عبدالستار ایدھی۔ ستر پوش و آہن پوش

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عبدالستار ایدھی، ایک شخصیت، ایک عہد ایک نابغہ،مگر ایسا کیا ہے، جو اس میں تھا اور ہم میں نہیں ہے؟، عام انسانوں کی طرح پیدا ہوا، زندگی کا سفر آغاز کیا، اور آخر دم تم تک مزاحمت کرتا رہا کہ اسے ایک عام آدمی کی حیثیت سے جینے کا حق دیا جائے۔ اس کو کس کس طرح کی پیش کش نہیں کی گئی کہ اس کے کے مشن کو آگے بڑھانے میں معاونت کی جاسکے مگر اس نے کسی کی نہیں مانی، اپنی سوچ، اپنے انداز سے اپنے مشن کو آگے اور آگے اور آگے بڑھاتا چلا گیا یہاں تک کہ اس کی معاونت کے خواہشمند بہت پیچھے رہ گئے، اور وہ ایدھی فاؤنڈیشن کے ساتھ بہت بلندی پر چلا گیا۔ عبدالستار ایدھی 1928ء میں ہندستان کی ریاست گجرات میں پیدا ہوا۔ عبدالستار، یعنی ’’ستار کا بندہ‘‘، ’’ستار‘‘ اﷲ کا صفاتی نام، بمعنی ’’ستر پوشی کرنے والا‘‘، جس روز عبدالستار ایدھی کو اپنے نام کے معنی سمجھ آ گئے، اس نے ستر پوشی کا کام اپنے ذمے لے لیا۔

وہ لاشوں کو کفن پہنا کر ستر پوشی کرتا رہا، وہ لاوارث بچوں کی ولدیت کے خانے میں اپنا اور اپنی بیوی کا نام لکھوا کر معاشرے کے نام نہاد باعزت لوگوں کی ناجائز اولادوں کی ستر پوشی کرتا رہا، وہ زلزلے اور سیلاب میں بے یارو مددگار لوگوں کے ہاتھ پکڑ کر اور ان کے مردہ جسموں کو دفنا کر ان کی ستر پوشی کرتا رہا۔ وہ غربت کی دلدل میں دھنسے لوگوں کو روٹی و اچار مہیا کر کے ان کی بھوک کی ستر پوشی کرتا رہا۔ اسے لگا کہ ’’ستار‘‘ تو اﷲ تعالیٰ کی صفت ہے اور وہ اس کا بندہ، تو ایک بندے کے بس میں جتنا ہے، وہ اتنی ستر پوشی تو کر سکتا ہے، یہاں تک کہ اپنے اعضا بھی اس نے خیرات کر دیے۔ 11سال کی عمر میں باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا کہ جو کپڑے کا کاروبار کرتا تھا۔ بیمار ماں کی تیمارداری اور علاج کی ذمہ داری سر پر آن پڑی۔ گویا موت اور حیات کے ساتھ اس کا مکالمہ 11 سال کی عمر میں ہوا۔ بس یہ یتیمی اور اس عمر میں ماں کی بیماری اسے دوسروں لوگوں سے الگ ملی تھی۔ یہی اس کی توانائی، یہی اس کے ادارے کا بنیادی محرک، یہی اس کی زندگی کا جواز بن گیا۔ اس کا نصب العین بن گیا۔ ایک ڈاکٹر کی معاونت سے ایک ڈسپنسری قائم کی، ایک زچگی سنٹر قائم کیا، اور سفر آغاز کیا۔ 1978ء میں 50 سال کی عمر میں ایدھی فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی۔ 1988 میں سب سے بڑا تدفینی مرکز قائم کیا۔ اس کے بازوؤں پر سیکڑوں ہزاروں لاشوں کے خون کے خوش نما پھول کھلے ہوئے ہیں کہ جن کو گلیوں بازاروں میں قتل کیا گیا مگر ان کے لواحقین کو ان کے لاشے اٹھانے اور ان کو دفنانے کی اجازت نہیں تھی۔ لوگوں کو ان کے کپڑوں میں دفن کرتے ہوئے خود بھی اپنے پہنے ہوئے کپڑوں میں دفن ہونے کی وصیت کی۔

کیا جانے کب دھماکہ ہو، اور کتنے ٹکڑے ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ رکھے ہیں اس نے سی کے کفن ماپ سے الگ۔

ایدھی فاؤنڈیشن: اثاثہ جات
ایدھی فاؤنڈیشن کے ابتدائی برسوں میں گردن میں باقاعدہ کشکول لٹکا کر بھیک مانگنے والے عبدالستار ایدھی کی فاؤنڈیش کے پاس اس وقت 4 ہوائی جہاز ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے، 1800 ایمبولینسز، ملک میں 17 ایدھی ہوم، 28 کشتیاں اور 335 ایدھی سنٹرہیں۔ ایدھی فاؤنڈیشن کے ٹرسٹیز میں اس کی بیوہ اور چار بچے شامل ہیں۔ عبدالستار ایدھی کو پاکستان کا امیر ترین صاحب حیثیت فرد مانا جاتا ہے۔ لوگ اس پر ایمان کی حد تک یقین رکھتے ہیں۔

