سانحہ ساہیوال : پہلا واقعہ ہے نہ آخری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ساہیوال میں پیش آنے والا المناک سانحہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے اور نہ ہی آخری، جی ہاں اس طرح کے واقعات پہلے بھی پیش آتے رہے ہیں اوران کا تدارک نہ کیا گیا تویہ آخری بھی نہیں ہوگا۔ ماضی میں اس طرح کے واقعات کے ذمہ داران کئی وجوہات کے بنا پر بغیر کسی سزا کے بچ نکلے یہی وجہ ہے کہ یہ سانحہ پیش آیا ہے اگر اس واقعہ کے ذمہ داران کو بھی کسی حیلے بہانے سے بچا لیا گیا تو پھر آئندہ بھی اس طرح کے واقعات پیش آتے رہیں گے۔ آئیے پہلے دیکھتے ہیں کہ ماضی میں کب کب اس طرح کے واقعات پیش آئے اوران کے ذمہ داران کے خلاف کیا سلوک کیا گیا۔ اگر پچھلے دس سال پر نظر دوڑائیں تومعلوم ہو گا کہ کم از کم تین واقعات ایسے ہیں جن پر میڈیا میں بہت شور مچایا گیا مگر بعد میں ان پر مٹی ڈال دی گئی۔

18 مئی 2011 کی بات ہے کہ کوئٹہ میں خروٹ آباد کے علاقہ میں ایف سی کے اہلکاروں نے دن دیہاڑے تین خواتین سمیت پانچ افراد کودہشت گرد قرار دے کر گولیوں سے بھون ڈالا، چیچنیا سے تعلق رکھنے والے یہ لوگ نہ جانے کیوں پاکستان آئے اور پھر ریاستی اداروں کی بربریت کا نشانہ بن گئے مگرایک بہادر کیمرہ مین نے (جسے بعد میں نشان عبرت بنا دیا گیا) واقعے کی عکس بندی کرکے سب کو یہ دکھا دیا کہ کس طرح ایک نہتی خاتون سیکیورٹی اہکاروں سے جان بخشی کی بھیگ مانگ رہی ہے مگر خود کار اسلحے سے لیس اور طاقت کے نشے میں چور سیکیورٹی اہکار اس پر ترس کھانے یا زندہ پکڑنے کی کوشش کرنے کی بجائے گولیوں سے بھون دیتے ہیں۔

سیکیورٹی اہلکار دہشت گرد قرار دیے گئے مقتول افراد سے خود کش جیکٹوں سمیت نہ جانے کیا کچھ برآمد کرلیتے ہیں مگر قتل ہونے والے یہ غیر ملکی بعد میں بے قصور قرار پاتے ہیں جن میں سے ایک خاتون حاملہ بھی تھی، یوں سیکیورٹی اہکاروں نے چھ بے قصور لوگوں کے خون سے ہولی کھیلی مگر بعد میں کوئی ان کا بال بھی بیکا نہ کرسکا۔

کوئٹہ واقعہ کے تین چار ہفتے بعد کراچی میں کلفٹن کے علاقہ میں رینجرز اہکاروں نے سرفراز نامی ایک نوجوان کو ڈکیت قرار دیتے ہوئے سرعام قتل کردیا، اس واقعے کی وڈیو وائرل ہو گئی جس میں دیکھا جا سکتا تھا کہ نہتا نوجوان رینجرز اہلکاروں کے سامنے گولی نہ مارنے کے لئے منتیں کررہا ہے مگر ایک اہلکار مقتول کی منت ترلے کو کسی خاطر نہیں لاتا اور اسے گولیوں سے بھون ڈالتا ہے دوسرے اہلکار پاس کھڑے تماشا دیکھتے رہتے ہیں۔ مگر ان میں سے کوئی بھی نوجوان کو گرفتار کرنے کو کوشش کرتا ہے نہ گولی مارنے والے اہکار کو روکتا ہے۔

