تاریخ سے ایک ورق
مورخ لکھے گا کہ چشم فلک کو وہ نظارہ بھلائے نہیں بھولتا جب سکندراعظم ثانی، فاتح دلی کے نیویارک میں ایک خطاب نے طاقت کے ایوانوں کی بنیادیں ہلا کررکھ دیں۔ اسٹیچو آف لبرٹی ضمیر کا بوجھ برداشت نہ کرسکا اور دل پھٹنے سے اس کی فوری موت واقع ہوگئی۔ سکندراعظم نے اس کے ریزے سنبھالے اور مملکت خداداد کی راہ لی، اللہ اللہ۔ کیا منظر تھا جب اولیا کا یہ قافلہ پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوا۔ کروڑوں
Read more
