد بھائی اور بڑے بہنوئی محمد ظفیر ندوی صاحب کی روزنامہ امروز لاہور میں ایک رفیق کار رخشندہ حسن کے شوہر تھے۔ نام تھا مہدی حسن جو بعد میں پروفیسر مہدی حسن کے نام سے نامور ہوئے تھے۔ بعد میں میں اپنی بہترین دوست غزالہ نثار سے ان کی تعریفیں سنتا رہا تھا۔ وضع دار اس قدر تھے کہ بھائی ظفیر جن سے ان کا

Read more

عمران خان کا استقبال روسی نائب وزیر خارجہ نے کیوں کیا؟

پہلے تو یہ بتاتا چلوں کہ پاکستانی چینلوں کی خبروں میں جو کہا جا رہا ہے کہ روس میں عمران خان کا ریڈ کارپٹ استقبال ہوا تو یہ سرکاری زعماء کے استقبال کے ضمن میں ایک معمول ہے۔ اس پر اچنبھا ہونا چاہیے نہ تفاخر۔ دوسری بات یہ کہ راستوں کو قمقموں سے سجایا گیا۔ ارے بھائی یہ روشنیاں تین سال پہلے نئے سال کے سلسلے میں نصب کی گئی تھیں۔ بجلی وافر ہے چنانچہ یہ تب سے شام گئے

Read more

مسکراتی آنکھوں والا عبدالخالق

ملک روشن علی گھلو جنہیں دنیا سے گئے آٹھ سال سے زائد ہو چکے ہیں چھٹی جماعت سے میرے دوست تھے۔ میں گورنمنٹ کالج لاہور سے ایف ایس سی پری میڈیکل کرکے نشتر میڈیکل کالج ملتان کا طالب علم بنا اور وہ ایمرسن کالج ملتان سے فراغت پا کر راج شاہی میڈیکل کالج پڑھنے چلے گئے۔ مشرقی پاکستان میں شورش اٹھی تو وہاں سے سارے مغربی پاکستانی طالبعلم لوٹے جنہیں مختلف میڈیکل کالجوں میں کھپایا گیا۔ فوری طور پر ہوسٹلوں

Read more

اکتیس دسمبر 2021

ایک پوسٹ گردش میں ہے جس میں دوسرے سیارے کے دو افراد کی خیالی تصویر ہے۔ ایک دوسرے سے پوچھتا ہے کہ یہ زمین والے تہوار کیا منا رہے ہیں۔ دوسرا جواب دیتا ہے کہ ان کے سیارے نے اپنے ستارے کے گرد ایک اور طواف آج مکمل کر لیا ہے۔ پہلا کہتا ہے، ”دیکھا، میں نے کہا تھا نا کہ زمینی مخلوق ذہین نہیں ہے“ ۔ بات کوئی اتنی غلط بھی نہیں کہی دوسرے سیارے کے خیالی فرد نے۔

Read more

سال کے جاتے جاتے

کائنات کی ابتدا یعنی ازل ہے مگر وقت کی ابتدا نہ تھی۔ کائنات کی انتہا یعنی ابد ہے مگر وقت لامنتہا البتہ ہم نے اس کا حساب رکھنے کو ثانیہ، سیکنڈ، منٹ، گھنٹہ، شب و روز، ہفتہ، ماہ و سال وضع کر لیے ہیں تاکہ اپنی اور اوروں کی زندگی، واقعات اور تاریخ کا حساب رکھ سکیں۔ اسی طرح کا ایک سال اپنے اختتام کو پہنچتا ہوا ہمارے حساب سے 2021 کہلاتا یہ سال رہا۔ اس سال بھی گذشتہ برس

Read more

راشد منیر کی بیوی اور کیلے کا چھلکا

راشد منیر کا حلقہ احباب ایسے لوگوں کا تھا جن میں بزعم خود لبرل بھی تھے اوراسلام شناس دنیا سے ہم آہنگ افراد بھی جن میں سے بہت سوں کو حقوق نسواں اورآزادی نسواں سے متعلق منصف ہونے کا دعوٰی تھا۔ ہردو طرح کے لوگ اپنے اپنے اندازمیں اس صفت کی وضاحت کیا کرتے۔ کوئی کہتا کہ ہم نے عورتوں کو غلام بنا کے رکھا ہوا ہے جبکہ عورتوں نے مغرب میں مرد کی بالا دستی سے آزادی پا لی

Read more

نک سک سے درست ابرار حسین

جب تم سی آر تھے اور اناٹومی کے پروفیسر راجہ صاحب تبدیل ہو کر جا رہے تھے جن کی الوداعی پارٹی نشتر میڈیکل کالج کے "کواڈرینگل” میں ہونا تھی مگر میں مردم بیزار اس پارٹی میں شمولیت سے گریزاں بلکہ انکاری تھا، کسی نے تمہیں بتا دیا کہ مرزا نہیں آ رہا۔ تم خاص طور پر قاسم ہال میں میرے کمرے میں آئے اور ڈانٹ کے کہا کہ تم پندرہ منٹ میں نہ صرف پہنچ رہے ہو بلکہ الوداعی نظم

Read more

روس امریکہ کی مخاصمت آرائی

ایک زمانہ تھا جب عالمی سطح پر دو عسکری بلاک ہوا کرتے تھے۔ ایک نیٹو یعنی نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن اور دوسرا وارسا پیکٹ کے نام سے جس میں تب کی سوویت یونین کے ساتھ مشرقی یورپ کے وہ ملک شامل تھے جو سوشلسٹ بلاک کا حصہ ہوا کرتے تھے۔ جبکہ نیٹو میں وہ ملک شامل تھے جو اگرچہ جنگ عظیم میں جرمنی، اٹلی اور جاپان کے خلاف جنہیں فسطائی طاقتیں پکارا گیا تھا، مل کر لڑے تھے اور اتحادی

Read more

ہم کورونا سے بے تکلف ہو گئے

روس میں کورونا بہت زیادہ پھیلا ہوا ہے مگر سکول کھلے ہیں۔ کون کیریئر ہے یہ معلوم نہیں ہو سکتا۔ جمعرات 19 نومبر کی صبح جب میری دس سال کو پہنچنے والی بیٹی رسمین سکول جانے لگی تو بولی مجھے کپکپی لگی ہے۔ اس کی ماں نے اسے سکول جانے سے روک دیا۔ اس کا گلا ہلکا سا خراب تھا اور ہلکا سا بخار۔ شام تک اس کا بخار تیز ہو گیا۔ ایمرجنسی کو فون کیا گیا۔ آج کل چونکہ

Read more

سنیاراں دا اتھرا منڈا۔۔۔ ابرار احمد

نشتر میڈیکل کالج میں گمبھیر آواز والا ” لوا ” ٹائپ کا مگر ہلکی مونچھوں سمیت "میری جان ” کہہ کے بات کرنے والا یہ گورا چٹا حسین نوجوان مجھے کالج میں خود سے دو سال جونیئر مگر ایک ہی شہر اور کنبوں کی باہمی شناسائی کے سبب دوست بن جانے والے اعجاز حسین ( بلو) کے توسط سے ملا تھا۔ اس کا نام ابرار احمد تھا جسے اور ابراروں سے ممتاز کرنے کی خاطر ہم اسے ابرار مرزائی کہا

Read more

مرو گے تب جب موت آئے گی

یہ بات 1971 سے پہلے کی ہے۔ ہمارا گھرانا ویسے ہی مذہبی تھا۔ جنونی نہیں علمی حوالے سے مذہبی۔ مذہب سے بغاوت جسے گھر کی مذہبیت سے انکار کہنا زیادہ مناسب ہو گا، کے جراثیم تو پہلے ہی پنپنے لگے تھے جب میں گورنمنٹ کالج لاہور کے اقبال ہوسٹل کے صحن کے گول گراسی گراؤنڈ میں اذان دے کر کافی دیر تک منتظر کھڑے رائے ونڈ کے رہائشی داڑھی والے لڑکے مولوی ستار کی توجہ کامن روم سے بلند ہوتے

Read more

چین سکوں کی تلاش کیوں؟

یہ بھی کوئی زندگی ہے، کمپیوٹر کے ساتھ چپکے رہنا۔ انٹرنیٹ میں وہ کیا ہے جو پڑھا نہ گیا ہو اب تک۔ نئی تحقیق روز تو سامنے آتی نہیں۔ موسیقی، فلم سبھی کچھ اس چھوٹی سکرین پر۔ فنکاروں اور اداکاروں کے جثے ذہن میں مکمل کیے جاتے ہیں۔ کوئی سماجی تحرک بھی تو نہیں ہے۔ سیاست بھی سکڑ کر مونیٹر پر لکھنے، پڑھنے، رائے دینے، رائے موصول ہونے تک محدود ہو چکی ہے۔ گھر سے نکل کر اکیلے کہاں جائیں؟

Read more

میری بہشتی بہن

اسے دسویں جماعت پاس کر لینے کے بعد صرف انڈوں کا حلوہ بنانا آتا تھا۔ یہ بھی اس نے سکول میں ”خانہ داری“ کی جماعت میں سیکھا تھا۔ قصبہ میں لڑکیوں کا کالج تھا نہیں اور نہ ہی لڑکیوں کو پڑھنے کے لیے شہر بھیجنے کی ہمارے ہاں کوئی ریت بن پائی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ اس سے بڑی دو بہنوں نے اس کے میٹرک پاس کر لینے سے پانچ چھ سال پہلے صرف آٹھویں جماعت ہی پاس کی تھی کیونکہ تب وہاں تھا ہی مڈل سکول فار گرلز۔ جب سکول کو ہائی کیا گیا تب تک وہ گھر کے کاموں میں رچ بس چکی تھیں۔ بس پھر بڑے بھائی اپنی گمبھیر آواز میں ”آخری چٹان“ اور ”یوسف بن ناشرین سناتے خود بھی روتے اور سننے والی ماں بہنوں کو بھی رلاتے۔

Read more

یہ پیار، محبت، عشق، جنوں

میں نے دس گیارہ سال پہلے ایک تحقیقی کتاب لکھی تھی جو فکشن ہاؤس لاہور سے شائع ہوئی تھی۔ عنوان تھا، ”محبت۔ تصور اور حقیقت“ جس میں میں نے پیار، محبت، عشق، جنوں میں فرق بیان کیا تھا۔ انگریزی زبان میں جس جذبے کو Love کہا جاتا ہے اسے میں نے تحقیق کے بعد عشق جانا۔ پیار کو Liking، جسے ہم عرف عام میں محبت سمجھتے ہیں Infatuation اور جنوں Passion کہلاتے ہیں یہ کتاب میں نے یونہی نہیں لکھی

Read more

افغانستان، کیا خوش ہونا بنتا ہے؟

2013 میں میرے ساتھ حج کے لیے جانے والے ساتھی ڈاکٹر جمشید ساہی، کل مجھے مسجد کے باہر مل گئے۔ وہ دہائیوں سے مع اہل و عیال ماسکو میں مقیم ہیں۔ ڈاکٹر ہونا تو افغانستان میں ہی رہ گیا تھا یہاں درمیانے درجہ کا کاروبار کر کے زندگی بسر کر رہے تھے، کورونا نے کاروبار بھی چھین لیا، اب بس ایک آن لائن پرچہ ترتیب دیتے ہیں پشتو اور دری میں۔ افغانستان سے متعلق، جہاں ان کے اعزا و اقربا

Read more

کچھ اور بات کی جائے

آخر بات کرنے کو جی کرتا ہی کیوں ہے؟ شاید اس لیے کہ ضعف نطق کا شکار نہیں ہیں۔ بات جب دل سے دماغ تک جاتی ہے بلکہ سچ تو یہ کہ جب دماغ سے اتر کر دل پر اثر انداز ہونے لگتی ہے تو جی چاہتا ہے کہ کر دی جائے کیونکہ دل دل ہی تو ہے نہ کہ سنگ و خشت، آلام سے گھبرا نہ جائے کیوں؟ یوں ہم بات کر کے اپنی گھبراہٹ میں دوسروں کو شریک

Read more

آج 10 ستمبر ہے

سب فلم کی مانند آنکھوں کے سامنے ہے۔ میں نشتر میڈیکل کالج کے قاسم ہال کے اپنے کمرے میں بیٹھا پتھالوجی کی کتاب کھولے مطالعہ میں مشغول تھا کہ دروازہ کھلا۔ علی شمس القمر ( اب مرحوم ) اور فواد علی شاہ ( آج کل مفقود ) داخل ہوئے اور کہا چل مرزا پی آئی ڈی سی کھاد فیکٹری والوں کے جلوس میں چلتے ہیں۔ میں تب طالبعلموں کی چین نواز تنظیم این ایس او نیشنلسٹ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن میں فعال

Read more

کورونا کب جان چھوڑے گا؟ چار متبادل

جوں جوں ترقی یافتہ ملکوں میں ویکسینیشن کرانے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، یہ سوال اٹھائے جانے لگے ہیں کہ آئندہ کیا ہوگا؟ کیا بالآخر سرحدیں کھلیں گی اور ایسا کیے جانے سے کورونا کی نئی شکلیں بننے پر کیا اثر ہو گا؟ کیا اجتماعی مدافعت بہت دیر میں پیدا ہوگی اور کیا دنیا کورونا شروع ہونے سے پہلے کی سی زندگی بسر کرنا شروع کرسکے گی؟ ان سوالات کے جواب جولائی کے آخر میں

Read more

کیا سیاست میراث ہے؟

مارچ 1991 کی ایک رات، پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں نے مجھے اسلام آباد کے زیرو پوائنٹ سے تب اغوا کر لیا تھا جب میں ضمیر نامی افغان سفارتکار کی کار سے اترا تھا۔ مقصد چونکہ کہانی بیان کرنا نہیں ہے، اس لیے اصل بات کی جانب آنے کے لیے اتنا کہنا کافی ہوگا کہ کہیں بہت رات گئے ایک کرنل صاحب (جن کا عہدہ بعد میں معلوم ہوا تھا، ظاہر ہے وہ اسی ایجنسی سے تھے جس سے اب ہر شخص آگاہ ہے ) نے آ کر بحث کے انداز میں مجھ سے ”تفتیش“ کرنا شروع کی تھی۔

Read more

وہ یونہی ماری گئی تھی

غالباً 1987 کی بات ہے، کہنے کو تو وہ اغوا ہوئی تھی مگر اصل میں وہ اپنے آشنا کے ساتھ۔ بھاگ گئی تھی۔ تب لفظ آشنا ہی استعمال کیا جاتا تھا۔ ویسے بھی ان دنوں بوائے فرینڈ کا معاملہ معروف نہیں ہوا کرتا تھا اور مضافات میں تو بالکل بھی نہیں بس آشنا ہی بنا کرتے تھے۔ اس کی عمر ہی کیا تھی۔ یہی کوئی پندرہ سولہ سال کے درمیان۔ وہ ماں باپ کے ساتھ ایک صنعتی بستی میں اپنے

Read more

طاہرہ کاظمی کا فقرہ اور مردوں کا ردعمل

ایک عرصہ سے میں گاہے بہ گاہے وجاہت مسعود، ڈاکٹر خالد سہیل، حاشر بن ارشاد، عاصم بخشی اور دوسرے کسی کے مضمون سے کوئی بھی فقرہ یا کوئی پیرا اگر مجھے اچھا لگے تو فیس بک کے اپنے بیج پر شیئر کرتا رہا ہوں۔ میرے مضامین پڑھنے والے جانتے ہیں کہ مجھے یکسر فیمینسٹ خواتین و حضرات سے کبھی مکمل اتفاق نہیں رہا کیونکہ میں نہ تو پورا فیمنسٹ ہوں اور نہ ہی پورا میسوجنسٹ۔ وجہ اس کی یہ سمجھتا

Read more

اپنا خاکہ کھینچوں یا خاکہ اڑاوؑں

میں اپنے اعمال و اطوار کو اپنی نظر سے دیکھوں یا اوروں کی نظر میں۔ اور بھی تو مختلف طرح کے ہوتے ہیں جیسے پیار کرنے والے، دوست، مداح، ناقد۔ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں پیار کا دعوٰی ہوتا ہے اور بعض اوقات بلند بانگ نوع کا مگر تعلق کے کچھ عرصے بعد جب ضرورتیں اور اختلافات ٹکرانے لگتے ہیں تب محبت کی قلعی اگر یک دم نہیں تو بتدریج اترنے لگتی ہے، پھر آپ ان کی نظر میں

Read more

لکھا کیوں جائے اور سیاست کیسے کی جائے؟

کچھ دوستوں نے یہ سوال کیا کہ تم کیوں لکھتے ہو؟ اس سوال کا جواب تو ایک مضمون میں دے دیا تھا مگر جو سوال ہمیشہ میری سوچ میں سر اٹھاتا ہے کہ کیا ان تحریروں کا کوئی اثر بھی ہوتا ہے مثبت یا منفی، اوائل سے پہلے میرا انداز تحریر مشکل پسندی سے عبارت ہوتا تھا اور اس انداز کے لئے میری دلیل یہ تھی کہ اول تو میں پڑھے لکھے لوگوں کے لیے لکھتا ہوں دوئم یہ کہ

Read more

نامکمل جنس۔۔۔ کتنی الجھن ہوتی ہو گی

 کتنی الجھن ہوتی ہوگی جب آپ خود کو لڑکا محسوس کرتے ہوں اور آپ کو مجبور کیا جائے کہ لڑکی بن کر رہو یا معاملہ اس کے برعکس ہو۔ اس گمبھیرتا کو لوگ برسوں برداشت کرتے ہیں۔ بہت کم ہوتے ہیں جو ہمت کرکے یا موقع پا کر اسی طرح کی شخصیت کے طور پر زندگی بسر کرنے لگیں جیسے کہ وہ ہوتے ہیں۔  اگرچہ ایم بی بی ایس کے فائنل امتحان میں میں اپنے بیچ میں فرسٹ آیا تھا

Read more

خیام سرحدی: کیا یار تھے، کیا زمانہ تھا

یوٹیوب کھولی تو اندھیرا اجالا کی ڈبیا پہ نظر پڑی۔ تصویر میں خیام سرحدی اور جمیل فخری تھے۔ دونوں میرے دوست، یادوں کا فوارہ چھوٹ پڑا۔ خیام سے پتہ نہیں کیسے یاد اللہ تھی مگر میں اپنی خاص کیفیت کے سبب اس تعارف کو بھول بیٹھا تھا۔ ایران سے واپس آیا تو ایک بالکل انجان اور گمنام مقام کوٹ ادو میں قیام کیا۔ بوبی کوٹ ادو حبیب بینک میں مینیجر تھا جو بعد میں مشہور ہونے والے اور پھر الحمرا

Read more

یہ تو ہونا ہی تھا

عمل اور ردعمل برابر ہوتے ہیں البتہ مخالف جانب کو، یہ فارمولا جسے حرکت کے حوالے سے آئزک نیوٹن نے وضع کیا تھا قارئین میں سے بیشتر نے پڑھ یا سن رکھا ہوگا تو اس کا انطباق اب افغانستان کی تازہ ترین صورت پہ کر لیں۔ سی آئی اے کی ہدایت پر طالبان کو جنہوں نے پروان چڑھایا تھا، ان کے بارے میں کون ہے جو آگاہ نہیں ہے۔ خیر یہ تحریک ملک پر قابض ہونے میں کامیاب ہو گئی

Read more

دیانت داری کی کمائی اور لوٹی ہوئی دولت

مالی بدعنوانیوں کا غلغلہ برپا کرنے والے صرف عمران خان ہی نہیں ہیں بلکہ ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے کئی ملکوں کے سیاستدان اقتدار میں آنے کا یہ ”گر“ اپنا چکے ہیں اور بیشتر کامیاب بھی رہے۔ مالی بدعنوانی کی بیخ کنی کرنے میں نہیں بلکہ اقتدار پا لینے میں۔

کسی بھی ملک میں محض وہ لوگ ہی نہیں چاہتے کہ مالی بدعنوانیاں تمام ہوں جو ایسا کرنے میں ملوث ہوتے ہیں۔ ویسے تو بہت زیادہ لوگ ملوث ہوتے ہیں لیکن زیادہ مفاد حاصل کرنے والے، کم مفاد حاصل کر پانے والوں یا مفاد لینے میں ناکام رہنے والوں یا خواہش ہوتے ہوئے بھی مالی بدعنوانی کرنے کی ہمت نہ کر پانے والوں یا مالی بدعنوانی بالکل نہ کر سکنے والوں کی مجموعی تعداد سے خاصی کم ہوتی ہے۔ ظاہر ہے سارے لوگ نہ تو ملک ریاض بن سکتے ہیں، نہ زرداری یا شریف برادران اور لامحالہ عمران خان بھی نہیں بن سکتے جن کی آمدنی ان کے اپنے اور ان کو ماننے والوں کے خیال میں دیانت داری کی کمائی ہے۔

Read more

میں تو ششدر رہتا ہوں

فطرت سے متعلق سائنسدان زیادہ متحیر ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مسلسل جستجو کرتے ہیں لیکن حیرت کے در ہیں کہ تمام ہونے میں نہیں آتے۔ ایک کھولو تو دس مزید در بند ملتے ہیں۔ عام لوگوں میں سے ایسے کچھ افراد جنہوں نے علم کا مجموعی طور پر احاطہ کیا ہوتا ہے، ماورائیت سے متعلق نتیجہ اخذ کرنے میں جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاملات کو اس یا اس خانے میں رکھ دیتے ہیں اور ان

Read more

پاکستان میں جمہوریت کب آئے گی؟

روسی کا ایک محاورہ ہے ”پیسے سے بو نہیں آتی“ مطلب یہ کہ پیسہ جس طور بھی کمایا جائے، اس میں سے بو نہیں آتی جس سے معلوم ہو پائے کہ مناسب ذرائع سے کمایا گیا ہے یا نامناسب ذرائع سے۔ جائز طور پر کمایا گیا یا ناجائز طور پر۔ محنت مزدوری سے حاصل کیا گیا یا اجرتی قاتل بن کر مگر متمدن دنیا نے ایسے قوانین مدون کر لیے ہیں اور احتساب و توازن کا ایسا نظام قائم کر

Read more

ثقافت کا ناسٹلجیا

زبانوں کے جامع ہونے کا تب پتہ چلتا ہے جب بہت سے لفظوں کے لیے ایک لفظ اور ایک چیز یا عمل کے لیے بہت سے الفاظ میسر آنا ممکن ہو۔ اب اس لفظ ”ناسٹلجیا“ کو ہی لے لیں۔ اس کا اردو میں ترجمہ کرنا ناممکن تو نہیں البتہ مشکل ضرور ہے۔ اس کا ایک ترجمہ تو شاعر نے کیا تھا کہ ”یاد ماضی عذاب ہے یارب“ لیکن وہ درست نہیں ہے کیونکہ اس لفظ کا مطلب ماضی کے اعمال و افراد کے ساتھ جذباتی لگاؤ ہوتا ہے اور ان کے بارے میں یادیں اکثر و بیشتر خوشگوار اور کیف آگیں ہوتی ہیں۔

Read more

غیرت کی حقیقت کیا ہوتی ہے؟

اگر میں یہ کہوں کہ غیرت کیا ہوتی ہے یہ مجھے سمجھ ہی نہیں آ سکا تو وہ ان گنت لوگ جو خود بھی غیرت کے بارے میں کچھ نہیں جانتے مجھ کو بلا توقف بے غیرت قرار دے دیں گے۔ بہت سارے دوسرے جو غیرت سے وابستگی کو ہی غیرت سمجھ بیٹھتے ہیں، ذرا نرمی برتتے ہوئے مجھے بے حس، پژمردہ ذہن، ڈھیٹ اور نجانے کیا قرار دے دیں گے، اس الزام تراشی اور دشنام طرازی سے بچنے کی

Read more

چہرہ سرمایہ دارانہ جمہوریت کا

یہ بات عموماً کہی جاتی ہے کہ انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں نے انتخابات کو اس قدر کثیر اخراجات کیے جانے کا عمل بنا ڈالا ہے کہ نچلے طبقے کی تو بات ہی کیا کرنی درمیانے طبقے کی بالائی پرت سے تعلق رکھنے والا آدمی بھی انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قانون ساز اسمبلیوں میں جانے کے خواہشمند افراد انتخابات کو سرمایہ کاری کا عمل سمجھتے ہیں تاکہ بعد میں مالی مفادات

Read more

امتناعات کس لیے؟

ہم لکھنے والے سیاسی مسائل پر لکھتے رہتے ہیں کیونکہ سیاسی معاملات پر بات کرنا کچھ ایسے ہے جیسے بڑھئی میز یا کرسی بناتا ہے۔ کوئی اچھی تیار کر لیتا ہے کوئی بہت ہی اچھی اور کچھ بری بھی بنا دیتے ہیں لیکن ان سب کا بڑھئی ہونا ضروری ہے تاکہ پائے کو پائے کی ہی جگہ پر لگائیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ سیاسی تجزیہ نگاری میں کوئی زیادہ علمیت درکار نہیں ہوتی، مشاہدہ تجربہ اور ملکی یا

Read more

ملک عزیز میں جنسی گھٹن کا جائزہ

یقین کیجیے ان عرب ممالک میں جہاں سے جدید مذاہب یعنی یہودیت، مسیحیت اور اسلام کی ابتدا ہوئی نہ وہاں کبھی پہلے اس قدر جنسی گھٹن تھی نہ آج ہے جتنی برصغیر میں تھی اور آج بھی ہندوستان اور پاکستان میں ہے۔ مذاہب کی جنسی اختلاط پر قدغنوں کو اس لیے دوش نہیں دیا جا سکتا کہ اگر ایسا ہوتا تو عرب ملک بھی جنسی گھٹن کا شکار ہوتے۔ یہ بھی دیکھیے کہ ہندومت میں نہ صرف جنس بلکہ جنسی

Read more

ہاں اس گرم جولائی میں

چار جولائی کو میرے سی او لیفٹیننٹ کرنل بشیر صاحب نے کہا۔ ”ہمیں ابھی آڈیٹوریم پہنچنا ہے۔ کور کمانڈر صاحب نے سب افسروں کو طلب کیا ہے“ ۔ کرنل صاحب خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے۔ ساتھ والی نشست پر میں اور جیپ کا ڈرائیور پیچھے۔ فاصلہ ہی کتنا تھا، پانچ منٹ میں پہنچ گئے۔ آڈیٹوریم تقریباً بھر چکا تھا۔ کرنل صاحب کو پہلی ہی قطار میں نشست مل گئی۔ میں چونکہ کپتان تھا چنانچہ حسب مراتب پانچویں چھٹی قطار میں

Read more

5 جولائی 1977 کا کالا دن اور میں

ان دنوں ایم بی بی ایس کرنے والے کو زبردستی فوج میں عارضی ملازمت کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ اس مجبوری کا شکار میں بھی ہوا تھا۔ فوج کے ایک ادارے کی معاشرے میں مداخلت پہلے سے شروع تھی۔ اس ادارے کو میری بائیں بازو سے وابستہ سیاسی سرگرمیوں کا علم تھا اور ہوتا بھی کیوں نہ چونکہ میں 1972 میں مزدوروں کے ایک احتجاجی جلوس میں شامل ہونے کی بنا پر پولیس کے ہاتھوں خوب پٹا تھا اور

Read more

توہین مذہب کا سابق ملزم شیخ یونس: گھنگریالے بال اور ٹیڑھی طنزیہ مسکان

جب تک کسی کی رحلت بارے معلوم نہ ہو تو متعلقین مطمئن رہتے ہیں کہ خیر و عافیت سے ہی ہوگا وہ شخص مگر جونہی معلوم ہو کہ وہ اس دنیا میں اب نہیں رہا تو حزن و ملال آ گھیرتا ہے۔ یہی کل میرے ساتھ ہوا جب ہمارے میڈیکل کالج کے ہم جماعت افراد کے گروپ میں اطلاع ملی کہ ڈاکٹر یونس شیخ ایک ہفتہ قبل سوئٹزرلینڈ میں اس جہان سے گزر گیا۔ دل بجھ کر کے رہ گیا۔

Read more