کرنل صاحب کپتان سے جواب طلب کر کے پھنس گئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 16
  •  


ایک اور بلا خانہء انوری کی بجائے انوری کے راستے میں نمودار ہوئی 1944 ء میں سنیئر افسر اکثر انگریز ہی ہوتے تھے۔ ہندوستانی زیادہ ترلفیٹن تھے یا کپتان۔ کوئی بھولا بھٹکا میجر بھی نظر آجاتا تھا لیکن کالا لفٹیننٹ کرنل کالے گلاب کی طرح تقریباً ناپید تھا۔ ایک روز دوپہر کی چھٹی کے بعد سائیکل پر میس کو جا رہا تھا کہ سڑک پر سامنے سے ایک اور سائیکل سوار آتا دکھائی دیا۔ پاس سے گزرا تو لفیٹن سا نظر آیا جس کے کندھے پر دو پھول ہوتے ہیں ابھی چند گزہی آگے نکلا تھا کہ پیچھے سے آواز آئی :
come Here Hey ( ”ارے۔ ادھر آؤ“ )

مڑکر دیکھا تو معلوم ہوا کہ اس گستاخ ہذا کے منادیٰ ہم ہی ہیں۔ حیران کہ یہ صاحب خود کیوں نہیں آجاتے۔ بہر حال ہم ہی بیس قدم پیچھے چل کر ان تک گئے اور دیکھا کہ ان کے کندھے کے دو پھولوں میں سے ایک تاج ہے یعنی جناب لفٹیننٹ نہیں، لفیننٹ کرنل ہیں۔ معاً ہمارا ہاتھ سلیوٹ میں اٹھ اور سائیکل ایک طرف کھڑی کر کے ہم مودبانہ کرنل صاحب کے سامنے اٹن شن ہو گئے۔

ارشاد ہو ا : ”جب ہم سامنے آ رہے تھے تو سیلوٹ کیوں نہیں کیا تھا؟“

کرنل صاحب نے ذرا غیر متوقع پتھر کھینچ مارا تھا۔ فوج میں سنیئر افسر کو سلیوٹ نہ کرنا جرم ہے اور اسے جونیئر سے باز پرس کا حق ہے لیکن تجربہ کار افسر اس حق کو عقلمندی سے استعمال کرتے ہیں، یعنی جہاں ضبط کا تقاضا ہو سختی سے گرفت کرتے ہیں، لیکن جہاں یہ فروگزاشت اتفاقاً یا سہواً ہو جائے، نظر انداز کر دیتے ہیں۔ بظاہر یہ کرنل صاحب کوئی دوسری قسم کے سنیئر تھے۔

میں جواب دینے میں ذرا جھجکا تو آواز بلند کرتے ہوئے بولے :
” بولو، سلیوٹ کیوں نہیں کیا تھا؟“
عرض کیا : ”میں آپ کا رینک نہیں پہچان سکا تھا۔“

کرنل صاحب رعب اور فخر سے چور ہو کر اپنے دائیں کندھے کے تاج کی طرف ترچھی نگاہ کرتے ہوئے بولے :
” تمہیں تاج اور پھول میں فرق نظر نہیں آتا؟“

عرض کیا : ”آتا ہے مگر سائیکل تیزی سے جا رہے تھے، اس لیے پہچان نہ سکا۔“

ارشاد ہوا : اس کا مطلب یہ ہے کہ تم سوائے انگریز کے کسی اور سلیوٹ نہیں کرتے۔ ”
یہ کرنل صاحب کی زیادتی بھی تھی اور بے ربطی بھی۔ مجھے کچھ اندازہ ہونے لگا کہ لفٹیننٹ کرنل سہی، مگر عالم بالا میں کچھ بدامنی ہے۔ بہر حال ادب اور سکون سے عرض کیا:
” جناب، یہ مطلب تو نہیں نکل سکتا۔“

جب میں یہ کہہ رہا تھا تو پاس ہی سے ہمارے یونٹ کا ایک انگریز کپتان سائیکل پر سوار گزرا جس نے حسب عادت ہمیں آنکھ ماری جو یقیناً کرنل صاحب کو بھی لگی لیکن اس نے کرنل صاحب کو سیلوٹ وغیرہ نہ کیا۔ کرنل صاحب نے مجھ سے مکالمہ جاری رکھا۔ ”معلوم ہوتا ہے تمہارا ڈسپلن ٹھیک نہیں ہے۔ کیا نام ہے تمہارا؟“

نام عرض کیا، لیکن کرنل صاحب نام سے زیادہ چاہتے تھے کہ ڈرے، کانپے اور معافی مانگے جب ایسا نہ ہوا تو آپ نے ذرا زیادہ خوفناک حربہ استعمال فرمایا اور بولے :
” اپنا شناختی کارڈ دکھاؤ؟“

شناختی کارڈ ہر وقت ہر افسر کے پاس ہوتا ہے۔ جیب سے نکل کر ادب سے پیش کیا، لیکن کانپنے سے پرہیز کیا۔ آپ نے کارڈ دیکھا۔ پھر اپنی نوٹ بک میں کچھ کوائف نقل کیے اور کارڈ واپس کرتے ہوئے بولے :
” تمہاری رپورٹ سب ایریا کمانڈر کو کی جائے گی۔ اب تم جا سکتے ہو۔“

عرض کیا : ”سر، میں بھی کچھ عرض کر سکتا ہوں؟“
فرمایا : ”بولو۔“

” سر جب آپ نے سائیکل رکوا کر مجھے بیس قدم پیچھے طلب فرمایا تو میں نے آ کر آپ کو سلیوٹ کیا تھا، لیکن آپ نے اس کا جواب نہ دیا۔ میرے سیلوٹ میں کوئی نقص تھا؟“
بولے : ”ہم نے جواب نہیں دیا تھا؟ ہمیں خیال نہیں رہا ہو گا۔“

عرض کیا : ”ایسا ہی ہو گا مگر ابھی بھی ایک انگریز کپتان بغیر سیلوٹ کیے گزار لیکن آپ نے اسے ٹوکنا مناسب نہ سمجھا۔ سر گستاخی معاف، کیا آپ صرف کالے کپتانوں کو ہی پکڑتے ہیں؟“

کرنل صاحب کے چہرے پر واضح گھبراہٹ تھی لیکن زبان میں دم تھا بولے : ”یہ تمہارا بزنس نہیں۔“
میں نے کہا : ”سر شاید آپ کو علم ہے یا نہیں، سب ایریا آرڈرز کی رو سے سائیکل پر جاتے سیلوٹ کرنا لازم بھی نہیں۔“

کرنل صاحب کو اس سوال کا صحیح جواب نہیں آتا تھا۔ اضطرار میں بولے : ”یہ ہمارا بزنس ہے۔“
عرض کیا : ”مجھے بھی اس واقعہ کی رپورٹ اپنے کمان افسر کو کرنا ہو گی۔ اگر آپ کو تکلیف نہ ہو تو کیا میں بھی آپ کا شناختی کارڈ دیکھ سکتا ہوں؟“

اب اگر کوئی پختہ قسم کا جاندار سا کرنل ہوتا تو پہلے تو سیلوٹ پر جھگڑنے کی طفلانہ حرکت ہی نہ کرتا اور اگر کر بیٹھتا تو پھر ایک پکڑے ہوئے کپتان کی یہ جرات نہ ہوتی کہ الٹا شناختی کارڈ مانگتا۔ لیکن ہمارے دیسی بھائی بظاہر نومولود سے لفٹیننٹ کرنل تھے اور غالباً اسی خاکسار پر پہلی مرتبہ کرنیلی آزما رہے تھے۔ یوں تو کیا ہوتا کہ کرنل صاحب ہمارے پاس سے گزرتے ہوئے مسکرا کر ہاتھ ہلاتے اور ہم اپنے ہموطن کے اوج طالع اور نگاہ التفات پر فخر کرتے ہوتے جوابی ہاتھ ہلاتے لیکن اب کرنل صاحب گرفت میں تھے تو کمبل کا قصور نہ تھا، خود آپ نے اسے ذراتنگ لپیٹا تھا۔

کسی قدر جھنجھلا کر بولے :
” اگر تمہارا کارڈ دیکھنا ضرور ی ہے تو یہ رہا کارڈ۔“

کارڈ دیکھا تو لکھا تھا :کارڈ دیکھا : ”لفٹیننٹ کرنل ڈی سوزا۔ یونٹ : ملٹری ہسپتال۔“ گویا آپ ڈاکٹر تھے۔ اب لازم نہ تھا کہ آپ کا نام پتہ یاد رکھنے کے لیے ہم بھی نوٹ بک کا سہارا لیتے، لیکن ڈاکٹر صاحب کی ضیافت طبع کے لیے ہم نے کسی قدر اہتمام کے ساتھ جیب سے نوٹ بک نکالی پھر ذرا خوش خطی سے کرنل صاحب کے کوائف لکھے اور آخر کار سلیقے سے کارڈ تہہ کر کے آپ کے ہاتھ میں دے دیا اور عرض کیا :
” مجھے جانے کی اجازت ہے؟“
کرنل صاحب نے جانے کی اجازت تو دے دی، لیکن ان کے دل سے بے آواز پکار اٹھ رہی تھی کہ خدا کے لیے مت جاؤ۔ ہم سے گھر میں صلح کر لو۔

میس میں پہنچا تو کھانے کے تو کھانے کی میز پر اس حادثہ کا ذکر کر کیا۔ سامعین زیادہ تر لفٹیننٹ اور کپتان ہی تھے۔ گویا جونیئر افسروں کی برادری تھی۔ ہمارے کار نامے پر خاصا فخر کیا گیا اور باقاعدہ فتح منائی گئی۔

پچھلے پہر اپنے کمرے میں لیٹا تھا کہ کیپٹن چکرورتی آ نکلا اور بولا : ”چلو تمہیں چائے پلائیں۔“
ہم فوراً ساتھ ہو لیے کیونکہ چکی کی ْٹی پارٹی ہمیشہ پر لطف ہوتی تھی۔ اس کے نصف مہمان صنف نازک سے ہونے کے علاوہ سچ مچ نازک بھی ہوتے تھے جن کی ہم نشینی چائے کو خوشگوار ذائقہ بخشتی تھی۔

پوچھا : ”آج کس کو بلایا ہے؟“
بولے : ”یہ سرپرائز ہی رہے گی۔“

تھوڑی دور گئے تو چکی بجائے ریستوران کے ایک بنگلے میں داخل ہو گیا اور اندر جا کر بے تکلف ڈرائنگ روم بیٹھ گیا۔ چند لمحوں میں صاحب خانہ تشریف لائے۔ جی ہاں، یہ لفٹیننٹ کرنل ڈی سوزا ہی تھے۔ چکی نے باہم تعارف کرایا:
” میرا دلی دوست محمد خاں۔ میرے کرم فرما کرنل ڈی سوزا۔“

ابتدائی مزاج پرسیوں کے بعد چائے آ گئی اور اس تکلف کے ساتھ کہ ریستوران بھول گیا۔ پھر کرنل صاحب کا انداز تواضع : چائے پلائی تو شکر گھول دی۔ باتیں کیں تو امرت گھولنے لگے۔ آخر اٹھے تو کرنل صاحب نے آئندہ ملاقات کے وعدے پراصرار کیا۔ قصہ مختصر باہر نکلے تو معلوم ہوا جیسے دل کا ایک ٹکڑا کرنل صاحب کے گھر چھوڑ چلے ہیں۔ واپسی پر معلوم ہوا کہ اس منصوبے کا خالق چکرورتی تھا جس کی کرنل صاحب سے پرانی دوستی تھی۔ رہا وہ سلیوٹ کا معاملہ تو خدا جانے وہ کن دو آدمیوں کے درمیان ہوا تھا۔ سوائے اس کے کہ جب دو چار ملاقاتیں اور ہو چکیں تو کرنل صاحب اور ہم نے اپنی نوٹ بکوں میں سے ایک ایک صفحہ بطور تعویذ ایک دوسرے کو پیش کر دیا۔
بجنگ آمد سے اقتباس

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 16
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں