بشارت کی گھڑی گزر چکی، آؤ شک کریں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مضمون کی ابتداء Skepticism کی تعریف سے کرتے ہیں۔

Skepticism یا Scepticism ایسے نظریے کا نام ہے جو یہ بیان کرتا ہے کہ کوئی بھی حقیقت یا اصول مکمل طور پر یقینی حیثیت نہیں رکھتا۔ ہر طرح کے علوم، رویے، آراء، اعتقادات، تشکیک کا مظہر ہوتے ہیں اور ہر طرح کے نظام رائے میں شک کی گنجائش یا امکان ہر طور موجود ہوتا ہے۔

اس سے ملتاجلتا ایک نظریہPyrrohnism بھی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ بظاہر حقیقت یا سچ نظر آنے والے مظہر کو سچ یا حقیقت تصور نہیں کیا جا سکتا۔ اس تھیوری کے مطابق ہر اس علم، رائے، رویے اور اعتقاد کو شک کی نگاہ سے دیکھنا جو حقیقت بتا کر بیان کی جا رہی ہو اور اس حقیقت کے حقیقی ہونے پر سوال اٹھانا۔ کیونکہ اس نظریہ تصور کے مطابق حقیقت کا وجود دراصل کچھ بھی نہیں اور کوئی بھی چیز مکمل طور پر حقیقت نہیں ہوتی اس کے برعکس تصور کے نام ”اعتقادات یا Beliefs“ ہیں۔ جن میں کسی کو قائم کردہ رائے، علم، حقیقت کو من وعن قبول کر لیا جاتا ہے۔ نہ صرف قبول کیا جاتا ہے بلکہ اس حقیقت کی اگلی نسلوں تک ترسیل بھی کی جاتی ہے۔ اور یوں Followersجنم لیتے ہیں۔

Pyrrohonism کا ماننا ہے کہ چونکہ انسان کا اپنا ذاتی علم اور سمجھ بوجھ اپنے اردگرد کی دنیا کے متعلق محدود ہوتی ہے تو وہ انسان اپنے ساتھ یا سامنے رونما ہونے والے واقعات کو محض اپنے محدود تصورات کی بنیاد پر سچ اور جھوٹ، صحیح اور غلط کے خانوں میں ترتیب کر لیتا ہے۔ اب انسان جس چیز یا تصور کو حقیقت یا سچ تصور کر رہا ہو، یہ ضروری نہیں کہ اس حقیت ہونے کے کوئی ٹھوس شواہد موجود ہوں۔ اسی لیے Pyrrohonism خدا کے تصور، غیر مرئی کی مخلوقات اور فرضی طور پر ترتیب کی گئی حقیقتوں کو حقیقتیں تصور نہیں کرتے۔ اور اس کی من وعن تقلید پر سوال اُٹھاتے ہیں۔

Skepticism حقیقتوں کے تصور میں شک کے عنصر کو نمایا ں کرتے ہیں اور اس کے ٹھوس شواہد کے لئے منطق یا کسی دلیل کے پیش کیے جانے کو اہم تصور کرتے ہیں۔

سائنس کا فی حد تک Skepticism کے نظریہ شک کو یقین کا تصور دینے کے لئے تجربات کا سہارا لیتی ہے۔

جہاں اعتقاد (Belief) کا تصور یہ ہو کہ سورج دیوتا کو گرہن لگنا دیوتا کا ہی ایک اور روپ ہے۔ وہاں pyrrohonism اس کو محض نظر کا دھوکہ قرار دیتا ہے کہ سورج گرہن کا بظاہر نمودار ہونا کوئی حقیقت نہیں اور حقیقتیں اس کے برعکس کچھ اور ہوں گی وہاں سائنس قبل از وقت سورج گرہن کی تاریخوں کی نشاندہی کر کے اس عمل کو تجربات اور مشاہدات پر پرکھنے کو ترجیح دیتی ہے۔

Pyrrohnism، Bertrand Russell اور اعتقادات (Beliefs) دونوں کو انتہائی تصورات مانتا ہے۔ Russelکے نزدیک معاشروں میں حقیقتوں کا تصور محض اشتراکیت کی بنیاد پر پیش آتا ہے۔ کسی بھی علم، واقعہ، رائے، اعتقاد پر معاشرے کے افراد متفق ہوتے ہیں کہ یہ حقیقت ہے اور اس حقیقت پر اتفاق رائے کر لیتے ہیں مگر محض اتفاق رائے اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ تصور حقیقت ہی ہو۔ Russellکے مطابق معاشروں میں حقیقتیں پانچ طرح سے وقوع پذیرہوتی ہیں۔

1۔ کسی بھی تصور پر اس معاشرے کے مستند ماہرین اتفاق رائے کر کے اس کو حقیقت تسلیم کرتے ہوئے معاشروں میں رائج کر دیں۔ اور شک کی گنجائش ختم کر دیں کہ حقیقت اس کے برعکس بھی ہو سکتی ہے۔

2۔ مستنعد ماہرین کسی بھی نتیجہ پر نہ پہنچ سکیں اور یہ گنجائش چھوڑ دی جائے کہ حقیقت اس کے برعکس بھی ہو سکتی ہے جو کہ ثابت نہیں کیا جا سکا۔

3۔ یا عام آدمی یہ تصور کر لے کہ چونکہ مستنعد ماہرین حقیقت کو ثابت نہیں کر سکتے تو حقیقت کچھ بھی نہیں۔

4۔ یا تو معاشروں میں موجود افراد حقیقتوں کو حقیقت ثابت کرنے کے لئے منطق یا تحقیق کا سہارا لیں اورٹھوس شواہد کی بنیاد پر تصورات کو معاشروں میں رائج کریں۔

5۔ یا حقیقت کو وقت پر چھوڑ دیا جائے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سچ سچ بن کر اُبھرے گا۔

ہمارے جیسے معاشروں میں حقیقت کے تصورات کا امکان زیادہ تر محض، اعتقادی یا اشترا کی صورتوں میں وقوع پذیر ہوتا ہے۔ حقیقتوں کی تلاش چونکہ ایک مشکل عمل ہے۔ لہذا فرضی حقیقتیں یا (Myths) قائم کی جاتی ہیں۔ معاشروں میں Mythsکی مقبولیت ہمیشہ سے حقیقتوں کے مقابلے میں زیادہ رہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جنگیں بھی ہمیشہ Mythsسے جیتی گئی۔ وہ قومیں جو حقیقت پسند تھی مار دی گئی کیونکہ Mythsسے جیتی گئی۔ وہ قومیں جو حقیقت پسند تھی مار دی گئی کیونکہ Mythsمیں بنا دی گئی فرضی حقیقتوں نے جذبات اور جنون کے وہ الاؤ بھر کائے کہ سچ اس کے سامنے ٹھہر نہ پایا۔

کسی بھی معاشرے میں بادشاہ، سیاستدان، مذہبی رہنما کا افراد کے جذبات کو بھڑکا کر فرضی حقیقتیں قائم کر دینے کا تصور نیا نہیں۔ افراد محض جذبہ اعتقاد میں وہ سب کر گزرے جس کا حقیقت پسند شخص تصور بھی نہیں کر سکتا۔ معاشرے میں وہ فرضی حقیقتیں رائج کی گئی جن سے اکثریت پسندوں نے اقلیتوں پر زندگیاں تنگ کی، مردوں نے عورتوں پر حکمرانی کی، ایک مذہب نے دوسرے کے گلے کاٹے، سیاستدان نے سیاسی مخالفین کی مخالفت میں وہ وہ رویے اپنائے کہ حقیقتیں منہ چھپاتی پھرتی ہیں۔

ہم سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی حقیقتوں کی منطق ثابت کرنے کے لئے محض اس لیے کھڑے نہیں ہوتے کہ فرضی حقیقتوں پر اکثریت کی ”اشتراکیت“ تھی۔

ہمیشہ اعتقادات افعال کی طرف لے کر جاتے ہیں۔ پھر ہمارے اعتقادات منطقی دلائل سے اتنے دور تھے کہ کامیابی پھر صرف ذاتی کامیابی قرار پائی۔ مالی درجہ پابندی ہمارے رتبے کی پہچان بنی، دوسروں کو روندتے چلے جانا رسم ٹھہرا۔ اور محبت ہمدردی، اخوت، رواداری، عزت جیسے رویے ہمارے معاشرے میں کمزوریاں قرار پائی۔

ہمیں نہ تو Pyrrohonismکی انتہا پر جانا ہے کہ جہاں حقیقت کچھ بھی نہ ہو اور ہم دوسرے افراد کی جگہ خود کو رکھ ہی نہ پائیں۔ یہ سمجھ ہی نہ پائیں کہ ہمارے ارد گرد رہنے والے افراد اپنی بقاء کی جنگ جتنے کے لئے کن کن حالات سے گزر رہے ہیں۔

اور نہ ہی Beliefsکی اندھی تقلید میں گھر رہنا ہے کہ ہر بار اسی کو سچ سمجھیں جو سچ بنا کر بیان کیا جا رہا ہے۔ یہ جان ہی نہ سکیں کہ جس کو معاشرے کی اکثریت اشتراکیت کر کے مستعند بنا چکی ہے وہ کن منطقی درجات پر پورا اتر کر مستعند بنا۔

اور کیا واقعی عالم، ماہر، لیڈر، رہنما کی بیان کردہ حقیقت محص اس کی ذاتی انا و اغراض کی تسکین تو نہیں جس کو ہم من و عن حقیقت مان بیٹھے، یاد رکھیئے ہم ہوتے کون ہیں معاشروں میں حقیقتیں رائج کرنے والے؟ سچ ہے کیا، ہر فرد کا سچ اور حقیقت آپ کی حقیقت اور سچ سے مختلف ہے۔ پھر محض اس مختلف ہونے کو مخالف کیسے لیا جا سکتا ہے۔ یہ کیوں کر ہونا چاہیے کہ ہم اپنے سچ اور حقیقتوں کا دائرہ اس قدر وسیع کرتے چلے جائیں کہ ارد گرد کے افراد محض آپ کی لاگو کردہ فرضی حقیقتوں میں اپنی سچائیوں کو بیان ہی نہ کر پائیں۔

محض کسی پر زندگی اس لیے تنگ کر دی جائے کہ اکثریت اس کے خلاف کھڑی ہے چاہے اس کے خلاف کھڑے ہونے کی کوئی منطق موجود ہی نہ ہو۔

Skepticism اپنائے اور اگر قائم کردہ رائے اور رائج کردہ حقیقتوں کے آشکار ہوتے ہی غیر اداری غیر مخصوص پوزیشن پر آ جائیے۔ شک کیجئے کہ کہیں آپ کی اپنی یا آپ کو بتائے جانے والی آراء، علوم، رویے محض ذاتی یا اشتراکی بنیادوں پر بنائی گئی فرضی حقیقتیں تو نہیں۔

گناہ /ثواب، غلط /صحیح کے خانوں سے نکلتے ہوئے سوچوں کو آزاد ہونے دیں۔ حقیقتوں کو جاننا ہی ہے تو منطق کے قریب ترین جا کر پرکھنے کی کوشش کیجئے۔ اور اگر کچھ ثابت ہو بھی جائے تو اردگرد کے افراد پر لاگو کرنے سے گریزاں رہیں۔ سچ کی تلاش کا سفر دلائل کی راہ سے شروع کیجئے مگر دلائل کی بحث میں دوسروں کی ہار آپ کی منزل نہیں۔

”میں“ سے ”ہم“ کا سفر شروع کیجئے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •