نئے حکمران طبقے کی تیاری میں موروثی سیاست کا کردار

یورپ میں نشاۃ ثانیہ یا روشن خیالی کی تحریک کی بنیاد میں یہ عنصر بھی شامل تھا کہ علم پر سماج کے ایلیٹ طبقے کی اجارہ داری کو چیلنج کیا جائے اور اس کا خاتمہ کر کے سماج کے دیگر طبقات کو بھی ترقی کے برابر مواقع فراہم کیے جائیں۔ اس تحریک کی کامیابی کی ابتداء چرچ اور بادشاہ کی اجارہ داری کے خاتمے اور صنعتی انقلاب کی بنیاد سے ہوئی۔ صنعتی انقلاب کے نتیجے میں جب ہندستان پر برطانیہ نے قبضہ کیا تو روشن خیالی کی تحریک کے برعکس یہاں پر نئے اجارہ دار طبقات پیدا کیے اور انھیں اقتدار میں شراکت دار بنایا گیا۔ نشاۃ ثانیہ یورپ کے لیے تو مثالی تھا لیکن دُنیا کے دیگر خطوں بالخصوص ہندستان میں یہ نشاۃ ثانیہ غلامی کا باعث بنی۔

Read more

کالونیل عہد کا تعلیمی تجزیہ

جنگ پلاسی کے بعد انگریزوں نے میر جعفر سے پیسے وصول کر کے بنگال میں سراج الدولہ کو شکست دے کر اسے تخت نشین کیا تھا گویا ہندستان میں کالونیل عہد کی یہ براہ راست ابتداء ہے جس کے بعد آئندہ سو سال تک ہندستان خانہ جنگی کا شکار رہا اور پنجاب میں دس سالہ بچے کے ساتھ معاہدہ کر کے انگریزوں نے 29 مارچ 1849 ء میں پنجاب پر بھی قبضہ کر لیا اس سے قبل کشمیر پہلے ہی 70 لاکھ روپے کے عوض انگریزوں نے فروخت کر دیا تھا۔انگریز راج کا جھنڈا پورے ہندستان میں جنگ آزادی 1857 ء کے بعد لہرایا گیا اور ہندستان انگریز کی عمل داری میں چلا گیا۔ ہم ہندستان کی تعلیمی صورتحال کا جائزہ 1857 ء تک لیں گے اور اس کے بعد ہونے والی مردم شماری کے اعداد وشمار کو ہم انگریز حکومت کی پالیسیوں کے ذیل میں تصور کریں گے۔

Read more

پنجابی شاونزم اور نوائے وقت اخبار کی تاریخ

پاکستان میں دو قومی نظریے کے محافظ اور ترویج کے لیے نوائے وقت گروپ کو کلیدی حیثیت رہی ہے اس کے ذیل میں ڈاکٹر مجید نظامی مرحوم نے نظریہ پاکستان ٹرسٹ بھی چلایا تاہم مجید نظامی کے انتقال کے بعد ان کی لے پالک بیٹی رمیزہ نظامی نے پورے ادارے کا مستقبل دائو پر لگا…

Read more

سلطان ٹیپو کے خلاف انگریزوں، مرہٹوں اور اہل نوایط کا اتحاد

سرکاری طور پر وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا سلطان ٹیپو کو خراج پیش کرنا انگریز راج کی ہندستان میں لوٹ مار کی مذمت کی علامت ہے۔ اب یہ علامت محض ٹویٹ تک محدود ہے یا نہیں یہ فیصلہ قارئین پر چھوڑتے ہیں۔ انگریز راج میں مقامی گماشتوں کے ذریعے سے سلطنت کو وسعت دی گئی۔ بنگال میں میر جعفر کی مدد سے سراج الدولہ کو شکست دے کر ہندستان داخل ہوئے اور 52 سال بعد میسور میں میر صادق کی وفاداری سے سلطنت خداد داد پر قبضہ کر لیا۔میر صادق تو حاکم سلطنت بننے کا خواب لیے دوران جنگ ہی سلطان ٹیپو کی فوج کے ہاتھوں قتل ہو گیا لیکن اس عظیم غداری کے عوض کمپنی بہادر نے سرنگا پٹم فتح کر کے قلعے کی پوری دولت لوٹ کر اپنی جڑیں ہندستان میں مضبوط کرنے کے دوسرے دور کا آغاز کیا۔

Read more

نوآبادیاتی راج میں کشمیر فروخت کی کہانی۔ دوسری قسط

انگریز سرکار ہندستان کی تقسیم امپریل مفادات کے تناظر میں کر رہی تھی، امریکی صدر روزیلٹ کی جانب سے برطانوی سرکار پر مسلسل دباؤ تھا اور ہندستان کی تقسیم میں گریٹ گیم کو پیش نظر رکھا گیا۔ 12 اگست 1941 ء کو روزویلٹ اور ونسٹن چرچل نے ایٹلانٹک چارٹر پر دستخط کیے تھے اس چارٹر کے تحت امریکہ نے آزادی کا نعرہ لگا کر ہندستان چھوڑنے کے لیے برطانیہ پر بالواسطہ دباؤ ڈالا تھا، اس کے بعد جب کرپس مشن کی ناکامی ہوئی تو چرچل کو ساری صورتحال سے متعلق روزیلٹ کو آگاہ کرنا پڑا، اس حوالے سے کتنے خطوط لکھے گئے اس پر کبھی الگ سے بات کریں گے۔

Read more

نوآبادیاتی راج میں کشمیر فروخت کرنے کی کہانی

کشمیر (آزاد و مقبوضہ) کی شمالی حدود روس (سوویت یونین) اور چین کی سرحدوں سے ملتی ہیں۔ شمالی مغرب کی حدود پاکستان کے فرنٹیئر اور پنجاب سے ملحق ہیں۔ جنوب مشرق کا کچھ حصہ بھارت سے ملتا ہے۔ جنوب اور مغرب میں گلگت بلتستان ہے۔یہ نقشہ تو قدرتی تھا لیکن سامراج کے نوآبادیاتی منصوبے کی لپیٹ میں آگیا۔ نوآبادیاتی عہد کی اس داستان کا آغاز سکھوں اور انگریزوں کے درمیان جنگ سے ہوتا ہے۔ 1839 ء میں رنجیت سنگھ کی وفات کے بعد پنجاب میں سکھ سلطنت کے زوال کا آغاز ہوتا ہے۔ اس سے قبل ستلج کے محاذ پر انگریز سکھوں کے مقابل پر آچکے تھے۔ نومبر 1845 ء میں اینگلو سکھ جنگ ہوئی جس میں سکھوں کو شکست ہوئی اور اس شکست کا فائدہ رنجیت سنگھ کے درباری گلاب سنگھ کو ہوا، 1841 ء میں افغانیوں کے ساتھ انگریزوں کی محاذ آرائی میں گلاب سنگھ نے انگریزوں کی مدد کی تھی جس کے باعث گلاب سنگھ کی انگریز افسران کے ساتھ اچھی علیک سلیک تھی۔ جب انگریزوں کی سکھوں سے جنگ چھڑی تو گلاب سنگھ کو کمانڈ سونپی گئی۔گلاب سنگھ نے اپنی فوج کو حکم جاری کیا کہ انگریز فوج پر اُس وقت تک حملہ نہیں کرنا جب تک وہ میدان جنگ میں نہیں پہنچ جاتا، تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ گلاب سنگھ اپنی فوج کے پاس نہیں پہنچاتھا اور انگریز نے حملہ کر کے سکھ فوج کو زیر کر لیا۔

Read more

پنجاب کی نئی تعلیمی پالیسی: چربہ سازی کی دستاویز

بالآخر انگریزی زبان میں تحریر کی گئی پنجاب کی صوبائی تعلیمی پالیسی میں اُردو زبان کو ذریعہ تعلیم بنانے کا عہد کیا گیا ہے، اُردو ذریعہ تعلیم بنے گی یا نہیں انگریزی میں لکھی گئی تعلیمی پالیسی سے ادراک کیا جاسکتا ہے۔ یہ پالیسی ایسے ہی جیسے پھٹی پرانی کتابوں کو نئے بستے میں رکھ…

Read more

انگریز سامراج نے ایمپرس مارکیٹ کیوں بنوائی؟

میرٹھ سے مئی 1857 ء سے شروع ہونے والی بغاوت سندھ تک پہنچ گئی اور انگریز کے مظالم کے خلاف نفرت سندھ میں کینٹ تک داخل ہوگئی چنانچہ 13 اور 14 ستمبر کی درمیانی شب کو حوالدار رام دین پانڈے نے 44 سپاہیوں کی مدد سے جنگ آزادی کا حصہ بننے کے لیے انگریزوں پر حملہ کی منصوبہ بندی کی، دو سپاہیوں نے غداری کرتے ہوئے اس پلان کی مخبری انگریز فوجی افسروں کو کر دی۔ 14 ویں پیدل فوج کے یہ سپاہی جب کراچی کینٹ سے فرار ہونے لگے تو ان پر گولیاں برسا دی گئیں اور موقع پر ہی 8 سپاہی مارے گئے، 30 سپاہیوں کو گرفتار کر لیا گیا اور باقی 6 سپاہی فرار ہوگئے۔

ان ہندستانی سپاہیوں کو انگریز جج کے سامنے پیش کیا گیا اور دو ہفتے تک عدالت میں مقدمہ چلنے کے بعد 8 سپاہیوں کو پھانسی کی سزا سنائی گئی جبکہ 23 سپاہیوں کو کالا پانی جیل میں بھیج دیا گیا جو سپاہی فرار ہوئے تھے وہ بھی چند روز میں پکڑے گئے۔

Read more

لاہور کا شیطانی مجسمہ اور قومی تعلیمی ڈھانچہ

مصور خیال و تصورات کا قیدی نہیں ہوتا، وہ آزاد ہوتا ہے اور یہی آزادی اُسے بہترین فنون لطیفہ کی تخلیق میں معاونت کرتی ہے بالکل ایسے ہی جیسے سماج کا گہرائی سے مشاہدہ کرنے کے بعد ایک لکھاری اپنے قلم سے جو الفاظ، جملے، فقرے لکھتا ہے وہ رجعت پسندی پر حملے سے کم…

Read more

زرعی یونیورسٹی کا فرسودہ تہذیبی تصور

ہر تہذیب خود کو دُنیا کے مرکز کی حیثیت سے دیکھتی ہے اور اپنی تاریخ لکھتے وقت اسے انسانی تاریخ کی مرکزیت کا درجہ دیتی ہے لیکن اس کے باوجود دُنیا کثیر تہذیبی رہی ہے اور تہذیبوں کی شناخت جغرافیہ کے گرد گھومتی رہی ہے، جو نظریہ، فکر، فلسفہ غالب ہوتا ہے تہذیب بھی اُسی…

Read more
––>