وڈیو وائرل ہوتی ہے عام لوگ اور میڈیا آسمان کو سرپر اٹھا لیتے ہیں۔ شدید عوامی دباؤ پر پانچ رینجرزاہکاروں کے خلاف گرفتاری کے بعد تیزی سے سماعت کرنے والی عدالت میں مقدمہ چلتا ہے اور اگلے ہی ماہ ان میں سے گولی چلانے والے اہکار کو موت اور باقی پانچ کو عمر قید کی سزا سنائی جاتی ہے۔ یوں عوامی جذبات ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں جسے دیکھ کرملزمان اور ان کے سرپرستوں کی طرف سے اپیلوں پر اپیلوں کا کھیل چلتا ہے اوریوں سالوں پر سال گزرتے جاتے ہیں مگر پھر بھی ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں ان کی سزائیں برقرار رہتی ہیں، واقعے کو سات سال گزر گئے اورلوگوں کے ذہنوں سے دن دیہاڑے برپا کی جانے والی سفاکیت کی یادیں محو ہوجاتی ہیں کہ اچانک ( گزشتہ سال جنوری میں ) سزایافتہ رینجرز اہلکاروں کو صدرپاکستان کی طرف سے معافی دیے جانے اور جیل سے رہا کیے جانے کی خبریں سامنے آتی ہیں جن کی سندھ کا محکمہ داخلہ تصدیق مگر ایوان صدر تردید کرتا ہے۔

سورج کی روشنی میں ایک پررونق جگہ پر ایک نہتے نوجوان کے خون سے ہولی کھیلنے والے رینجرز اہکاروں کا کیا بنا، کچھ معلوم نہیں۔ اسی دوران جب ایک طرف سندھ حکومت ان ہلکاروں کی معافی کے لئئے سرگرداں تھی تو دوسری طرف اسی حکومت کے ناک کے نیچے راؤ انوار نامی پولیس افسر جعلی مقابلوں میں مبینہ طور پر سینکڑوں لوگوں کے ماورائے عدالت قتل کرنے کی ایک نئی تاریخ رقم کررہا تھا۔

جس روز سرفراز کے سفاکانہ قتل میں ملوث رینجرزاہکاروں کو صدارتی معافی ملنے اور رہا کر دینے کی خبریں آئیں اس کے ٹھیک ایک ہفتے بعد کراچی سے ایک اور روح لرزا دینے والی خبر سامنے آئی۔ نقیب اللہ محسود نامی نوجوان جس کو کراچی پولیس کے ایک افسر راؤ انوار نے دہشت قرار دے کر مبینہ پولیس مقابلے میں مار دیا تھا کے دوستوں اور رشتہ داروں نے میڈیا کو بتایا کہ مقتول کا دہشت گردوں کے کسی گروپ سے دور دور تک کوئی تعلق نہ تھا بلکہ وہ کراچی میں کاروبار کرتا تھا اور ماڈلنگ کا دلداہ تھا جس کا ثبوت سوشل میڈیا پر موجود اس کا اکاؤنٹ تھا۔

پوری قوم بالعموم اور پختون برادری بالخصوص اس وحشیانہ اور سفاکانہ قتل پر بپھر گئی۔ پورے ملک میں راؤ انوار کے خلاف کارروائی کا مطالبہ ہوا۔ انکوائری میں معلوم ہوا کہ راؤانوار سینکڑوں افراد کو جعلی پولیس مقابلوں میں قتل کرنے میں ملوث ہے۔ چیف جسٹس نے معاملے کا ازخود نوٹس لیا اور ملزم راؤانوار کی گرفتاری کا حکم صادر کیا مگرچند سیاسی شخصیات اور ریاستی اداروں کی آشیرباد سے راؤ انوارمنظر سے اس طرح غائب ہو گیا جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔

ریاستی ادارے کئی مہینوں تک چھپن چھپائی کا کھیل کھیلتے رہے تو چیف جسٹس عوام کے جذبات سے۔ وہ ملزم کو حاضرکرنے کے لئے کبھی غصہ تو کبھی ترلے کرتے دیکھے گئے، اور ہفتوں پر ہفتے گزرتے چلے گئے، پھر اچانک ایک دن راؤ انوار نے سپریم کورٹ حاضری دی اور پھر غبارے سے ہوا نکل گئی۔ وہ دن ہے اور آج کا دن، مقتول کے ورثاء اور قوم انصاف کے منتظر ہیں مگر راؤ انوار دندناتا پھر رہا ہے۔ ملکی قانون اس پر شفیق ہے باپ جیسا اور دھرتی محبت نچھاور کر رہی ہے ماں جیسی۔

نقیب الللہ محسود کے سفاکانہ قتل کوجیسے ہی ایک سال پورا ہوا تو ایک نیا واقعہ پیش آ گیا۔ اس بار یہ واقعہ پنجاب میں پیش آیا جہاں سی ٹی ڈی کے اہلکاروں نے ان تمام واقعات بالخصوص سانحہ خروٹ آباد، کوئٹہ کی یاد تازہ کردی۔ ساہیوال میں پیش آنے والے واقعے میں بھی مقتولین دہائیاں دیتے رہ گئے، وردی پوشوں کی فائرنگ کا نشانہ بن کر جاں بحق ہونے والے چار افراد میں ایک تیرہ سالہ بچی اوراس کی والدہ شامل ہیں۔ قتل ہونے والے جوڑے کے ساتھ محو سفر دوکم سن بچے بھی گولیوں سے گھائل ہو کر میڈلوں کے پیاسے محافظوں کے ہاتھوں کو رنگین کر گئے۔

سانحہ خروٹ آباد کی طرح اس بار بھی سیکیورٹی اہکار خود کش جیکٹیں اور دیگر اسلحہ برآمد کرنے میں ”کامیاب“ ہو گئے۔ اس بار تو ان کو ایک مقتول کے داعش سے منسلک ہونے کے ثبوت بھی مل گئے۔ شادی میں شرکت کے لئے گھر سے نکلنے والے نہتے شہریوں کو قبرستان پہنچا دینے والے طاقت کے نشے میں بدمست اہلکاوروں کو بچانے کے لئے طاقتور لوگ ہر حربہ آزمانے پر تیار نظر آتے ہیں۔ طرح طرح کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ پل پل بدلتے بیانات نے سارامنظر مشکوک بنا دیا ہے۔

ہوسکتا ہے کہ مرنے والے افراد یا ان میں سے کوئی ایک ایسا ہی ہو جیسا بتایا جارہا ہے، ہوسکتا ہے ان کا کسی کالعدم تنطیم سے کوئی رابطہ یاتعلق بھی نکل آئے یا پیدا کرلیاجائے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایسا نہ ہو۔ مگرپولیس اہلکاروں کی طرف سے بیان کی گئی یا گھڑی ہوئی کہانی میں کئی جھول نظر آتے ہیں۔ خاص طورپر کسی مبینہ پولیس مقابلے کا کوئی ثبوت نظر نہیں آتا۔ مقتولین کی طرف سے پولیس پر فائرنگ میں پہل کرنے یا سرے سے فائرنگ کرنے کادعوٰی بھی غلط نظر آتا ہے اور یہ تاثر دو باتوں سے تقویت پاتا ہے۔

وقوعہ کے گواہوں کے بیانات، وڈیوز اور سب سے بڑھ کر پولیس گردی کا شکار ہونے والے ڈرائیورذیشان کا سیٹ بیلٹ میں بندھاہوا جسم اور بازو اور سٹیئرنگ ویل پر رکھے ہاتھ پولیس کے جھوٹ کا پول کھول دینے کے لئے کافی ہیں۔ دن دیہاڑے ایک پررونق سڑک پر دسیوں لوگوں کے سامنے نہتے شہریوں کو بربریت کا نشانہ بنانے والے اور پولیس گردی کے مرتکب اہکاراور ان کے سرپرست جھوٹ پر جھوٹ گھڑ کر لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ رات کے اندھیرے میں اور ویران جگہوں اور عینی شاہدین کی عدم موجودگی میں ہونے والے درجنوں واقعات میں کتنے بے قصور لوگ موت کے گھاٹ اتار دیے گئے ہوں گے۔

کتنے واقعات کا کوئی گواہ نہیں ہوگا، کتنے واقعات کے گواہ ہوں گے مگران کے پاس وڈیوز جیسے ثبوت نہیں ہوں گے یا پھر ان میں آوازاٹھانے کی ہمت نہیں ہو گی، کتنے واقعات ہوں گے جن میں کسی نے آواز اٹھائی ہو گی مگر وہ آوازیں دبا دی گئی ہوں گی۔ نہ جانے کتنے لوگ ہوں گے جو کسی کی دشمنی، نا اہلی، غلط اطلاع یا غلط فہمی کی وجہ سے دہشت گرد قرار دے کر قتل کردیے گئے ہوں گے۔ کتنے واقعات ایسے ہوں گے جہاں مشتبہ، مشکوک یا حقیقی دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ ان کے معصوم بیوی اوربچے اور دیگر عزیز بھی بلاتمیزموت کی بھینٹ چڑھا دیے گئے ہوں گے۔

ایسے واقعے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں اور آئندہ بھی ہوتے رہیں گے مگر کسی کو پتہ نہیں چلے گا، جب کبھی کوئی واقعہ سامنے آئے گا لوگ احتجاج کریں گے کچھ گرفتاریاں ہوں گی مقدمے درج ہوں گے عدالتوں میں تاریخوں پر تاریخیں پڑیں گی، منظردھندلا جائیں گے یادیں محو ہوجائیں گی، فائلوں پر گرد پڑ جائے گی اورہر جرم اور ہر سانحہ ”مٹی پاؤ“ فارمولے کی نظر ہو جائے گا۔

ماضی کی طرح ساہیوال کے سانحے پربھی پوری قوم میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے لوگ سراپا احتجاج ہیں اورالیکٹرانک اور سوشل میڈیا پرایک طوفان برپا ہے۔ پولیس اہلکاروں کوگرفتار کرکے مقدمہ (جو شاید نامعلوم افراد کے خلاف ہے ) درج کرلیا گیا ہے۔ ایک اور ”جعلی“ انوسٹی گیشن ٹیم کا ڈول ڈال دیا گیا ہے نہ جانے اس کی رپورٹ کیا آتی ہے، اگر رپورٹ پولیس گردی کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف آتی بھی ہے تو اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ ملزمان کو واقعی کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا اور ان کوماضی کی طرح کسی حیلے بہانے سے، سیکیورٹی اہکاروں کا مورال ڈاؤن ہو جانے کے خدشے سے بچنے کے نام پر، کسی قانونی موشگافی کا سہارا لے کر، دیت دے کر یا صدارتی معافی عطا کر کے بچا نہیں لیا جائے گا۔ اگر ایسا ہوا تو اس طرح کے واقعات آئندہ بھی ہوتے رہیں گے۔ ہم چند دن ماتم کریں گے، چیخ و پکارہوگی اور کچھ عرصے بعد ہم سب کچھ بھول جائیں گے اس وقت تک کہ جب کوئی نیا واقعہ کوئی نیا سانحہ ہمیں خواب خرگوش سے عارضی طور پربیدار نہ کردے۔

ہم نے اور ہمارے حکمرانوں نے اس سلسلے کواگر واقعی روکنا ہے تو پھر کسی بھی صورت محافظوں کی وردی پہن کر موت کی سوداگری کرنے والے سفاک ملزمان سے درگزر یا  رورعایت نہ کی جائے کوئی حیلہ بہانہ، کوئی عذر قبول نہ کیا جائے۔ اگر ایک بار پھر کسی مصلحت یا سمجھوتے سے کام لیا گیا تو پھر واقعی یہ واقعہ نہ پہلا ہو گا نہ آخری۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
منظور ناظر کی دیگر تحریریں