مزارات کے گدی نشینوں کی پولیٹیکل اکانومی

کورٹ آف وارڈز سسٹم کے تحت جن گدی نشینوں کو جاگیریں دی گئیں ان کی تفصیلات بھی ملاحظہ کیجئے : 1930 ء میں شاہ پور کے غلام محمد شاہ، ریاض حسین شاہ کو 6423 ایکٹرز جاگیر، اٹک کے سردار شیر محمد خان کو 25185 ایکٹرز، جھنگ کے شاہ جیونا خاندان کے خضر حیات شاہ، مبارک علی، عابد حسین کو 9564 ایکٹرز، ملتان کے سید عامر حیدر شاہ، سید غلام اکبر شاہ، مخدوم پیر شاہ کو 11917 ایکٹرز، ملتان کے گردیزی سید جن میں سید محمد نواز شاہ، سید محمد باقر شاہ، جعفر شاہ کو 7165 ایکٹرز، جلال پور پیر والا کے سید غلام عباس، سید محمد غوث کو 34144 ایکٹرز، گیلانی سید آف ملتان جس میں سید حامد شاہ اور فتح شاہ کے نام 11467 ایکٹرز، دولتانہ خاندان کے اللہ یار خان آف لڈھن کو 21680 ایکٹرز، ڈیرہ غازی خان کے میاں شاہ نواز خان آف حاجی پور کو 726 ایکٹرز، مظفر گڑھ کے ڈیرہ دین پناہ خاندان کے ملک اللہ بخش، قادر بخش، احمد یار اور نور محمد کو 2641 ایکٹرز اور ستپور کے مخدوم شیخ محمد حسن کو 23500 ایکٹرز جاگیر دی گئی۔

Read more

پاکستان میں وطن پرستی کا نصابی تصور

قومی ذہن کی تشکیل نصاب تعلیم کے ذریعے سے کی جاتی ہے، نصاب تعلیم کی بنیاد پر ہی قوم پرستی، وطن پرستی کا سبق پجپن سے ہی ذہن نشین کرایا جاتا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد عالمی سطح پر قومیت کا از سر نو تصور تشکیل دیا گیا، اس تصور کے تحت ہر قوم…

Read more

پوسٹ کالونیل ریاست میں حکمران طبقات کی تشکیل

سامراجیت محض ایک سازش نہیں، اور نہ ہی یہ محض محکوم ملک کے سماجی ڈھانچے سے جدا خارجی عنصر ہے۔ سامراجی نظام میں استعماری ملک کا معاشی ڈھانچہ، محکوم ملک کی سماجی ساخت میں پیوست کیا جاتا ہے۔ مابعد نوآبادیاتی فلسفے کے تناظر میں مقامی حکمران طبقات کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کر کے سامراجی…

Read more

نوآبادیاتی عہد میں فوج کا معاشی ڈھانچہ

نومبر 1918 ء میں پہلی عالمی جنگ کا خاتمہ ہوا اور معاشی منڈیوں پر قبضے کی اس جنگ کو 101 برس مکمل ہو رہے ہیں۔ اس عالمی جنگ کا فوجی نکتہ نظر سے ہندوستان پر کیا اثر ہوا، یہ پاکستان کے موجودہ سیاسی ڈھانچے کو سمجھنے میں معاون ہے۔ تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم…

Read more

نوآبادیاتی عہد کا گمنام انقلابی سکول

نوآبادیاتی معاشیات، بشریات، تاریخ اور سماجیات جیسے علوم کو ہندوستان میں پھیلانے میں یہاں کے تعلیمی ڈھانچے کو کلیدی حیثیت حاصل رہی۔ یورپی تاریخ، لہجے، اقدار اور انداز سخن سیکھنے کے لیے سول سروس کا حصہ بننے والے ہندوستانی پیش پیش ہوتے۔ فاتحین کی زبان و ثقافت سکھنا اور نوآبادیاتی حکام کی تقلید کے لئے…

Read more

امریکہ پاکستانی جمہوریت کو کس نظر سے دیکھ رہا ہے؟

ڈان اخبار نے گزشتہ روز ایک خبر شائع کی کہ امریکا نے اپنی سرکاری رپورٹ میں کہا ہے کہ ”آرمی چیف غیر سیاسی اور پروفیشنل ہیں،“ میرے لیے اس خبر سے زیادہ رپورٹ کو پڑھنا ضروری تھا کیونکہ خبر بسا اوقات ایڈیٹوریل پالیسی کا شکار ہو جاتی ہے۔ رپورٹ پڑھنے کے بعد انکشاف ہوا کہ امریکا پاکستان میں پاکستان تحریک انصاف کو اقتدار ملنے اور جمہوری طاقت پر بالکل واضح پوزیشن رکھتا ہے اور وہ موجودہ جمہوری حکومت کو محض علامتی تصور کرتا ہے۔ رپورٹ کے مندرجات میں بار بار اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

پاکستان کے جمہوری اداروں بالخصوص پارلیمنٹ، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے امریکا کی یہ رپورٹ تشویش ناک ہے۔

Read more

عید قرباں کمرشلائزیشن کی زد میں

عید الفطر سے لے کر عید الاضحیٰ تک، محرم الحرام سے لے کر ربیع الاول تک، رمضان المبارک سے لے کر ذوالحج کے مہینے تک، پاکستان میں سب کُچھ کارپوریٹ میڈیا کی زد میں ہے۔ ریاست کا چوتھا ستون تجارتی اور محض کاروباری مقاصد کے پیش نظر آپریٹ کر رہا ہے یہ سب دیکھ کر نوم چومسکی کے میڈیا سے متعلق تصورات سو فیصد درست معلوم ہوتے ہیں۔

Read more

جمہوریت کا اصطبل: مابعد نوآبادیاتی فلسفے کے تناظر میں

اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں ”مخصوص اسلام“ خطرے میں ہے اور اس کے ذیل میں پنپنے والی جمہوریت کو تو ویسے ہی روز اول سے خطرہ درپیش رہا ہے۔ اس کی بنیاد وہ مابعد نوآبادیاتی سیاسی ڈھانچہ ہے جو پاکستان میں رائج ہوا۔ اس ڈھانچے میں سول بیوروکریسی اور فوجی اداروں کو…

Read more

کمپنی تا برٹش راج: نالج کی نوآبادیاتی جڑیں

برطانیہ میں 1688 ء کے شاندار انقلاب کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی اور یہاں کے دولت مند افراد کے درمیان اتحاد قائم ہوا، جس کے بعد لبرل سرمائے اور لبرل شاہی خاندانوں کو منسلک اور متحد کرنے کے نئے دور کا آغاز ہوتا ہے، یہیں سے صاحب اقتدار افراد کو ایسٹ انڈیا کمپنی کی جانب…

Read more

قائد اعظم کی گمشدہ انڈی پنڈنٹ پارٹی

ایشیاء میں متحدہ ہندستان کی سیاسی تاریخ بہت غضب کی ہے، یہ خطہ کم و بیش 200 سال تک استعماری اجارہ داری کا شکار رہا۔ ایک کمپنی جو محض ہندستانی مصنوعات کو خریدنے کے لیے یہاں پہنچتی ہے وہ 1757 ء تک اپنے فوجی اڈے بنا لیتی ہے، چھاؤنیاں قائم کر لیتی ہے حتیٰ کہ جس صوبہ بنگال کو اورنگ زیب نے خوشحال ترین علاقہ ڈکلیئر کر رکھا تھا اس پر کمپنی کا قبضہ ہوجاتا ہے۔ آئندہ 100 سال تک کمپنی کی گرفت اتنی مضبوط ہوگئی کہ تخت دہلی کو بھی تاراج کر دیا گیا۔ سیاست کی اس جنگ میں کمپنی نے 100 سال تک مسلسل ہندستانی خزانوں کو یورپی ممالک منتقل کیا جب کمپنی کے خلاف بغاوت ہوگئی تو 1858 ء میں برطانوی پارلیمنٹ نے براہ راست ہندستان کا کنٹرول اپنی کمان میں لے لیا۔

Read more