تھرڈ برٹش ایمپائر: ڈومینین ریاست تا دولت مشترکہ کی تشکیل

امریکی قوم نے کم و بیش پونے دو سو سال تک برطانوی استبدادیت، جبّر اور غلامی کا طوق پہنے رکھا جو بالآخر چار جولائی 1776 ء کو اعلان آزادی کی صورت میں ختم ہوا۔ شمالی امریکا میں برطانیہ کے زیر تسلط تیرہ کالونیز (ریاستوں ) نے برطانوی غلامی سے آزادی کا نقارہ بجایا اور نوآبادیاتی امریکا نے برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے بعد فرانس کے ساتھ اتحاد کیا تاکہ برطانوی وحشت و بربریت کے خلاف لڑا جا سکے اور

Read more

نو آبادیاتی اداروں کا استحصالی کردار: نوبل انعام یافتہ تحقیق نے کیا راز فاش کیے؟

نوبل انعام تقسیم ہوں تو پاکستان میں ایک بھونچال برپا ہو جاتا ہے کہ پاکستان علم و تحقیق کی اس دوڑ میں کیوں شامل نہیں ہوتا۔ دوسری جانب نوبل انعام کی ساخت یہی بتاتی ہے کہ مغربی اداروں میں سائنسی تحقیق کرنے والے محققین کو ان انعامات سے زیادہ نوازا جاتا ہے۔ ادب اور امن کا نوبل انعام تو اخبارات میں خبروں کی شہ سرخیاں بن جاتا ہے لیکن اس سال معاشیات کے مضمون میں جن تین پروفیسرز کو نوبل

Read more

استعماری سیاح: مقبرہ سلطان ٹیپو پر لارڈ میکالے نے کیوں حاضری دی؟

برطانوی ہند میں، انگریز استعمار نے کثیر الجہتی حکمت عملی اختیار کی تھی، سیاسی امور میں جن افراد کا انتخاب کیا جاتا ان کے نسبی و نسلی رشتے کو فوقیت دی جاتی تھی۔ کمپنی کی حکومت میں ایسے بے شمار کردار ملتے ہیں جنھوں نے ہندستان پر استبدادیت کو مضبوط کرنے میں استعماری کردار بخوبی نبھایا۔ ان کرداروں میں ایک ٹی بی میکالے کا خاندان بھی شامل ہے۔ ٹی بی میکالے کے چچا کولن میکالے نے 21 سال کی عمر

Read more

امریکی الیکشن: ٹرمپ دوبارہ کس وجہ سے جیتا؟

امریکی جمہوری سیاست میں دو جماعتوں کا غلبہ ہے : ڈیموکریٹک اور ریپبلکن۔ اوّل الذکر کا انتخابی نشان گدھا ہے اور ثانی الذکر ہاتھی کے انتخابی نشان پر الیکشن لڑتی ہے۔ امریکا کے بین الاقوامی سیاسی امور میں پینٹاگون کو ہمیشہ بالادستی رہی ہے، پینٹاگون کے ذریعے سے امریکا خارجہ امور میں اپنے مفادات کی نگرانی کرتا ہے گویا پینٹاگون ہی امریکی مقتدرہ کی علامت ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ڈیموکریٹس پارٹی مقتدرہ کی حامی ہے اور پارٹی کا

Read more

ردّ نوآبادیت اور ڈیجیٹل کٹھ پتلی باز

  آج کی تیز رفتار ڈیجیٹل دنیا میں، سوشل میڈیا نے ہمیں رابطے، تحریک اور فوری تسکین کے وعدوں سے مسحور کر لیا ہے۔ تاہم، اس کی چمکدار کشش کے پیچھے ایک خطرناک حقیقت چھپی ہوئی ہے جو ہماری تنقیدی سوچنے کی صلاحیت اور خود مختار فیصلے کرنے کی طاقت کو کمزور کرنے کا خطرہ رکھتی ہے۔ ڈیجیٹل عہد میں، مواد کی ترسیل اور مواد تک رسائی کے لیے تعلیم یافتہ ہونے کی شرط نہیں ہے، ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے

Read more

یونیورسٹیوں کی گورننس ڈی کالونائزڈ کرو

نوآبادیاتی ہندستان میں، 1858 ء میں برطانوی حکام نے یونیورسٹیوں کے قیام کا آغاز اس لیے ہوا کہ بڑھتی ہوئی بیوروکریسی کے لیے تعلیم یافتہ ہندوستانی تیار کیے جا سکیں۔ نوآبادیاتی انتظامیہ کا بنیادی مقصد حکمرانی اور سلامتی تھا، جس کی وجہ سے انڈین سول سروس اور فوج جیسے ادارے بنائے گئے۔ تاہم، اعلیٰ تعلیم کو ایک ماتحت کردار میں رکھا گیا، جو حکومتی کنٹرول میں، مالی معاونت سے اور تعلیمی آزادی سے محروم رہی۔ یوں، ذہین طلباء کو راغب

Read more

دستور میں نئی آئینی ترمیم: حاکمیت کے نوآبادیاتی فلسفے کا مطالعہ

ہندوستان پر سیاسی اجارہ داری کو تقویت دے کر، معاشی مفادات کا حصول برطانوی نوآباد کاروں کا بنیادی ہدف رہا۔ فوج کشی، جنگوں اور فسادات کے ذریعے سے، ہندوستان پر زبردستی تسلط قائم کرنے کے لیے استعماری طاقت نے نوآبادیاتی سیاسی ڈھانچہ تشکیل دیا جس کا مقصد ہندوستان میں سامراجیت کی جڑوں کو مضبوط کرنا تھا۔ برطانوی حکام نے اس ضمن میں ہندوستان میں جمہوری پراسیس کو معطل رکھا اور آمرانہ تصور حکومت کے تحت نوآبادیاتی ادارہ جات متعارف کرائے۔

Read more

مون سون اور نو آبادیاتی سیاہ کاریاں

تاریخ پاکستان بتلاتی ہے کہ عدم مساوات اور غربت قدرتی نہیں ہیں دونوں نو آبادیاتی ورثہ ہیں جو عصری انتظامات کے تحت قائم ہیں۔ پاکستان میں قدرتی آفات سے ہونے والی بیشتر تباہ کاریاں بھی قدرتی نہیں ہیں بلکہ یہ نو آبادیاتی عہد میں تعمیر کیے گئے ہائیڈرولوجیکل انفراسٹرکچر کی وجہ سے ہیں۔ برطانوی منتظمین نے نو آبادیاتی عزائم کو بروئے کار لا کر یہاں کے دریاؤں کو مصنوعی طور سے کنٹرول کر کے اپنے تسلط اور مالی مفادات کو

Read more

بنگلہ دیش : فوجی بغاوتیں اور جمہوریت

بنگلا دیش میں طلباء تحریک کے دوران وزیر اعظم شیخ حسینہ کے جلا وطن اور مستعفی ہونے پر امریکہ نے خیر مقدم کیا ہے۔ امریکہ نے، آخر بنگلہ دیش کے آرمی چیف کے اعلان کی فوری حمایت کیوں کی؟ بنگلہ دیش کے حالیہ سیاسی منظر نامہ کو سمجھنے کے لیے ہمیں طلباء کی احتجاجی تحریک کے محرکات دیکھنے ہوں گے۔ بنگلہ دیش کی ہائیکورٹ نے امسال جولائی میں فیصلہ سنایا جس کے تحت آزادی کی تحریک میں شامل سابق فوجیوں

Read more

نو آبادیاتی لاہور: مقامی تمدن کی تشکیل نو

تہذیب و تمدن، انسانی ارتقا کی میراث ہے، خطہ زمین پر انسانوں کے اجتماع نے نفس انسانی کو مہذب رکھنے کے لیے نظام ہائے زندگی ترتیب دیے جس کا مقصد سماج میں ترقی کی منازل عبور کرنا رہا۔ نظام شمسی کے تابع، ارض زمین پر قدیم سماج کے نقوش ہمیں تاریخ کی داستان بتاتے ہیں، انھی داستانوں میں ایک کہانی لاہور بھی اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ سماج جن تجربات سے گزرتا ہے، اس کے اثرات سماجی پرتوں میں پیوست

Read more

پاکستان کے سول ایوارڈز: پس نوآبادیات میں تاریخی و شعوری جائزہ

فطرت انسانی میں مادہ ایجاد و تقلید ہی، نوع انسانی کو دیگر انواع سے ممتاز کرتا ہے یہ فطرت انسان کے حب جمال سے بھی گہرا تعلق رکھتی ہے۔ انسان کا عالمی سماج، ارتقاء اور تجربات سے گزر کر جدید عہد تک پہنچا ہے۔ شاہ ولی اللہ کے فلسفیانہ اسلوب کے مطابق، عالمی سماج چوتھے دائرہ میں داخل ہو چکا ہے یعنی انسانی سماج کا ارتقاء مکمل ہو چکا ہے جس میں انسان نے بین الاقوامی سطح کا نظام متعین

Read more

نیو کالونیل ازم اور لاہور میں خاتون پر حملہ آور کی ذہنیت

پاکستان میں مذہبی منافرت کی جڑیں برطانوی سام راج کی نوآبادیاتی پالیسیوں کا نتیجہ ہے، مذہب کا کالونیل استعمال ملکہ برطانیہ کی سرپرستی میں کیا گیا، لڑاؤ اور حکومت کرو کا کالونیل منصوبہ کامیاب رہا برطانوی سام راج نے مذہبی شدت پسندی کو دوام بخشنے کے لیے دھرتی کا سینہ چیر کر انسانوں کے خون سے سرحدی لکیریں کھینچ دیں۔ یہ سرحدی لکیریں دونوں اطراف برابر آگ لگائے رکھتی ہیں۔ پاکستان کے مسلمان کو پاکستان کے مسلمان سے ہی جان

Read more

نیو کالونیل عہد اور دیہی خداؤں کا پاکستان

سائیکل کے انتخابی نشان سے شروع ہونے والا سفر پہلے ایک جیپ میں بدلا، وہ جیپ پراڈو میں تبدیل ہو گئی اور اس پراڈو کی ہی ڈرائیونگ سیٹ کے برابر نشست پر میاں نواز شریف بیٹھ کر ہاتھ ہلاتے تھے اور ورکرز کے نعروں کے جواب دیتے تھے اس ڈرائیونگ نشست پر چوہدری نثار ہوتے تھے لیکن اب ڈرائیونگ سیٹ پر چوہدری نثار کو بٹھانے والے خود بیٹھ گئے ہیں تاکہ نواز شریف نعروں کا جواب دیتے وقت با ہمت

Read more

کلائمیٹ گورننس: پاکستان میں دستوری و قانونی مسئلہ

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ منصوبہ بندی کے طریقہ کار اور موسمیاتی موافقت پر مبنی سرمایہ کاری کے لیے عملی طور پر ایک اہم موڑ ثابت ہونا چاہیے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ گلوبل کلائمیٹ انڈیکس رسک کی فہرست میں پاکستان دنیا کے ان دس ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی خطرات کا شکار ہیں اور پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے اس فہرست میں ہے۔ پاکستان میں

Read more

ضیا الحق کی آئینی باقیات پر سوال: عوام نہیں تو کون؟

نوآبادیاتی عہد کی پروردہ سول و ملٹری بیوروکریسی نے قومی اقدار کا تعین تقسیم ہند کے فوری بعد کر لیا، یہ اقدار انگریزی طرز حکمرانی سے ماخوذ تھے اور اس میں نوآبادیاتی عہد کی حکمرانی کا تجربہ پاکستان کو ورثہ میں ملا۔ انڈین انڈی پینڈنس ایکٹ 1947 ء کے تحت پاکستان نے قانون ہند 1935 ء کو ملک میں نافذ کیا اور اس قانون کے تحت جتنے بھی ضابطے تھے وہ بھی من و عن نافذ ہو گئے، نوآبادیاتی عہد

Read more

میرا بیانیہ، میرا الیکشن

بیسویں صدی کے آخری عشرے اور اکیسویں صدی کے پہلے عشرے میں جنم لینے والے پاکستانیوں نے قومی سیاسی المیوں کا براہ راست مشاہدہ کیا۔ ضیائی آمریت نے سیاست کی گود بھرائی میں جن خانوادوں کو سیاسی شناخت دی ، وہی خانوادے آج قومی سیاست پر ہاوی ہیں۔ کبھی اسلام آباد بیٹھ کر تو کبھی لندن بیٹھ کر یہ خانوادے قومی سیاسی اُفق پر چھائے رہتے ہیں ، کبھی آسیب تو کبھی پرچھائیں تو کبھی چھاؤں کی طرح یہ خانوادے

Read more

پوسٹ کالونیل پراجیکٹ: پاکستان کی قومی شناخت کی تشکیل میں امریکی کردار

مابعد جدیدیت اور رد نو آبادیت، کالونیل عہد کے خاتمہ کے بعد نوخیز ریاستوں میں گزشتہ سات دہائیوں سے زیر بحث ہیں۔ برطانوی ہند میں جدیدیت کا تصور، یورپی تہذیب و لسانی شناخت کے تحت تشکیل پایا۔ لہذا، تقسیم ہند کے بعد رد نو آبادیت کا چیلنج قومی سطح پر درپیش رہا۔ پوسٹ ماڈرن سماج میں تشخص کے معنی قومی تقاضوں کے مطابق ڈھالے جاتے ہیں جس کے لیے ضروری ہے کہ ریاست آزادانہ طور پر مقامیت سے ہم آہنگ

Read more

کالونیل عہد کا کمپنی قانون: پاکستان میں 31 خاندانوں کی اقتصادی حاکمیت

نوآبادیاتی عہد میں، برصغیر میں صنعتی ترقی جامد کرنے کے لیے برطانوی مقتدرہ نے قوانین کا سہارا لیا اور ان قوانین کی بنیاد پر ہندستان میں انگریزوں کی حاکمیت اور ایلیٹ خاندان کے باہمی تعلقات کو مضبوط کیا گیا۔ یورپی تجارتی کمپنیوں کے ذریعے سے سیاسی حاکمیت قائم کرنے کا تجربہ سب سے پہلے ایسٹ انڈیا کمپنی نے کیا۔ قومی مالیاتی نظام پر کمپنیوں کے ذریعے سے اقتصادی بالادستی اور سیاسی کنٹرول کی جڑوں کو مضبوط کرنے لیے سٹاک مارکیٹ

Read more

بھٹو خاندان: نوآبادیاتی راج سے زلفی کی پھانسی تک۔ دوسری قسط

بارہ سال کی عمر میں ذوالفقار علی بھٹو کی منگنی 22 سالہ شیریں سے ہو گئی، وہ ان کے چچا خان بہادر احمد خان بھٹو کی بیٹی تھی، یہ شادی بھٹو کی مرضی کے خلاف ہوئی تھی، اس شادی پر نکتہ نظر ہے کہ بھٹو نے یہ شادی زمینی جائیداد کے حصول کے لیے کی تھی، اگرچہ شیریں زندگی بھر بھٹو کی اہلیہ ہونے کے باوجود محبت کے رشتے سے محروم رہی اور وہ لاڑکانہ میں ہی وفات پا گئی

Read more

بھٹو خاندان: نوآبادیاتی راج سے زلفی کی پھانسی تک

ذوالفقار علی بھٹو، تاریخ پاکستان کی ایسی سیاسی شخصیت ہیں جن کے اثرات عہد رفتہ میں بھی وطن کو درپیش ہیں، بھٹو کی الم ناک موت، ان کی سیاسی طاقت اور حریف کی کمزوری کے گرد گھومتی ہے۔ بھٹو کا سیاسی انجام تلخ تھا تاہم بھٹو کے سیاسی تصورات و اقدامات نے پاکستان کی سیاست پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ چار اپریل کو ان کی پھانسی کو عظیم قربانی قرار دینے کے لیے وزیر اعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی

Read more

ڈومینین ریاست نے پاکستان میں آمریت کیسے مضبوط کی؟

ہر چند سال بعد ، پاکستان آئینی عدم استحکام سے دوچار ہوتا ہے، اس عدم استحکام پر جز وقتی تبصرے و مباحثے ہوتے ہیں، لیکن دوبارہ وہی سنگین نوعیت کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے جیسا اب پی ڈی ایم حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی کشمکش کے باعث آئینی عدم استحکام کا سوال زیر بحث ہے۔ ہمیں یہ باور رہنا چاہیے کہ پاکستان میں میں آئینی عدم استحکام، درحقیقت پریٹورین طرز حکمرانی کی طویل تاریخ پر مشتمل ہے

Read more

جدید برطانیہ کی تشکیل میں نوآبادیاتی دولت کا کردار

برطانیہ سفر کرنے کا تجربہ رکھنے والے افراد بخوبی جانتے ہیں کہ لندن یا دیگر شہروں میں قائم پر شکوہ عمارتیں کیسے ایک ترقی یافتہ سماج کا تاثر ذہن پر نقش کرتی ہیں۔ برطانیہ کی ان تاریخی عمارتوں کے سامنے تصاویر بنانا، اس تاثر کو مزید تقویت پہنچاتا ہے کہ کوئی شخص اس جگہ سے کس حد تک متاثر ہوا ہے۔ یہ محض عمارتیں نہیں ہیں، برطانیہ کی ماضی کی تاریخ ہیں، ان عمارتوں کی بنیادوں میں چھپی الم ناک

Read more

امریکی جیو پالیٹکس کے تناظر میں پاکستان کی نئی مقتدرہ کے چیلنجز

امریکی سلامتی کے ماہر، بروس ریڈل نے ایک بار بروکنگ انسٹی ٹیوٹ کے لیے اپنی بریفنگ میں کہا تھا کہ ”پاکستان کی سیاست کمزور منتخب سویلین حکمرانی کے ادوار کے ساتھ متبادل فوجی آمریتوں کی تاریخ کی عکاسی کرتی ہے“ ۔ اگرچہ پاکستان میں 2008 ء کے بعد سے مسلسل جمہوریتی حکومتیں قائم ہو رہی ہیں تاہم طاقت کا حقیقی مرکز جی ایچ کیو ہی مانا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی طاقت ور فوج کے نئے سربراہ

Read more

فیٹف: مابعد نوآبادیاتی اور اقتصادی حاکمیت کا استعماری حربہ

پاکستان مابعد نوآبادیاتی شکنجہ سے جز وقتی آزادی ملنے پر، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف) کی سرمئی یعنی گرے فہرست سے خارج ہونے پر جشن منا رہا ہے، وطن عزیز کے حکمران طبقات کی جانب سے بذریعہ میڈیا پیغام جشن نشر اور شائع کیے جا رہے ہیں۔ ہم بھی خوشی کے ان رنگوں میں خود کو رنگنے کی جستجو میں ہی ہیں لیکن آزادی کے وسیع تر بیانیہ نے سوچنے اور فکر کرنے کی جانب راغب کر دیا ہے۔ عالمی

Read more

کیا پاکستان انڈوپیسیفک میں ایک سیکیورٹی رسک ہے؟

دو صدیوں سے مشرق وسطیٰ اور ایشیاء عالمی طاقتوں کے باہمی ٹکراؤ کا مرکز ہے، عالمی طاقتوں کے سیاسی رجحانات، درحقیقت اقتصادی و تزویراتی پہلوؤں کے تابع ہوتے ہیں۔ سات دہائیوں سے امریکا نے عالمی سیاسیات کو اپنے تزویراتی مقاصد کے تحت تشکیل کر رکھا ہے اور یہی تزویراتی مقاصد نئے عالمی اتحاد اور ممالک کے درمیان گروہ بندیوں کو تقویت دے رہے ہیں۔ برطانوی استعماریت اور نوآبادیاتی عہد میں روس ہدف رہا، عالمی سیاست پر امریکا کے تخت نشین

Read more

نوآبادیاتی برصغیر کی دو استعماری جہتیں: مینیجنگ ایجنٹس کون تھے

برطانوی ایمپائر کی ہندستان میں وسعت میں انتظامی صلاحیتوں کا کلیدی کردار رہا تاہم یہ انتظامی صلاحیتیں برصغیر کو اقتصادی ترقی دینے کی بجائے استعماریت کی جڑیں طاقت ور کرنے کے لیے استعمال کی گئیں۔ برطانیہ نے انیسویں صدی کے اوائل میں ہی برصغیر میں تجارتی طاقت کا عروج حاصل کر لیا تھا۔ برطانوی پارلیمان کی سرپرستی میں پہلے ایک صدی تک ایسٹ انڈیا کمپنی کے توسط سے ہندستانی وسائل غارت کیے گئے، کمپنی کا تجارتی چارٹر منسوخ کرنے کے

Read more

سوڈان میں پھر مارشل لا: پاکستانی تاریخ سے گہری مماثلت

برطانوی راج میں استعماریت کی جڑیں مضبوط رکھنے کے لیے افریقہ، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیاء کا موجودہ جغرافیہ کی حد بندی اور نئی ریاستوں کی تشکیل کی گئی۔ غربت، پسماندگی، اقتصادی بدحالی اور بنیادی انسانی حقوق سے محرومی کے شکار افریقی ریاستیں سامراجیت کے باعث روگی بنیں۔ یہی کہانی انگریز راج سے 1956ء میں آزاد ہونے والے ملک سوڈان کی ہے۔ سوڈان قدرتی وسائل کا ذخیرہ رکھنے کی بناء پر پہلے نوآبادیاتی راج کے زیر تسلط رہا اور پھر

Read more

گڑ کنٹرول قانون نے شوگر انڈسٹری کو کیسے طاقت ور کیا؟

ریاست پاکستان وجود پذیر ہونے کے ایک روز بعد ہی ملک کے حکمرانوں نے نوآبادیاتی عہد کی طرح قوم دشمن اور ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرز پر بالاتر طبقات کے اقتصادی مفادات کے پہرہ دار کا کردار نبھایا، ملک کی پہلی کابینہ نے مسلم لیگ کی مرکزی قیادت پر لگائے جانے والے اعتراضات کو سچ ثابت کر دکھایا یعنی لیگ کی قیادت جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی محافظ ہے۔ پاکستان بنتے ہی صنعت کاروں کو فوائد پہنچانے کے لیے گڑ

Read more

میڈیا کارٹل: کووڈ خبروں پر پبلک ڈسکورس کیسے تشکیل ہوا؟

کیپٹل ازم کی بقاء منافع کی نئی راہیں تلاش کرنے پر منحصر ہے، گزشتہ ایک صدی کے دوران عالمی سطح پر کساد بازاری، افراط زر یا تفریط زر پیدا ہونے کا موجب بھی کیپٹل ازم ہے۔ دنیا کو ڈیڑھ برس سے ایک عالمی بحران کا سامنا ہے، اس بحران کے دوران انسانی جان کے تحفظ کا نام لے کر عام آدمی کی زندگیوں کو اجیرن کیا گیا ہے۔ کورونا وائرس سے متعلق میڈیا کے بطن سے ایک بیانیہ تشکیل دیا

Read more

کیا قومی اقتصادی غلامی کی بنیاد جناح صاحب نے رکھی؟

تاریخ پاکستان کی عمارت کا ڈھانچہ دو قومی نظریہ اور تقسیم ہند کی بنیادوں پر استوار کیا گیا ہے۔ ملک کی خارجہ پالیسی، دفاعی پالیسی اور سیاسی حکمت عملی انھی دو ستونوں کے گرد گھومتی ہے۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے سیاسی تصورات کے تحت عالمی نقشہ پر پاکستان وجود پذیر ہوا۔ اقتصادی طور پر پسماندہ خطے میں پاکستان کی سرحدیں کھینچی گئیں۔ پاکستان کے بعض مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر قائد اعظم محمد علی جناح چند سال مزید زندہ رہتے تو قومی اقتصادیات کی ترقی کی مضبوط بنیادیں رکھنے میں کامیاب ہو جاتے اور آج پاکستان اقتصادی طور پر عالمی مالیاتی اداروں کی بیساکھیوں پر کھڑا نہیں ہوتا۔

جناح صاحب کے زیادہ دیر تک زندہ نہ رہنے کی اس رائے یا دلیل کو ہمیں تاریخی حقائق کی بنیاد پر پرکھنا ہوگا، ہمیں آل انڈیا مسلم لیگ کی پلاننگ کمیٹی کے اجلاس کی کارروائیوں کو دیکھنا ہوگا۔ یوم آزادی کے دن ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ تاریخ کے حقائق کی تلاش کو جاری رکھ کر مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے ماضی کی غلطیوں سے سیکھا جائے۔

Read more

پاکستان میں ایلیٹ خاندان کیسے اجارہ دار بنے؟

وزیر اعظم عمران خان نے بہ روز منگل اسلام آباد میں سہگل خاندان کے تحت منعقدہ تقریب میں تاریخی جملہ کہا: جب رولنگ کلاس چوری کرنے لگے تو ملک تباہ ہوجاتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کی یہ کلاس یعنی حکمران طبقہ کیسے وجود پذیر ہوا اور اس کا ارتقاء کیسے ممکن ہوا۔ پاکستان میں سرمایہ دارانہ جمہوریت کے ارتقاء کے نتیجے میں جو بالاتر طبقات اشرافیہ کی صورت میں پیدا ہوئے ہیں ان کا جائزہ لینے کے

Read more

جدید نوآبادیات پر مبنی نیا استعماری منصوبہ

مائیکروسافٹ، ایپل، فیس بک، گوگل، علی بابا بھی ڈیجیٹل ایگری کلچر کے شعبہ میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں اور اس شعبہ پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ ایسی صورت میں ریاستوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس نئے جدید طرز کے استعماری منصوبہ سے ملک کو کیسے بچاتے ہیں۔ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف تو کمپنیوں کی اجارہ داری کو قائم رکھنے کے لیے اپنی معاونت اور ممالک پر دباؤ جاری رکھے گا۔

Read more

اینٹی سامراج اللہ بخش سومرو نصاب سے غائب کیوں؟

علم شناسی اور علمی استعماریت کا آپس میں گہرا ربط ہے، ان دونوں عناصر کو بروئے کار لا کر یورپی افضلیت کے علمی تصورات پر یقین کرنے کے لیے قائل کیا جاتا ہے، انھی تصورات کے تحت بیسویں صدی کے وسط میں ہی گلوبل ویسٹرنائزیشن کی بالادستی قائم ہوئی۔ نوآبادیاتی عہد میں مغربی بیانیہ کے تناظر میں مخصوص عالمی تاریخ تشکیل کی گئی اور بعد ازاں پوسٹ کالونیل ریاستی ڈھانچوں میں یورپی افضلیت کے تصور کو رائج رکھنے کے لیے

Read more

کورونا ویکسین کی عالمی سیاسی معیشت

کورونا ویکسین سے متعلق پیدا ہونے والی لہر نے نوآبادیاتی خطوط کو تقویت بخشی ہے، چونکہ مغربی ممالک ویکسینیشن کی سرکاری پرستی کے ذریعے سے سرمائے کی فراہمی کو یقینی بنا چکے ہیں تاہم تیسری دنیا کے ممالک پر اقتصادی دباؤ کے چیلنجز ہیں، امریکا اب تک اپنی آبادی سے تین گنا زیادہ ویکسین حاصل کر چکا ہے جبکہ یونیسیف کے مطابق گزشتہ ماہ تک سو سے زائد ممالک ویکسین کی ایک خوراک بھی بھی بندوبست نہیں کر سکے، سب سے اہم امر یہ ہے کہ آخر کیسے کمپنیوں کے منافع کمانے کی روش نے عدم مساوات اور عدم استحکام کی خطرناک شکل اختیار کر لی ہے۔

یورپی یونین نے ایک ارب ساٹھ لاکھ خوراکیں، برطانیہ نے اکیس کروڑ نوے لاکھ خوراکیں، کینیڈا نے اٹھارہ کروڑ اسی لاکھ خوراکوں کا آرڈر کمپنیوں کو دے رکھا ہے۔

Read more

انگریزوں نے قلعہ لاہور سے کتنی دولت لوٹی؟

نوآبادیاتی راج کے سیاسی اور اقتصادی عزائم کی جڑیں اتنی گہری ہیں کہ تقسیم ہند کی سات دہائیوں بعد بھی متعدد حقائق تک پہنچنا جوئے شیریں لانے کے مترادف ہے، دراصل یہاں پر رائج نظریہ علم ان حقائق کو کریدنے میں رکاوٹ ہے. اس نظریہ علم کی ترویج کے لیے نوآبادیاتی عہد کی طاقتیں آج بھی سرمایہ کاری کرتی ہیں تاکہ اپنی علمی بالادستی کے ذریعے سے خاص سانچے میں ذہنی آبیاری برقرار رہے۔ آج سے 172 برس قبل پنجاب

Read more

اربنائزیشن اور جشن بہاراں کا فرسودہ تصور

گروہ انس کی تہذیبی و ثقافتی تاریخ میں اقتصادیات کا کلیدی رتبہ رہا ہے، قدیم تہذیبوں کی شناخت میں اس عہد کی معاشی خوش حالی پنہاں ہے۔ ہزاروں برس قدیم تہذیبوں کے ملیا میٹ ہونے میں محض قدرتی تبدیلیاں کارفرما نہیں تھیں بلکہ تہذیبی ترقی میں انسانوں کے گروہ کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے سماجی عدم مساوات، سیاسی گروہیت اور ناقص اقتصادی منصوبہ بندی بھی اہم وجوہات میں شامل تھیں۔ اقتصادیات میں آزادانہ منصوبہ بندی اور انحصار پذیری کو کم سے کم سطح پر رکھنا ترقی کی ضمانت قرار پاتا ہے تاہم اس کے لیے لازمی ہے کہ تہذیب کے مرکزے کے باشندے بشمول ریاستی ڈھانچہ کنٹرول کرنے کے لیے منصوبہ بندی کی صلاحیت رکھتے ہوں اگر یہ صلاحیت بانجھ پن میں تبدیل ہو جائے تو رفتہ رفتہ اس سماج کی پسماندگی و بدحالی مقدر بن جاتی ہے۔

Read more

پنجاب کی نصابی کتاب میں مارشل لا کی حمایت

نوآبادیاتی عہد میں جو نظریہ علم تشکیل دیا گیا اس کی جڑوں میں استعماری تصورات کا بہت زیادہ حصہ رہا، اس نظریہ علم کی بنیادیں تعلیمی ڈھانچے کے ذریعے سے مضبوط کی گئیں۔ نوآباد کاروں کی نظریاتی بنیادوں میں یہ شامل تھا کہ کالونائزیشن کے ذریعے غیر یورپی اقوام کی پسماندگی دور ہوئی، چنانچہ اسی تصور کی بنیاد پر برطانیہ نے بالخصوص ہندوستان میں مقامی ثقافت، تاریخ، زبان و ادب اور تہذیبی شناخت تبدیل کرنے کے منصوبے بنائے۔ برطانوی نوآباد

Read more

دی گولڈن بک آف انڈیا: برطانوی راج کے خطابات اور جانشین خاندان

نوآبادیاتی عہد کی ہندستانی تاریخ کے نقوش آج بھی انمٹ ہیں، انگریز راج محض ایک تاریخ نہیں بلکہ سماج کے اندر سرایت کر جانے والی ایسی حقیقت ہے جس کی جڑیں سیاسی ڈھانچہ میں پیوست ہیں۔ 1858 میں بذریعہ اعلامیہ ملکہ برطانیہ نے ہندستان پر براہ راست اپنی حکومت قائم کی تو اپنے لیے 1878 میں ایمپریس آف انڈیا کے لقب کا چناؤ کیا۔ ایسی ملکہ جس نے ہندستان کی زمین پر کبھی قدم نہیں رکھا البتہ لاہور کے مال روڈ پر ملکہ کا دیوہیکل مجسمہ ضرور نصب کیا گیا جو آج بھی لاہور میوزیم میں محفوظ ہے۔ نوآبادیاتی عہد کے سماج میں، بالاتر طبقات کی حمایت حاصل کرنے اور نئے طبقات کو جنم دینے کے لیے القابات اور خطابات کا سہارا لیا گیا۔

محک

Read more

روف کلاسرا کا انگریزوں کی مدح سرائی پر کالم

ہندستان میں استعمار کی تاریخ سے جنم لینے والے تاریخی بیانیوں کی جڑوں میں یورپی افضلیت کے تصورات پیوست ہیں، جب ایک فرد اس افضلیت کو قبول کرتا ہے تو وہ یورپی تہذیب کا قائل اور برطانوی سرکار کا احسان مند ہونے پر فخر محسوس کرتا ہے، غالباً یہ احسان مندی انگریز عہد کے نافذ کردہ سیاسی، تعلیمی اور انتظامی ڈھانچہ پر تیقن ہونے کی کلاسیکی مثال ہے۔ پاکستان کے نام ور صحافی اور دانش ور روف کلاسرا نے تازہ

Read more

پاکستان میں استعماری سیاستدان: پروڈا سے ایبڈو تک

برصغیر میں برطانوی استعماریت کے اثرات تقسیم ہند کے بعد بھی باقی ہیں۔ اس خطے پر حکومت کرنے کے لیے انگریزوں نے جرنیلی طرز حکمرانی اپنایا، برطانوی سرکار نے ہندستان میں جنگ پلاسی کے بعد میجر جنرل رابرٹ کلائیو کو پہلا سیاسی حکمران بنایا۔ بنگال، کلکتہ، بہار اور اڑیسہ میں دیوانی کے اختیارات حاصل کرنے کے معاہدے پر دستخط بھی جرنیلی حکمران نے کیے۔ 1857 ء کی جنگ کے بعد صوبوں میں گورنری کے عہدوں پر بھی انگریز نے فوجی جرنیلوں کو تعینات کیا۔

برطانیہ کے سرکاری نیشنل آرمی میوزیم کے آرکائیوز میں کلائیو کو بے رحم فوجی کمانڈر، لالچی، قیاس آرائی کرنے والا اور سامراجی سیاست دان کہا گیا ہے۔ انگریز سرکار نے جمہور اور سیاست کو کنٹرول کرنے کے لیے ہندوستان میں فوجی اور بیوروکریسی کا مضبوط ڈھانچا تشکیل دیا تھا۔ جب تک یہ ڈھانچا طاقت ور نہیں ہوا، انگریز سرکار نے اس خطے میں جمہوریت کا تصور پنپنے نہیں دیا۔ تقسیم ہند کے بعد، برطانیہ کی تربیت یافتہ سول بیوروکریسی اور عسکری بیوروکریسی نے پاکستان پر نو آبادیاتی تسلسل کو قائم رکھنے میں اسی ڈھانچے سے مدد حاصل کی۔ سات اکتوبر کا روز انتہائی خاموشی سے گزر گیا، حالاں کہ یہ دن پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ان مٹ نقوش رکھتا ہے، جب ملک میں پہلا مارشل لا نافذ ہوا۔

Read more

پاکستان میں دانش ور طبقات کی اجارہ داری

پہلی عالمی جنگ کے بعد سلطنت عثمانیہ کے حصے بخرے کرنے اور دوسری عالمی جنگ کے بعد برٹش ایمپائر کے خاتمے کے بعد وجود پذیر ہونے والی نئی ریاستیں عالمی جغرافیائی سرحدوں پر مشتمل ہیں۔ سن پینتالیس کے بعد، نوآبادیاتی عہد کا خاتمہ نہیں درحقیقت مابعد نوآبادیات یا جدید نوآبادیات کا آغاز تھا۔ اس جدید عہد کی بنیاد اس صنعتی ترقی کی مرہون تھی جس کا آغاز اٹھارہویں صدی میں ہوا۔ چنانچہ سماج میں دو گروہ وجود پذیر ہوئے۔

Read more

تقسیم ہند کا منصوبہ: بل کا مسودہ خفیہ کیوں رکھا گیا؟

دی وائسرائے ہاؤس،
نیو دہلی،
29 جون 1947 ء
محترم جناح

”مجھے امید ہے کہ جلد ہی لندن سے“ ہندوستانی آزادی بل ”کے مسودے کی کاپیاں ملیں گی، جو آئندہ ماہ (برطانوی) پارلیمنٹ میں پیش ہونے جا رہا ہے۔ شہنشاہ برطانیہ نے اتفاق کیا ہے کہ میں اس مسودے کی کاپیاں آپ کو دکھاوں۔ تاہم ایسا کرتے ہوئے، انھوں نے نشاندہی کی ہے، اشاعت سے قبل، بلوں کے مسودے دکھانا پارلیمانی قواعد کے بالکل خلاف ہے۔

لہذا، حکومت برطانیہ نے اصرار کیا ہے کہ میں اس مسودے کی کاپیاں آپ کو اپنے پاس رکھنے کے لیے نہیں دوں گا، مجھے یقین ہے کہ آپ اس کی وجوہات کو سراہیں گے۔

میں آپ کو دعوت دیتا ہوں کہ اس مسودے کا مطالعہ کرنے کے لیے یکم جولائی، بہ روز منگل، صبح دس بجے، وائسرائے ہاؤس تشریف لائیں۔ میری رائے ہے کہ کانگریس اور مسلم لیگ کے نمائندے دو گھنٹے کے لیے الگ الگ کمروں میں بیٹھ کر مسودے کو پڑھنا چاہیے۔

Read more

برطانوی استعمار کے میر جعفر سے معاہدات

برطانوی نو آبادکاروں کے استعماری عہد کا ڈھانچہ نوآبادیاتی فلاسفی پر استوار ہوا، اس فلسفہ کی سماجی جڑیں مضبوط کرنے کے لیے یورپی افضلیت کا تصور رائج کیا گیا، گویا یہ بیانیہ تشکیل پایا کہ مغربی لوگ ترقی یافتہ اور آزاد خیال ہیں، مسلمان شدت پسند اور سائنسی تخیل کے خلاف ہیں۔ ان تصورات کو اٹل حقیقت بنا کر پیش کرنے کے لیے نصاب کو بہ طور ڈھال استعمال کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے، جیمز مل سے برٹش انڈیا کی تاریخ لکھوائی گئی اور بعد ازاں کمپنی نے انھیں 1823 ء میں ملازمت دی بلکہ ان کے دونوں بیٹوں جان سٹارٹ اور جیمز بینتھم کو بھی کمپنی نے ملازم رکھ لیا۔ جیمز مل نے نو آبادکاروں کے مفادات کو تحفظ دینے کے لیے ہندستان کی سیاسی تاریخ پر کتاب لکھی اور ان کے بیٹے جان سٹارٹ مل نے نوآبادیاتی تعلیمی ڈھانچے کی بنیاد رکھنے کے لیے انگریزی زبان میں تعلیم کی حمایت میں کتابچہ تحریر کیا۔

ہندستان میں برطانوی نو آبادیاتی عہد کی تاریخ کے الم ناک چہروں کی ملمع کاری کی گئی چنانچہ برطانوی نو آباد کار جدت طراز کے روپ میں پیش کیے گئے، چنانچہ برٹش راج دو حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ پہلا دور ایسٹ انڈیا کمپنی اور دوسرا دور سلطنت برطانیہ کے ماتحت۔ درحقیقت استعماریت کے سہولت کاروں نے دانستہ طور پر یہ تقسیم کی جس کا مقصد 1857 ء سے قبل ہندستان میں اقتصادی تباہ کاریوں اور وسائل کی لوٹ مار کمپنی کے کھاتے میں ڈال کر، برطانوی استعمار اپنے مداخلتی کردار سے علیحدگی چاہتا ہے وگرنہ تھامس رو برطانوی بادشاہ کے سفیر کی حیثیت سے جہانگیر کے دربار میں تجارتی پروانہ حاصل کرنے کے لئے چار سال تگ و دو کرتا رہا۔

Read more

عالمی لاک ڈاؤن کی منصوبہ بندی پر چشم کشا دستاویز

میں نے اپریل کے دوسرے ہفتے میں اس دستاویز پر لکھنا شروع کیا تاہم ناگزیر حالات کی بنا پر، میں یہ تحریر مکمل نہ کر سکا۔ انھی دنوں میں نام ور ادیب ناصر عباس نیئر نے اپنی تحریر معزول آدم کے تاثرات میں سوال اٹھایا کہ کیا یہ وبا (کورونا) ہمیں جمہوریت سمجھانے آئی ہے؟ نیئر صاحب کہتے ہیں کہ یہ وبا کسی چہرے کے بغیر ہے یا دوسرے لفظوں میں ہر چہرہ ہی وبا کا چہرہ ہو سکتا ہے۔

Read more

کورونا کا سراب اور نیو ورلڈ آرڈر

برطانوی استعماریت کی ابتداء سے لے کر سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکا کی سربراہی میں تشکیل پانے والے عالمی سیاسی و اقتصادی نظام نے دُنیا پر قبضہ کرنے کے مختلف حربوں کا استعمال کیا ہے۔ اٹھارویں صدی کے بعد سے، دُنیا بھر میں، جنم لینے والے بڑے بڑے قحط، وبائیں، جنگیں، بھوک و غربت کو استعماری طاقتوں نے مسلط کر رکھا ہے۔ ایڈم سمتھ کے اقتصادی اُصولوں کو اپنا کر عالمی استعمار نے جب دُنیا کی اقتصادیات کو

Read more

مولانا سندھی کا رد استعماریت اور برٹش راج

سامراج و استعمار کے خلاف لڑنے کا بہترین ہتھیار شعور ہے، جب اس شعور کی بنیادوں میں انقلابی نظریہ اور اجتماعی فکر کارفرما ہو تو استعمار کی شکست آخری منزل ٹھہرتی ہے۔ انقلابی فکر رد استعماریت، رد سامراجیت اور رد سرمایہ داریت حتیٰ کہ سماج کی غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کا قائل ہوتا ہے اور کُل قومی و ریاستی آزادی کے حاصل ہونے تک جدوجہد جاری رہتی ہے۔ خطہ ہند جب برطانیہ کی غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دیا گیا تو اس غلامی کے خلاف انقلابی و مزاحتمی تحریکیں برپا ہوئیں۔ یہاں کے انقلابیوں نے سن ستاون کی جنگ آزادی کے بعد انگریز راج کے خاتمے کا عہد کر لیا تھا، انقلابیوں کی اس جماعت کے ایک رُکن کو تاریخ عبید اللہ سندھی کے نام سے جانتی ہے۔

Read more

قومی غلامی کا نیا معاشی شکنجہ

آٹھ جولائی 2019 ء میں آئی ایم ایف نے پاکستان کو قرض دینے کے منصوبے کی دستاویز جاری کی جس میں واضح طور پر بتایا گیا کہ حکومت پاکستان کو یہ قرضہ چار شرائط پر دیا گیا ہے۔ اول، سٹیٹ بینک کی مکمل خود مختاری، دوم، آئی ایم ایف کے تحت پاکستان ریلوے کا آڈٹ، سوم، پی آئی اے کا آڈٹ اور چوتھے نمبر پر پاکستان اسٹیل مل کا مکمل ریکارڈ آئی ایم ایف کے سپرد کرنا شامل ہے۔ آئی ایم ایف نے واضح کر دیا کہ اب ہم طے کریں گے کہ جمہوریہ پاکستان کے کون سے ادارے قومی ملکیت میں رہیں گے اور کن اداروں کی نجکاری ہوگی اور اس کے ساتھ مذکورہ اداروں کے مالیاتی ریکارڈ تک آئی ایم ایف کو مکمل دسترس ملے گی۔

Read more

مزارات کے گدی نشینوں کی پولیٹیکل اکانومی

کورٹ آف وارڈز سسٹم کے تحت جن گدی نشینوں کو جاگیریں دی گئیں ان کی تفصیلات بھی ملاحظہ کیجئے : 1930 ء میں شاہ پور کے غلام محمد شاہ، ریاض حسین شاہ کو 6423 ایکٹرز جاگیر، اٹک کے سردار شیر محمد خان کو 25185 ایکٹرز، جھنگ کے شاہ جیونا خاندان کے خضر حیات شاہ، مبارک علی، عابد حسین کو 9564 ایکٹرز، ملتان کے سید عامر حیدر شاہ، سید غلام اکبر شاہ، مخدوم پیر شاہ کو 11917 ایکٹرز، ملتان کے گردیزی سید جن میں سید محمد نواز شاہ، سید محمد باقر شاہ، جعفر شاہ کو 7165 ایکٹرز، جلال پور پیر والا کے سید غلام عباس، سید محمد غوث کو 34144 ایکٹرز، گیلانی سید آف ملتان جس میں سید حامد شاہ اور فتح شاہ کے نام 11467 ایکٹرز، دولتانہ خاندان کے اللہ یار خان آف لڈھن کو 21680 ایکٹرز، ڈیرہ غازی خان کے میاں شاہ نواز خان آف حاجی پور کو 726 ایکٹرز، مظفر گڑھ کے ڈیرہ دین پناہ خاندان کے ملک اللہ بخش، قادر بخش، احمد یار اور نور محمد کو 2641 ایکٹرز اور ستپور کے مخدوم شیخ محمد حسن کو 23500 ایکٹرز جاگیر دی گئی۔

Read more

پاکستان میں وطن پرستی کا نصابی تصور

قومی ذہن کی تشکیل نصاب تعلیم کے ذریعے سے کی جاتی ہے، نصاب تعلیم کی بنیاد پر ہی قوم پرستی، وطن پرستی کا سبق پجپن سے ہی ذہن نشین کرایا جاتا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد عالمی سطح پر قومیت کا از سر نو تصور تشکیل دیا گیا، اس تصور کے تحت ہر قوم نے اپنے اپنے وطن میں قومی ہیروز بنائے۔ قومی پرچم بنایا، قومی ترانہ لکھا، قومی لباس، قومی پھول، قومی کھیل، قومی زبان، قومی ثقافت غرض

Read more

پوسٹ کالونیل ریاست میں حکمران طبقات کی تشکیل

سامراجیت محض ایک سازش نہیں، اور نہ ہی یہ محض محکوم ملک کے سماجی ڈھانچے سے جدا خارجی عنصر ہے۔ سامراجی نظام میں استعماری ملک کا معاشی ڈھانچہ، محکوم ملک کی سماجی ساخت میں پیوست کیا جاتا ہے۔ مابعد نوآبادیاتی فلسفے کے تناظر میں مقامی حکمران طبقات کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کر کے سامراجی یا استعماری تسلط قائم کیا جاتا ہے۔ تقسیم ہند کے نتیجے میں وجود پذیر ہونے والا پاکستان دراصل 72 سال بعد بھی نوآبادیاتی عہد کی

Read more

نوآبادیاتی عہد میں فوج کا معاشی ڈھانچہ

نومبر 1918 ء میں پہلی عالمی جنگ کا خاتمہ ہوا اور معاشی منڈیوں پر قبضے کی اس جنگ کو 101 برس مکمل ہو رہے ہیں۔ اس عالمی جنگ کا فوجی نکتہ نظر سے ہندوستان پر کیا اثر ہوا، یہ پاکستان کے موجودہ سیاسی ڈھانچے کو سمجھنے میں معاون ہے۔ تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے 1803 ء میں دہلی کے گرد و نواح میں فوجی قبضہ کرنے تک دیسی افراد کو فوج میں

Read more

نوآبادیاتی عہد کا گمنام انقلابی سکول

نوآبادیاتی معاشیات، بشریات، تاریخ اور سماجیات جیسے علوم کو ہندوستان میں پھیلانے میں یہاں کے تعلیمی ڈھانچے کو کلیدی حیثیت حاصل رہی۔ یورپی تاریخ، لہجے، اقدار اور انداز سخن سیکھنے کے لیے سول سروس کا حصہ بننے والے ہندوستانی پیش پیش ہوتے۔ فاتحین کی زبان و ثقافت سکھنا اور نوآبادیاتی حکام کی تقلید کے لئے فرنگی تعلیمی اداروں کا کلیدی کردار رہا۔ کوئی بھی وژن، کسی سماجی نظام سے بڑھ کر اپنے حلقہ اثر میں مکمل بالادستی نہیں رکھتا۔ یورپ

Read more

امریکہ پاکستانی جمہوریت کو کس نظر سے دیکھ رہا ہے؟

ڈان اخبار نے گزشتہ روز ایک خبر شائع کی کہ امریکا نے اپنی سرکاری رپورٹ میں کہا ہے کہ ”آرمی چیف غیر سیاسی اور پروفیشنل ہیں،“ میرے لیے اس خبر سے زیادہ رپورٹ کو پڑھنا ضروری تھا کیونکہ خبر بسا اوقات ایڈیٹوریل پالیسی کا شکار ہو جاتی ہے۔ رپورٹ پڑھنے کے بعد انکشاف ہوا کہ امریکا پاکستان میں پاکستان تحریک انصاف کو اقتدار ملنے اور جمہوری طاقت پر بالکل واضح پوزیشن رکھتا ہے اور وہ موجودہ جمہوری حکومت کو محض علامتی تصور کرتا ہے۔ رپورٹ کے مندرجات میں بار بار اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

پاکستان کے جمہوری اداروں بالخصوص پارلیمنٹ، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے امریکا کی یہ رپورٹ تشویش ناک ہے۔

Read more

عید قرباں کمرشلائزیشن کی زد میں

عید الفطر سے لے کر عید الاضحیٰ تک، محرم الحرام سے لے کر ربیع الاول تک، رمضان المبارک سے لے کر ذوالحج کے مہینے تک، پاکستان میں سب کُچھ کارپوریٹ میڈیا کی زد میں ہے۔ ریاست کا چوتھا ستون تجارتی اور محض کاروباری مقاصد کے پیش نظر آپریٹ کر رہا ہے یہ سب دیکھ کر نوم چومسکی کے میڈیا سے متعلق تصورات سو فیصد درست معلوم ہوتے ہیں۔

Read more

جمہوریت کا اصطبل: مابعد نوآبادیاتی فلسفے کے تناظر میں

اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں ”مخصوص اسلام“ خطرے میں ہے اور اس کے ذیل میں پنپنے والی جمہوریت کو تو ویسے ہی روز اول سے خطرہ درپیش رہا ہے۔ اس کی بنیاد وہ مابعد نوآبادیاتی سیاسی ڈھانچہ ہے جو پاکستان میں رائج ہوا۔ اس ڈھانچے میں سول بیوروکریسی اور فوجی اداروں کو طاقت بخشی جاتی ہے تاکہ جمہور کم زور رہیں۔ اس کی بنیاد پہلی دستور ساز اسمبلی میں ہی رکھ دی گئی جس کا پہلا مثالی

Read more

کمپنی تا برٹش راج: نالج کی نوآبادیاتی جڑیں

برطانیہ میں 1688 ء کے شاندار انقلاب کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی اور یہاں کے دولت مند افراد کے درمیان اتحاد قائم ہوا، جس کے بعد لبرل سرمائے اور لبرل شاہی خاندانوں کو منسلک اور متحد کرنے کے نئے دور کا آغاز ہوتا ہے، یہیں سے صاحب اقتدار افراد کو ایسٹ انڈیا کمپنی کی جانب سے نوازنے کا آغاز ہوتا ہے۔ چنانچہ کمپنی کے تحائف کی مد میں سالانہ اخراجات اچانک 1200 پاؤنڈ سے بڑھ کر 90 ہزار پاؤنڈز تک

Read more

قائد اعظم کی گمشدہ انڈی پنڈنٹ پارٹی

ایشیاء میں متحدہ ہندستان کی سیاسی تاریخ بہت غضب کی ہے، یہ خطہ کم و بیش 200 سال تک استعماری اجارہ داری کا شکار رہا۔ ایک کمپنی جو محض ہندستانی مصنوعات کو خریدنے کے لیے یہاں پہنچتی ہے وہ 1757 ء تک اپنے فوجی اڈے بنا لیتی ہے، چھاؤنیاں قائم کر لیتی ہے حتیٰ کہ جس صوبہ بنگال کو اورنگ زیب نے خوشحال ترین علاقہ ڈکلیئر کر رکھا تھا اس پر کمپنی کا قبضہ ہوجاتا ہے۔ آئندہ 100 سال تک کمپنی کی گرفت اتنی مضبوط ہوگئی کہ تخت دہلی کو بھی تاراج کر دیا گیا۔ سیاست کی اس جنگ میں کمپنی نے 100 سال تک مسلسل ہندستانی خزانوں کو یورپی ممالک منتقل کیا جب کمپنی کے خلاف بغاوت ہوگئی تو 1858 ء میں برطانوی پارلیمنٹ نے براہ راست ہندستان کا کنٹرول اپنی کمان میں لے لیا۔

Read more

لاہور میں رنجیت سنگھ کا مجسمہ کس نے لگوایا؟

قلعہ لاہور کے دیوان خاص، شیش محل، دیوان عام میں مغل سلطنت کے حکمرانوں کی نشانیاں باقی ہیں۔ تاریخ کے نظریے کی بنیاد دراصل اُس بیانیہ پر منحصر ہوتی ہے جو سماج کے طاقت ور طبقات کی جانب سے پیش کیا جاتا ہے اور یہ مخصوص بیانیہ سیاسی و معاشی فواٗئد کے تناظر میں قائم کیا جاتا ہے۔ لیکن جب تشکیل کردہ بیانیے کے پہلو میں قیاس اور مبالغہ آراٗئی کی آمیزش ہوتو پھر تاریخ دھندلا سی جاتی ہے۔ نوآبادیاتی عہد کے خاتمے کے بعد یہاں کی تاریخی و نصابی کتب کو مخصوص زاویوں میں مرتب کیا گیا جس نے سماج کی تکونی شکل کو بھی مبہم کر دیا یہی وجہ ہے کہ آج کا نوجوان ماضی کے دریچوں میں اُترنے کو تیار نہیں ہوتا۔

Read more

نئے حکمران طبقے کی تیاری میں موروثی سیاست کا کردار

یورپ میں نشاۃ ثانیہ یا روشن خیالی کی تحریک کی بنیاد میں یہ عنصر بھی شامل تھا کہ علم پر سماج کے ایلیٹ طبقے کی اجارہ داری کو چیلنج کیا جائے اور اس کا خاتمہ کر کے سماج کے دیگر طبقات کو بھی ترقی کے برابر مواقع فراہم کیے جائیں۔ اس تحریک کی کامیابی کی ابتداء چرچ اور بادشاہ کی اجارہ داری کے خاتمے اور صنعتی انقلاب کی بنیاد سے ہوئی۔ صنعتی انقلاب کے نتیجے میں جب ہندستان پر برطانیہ نے قبضہ کیا تو روشن خیالی کی تحریک کے برعکس یہاں پر نئے اجارہ دار طبقات پیدا کیے اور انھیں اقتدار میں شراکت دار بنایا گیا۔ نشاۃ ثانیہ یورپ کے لیے تو مثالی تھا لیکن دُنیا کے دیگر خطوں بالخصوص ہندستان میں یہ نشاۃ ثانیہ غلامی کا باعث بنی۔

Read more

کالونیل عہد کا تعلیمی تجزیہ

جنگ پلاسی کے بعد انگریزوں نے میر جعفر سے پیسے وصول کر کے بنگال میں سراج الدولہ کو شکست دے کر اسے تخت نشین کیا تھا گویا ہندستان میں کالونیل عہد کی یہ براہ راست ابتداء ہے جس کے بعد آئندہ سو سال تک ہندستان خانہ جنگی کا شکار رہا اور پنجاب میں دس سالہ بچے کے ساتھ معاہدہ کر کے انگریزوں نے 29 مارچ 1849 ء میں پنجاب پر بھی قبضہ کر لیا اس سے قبل کشمیر پہلے ہی 70 لاکھ روپے کے عوض انگریزوں نے فروخت کر دیا تھا۔انگریز راج کا جھنڈا پورے ہندستان میں جنگ آزادی 1857 ء کے بعد لہرایا گیا اور ہندستان انگریز کی عمل داری میں چلا گیا۔ ہم ہندستان کی تعلیمی صورتحال کا جائزہ 1857 ء تک لیں گے اور اس کے بعد ہونے والی مردم شماری کے اعداد وشمار کو ہم انگریز حکومت کی پالیسیوں کے ذیل میں تصور کریں گے۔

Read more

پنجابی شاونزم اور نوائے وقت اخبار کی تاریخ

پاکستان میں دو قومی نظریے کے محافظ اور ترویج کے لیے نوائے وقت گروپ کو کلیدی حیثیت رہی ہے اس کے ذیل میں ڈاکٹر مجید نظامی مرحوم نے نظریہ پاکستان ٹرسٹ بھی چلایا تاہم مجید نظامی کے انتقال کے بعد ان کی لے پالک بیٹی رمیزہ نظامی نے پورے ادارے کا مستقبل دائو پر لگا دیا ہے پہلے وقت ٹی وی بند ہوا، سینکڑوں صحافی بے روز گار ہوئے، پھر نوائے وقت اخبار کے ملازمین کی تنخواہوں پر کٹوتیوں اور

Read more

سلطان ٹیپو کے خلاف انگریزوں، مرہٹوں اور اہل نوایط کا اتحاد

سرکاری طور پر وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا سلطان ٹیپو کو خراج پیش کرنا انگریز راج کی ہندستان میں لوٹ مار کی مذمت کی علامت ہے۔ اب یہ علامت محض ٹویٹ تک محدود ہے یا نہیں یہ فیصلہ قارئین پر چھوڑتے ہیں۔ انگریز راج میں مقامی گماشتوں کے ذریعے سے سلطنت کو وسعت دی گئی۔ بنگال میں میر جعفر کی مدد سے سراج الدولہ کو شکست دے کر ہندستان داخل ہوئے اور 52 سال بعد میسور میں میر صادق کی وفاداری سے سلطنت خداد داد پر قبضہ کر لیا۔میر صادق تو حاکم سلطنت بننے کا خواب لیے دوران جنگ ہی سلطان ٹیپو کی فوج کے ہاتھوں قتل ہو گیا لیکن اس عظیم غداری کے عوض کمپنی بہادر نے سرنگا پٹم فتح کر کے قلعے کی پوری دولت لوٹ کر اپنی جڑیں ہندستان میں مضبوط کرنے کے دوسرے دور کا آغاز کیا۔

Read more

نوآبادیاتی راج میں کشمیر فروخت کی کہانی۔ دوسری قسط

انگریز سرکار ہندستان کی تقسیم امپریل مفادات کے تناظر میں کر رہی تھی، امریکی صدر روزیلٹ کی جانب سے برطانوی سرکار پر مسلسل دباؤ تھا اور ہندستان کی تقسیم میں گریٹ گیم کو پیش نظر رکھا گیا۔ 12 اگست 1941 ء کو روزویلٹ اور ونسٹن چرچل نے ایٹلانٹک چارٹر پر دستخط کیے تھے اس چارٹر کے تحت امریکہ نے آزادی کا نعرہ لگا کر ہندستان چھوڑنے کے لیے برطانیہ پر بالواسطہ دباؤ ڈالا تھا، اس کے بعد جب کرپس مشن کی ناکامی ہوئی تو چرچل کو ساری صورتحال سے متعلق روزیلٹ کو آگاہ کرنا پڑا، اس حوالے سے کتنے خطوط لکھے گئے اس پر کبھی الگ سے بات کریں گے۔

Read more

نوآبادیاتی راج میں کشمیر فروخت کرنے کی کہانی

کشمیر (آزاد و مقبوضہ) کی شمالی حدود روس (سوویت یونین) اور چین کی سرحدوں سے ملتی ہیں۔ شمالی مغرب کی حدود پاکستان کے فرنٹیئر اور پنجاب سے ملحق ہیں۔ جنوب مشرق کا کچھ حصہ بھارت سے ملتا ہے۔ جنوب اور مغرب میں گلگت بلتستان ہے۔یہ نقشہ تو قدرتی تھا لیکن سامراج کے نوآبادیاتی منصوبے کی لپیٹ میں آگیا۔ نوآبادیاتی عہد کی اس داستان کا آغاز سکھوں اور انگریزوں کے درمیان جنگ سے ہوتا ہے۔ 1839 ء میں رنجیت سنگھ کی وفات کے بعد پنجاب میں سکھ سلطنت کے زوال کا آغاز ہوتا ہے۔ اس سے قبل ستلج کے محاذ پر انگریز سکھوں کے مقابل پر آچکے تھے۔ نومبر 1845 ء میں اینگلو سکھ جنگ ہوئی جس میں سکھوں کو شکست ہوئی اور اس شکست کا فائدہ رنجیت سنگھ کے درباری گلاب سنگھ کو ہوا، 1841 ء میں افغانیوں کے ساتھ انگریزوں کی محاذ آرائی میں گلاب سنگھ نے انگریزوں کی مدد کی تھی جس کے باعث گلاب سنگھ کی انگریز افسران کے ساتھ اچھی علیک سلیک تھی۔ جب انگریزوں کی سکھوں سے جنگ چھڑی تو گلاب سنگھ کو کمانڈ سونپی گئی۔گلاب سنگھ نے اپنی فوج کو حکم جاری کیا کہ انگریز فوج پر اُس وقت تک حملہ نہیں کرنا جب تک وہ میدان جنگ میں نہیں پہنچ جاتا، تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ گلاب سنگھ اپنی فوج کے پاس نہیں پہنچاتھا اور انگریز نے حملہ کر کے سکھ فوج کو زیر کر لیا۔

Read more

پنجاب کی نئی تعلیمی پالیسی: چربہ سازی کی دستاویز

بالآخر انگریزی زبان میں تحریر کی گئی پنجاب کی صوبائی تعلیمی پالیسی میں اُردو زبان کو ذریعہ تعلیم بنانے کا عہد کیا گیا ہے، اُردو ذریعہ تعلیم بنے گی یا نہیں انگریزی میں لکھی گئی تعلیمی پالیسی سے ادراک کیا جاسکتا ہے۔ یہ پالیسی ایسے ہی جیسے پھٹی پرانی کتابوں کو نئے بستے میں رکھ کر طالبعلم کو دے دیا جائے تاکہ وہ ذہنی آسودگی حاصل کرسکے۔ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد پنجاب میں مسلم لیگ نواز نے دس سال

Read more

انگریز سامراج نے ایمپرس مارکیٹ کیوں بنوائی؟

میرٹھ سے مئی 1857 ء سے شروع ہونے والی بغاوت سندھ تک پہنچ گئی اور انگریز کے مظالم کے خلاف نفرت سندھ میں کینٹ تک داخل ہوگئی چنانچہ 13 اور 14 ستمبر کی درمیانی شب کو حوالدار رام دین پانڈے نے 44 سپاہیوں کی مدد سے جنگ آزادی کا حصہ بننے کے لیے انگریزوں پر حملہ کی منصوبہ بندی کی، دو سپاہیوں نے غداری کرتے ہوئے اس پلان کی مخبری انگریز فوجی افسروں کو کر دی۔ 14 ویں پیدل فوج کے یہ سپاہی جب کراچی کینٹ سے فرار ہونے لگے تو ان پر گولیاں برسا دی گئیں اور موقع پر ہی 8 سپاہی مارے گئے، 30 سپاہیوں کو گرفتار کر لیا گیا اور باقی 6 سپاہی فرار ہوگئے۔

ان ہندستانی سپاہیوں کو انگریز جج کے سامنے پیش کیا گیا اور دو ہفتے تک عدالت میں مقدمہ چلنے کے بعد 8 سپاہیوں کو پھانسی کی سزا سنائی گئی جبکہ 23 سپاہیوں کو کالا پانی جیل میں بھیج دیا گیا جو سپاہی فرار ہوئے تھے وہ بھی چند روز میں پکڑے گئے۔

Read more

لاہور کا شیطانی مجسمہ اور قومی تعلیمی ڈھانچہ

مصور خیال و تصورات کا قیدی نہیں ہوتا، وہ آزاد ہوتا ہے اور یہی آزادی اُسے بہترین فنون لطیفہ کی تخلیق میں معاونت کرتی ہے بالکل ایسے ہی جیسے سماج کا گہرائی سے مشاہدہ کرنے کے بعد ایک لکھاری اپنے قلم سے جو الفاظ، جملے، فقرے لکھتا ہے وہ رجعت پسندی پر حملے سے کم نہیں ہوتا۔ جب مصور کو آزادی ہو تو وہ صادقین بن جاتا ہے پھر اس کے فن پارے بنارس ہندو یونیورسٹی میں بھی نظر آتے

Read more

زرعی یونیورسٹی کا فرسودہ تہذیبی تصور

ہر تہذیب خود کو دُنیا کے مرکز کی حیثیت سے دیکھتی ہے اور اپنی تاریخ لکھتے وقت اسے انسانی تاریخ کی مرکزیت کا درجہ دیتی ہے لیکن اس کے باوجود دُنیا کثیر تہذیبی رہی ہے اور تہذیبوں کی شناخت جغرافیہ کے گرد گھومتی رہی ہے، جو نظریہ، فکر، فلسفہ غالب ہوتا ہے تہذیب بھی اُسی کی غالب ہوتی ہے۔ تہذیب خود سے ایک مستقل ارتقائی سفر کا نام ہے اور ایک مخصوص جغرافیہ کا سماج اپنی تہذیبی ترقی کی بنیاد

Read more

پاکستان کے قومی مغالطے

عقل و دانش سے مسائل حل کرنا انسانی خصلت ہے۔ انسانی فکر ازل سے ہی ارتقاء سے گزر رہا ہے، انسان بنیادی اساسی اُصولوں کو پیش نظر رکھ کر سماجی ترقی کی نئی نئی تاویلیں کرتا ہے فلسفہ و سائنس میں نئے نظریات اور نئی ایجادات اسی تسلسل کا نتیجہ ہیں۔ علم، فکر، یا سوچ بچار میں مختلف طریقہ ہائے فکر رائج ہیں، انداز فکر یا پھر مباحثوں میں انسان التباس ﴿وہم﴾ یعنی فریب دہی سے بھی بسا اوقات کام لیتا ہے لیکن اس کا ادراک دیگر انسانوں کو بمشکل ہوتا ہے تاہم درست نظریہ رکھنے والے افراد التباس سے بچنے کے لیے تصدیق کا سہارا لیتے ہیں یوں تصدیق ہونے پر غلط ادراک یعنی التباس کے بجائے صحیح علم حاصل ہوتا ہے۔

اگر ارد گرد علمی و فکری ماحول ہو تو لوگ دلائل سے بات کرتے ہیں چنانچہ گفتگو کے دوران منطق کا کوئی قاعدہ ٹوٹ جائے تو مغالطہ جنم لیتا ہے۔ مغالطہ لفظی یا فکری نوعیت کی ایسی خوابیدہ غلطی کو کہتے ہیں جو بظاہر نطر نہیں آتی اس لیے ایسی غلطیاں جو نظر نہ آرہی ہوں زیادہ خطرناک ہوتی ہیں گویا مغالطے میں منطقی و فکری اُصولوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے غلط اور بے معنی استدلال کو بھی مغالطہ کہتے ہیں۔ چونکہ مغالطے استدلال کی غلطیاں ہوتے ہیں لہذا یہ ان اُصول و ضوابط کی خلاف ورزی سے پیدا ہوتے ہیں جو صحیح استدلال کے لیے نہایت ضروری اور لازمی ہوتے ہیں۔

Read more

نیا الیکشن، پاکستان کو غلامی مبارک ہو

بین الاقوامی مالیاتی نظام اور جدید نوآبادیاتی دور میں پاکستان کا کردار صرف اس عالمی مالیاتی نظام و سامراج میں محض گماشتہ کا رہا ہے۔ مجھے پاکستان کے نظام مملکت سے متعلق ایک بات تو بالکل واضح ہے کہ آمریت کا دور ہو یا پھر جمہوریت کا دور ہو، نظام مملکت کی بنیاد عوامی استحصال پر ہے۔ پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال میں آل شریفیہ کے بانی محمد نواز شریف جو اپنے تمام ادوار حکومت میں اسی عالمی مالیاتی نظام

Read more