لاہور کا شیطانی مجسمہ اور قومی تعلیمی ڈھانچہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مصور خیال و تصورات کا قیدی نہیں ہوتا، وہ آزاد ہوتا ہے اور یہی آزادی اُسے بہترین فنون لطیفہ کی تخلیق میں معاونت کرتی ہے بالکل ایسے ہی جیسے سماج کا گہرائی سے مشاہدہ کرنے کے بعد ایک لکھاری اپنے قلم سے جو الفاظ، جملے، فقرے لکھتا ہے وہ رجعت پسندی پر حملے سے کم نہیں ہوتا۔ جب مصور کو آزادی ہو تو وہ صادقین بن جاتا ہے پھر اس کے فن پارے بنارس ہندو یونیورسٹی میں بھی نظر آتے ہیں اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بھی صادقین کے فن کو جلا ملتی ہے۔

ایسے ہی جب لکھاری کا قلم آزاد ہو، حکمرانوں کے محلات کا قیدی نہ ہو، سرکار کا اعزاز یافتہ، مراعات یافتہ نہ ہو تو پھر وہ ابو الکلام آزاد بنتا ہے، منٹو بنتا ہے، حبیب جالب بنتا ہے۔ سماج کی تلخ حقیقتوں کو مصور کینوس پر اُتارتا ہے اور لکھاری صفحہ قرطاس پر محفوظ کر دیتا ہے۔ آزاد، منٹو، حبیب جالب، سید صادقین نقوی یہ تقسیم ہند کے پہلے کے اذہان ہیں جو سامراجی نظام کے خوف سے اپنا قلم چھپاتے نہیں تھے اور اس کے اثرات سن سنتالیس کے بعد بھی باقی رہے۔ سماج میں ایک فرد کی ذہنی آزادی کا دار و مدار اس کے دماغ کی پرورش سے ہوتا ہے اور اس پرورش کی بنیادی آماجگاہ درس گاہیں اور خاندانی نظام ہے۔

درس گاہ ریاست کے کنٹرول میں ہو تو پھر یہاں پرورش پانے والے اذہان بھی قومی سطح پر کنٹرول میں رہتے ہیں اور یہ کنٹرول بالکل ایسا ہی ہے جیسے ایک عام بچے کے سر پر لوہے کی ٹوپی منت کے نام پر رکھ دی جائے اور اس بچے کی عمر تو بڑھ جائے لیکن لوہے کی ٹوپی اس کے دماغ کی نشوونما پر تالا لگا دے تو وہ بچہ دولے شاہ کا چوہا بن جاتا ہے بالکل ایسے ہی جب غلامی پر مبنی ریاستی تعلیمی سانچے میں بچے کو نشوونما کے لیے ڈال دیا جاتا ہے تو وہ ڈگری تو حاصل کر لیتا ہے لیکن اس کی حالت دولے شاہ کے چوہے جیسی ہوتی ہے جو اس کے سماج، ریاست،معیشت کے بارے میں تصورات نچلے درجے سے اُوپر نہیں اٹھ پاتے۔

اس کا لا محالہ نتیجہ یوں نکلتا ہے کہ سماج کا بالاتر طبقہ اپنی طاقت کو مزید طاقت ور بنانے میں مسلسل مہلت حاصل کرتا چلا جاتا ہے۔ پاکستان کے سماج کو اسی سائنسی اُصول کی بنیاد پر کنٹرول میں رکھا جا رہا ہے جہاں انسان نما شیطانوں یا گدھوں کی پہچان مشکل ہو چکی ہے اور اگر کوئی فرد ان نقابوں کو اُتارنے کی جسارت کر بھی لے تو اُس پر فتوے داغے جاتے ہیں۔

ویسے تو پاکستان کو اپنی قومی شناخت کے لیے قومی ثقافت، قومی زبان، قومی تاریخ و ورثے سے کوئی سروکار نہیں ہے بلکہ ان ورثوں کی تباہی کی کوئی گنجائش باقی نہیں چھوڑی جاتی لیکن لاہور میوزیم کی مرکزی عمارت کے گرد انسان نما شیطان کا مجسمہ رکھا گیا تو مذہب بھی جاگ گیا، کلچر بھی جاگ گیا، انسانی ہمدردی کا درد بھی بڑھ گیا حتیٰ کہ ایمان بھی خطرے سے دو چار ہوگیا۔ کتنی دلچسپ بات ہے ناں کہ جب سماج میں استحصالی نظام ہو، سود کا نظام ہو، ثقافت و زبان کو قتل ہو تب حب الوطنی اور ایمانی کیفیت کو خطرہ لاحق نہیں ہوتا لیکن جیسے ہی اس دولے شاہ کے چوہے بنانے کے اس ریاستی نظام کو چیلنج کیا جاتا ہے تو بالاتر طبقے کے مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے منظم کارروائیاں شروع کر دی جاتی ہیں۔

لاہور کے مال روڈ پر جو مجسمہ رکھا گیا یہ بنیادی طور پر میکالے کے فلسفہ پر استوار کلرک پال نظام تعلیم کے منہ پر طمانچہ تھا جس نے ہماری آزادی سلب کر رکھی ہے۔ ہمارا قومی ذہن شک و خوف یا سازشوں کی لپیٹ میں رہتا ہے، ہم ان کے قیدی ہیں۔ طالب علم ارتباط الحسن چیمہ نے تھیسز میں فیروسٹی یعنی انسان کی درندگی اور وحشی پن کی عکاسی کی ہے جو ہمارے سماج کے مختلف اداروں میں پایا جاتا ہے، جب ایک فرد بھی اپنے وحشی پن میں دوسرے فرد کو جسمانی، ذہنی اور معاشی طور پر نقصان پہنچانے سے گریز نہیں کرتا۔

یہ مصور کو موضوع سے آزاد کر دینے کا ہی نتیجہ ہے کہ وہ اُس نے منفرد فن پارہ تشکیل دیا، ہم جب طالب علم کو موضوع کا قیدی بنا دیتے ہیں تو اُس کی سوچ کو ہی گرہ لگا دی جاتی ہے، اُس کا قلم ہی توڑ دیا جاتا ہے، اُس کے ہاتھ ہی باندھ دیے جاتے ہیں، ایسے میں کیا ہم توقع رکھیں کہ ہمارے سماج سے تخلیقی ذہن پیدا ہوں گے؟ یہ خود کو دھوکہ دینے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ عدالت میں مقدمہ دائر کرنے والی خاتون وکیل کو تاریخ، سائنس، ثقافت سے اتنی ہی دلچسپی ہے تو ایک مقدمہ لاہور کے ثقافتی و تاریخی ورثے ورثے کی بربادی پر بھی کر دیتیں، ایک مقدمہ تعلیمی اداروں کی بربادی پر بھی کر دیتیں، ایک مقدمہ سائنس کے میوزیم کی تباہی پر بھی کر دیتیں، ایک مقدمہ پنجاب بپلک لائبریری میں تاریخی کتابوں کو دیمک چاٹنے کے خلاف ہی کر دیتیں۔ یہ عجیب وحشی پن ہے جو صرف محدود قسم کے ذہنی تصورات کا ہی قیدی ہے، جس میں پرواز کرنے کی قوت و طاقت نہیں ہے اور اگر کوئی پرواز کرنے لگے تو اُس کے پر ہی کاٹ دیے جاتے ہیں۔

تعلیمی ڈھانچہ، سکول سے لے کر جامعہ تک، ایک خاص قسم کا غلام پیدا کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں کر رہا اور ہماری نسلیں تباہ کی جا رہی ہیں۔ اشرافیہ کی گرفت کو مضبوط کیا جا رہا ہے اس پر کوئی آواز کیوں نہیں اُٹھاتا؟ اس سسٹم کی بنیادوں کو جب بھی کوئی چیلنج کرتا ہے وہ غدار ٹھہرتا ہے، وہ کافر ٹھہرتا ہے، وہ ایجنٹ ٹھہرتا ہے، فتوؤں کے اس طاقت ور ہتھیار کے ذریعے سے چیلنج کرنے والے کو محض ”کردار“ بنا کر رکھ دیا جاتا ہے۔

مجھے حیرانی ہے کہ سوشل میڈیا پر اس شیطانی مجسمے کو دیکھ کر بعض افراد کو ایلومیناٹی، سکرٹ سوسائٹیز، فری میسن کا خوف لاحق ہوگیا ہے یہ خوف اُس وقت پیدا کیوں نہیں ہوتا جب پورے سیاسی نظام کو بین الاقوامی اداروں کے ذریعے سے قومی و عالمی سطح پر سیکرٹ سوسائٹیز کنٹرول کرتی ہیں۔ ہمیں اپنی نسلوں کی ذہنی آبیاری کو توانا بنانا ہے تو پھر مخصوص قسم کے ریاستی تعلیمی ڈھانچے کے خلاف بھی مقدمہ دائر کرنا چاہیے جو سب سے بڑا شیطانی مجسمہ ہے جس کی پوجا ہم اپنے گھروں میں اپنے بچوں کے ذریعے سے کرتے ہیں اور ہمیں احساس تک نہیں ہوتا۔

وگرنہ جدید اقوام میں ذہنی ترقی کی بنیاد ان کے یہاں کا تعلیمی ڈھانچہ ہے جہاں شیطانی مجسموں کا خوف دل و دماغ میں نہیں ہوتا بلکہ صرف محکوم قوم ہو جانے کا ڈر ہوتا ہے۔ اس فن پارے کے خلاف مخصوص ذہنیت کے حامل افراد نے طوفان بدتمیزی برپا کیا۔ یہ وہی ذہنیت ہے جس نے گلیلو کو سائنسی نظریات پیش کرنے پر پھانسی دلائی، جس نے سقراط کو زہر کا پیالہ پلوایا۔ اس ذہنیت کو شکست دیے بغیر سماج سے بالاتر طبقات کی اجارہ داری کو شکست دینا آسان نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •