نوآبادیاتی عہد کا گمنام انقلابی سکول

نوآبادیاتی معاشیات، بشریات، تاریخ اور سماجیات جیسے علوم کو ہندوستان میں پھیلانے میں یہاں کے تعلیمی ڈھانچے کو کلیدی حیثیت حاصل رہی۔ یورپی تاریخ، لہجے، اقدار اور انداز سخن سیکھنے کے لیے سول سروس کا حصہ بننے والے ہندوستانی پیش پیش ہوتے۔ فاتحین کی زبان و ثقافت سکھنا اور نوآبادیاتی حکام کی تقلید کے لئے…

Read more

امریکہ پاکستانی جمہوریت کو کس نظر سے دیکھ رہا ہے؟

ڈان اخبار نے گزشتہ روز ایک خبر شائع کی کہ امریکا نے اپنی سرکاری رپورٹ میں کہا ہے کہ ”آرمی چیف غیر سیاسی اور پروفیشنل ہیں،“ میرے لیے اس خبر سے زیادہ رپورٹ کو پڑھنا ضروری تھا کیونکہ خبر بسا اوقات ایڈیٹوریل پالیسی کا شکار ہو جاتی ہے۔ رپورٹ پڑھنے کے بعد انکشاف ہوا کہ امریکا پاکستان میں پاکستان تحریک انصاف کو اقتدار ملنے اور جمہوری طاقت پر بالکل واضح پوزیشن رکھتا ہے اور وہ موجودہ جمہوری حکومت کو محض علامتی تصور کرتا ہے۔ رپورٹ کے مندرجات میں بار بار اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

پاکستان کے جمہوری اداروں بالخصوص پارلیمنٹ، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے امریکا کی یہ رپورٹ تشویش ناک ہے۔

Read more

عید قرباں کمرشلائزیشن کی زد میں

عید الفطر سے لے کر عید الاضحیٰ تک، محرم الحرام سے لے کر ربیع الاول تک، رمضان المبارک سے لے کر ذوالحج کے مہینے تک، پاکستان میں سب کُچھ کارپوریٹ میڈیا کی زد میں ہے۔ ریاست کا چوتھا ستون تجارتی اور محض کاروباری مقاصد کے پیش نظر آپریٹ کر رہا ہے یہ سب دیکھ کر نوم چومسکی کے میڈیا سے متعلق تصورات سو فیصد درست معلوم ہوتے ہیں۔

Read more

جمہوریت کا اصطبل: مابعد نوآبادیاتی فلسفے کے تناظر میں

اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں ”مخصوص اسلام“ خطرے میں ہے اور اس کے ذیل میں پنپنے والی جمہوریت کو تو ویسے ہی روز اول سے خطرہ درپیش رہا ہے۔ اس کی بنیاد وہ مابعد نوآبادیاتی سیاسی ڈھانچہ ہے جو پاکستان میں رائج ہوا۔ اس ڈھانچے میں سول بیوروکریسی اور فوجی اداروں کو…

Read more

کمپنی تا برٹش راج: نالج کی نوآبادیاتی جڑیں

برطانیہ میں 1688 ء کے شاندار انقلاب کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی اور یہاں کے دولت مند افراد کے درمیان اتحاد قائم ہوا، جس کے بعد لبرل سرمائے اور لبرل شاہی خاندانوں کو منسلک اور متحد کرنے کے نئے دور کا آغاز ہوتا ہے، یہیں سے صاحب اقتدار افراد کو ایسٹ انڈیا کمپنی کی جانب…

Read more

قائد اعظم کی گمشدہ انڈی پنڈنٹ پارٹی

ایشیاء میں متحدہ ہندستان کی سیاسی تاریخ بہت غضب کی ہے، یہ خطہ کم و بیش 200 سال تک استعماری اجارہ داری کا شکار رہا۔ ایک کمپنی جو محض ہندستانی مصنوعات کو خریدنے کے لیے یہاں پہنچتی ہے وہ 1757 ء تک اپنے فوجی اڈے بنا لیتی ہے، چھاؤنیاں قائم کر لیتی ہے حتیٰ کہ جس صوبہ بنگال کو اورنگ زیب نے خوشحال ترین علاقہ ڈکلیئر کر رکھا تھا اس پر کمپنی کا قبضہ ہوجاتا ہے۔ آئندہ 100 سال تک کمپنی کی گرفت اتنی مضبوط ہوگئی کہ تخت دہلی کو بھی تاراج کر دیا گیا۔ سیاست کی اس جنگ میں کمپنی نے 100 سال تک مسلسل ہندستانی خزانوں کو یورپی ممالک منتقل کیا جب کمپنی کے خلاف بغاوت ہوگئی تو 1858 ء میں برطانوی پارلیمنٹ نے براہ راست ہندستان کا کنٹرول اپنی کمان میں لے لیا۔

Read more

لاہور میں رنجیت سنگھ کا مجسمہ کس نے لگوایا؟

قلعہ لاہور کے دیوان خاص، شیش محل، دیوان عام میں مغل سلطنت کے حکمرانوں کی نشانیاں باقی ہیں۔ تاریخ کے نظریے کی بنیاد دراصل اُس بیانیہ پر منحصر ہوتی ہے جو سماج کے طاقت ور طبقات کی جانب سے پیش کیا جاتا ہے اور یہ مخصوص بیانیہ سیاسی و معاشی فواٗئد کے تناظر میں قائم کیا جاتا ہے۔ لیکن جب تشکیل کردہ بیانیے کے پہلو میں قیاس اور مبالغہ آراٗئی کی آمیزش ہوتو پھر تاریخ دھندلا سی جاتی ہے۔ نوآبادیاتی عہد کے خاتمے کے بعد یہاں کی تاریخی و نصابی کتب کو مخصوص زاویوں میں مرتب کیا گیا جس نے سماج کی تکونی شکل کو بھی مبہم کر دیا یہی وجہ ہے کہ آج کا نوجوان ماضی کے دریچوں میں اُترنے کو تیار نہیں ہوتا۔

Read more

نئے حکمران طبقے کی تیاری میں موروثی سیاست کا کردار

یورپ میں نشاۃ ثانیہ یا روشن خیالی کی تحریک کی بنیاد میں یہ عنصر بھی شامل تھا کہ علم پر سماج کے ایلیٹ طبقے کی اجارہ داری کو چیلنج کیا جائے اور اس کا خاتمہ کر کے سماج کے دیگر طبقات کو بھی ترقی کے برابر مواقع فراہم کیے جائیں۔ اس تحریک کی کامیابی کی ابتداء چرچ اور بادشاہ کی اجارہ داری کے خاتمے اور صنعتی انقلاب کی بنیاد سے ہوئی۔ صنعتی انقلاب کے نتیجے میں جب ہندستان پر برطانیہ نے قبضہ کیا تو روشن خیالی کی تحریک کے برعکس یہاں پر نئے اجارہ دار طبقات پیدا کیے اور انھیں اقتدار میں شراکت دار بنایا گیا۔ نشاۃ ثانیہ یورپ کے لیے تو مثالی تھا لیکن دُنیا کے دیگر خطوں بالخصوص ہندستان میں یہ نشاۃ ثانیہ غلامی کا باعث بنی۔

Read more

کالونیل عہد کا تعلیمی تجزیہ

جنگ پلاسی کے بعد انگریزوں نے میر جعفر سے پیسے وصول کر کے بنگال میں سراج الدولہ کو شکست دے کر اسے تخت نشین کیا تھا گویا ہندستان میں کالونیل عہد کی یہ براہ راست ابتداء ہے جس کے بعد آئندہ سو سال تک ہندستان خانہ جنگی کا شکار رہا اور پنجاب میں دس سالہ بچے کے ساتھ معاہدہ کر کے انگریزوں نے 29 مارچ 1849 ء میں پنجاب پر بھی قبضہ کر لیا اس سے قبل کشمیر پہلے ہی 70 لاکھ روپے کے عوض انگریزوں نے فروخت کر دیا تھا۔انگریز راج کا جھنڈا پورے ہندستان میں جنگ آزادی 1857 ء کے بعد لہرایا گیا اور ہندستان انگریز کی عمل داری میں چلا گیا۔ ہم ہندستان کی تعلیمی صورتحال کا جائزہ 1857 ء تک لیں گے اور اس کے بعد ہونے والی مردم شماری کے اعداد وشمار کو ہم انگریز حکومت کی پالیسیوں کے ذیل میں تصور کریں گے۔

Read more

پنجابی شاونزم اور نوائے وقت اخبار کی تاریخ

پاکستان میں دو قومی نظریے کے محافظ اور ترویج کے لیے نوائے وقت گروپ کو کلیدی حیثیت رہی ہے اس کے ذیل میں ڈاکٹر مجید نظامی مرحوم نے نظریہ پاکستان ٹرسٹ بھی چلایا تاہم مجید نظامی کے انتقال کے بعد ان کی لے پالک بیٹی رمیزہ نظامی نے پورے ادارے کا مستقبل دائو پر لگا…

Read more