مولانا سید محمد واضح رشید حسنی ندوی: اک چراغ اور بجھا


اس حقیقت کے اظہار میں کوئی تردد نہیں کہ دار العلوم ندوۃ العلماء کے فارغین کی نئی نسل میں جو لوگ بھی عربی زبان میں کچھ لکھنا جانتے ہیں وہ بڑی حد تک ممنون ہیں مولانا کی تربیت کے، میں جب بھی عربی میں کوئی چیز لکھتا ہوں اسے مولانا ہی کا فیض سمجھتا ہوں۔ ”

علمی درسگاہوں کے مخصوص ماحول میں یہ اکثر ہوتا ہے کہ طلبہ اپنے اساتذہ کا قد ناپتے رہتے ہیں۔ کبھی دل ہی دل میں اور کبھی برسربزم بھی۔ اور نہ صرف قد ناپتے ہیں بلکہ قد کاٹھ کے اعلیٰ واسفل زاویوں پر رائے زنی بھی کرتے ہیں بلکہ یہ رائے زنی کئی بارتو کردار کشی تک بھی جاپہنچتی ہے۔ میں نے ایسا بہت دیکھا ہے اور اکثر دیکھا ہے۔ مگر کئی اساتذہ ایسے بھی ملے ہیں ندوے میں بھی اور ندوے کے باہر بھی کہ کبھی بھی ان کا قد نہیں ناپا گیا یہاں تک کہ اُن طالع آزما اور شوخ طبیعت کے حامل طلبہ کے ذریعے بھی نہیں کہ جن کا محبوب اور مرغوب مشغلہ یہی قد کاٹھ ناپنا اور مثبت ومنفی کمینٹ پاس کرنا ہی رہا کرتا ہے۔ مولانا مرحوم کی ذات والا صفات بھی ایسے ہی اساتذہ کی مانند تھی کہ انہیں جب بھی اور جس نے بھی دیکھا حسن نظر سے ہی دیکھا۔ بلکہ عقیدت ومحبت کی نظر سے دیکھا۔ اور کہیں بھی اور کسی نے بھی زباں کھولی تو مولانا کی تعریف توصیف میں رطب اللسانی ہی اس کا مقدر ہوئی۔

اگر کسی عالم دین کی شخصیت کی ایسی دلآویز تصویر ہو تو اپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ وہ کس قدر باکمال عالم دین ہوگا۔ یوں تو یہ پورا حسنی خاندان ہی ’این خانہ ہمہ آفتاب است‘ کے مصداق ہے مگر مولانا علی میاں ؒ کے بعد اس خاندان کے جو چند بڑے نام ہیں ان میں ایک نام مولانا مرحوم کا بھی ہے۔ مولانامرحوم؛ حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کے سچے جانشیں اور اپنے بڑے حقیقی بھائی مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی کے دست راست تھے۔

مولانا رابع حسنی ندوی اور مولانا واضح ندوی حسنی اس لحاظ سے بھی ایک مثال ہیں کہ ان دونوں بھائیوں میں جس قدر محبت اور ایک دوسرے کا احترام ولحاظ تھا وہ بھی اپنے آپ میں مثالی تھا۔ کم ہی بھائی ایسے ہوں گے جو یکساں صلاحیت اور ہنر رکھنے کے باوجود اس طرح ایک دوسرے کے لیے ہر دم بچھے رہتے ہوں۔ مولانا محمد رابع حسنی ندوی مدظلہ العالی جب بھی کوئی بڑا کام کرتے یا بڑا قدم اٹھانے کا فیصلہ لیتے تھے تو اپنے چھوٹے بھائی سے صلاح و مشورہ ضرور کرتے تھے اور خود مولانا مرحوم کا حال یہ تھا کہ بڑے بھائی کی موجود گی میں طلبہ کو خطاب کرنا بھی روا نہیں تھا۔

مولانا کی زندگی ایک کھلی کتاب کی طرح تھی، جسے کوئی بھی پڑھ سکتا تھا اور اس کے صفحات پر ثبت نقوش پا دیکھ کر رہنمائی حاصل کرسکتا تھا۔ مولانا کی طبیعت میں سادگی تھی، سکوت تھا اور درویشانہ شان تھی، نخوت وغرور اور نمود ونمائش سے کوسوں دورتھے، انہیں نہ کسی سے پرہیز تھا اور نہ ہی کسی خاص چیز سے چڑھ تھی، ہرکوئی ہروقت ان سے مل سکتا تھا اور کسی بھی طرح کے سوالات پوچھ سکتا تھا۔

وہ جو غالب نے کہا ہے : ”نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا“ مولانا کے مزاج کا درست نقشہ ہے۔ ایک طرف اس پائے کا استغناؤ بے نیازی والا مزاج، دوسری طرف سادہ بلکہ درویش صفت زندگی اور تیسری طرف بلند عالمانہ اور عارفانہ شان، ان سب چیزوں نے مل کر مولانا کی شخصیت کو کچھ اس طرح کے سانچے میں ڈھال دیا تھا کہ کوئی بھی ان سے محبت کیے بنا نہیں رہ سکتا تھا۔

مولانا چونکہ دوزبانوں میں لکھتے تھے اور دونوں زبانیں ہی ادبی معیار کی لکھتے تھے اس لیے ان دونوں زبانوں کے جاننے والے جہاں جہاں بھی ہیں اورپڑھنے پڑھانے یا لکھنے لکھانے کا شغل کرتے ہیں وہ مولانا مرحوم کو ان کی تحریروں اور کتابوں کے ذریعے انہیں جانتے ہیں اور محبت رکھتے ہیں، بھلے ہی وہ مولانا سے زندگی میں کبھی بھی نہ ملے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ عالم اردواورعالم عربی، دونوں جہان میں جہاں جہاں بھی مولانا کے انتقال کی خبر پہنچی ہر جگہ صف ماتم بچھتی چلی گئی اور تعزیت کے اظہارکا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اللہ انہیں غریق رحمت کرے۔ آمین

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2