اعزازات:
عبدالستار ایدھی کو سلور جوبلی شیلڈ ایوارڈ مسلسل 25 سال (1962-87) ملتا رہا۔ سب سے پہلا اہم ایوارڈ 1988 میں لینن پیس ایوارڈ دیا گیا، اس کے بعد بہترین خدمات کا اعزاز (1989)، سماجی خدمت گار برائے برصغیر ایوارڈ(1989)، نشانِ امتیاز(1989)، پاکستان سوک ایوارڈ(1992)، ایوارڈ برائے عمومی طبی خدمات(2000)، لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ(2005)، نامزدگی برائے امن نوبل ایوارڈ(2011) دیے گئے۔ مگر سب سے بڑا ایوارڈ تو لوگوں کی وہ بے پناہ محبت اور عبدالستار ایدھی کی ایمان داری اور دیانت داری ہے کہ جس پر ایمان کی حد تک یقین لاتے ہوئے صاحب ثروت لوگ اربوں کھربوں دینے کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔ ان کے جنازے میں شامل لوگوں کا جم غفیر، اور دنیا بھر میں ان کے انتقال پر وہ اربوں آنکھیں اشک بار ہیں جو ان کی خدمات کے اعتراف میں بچھی ہوئی ہیں۔ ان کا بنیادی موقف اور نظریہ یہ تھا ’’میں مانگتا ہوں اس سے، جو دیتا ہے خوشی سے‘‘۔

ایدھی کا سفر آخرت:
عبدالستار ایدھی کراچی کے ایک ہسپتال میں موت و حیات کی کشمکش کے بعد اپنے خالق حقیقی سے جا ملے، چاہتے تو دنیا کے بڑے سے بڑے ہسپتال میں اپنی زندگی کی سانسیں چند برس اور بڑھا سکتے تھے مگر 63 سال کہ جو حضرت محمدؐ کی عمر تھی، سے زیادہ جتنا عرصہ جیے، اسے اضافی عمر سمجھتے تھے۔ پچیس سال سے اپنی قبر تیار کر رکھی تھی۔ جب آپ ہر دن کو اپنا آخری دن سمجھنا شروع کردیں تو زندگی موت کے خوف کو پچھاڑ دیتی ہے۔ عبدالستار ایدھی نے موت کے خوف کو اپنے ہاتھوں سے لاشے اٹھا اٹھا کر پہلے ہی پچھاڑ دیا تھا۔ انہوں نے 8 جولائی 2016ء کو مقامی ہسپتال میں داعی اجل کو لبیک کہا اور سفر آخرت پر روانہ ہو گئے۔ زندگی بسر کرنے میں عملی طور پر سادگی کا معیار قائم کیا۔ بیس سال قبل خریدے گئے جوتے دم وصال زیر استعمال رہے۔ وصیت کی کہ اسی لباس میں دفن کیا جائے جو دم وصال پہنا ہوا ہو۔ آنکھیں اور جسم کے باقی اعضا عطیہ کر دیے تا کہ کسی کے کام آ سکیں۔ وقت تدفین آنکھوں پر سفید پٹیاں بندھی تھیں اگر کھلی ہوتیں تواپنے جنازے پر جم غفیر دیکھ کر اٹھ بیٹھتے، کہیں کوئی حادثہ ہو گیا ہے، پہلے اپنی ذمہ داریاں پوری کر لوں پھر رخصت ہوں گا۔

ایدھی کی کامیابی کا راز:
عبدالستار ایدھی ایک فرد واحد کہ جس نے چالیس برسوں میں ایک ادارے کی صورت اختیار کر لی، اس کی کامیابی کی وجوہات اگر تلاش کی جائیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی سوچ، فکر اور اپنے مقاصد میں خود بالکل واضح تھے، اس لیے کامیابی نے ان کے قدم چومے۔ وہ سوچ کیا تھی؟ ہم نے ان کے ادارے میں کام کرنے والوں سے براہ راست معلوم کرنے کی کوشش کی۔ ایدھی فاؤنڈیشن کا اصول ہے کہ وہ ایمبولینس سروس ضرورت مندوں کو فری مہیا کرتے ہیں، صرف پٹرول کے پیسے چارج کرتے ہیں۔ ڈرائیور کی تنخواہ پہلے چھ ہزار اور اب نو ہزار کر دی گئی ہے۔ یہاں ڈرائیور یا دیگر کاموں کے لیے روزگار کے متلاشی لوگوں کے بجائے ایسے لوگوں کو رکھا جاتا ہے جو خدمت خلق کا جذبہ رکھتے ہوئے یہ ملازمت اختیار کرتے ہیں۔ ریکارڈ کو محفوظ رکھنے کا ایسا شاندار انتظام موجود ہے کہ کہیں سے چوری کی کوئی گنجائش نہیں، اگر ایسا نہ کریں تو یہ عطیہ جات ملازمین ہی ہڑپ کر جائیں۔ جب کوئی ڈرائیور ایمبولینس لے کر کسی دوسرے شہر میں جاتا ہے تو واپسی پر خالی گاڑی واپس نہیں آتی، وہاں قریبی موجود ایدھی سنٹر پرڈرائیور اس وقت تک رکتا ہے جب تک اسے کوئی اور جاب نہیں مل جاتی۔ واپسی پر جو بھی ملے، اس کا نصف ڈرائیور کو الاؤنس کے طور پر دیا جاتا ہے۔ کھانے میں سادہ روٹی اور اچار، ایدھی فاؤنڈیشن کا نظریہ یہ ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو کھانا مہیا کرتے ہیں جو روٹی اچار کھا کر پیٹ کی آگ بجھانے پر راضی ہوں۔ ایدھی سنٹر کے اپنے اخراجات غیر معمولی طور پر کم ہیں۔ ورنہ ہوتا یہ ہے کہ خیرات کے پیسوں سے ائیر کنڈیشنڈ دفاتر بنائے جاتے ہیں، گاڑیاں ملازمین ذاتی استعمال میں رکھتے ہیں، پیٹرول چوری کرتے ہیں، تنخواہ کو محض ایک وظیفہ سمجھتے ہیں،عطیات اور خیرات میں وصول ہونے والے مال و متاع کو اپنی ملکیت تصور کرتے ہیں، غیر ملکی خیراتی اشیا اپنے رشتہ داروں میں بانٹ دیتے ہیں، چیک اینڈ بیلنس کا انتظام برائے نام ہوتا ہے۔ اس وقت حکومتی اور پرائیویٹ سطح پر چلنے والے اداروں پر آپ نگاہ ڈالیں ، خود ہی پتہ چل جائے گا کہ ان کے CEO اور دیگر افسران ایسے خیراتی اداروں سے وظیفہ کی مد میں کیا وصول کر رہے ہیں۔ ان خیراتی اداروں اور ہسپتالوں اور یتیم خانوں میں اپنے ملازمین کے طور پر اپنے رشتہ داروں کو تنخواہ کی مد میں بھاری پیکیج دے رہے ہیں جب کہ ایدھی فاؤنڈیشن اور اس کے ملازمین کے انتخاب کا معیار بالکل الگ ہے اور یہی اس ادارے کے امیر ترین اور کامیاب ہونے کی بنیادی وجہ ہے۔ یہاں وہی ٹکتا ہے جسے ملازمت نہیں خدمت کرنے کا خبط ہوتا ہے اور اس بات پر کوئی مصالحت نہیں کی جاتی۔

چند چبھتے سوالات:
عبدالستار ایدھی ایک جذبے کا نام تھا، ایک مشن کا نام تھا۔ الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا کے دانشور لوگوں کوایسے ایسے انکشافات سے آگاہ کر رہے ہیں کہ جو ان کے خیال میں عوام کو معلوم نہیں۔ مگر عبدالستار ایدھی نے بغیر کوئی لفظ کہے، بغیر بھاشن دیے ساری دنیا کو خاموش، چپ چاپ رہ کر کام کر کے دکھا دیا کہ کیسے ناممکن کو ممکن بنایا جاتا ہے۔ صدر پاکستان، وزیر اعظم، سندھ اور پنجاب کے وزرائے اعلیٰ، گورنر صاحبان، تینوں فوجوں کے چیف اور چیف آف آرمی سٹاف، پولیس، سیکیورٹی ایجنسیز اور رینجرز کے سربراہان، اور ملک کے تمام بڑے بڑے حکمرانوں کی نماز جنازہ میں موجودگی سے عوام تک کیا پیغام جاتا ہے؟ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ کیا عبدالستار ایدھی ایسا کوئی کام کر رہا تھا، جو ان اداروں کے خیال میں ان کی ذمہ داری تھی۔ عبدالستار ایدھی کی سادہ اور عام شخص کی زندگی کو توپوں کی سلامی دے کر ، اس کے جسد خاکی کو قومی پرچم میں لپیٹ کر، قومی اعزاز کے ساتھ دفن کرنے کے بہانے کس کس نے اپنا نام نہیں بنایا، یہ سب آپ کی آنکھوں کے سامنے ہے۔ ابھی جنازہ پڑھا نہیں گیا تھا کہ تیسرے درجے کے گلوکاروں سے عبدالستار ایدھی کے بارے میں رائے لی جارہی تھی، آخر کیوں؟ کیا میڈیا کی دسترس میں ایسے باوقار اور متعلقہ لوگ نہیں تھے کہ جن سے عبدالستار ایدھی کے کام پر سنجیدہ گفتگو کروائی جاتی۔ یہ فاخر اور شہزاد رائے کون لوگ ہیں؟ ملالہ یوسف زئی کا ایدھی کے مشن میں کیا حصہ ہے؟ عبدالستار ایدھی کی زندگی میں اس کے ٹرسٹ کو چلانے میں ان لوگوں کا کیا کردار تھا؟ اگرکچھ کرنا ہے تو سرکاری اور نیم سرکاری خیراتی اور امداد باہمی کے اداروں کے سربراہان اور ملازمین کے انتخاب میں وہی معیار سامنے رکھیں جو ایدھی فاؤنڈیشن نے قائم کر رکھا ہے۔

الیکٹرونک میڈیا کا استعمال:
یہ بات سچ ہے کہ ملک بھر میں عبدالستار ایدھی سے محبت اور عقیدت رکھنے والے ان کا سفر آخرت اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے تھے، اور الیکٹرونک میڈیا نے یہ سب نہایت ذمہ داری اور تردد کے ساتھ دکھایا اور کچھ تشنہ نہیں رہنے دیا۔ مگر کیمرے کی آنکھ کیا کیا دکھا دیتی ہے، یہ بعض اوقات اندازہ نہیں ہوتا۔ یہ بات قابل ستائش ہے کہ عبدالستار ایدھی کے جنازے سے پہلے تمام بڑی بڑی شخصیات پہلے سے موجود تھیں اور پورے پروٹوکول کے ساتھ آخر میں ان کا تابوت جنازے کے لیے لایا گیا، ورنہ یہ بھی ہو سکتا تھاکہ تابوت پڑا ہوتا اور وی وی آئی پی شخصیات کا انتظار کیا جا رہا ہوتا۔ صد شکر کہ ایسا نہیں ہوا۔ جنازے میں کھڑے صدر مملکت اور وزیر اعلیٰ سندھ بار بار ماتھے سے اپنے رومال کے ساتھ پسینہ پونچھ رہے تھے، صد شکر کہ کوئی شخص ساتھ ٹشو پیپر کے ڈبے لیے نہیں کھڑا تھا۔ جنازے کے بعد جب تدفین کے لیے تابوت ایدھی ولیج لے جایا جا رہا تھا، راستے میں ٹریفک تھوڑی دیر کے لیے بلاک ہوئی، اور پھر راستہ کھل گیا۔ قبر میں تابوت اتارنے کی بار بار ریہرسل دکھائی جا رہی تھی، کیسے تابوت اٹھانا ہے، کیسے زمین پر رکھنا ہے، کیسے قبر میں اتارنا ہے؟ سب کچھ قومی سطح کے اعزاز کے طور پر کیا گیا، جس سے عبدالستار ایدھی ساری زندگی بھاگتے رہے، مرنے کے بعد ان کی بے بسی سے فائدہ اٹھایا گیا۔ اور جب قبر پر پھول چڑھانے کا وقت آیا تو تمام اداروں کے سربراہان کیمرہ Conscious پائے گئے۔ قبر کے کنارے لوگوں کو اس طرح کھڑا کیا گیا تا کہ کیمرہ سب کچھ دکھا سکے، جیسے یہ کوئی فلمی یا کسی ڈرامے کا منظر نامہ ہے۔ جس ادارے کی طرف سے پھول چڑھائے جاتے پہلے پھولوں کو الٹا رکھ کر کیمرے کے سامنے لایا جاتا تا کہ ناظرین دیکھ لیں اور پڑھ لیں کہ کس ادارے کی جانب سے پھول چڑھائے جا رہے ہیں۔ پھر قبر پر رکھتے ہوئے ان پھولوں کو سیدھا کیا جاتا۔ اگر کاغذ پر آگے پیچھے ادارے کا نام لکھا ہوتا، تو اس خفت سے بچا جا سکتا تھا۔ کیمرے کی آنکھ یہ سب دکھا رہی تھی، اداروں کے سربراہان کس کو دکھانا چاہتے تھے، لمحہ فکریہ اور توجہ طلب معاملہ ہے۔ مرنے والا تو مر گیا، اب کس کا خوف ہے؟کیا رائے عامہ کا پریشر تھا، کیا ایدھی کے ساتھ وابستگی کے اظہار کا اور کوئی طریقہ نہیں تھا؟ آخر اس کی کیا ضرورت تھی؟یا ایسی کون سی مجبوری تھی؟بہت سے ایسے سوالات ذہن میں ابھرتے ہیں، جن کے جوابات موجود نہیں ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •