ساہیوال واقعہ: ذمہ داروں کا موقف (طنزیہ بلاگ)


دیکھئے ہم نے کچھ غلط نہیں کیا…

ہم نے بہترین پیشہ ورانہ صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلے چاردہشت گرد ٹھکانے لگائے بلکہ ہم نے کہاں، ہم نے تو انہیں گولیاں بھی نہیں ماریں، ہماری تربیت ہی ایسی نہیں کہ گولی مارکر کسی کی جان لیں۔ یہ تو داعش کا کام ہے۔

ہم نے انہیں رکنے کا اشارہ کیا مگر انہوں نے فائرنگ کردی۔ جواب میں ہم کچھ بھی نہ کرسکے کیونکہ ان کے ساتھیوں نے جو ہر بار کی طرح عین وقت پر پہنچ گئے تھے۔ چاروں دہشت گردوں کی جان لی اور چلتے بنے۔ ہم تو اب تک حیران ہیں کہ یہ کیا ہوگیا۔ ہمیں تو یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ گاڑی میں بچے ہیں۔ پتہ نہیں اطلاع دینے والوں نے قصدا ًنہیں بتایا یا سہواً۔ وہ تو بعد میں بلکہ بہت بعد میں یعنی پریس ریلیز کے بھی بعد نہ جانے کس نے ففتھ جنریشن وار کا داؤ کھیلا اور اطلاع غلط ثابت ہوگئی۔ اب دیکھیں نا مخبری کے بعد دہشت گرد کی ہمت کیسے ہوئی گاڑی میں کسی کو لفٹ دینے کی، اوراس فیملی کو بھی سوچنا چاہیے تھا دہشت گرد سے لفٹ لینے سے پہلے۔ ہماری پکی اطلاع کو غلط ثابت کر کے ان لوگوں نے اپنا کتنا نقصان کیا دیکھ لیا نا آپ نے۔

اور بچوں کے سامنے جو کچھ ہوا، اس کے وہ خود ذمہ دارہیں۔ جب پتہ تھا قوم حالت جنگ میں ہے تو کیوں پیدا ہوئے اس ملک میں، ہوناہی تھا تو دہشتگردخاندان میں ہی کیوں پتہ ہے پتہ ہے مرنے کی کافی دیر بعد ان پر سے دہشتگردکالیبل ہٹ گیا مگر بچوں پر تو دھبہ لگ گیا ناں۔ اب اگر یہ بچے یہاں پیدا ا ہوہی گئے ہیں تو سب کی طرح قربانی دیں، ویسے بھی جب ہم ففتھ جنریشن وار لڑرہے ہیں تو ہماری نیکسٹ جنریشن کو بھی قربانی دینا ہوگی نا۔

آپ نہیں جانتے داعش کے جس دہشت گرد کا ساتھی یہ خاندان مرنے سے پہلے تھا اس کی گولی ان تین بچوں کو کیوں نہ لگی۔ کیونکہ انہیں بڑے ہوکر بڑے کام کرنا ہیں، یہ اس دشمن کے بچے تھے جو مرنے کے بعد دشمن نہیں رہا، یہ دشمن کے بچوں کو پڑھانے کا فریضہ باآسانی انجام دے سکتے ہیں۔ رہی بات ہمارے انجام کی تونقیب اللہ کیس کا جو ہوا، ویسا کچھ ہم بھی سہ لیں گے۔ جب بچے قربانی دے سکتے ہیں توہم کیوں نہیں۔ پاکستان زندہ باد

Facebook Comments HS