عالمی لاک ڈاؤن کی منصوبہ بندی پر چشم کشا دستاویز

میں نے اپریل کے دوسرے ہفتے میں اس دستاویز پر لکھنا شروع کیا تاہم ناگزیر حالات کی بنا پر، میں یہ تحریر مکمل نہ کر سکا۔ انھی دنوں میں نام ور ادیب ناصر عباس نیئر نے اپنی تحریر معزول آدم کے تاثرات میں سوال اٹھایا کہ کیا یہ وبا (کورونا) ہمیں جمہوریت سمجھانے آئی ہے؟…

Read more

کورونا کا سراب اور نیو ورلڈ آرڈر

برطانوی استعماریت کی ابتداء سے لے کر سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکا کی سربراہی میں تشکیل پانے والے عالمی سیاسی و اقتصادی نظام نے دُنیا پر قبضہ کرنے کے مختلف حربوں کا استعمال کیا ہے۔ اٹھارویں صدی کے بعد سے، دُنیا بھر میں، جنم لینے والے بڑے بڑے قحط، وبائیں، جنگیں، بھوک و…

Read more

مولانا سندھی کا رد استعماریت اور برٹش راج

سامراج و استعمار کے خلاف لڑنے کا بہترین ہتھیار شعور ہے، جب اس شعور کی بنیادوں میں انقلابی نظریہ اور اجتماعی فکر کارفرما ہو تو استعمار کی شکست آخری منزل ٹھہرتی ہے۔ انقلابی فکر رد استعماریت، رد سامراجیت اور رد سرمایہ داریت حتیٰ کہ سماج کی غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کا قائل ہوتا ہے اور کُل قومی و ریاستی آزادی کے حاصل ہونے تک جدوجہد جاری رہتی ہے۔ خطہ ہند جب برطانیہ کی غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دیا گیا تو اس غلامی کے خلاف انقلابی و مزاحتمی تحریکیں برپا ہوئیں۔ یہاں کے انقلابیوں نے سن ستاون کی جنگ آزادی کے بعد انگریز راج کے خاتمے کا عہد کر لیا تھا، انقلابیوں کی اس جماعت کے ایک رُکن کو تاریخ عبید اللہ سندھی کے نام سے جانتی ہے۔

Read more

قومی غلامی کا نیا معاشی شکنجہ

آٹھ جولائی 2019 ء میں آئی ایم ایف نے پاکستان کو قرض دینے کے منصوبے کی دستاویز جاری کی جس میں واضح طور پر بتایا گیا کہ حکومت پاکستان کو یہ قرضہ چار شرائط پر دیا گیا ہے۔ اول، سٹیٹ بینک کی مکمل خود مختاری، دوم، آئی ایم ایف کے تحت پاکستان ریلوے کا آڈٹ، سوم، پی آئی اے کا آڈٹ اور چوتھے نمبر پر پاکستان اسٹیل مل کا مکمل ریکارڈ آئی ایم ایف کے سپرد کرنا شامل ہے۔ آئی ایم ایف نے واضح کر دیا کہ اب ہم طے کریں گے کہ جمہوریہ پاکستان کے کون سے ادارے قومی ملکیت میں رہیں گے اور کن اداروں کی نجکاری ہوگی اور اس کے ساتھ مذکورہ اداروں کے مالیاتی ریکارڈ تک آئی ایم ایف کو مکمل دسترس ملے گی۔

Read more

مزارات کے گدی نشینوں کی پولیٹیکل اکانومی

کورٹ آف وارڈز سسٹم کے تحت جن گدی نشینوں کو جاگیریں دی گئیں ان کی تفصیلات بھی ملاحظہ کیجئے : 1930 ء میں شاہ پور کے غلام محمد شاہ، ریاض حسین شاہ کو 6423 ایکٹرز جاگیر، اٹک کے سردار شیر محمد خان کو 25185 ایکٹرز، جھنگ کے شاہ جیونا خاندان کے خضر حیات شاہ، مبارک علی، عابد حسین کو 9564 ایکٹرز، ملتان کے سید عامر حیدر شاہ، سید غلام اکبر شاہ، مخدوم پیر شاہ کو 11917 ایکٹرز، ملتان کے گردیزی سید جن میں سید محمد نواز شاہ، سید محمد باقر شاہ، جعفر شاہ کو 7165 ایکٹرز، جلال پور پیر والا کے سید غلام عباس، سید محمد غوث کو 34144 ایکٹرز، گیلانی سید آف ملتان جس میں سید حامد شاہ اور فتح شاہ کے نام 11467 ایکٹرز، دولتانہ خاندان کے اللہ یار خان آف لڈھن کو 21680 ایکٹرز، ڈیرہ غازی خان کے میاں شاہ نواز خان آف حاجی پور کو 726 ایکٹرز، مظفر گڑھ کے ڈیرہ دین پناہ خاندان کے ملک اللہ بخش، قادر بخش، احمد یار اور نور محمد کو 2641 ایکٹرز اور ستپور کے مخدوم شیخ محمد حسن کو 23500 ایکٹرز جاگیر دی گئی۔

Read more

پاکستان میں وطن پرستی کا نصابی تصور

قومی ذہن کی تشکیل نصاب تعلیم کے ذریعے سے کی جاتی ہے، نصاب تعلیم کی بنیاد پر ہی قوم پرستی، وطن پرستی کا سبق پجپن سے ہی ذہن نشین کرایا جاتا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد عالمی سطح پر قومیت کا از سر نو تصور تشکیل دیا گیا، اس تصور کے تحت ہر قوم…

Read more

پوسٹ کالونیل ریاست میں حکمران طبقات کی تشکیل

سامراجیت محض ایک سازش نہیں، اور نہ ہی یہ محض محکوم ملک کے سماجی ڈھانچے سے جدا خارجی عنصر ہے۔ سامراجی نظام میں استعماری ملک کا معاشی ڈھانچہ، محکوم ملک کی سماجی ساخت میں پیوست کیا جاتا ہے۔ مابعد نوآبادیاتی فلسفے کے تناظر میں مقامی حکمران طبقات کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کر کے سامراجی…

Read more

نوآبادیاتی عہد میں فوج کا معاشی ڈھانچہ

نومبر 1918 ء میں پہلی عالمی جنگ کا خاتمہ ہوا اور معاشی منڈیوں پر قبضے کی اس جنگ کو 101 برس مکمل ہو رہے ہیں۔ اس عالمی جنگ کا فوجی نکتہ نظر سے ہندوستان پر کیا اثر ہوا، یہ پاکستان کے موجودہ سیاسی ڈھانچے کو سمجھنے میں معاون ہے۔ تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم…

Read more

نوآبادیاتی عہد کا گمنام انقلابی سکول

نوآبادیاتی معاشیات، بشریات، تاریخ اور سماجیات جیسے علوم کو ہندوستان میں پھیلانے میں یہاں کے تعلیمی ڈھانچے کو کلیدی حیثیت حاصل رہی۔ یورپی تاریخ، لہجے، اقدار اور انداز سخن سیکھنے کے لیے سول سروس کا حصہ بننے والے ہندوستانی پیش پیش ہوتے۔ فاتحین کی زبان و ثقافت سکھنا اور نوآبادیاتی حکام کی تقلید کے لئے…

Read more

امریکہ پاکستانی جمہوریت کو کس نظر سے دیکھ رہا ہے؟

ڈان اخبار نے گزشتہ روز ایک خبر شائع کی کہ امریکا نے اپنی سرکاری رپورٹ میں کہا ہے کہ ”آرمی چیف غیر سیاسی اور پروفیشنل ہیں،“ میرے لیے اس خبر سے زیادہ رپورٹ کو پڑھنا ضروری تھا کیونکہ خبر بسا اوقات ایڈیٹوریل پالیسی کا شکار ہو جاتی ہے۔ رپورٹ پڑھنے کے بعد انکشاف ہوا کہ امریکا پاکستان میں پاکستان تحریک انصاف کو اقتدار ملنے اور جمہوری طاقت پر بالکل واضح پوزیشن رکھتا ہے اور وہ موجودہ جمہوری حکومت کو محض علامتی تصور کرتا ہے۔ رپورٹ کے مندرجات میں بار بار اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

پاکستان کے جمہوری اداروں بالخصوص پارلیمنٹ، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے امریکا کی یہ رپورٹ تشویش ناک ہے۔

Read more