رماکانت اچریکر: جس نے سچن کو ٹنڈولکر بنایا


یہ تاریخ جب رقم ہو رہی تھی اچریکر آزاد میدان میں موجود نہیں تھے اور فون پر اپنے اسسٹنٹ سے میچ کے بارے میں معلومات حاصل کر رہے تھے۔ ٹیم کا مجموعی سکور جب بہت تسلی بخش ہو گیا تو انھوں نے سچن کے لیے اننگز ڈیکلئیر کرنے کی ہدایت جاری کی۔ بارہواں کھلاڑی یہ پیغام لاتا تو دونوں اسے ٹال دیتے۔ اسسٹنٹ کوچ نے باہر سے بہتیرے اشارے کیے لیکن ٹنڈولکر اور کامبلی انھیں جان بوجھ کر نظر انداز کرتے رہے۔ دونوں نے بولروں کو اتنا پدایا کہ ایک بولر تو بیچارہ رو پڑا۔

آخر ٹنڈولکر کو دوسرے دن لنچ پر اننگر ڈیکلئیر کرنے کا خیال آ گیا تو کامبلی نے کہا کہ اسے لنچ کے بعد ایک رنز بنا کر ساڑھے تین سو بنا لینے کا موقع دیا جائے، اس کے لیے دونوں نے اچریکر سے فون پر بات کی۔ کامبلی کی تجویز سختی سے رد ہوئی اور کہا گیا کہ اننگز ڈیکلئیر کرنے میں پہلے ہی بہت تاخیر ہو چکی۔ خیریت گزری کہ شاردا شرم سکول میچ جیت گیا وگرنہ دونوں دوستوں کی خوب درگت بنتی۔

اس اننگز سے سچن کی شہرت کو پر لگ گئے۔ ممتاز کرکٹر مبصر ہارشا بھوگلے نے اس زمانے میں ٹنڈولکر سے ملاقات کے بعد ایک مضمون لکھا جس کا آغاز یوں ہوتا ہے :

بمبئی کے سبھی میدان ایک اسٹیج ہیں جہاں ہر کھلاڑی کواپنا کردار ادا کرنا پڑتا ہے اور جو کردار سچن ٹنڈولکر نے ادا کیا ہے وہ قیامت خیز ہے۔ پچھلے سال کے آغاز میں جب اس نے پہلے ایکٹ سے پردہ اٹھایا تھا، ناظرین اگلے منظر کو، بعض اوقات ضرورت سے زیادہ اشتیاق سے دیکھنے کے منتظر ہیں۔ سچن ٹنڈولکر ابھی تک ایک ہائی سکول پروڈکشن میں کام کر رہا ہے۔ اس کے باوجود ناقدین نے اس کی تعریفوں کے پل باندھ دیے ہیں۔ انتہا درجے کے ستائشی تبصرے برابر چھپے جا رہے ہیں۔

میرا اندازہ ہے کہ یہ بمبئی شہر ہی میں ممکن ہے کہ بعض اوقات کسی کرکٹر کا جو ابھی سکول میں پڑھتا ہو، سارے شہرمیں اس کا چرچا ہوجائے، بمبئی کے ہیرس شیلڈ فائنل میں ہر دن کا کھیل ختم ہونے پر ہر کوئی یہ معلوم کرنا چاہتا تھا کہ سچن نے کتنے رنز بنائے کیوں کہ بعض اوقات وہ تین تین دن بیٹنگ کرتا رہتا ہے۔ اس تمام تشہیر کے باوجود جو اس کے حصے میں آئی ہے، سچن ٹنڈولکر ابھی بھی چھوٹا سا لڑکا ہے، چوبیس اپریل کو وہ صرف پندرہ سال کا ہوا ہے اور وہ بہت شرمیلا ہے۔ وہ اس وقت کھل کر بات کرتا ہے جب آپ کچھ دیر اسے اکسائیں، اس کے کوچ مسٹر اچریکر کا کہنا ہے کہ اب تو پھر بھی وہ پہلے کے مقابلے میں تھوڑا بولنے لگا ہے۔ ”

ہارشا بھوگلے نے اس مضمون میں لکھا ہے کہ ٹنڈولکر کی اس شہرت سے ان کے کرکٹ کوچ اچریکربہت پریشان نظر آئے، ان کا کہنا تھا کہ ابھی سچن محض پندرہ برس کا ہے اور اس پر داد وتحسین کے ڈونگرے برسنے لگے ہیں، ابھی چند دن پہلے بچوں کی لائبریری کا اس سے افتتاح بھی کرایا گیا۔ اچریکرکے بقول ”یہ بہت غیر معقول بات ہے۔ یہ چیزیں لازمی طور پر اس کے دماغ کو چڑھیں گے اور وہ یہ سوچنا شروع کردے گا کہ اس نے سب کچھ حاصل کرلیا ہے۔ “

ونود کامبلی بھی اچریکر کے شاگرد تھے اور ٹنڈولکر کے جگری یار لیکن وہ اپنے ٹیسٹ کرئیر کی ابتدا میں نہایت عمدہ کارکردگی دکھانے کے باوجود زیادہ عرصہ انڈیا کے لیے نہ کھیل سکے، اچریکر کی دانست میں وہ ٹنڈولکر جتنے ہی باصلاحیت تھے لیکن کامبلی کے مزاج کا ٹیڑھ پن اور بیٹنگ میں خامیاں دور نہ کرنا ان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنا۔ اچریکر کے اور بھی کئی شاگردوں نے بین الاقوامی سطح پر انڈیا کی نمائندگی کی۔

سکول کرکٹ، کلب کرکٹ اور بمبئی کی مختلف ٹیموں میں سکور کرتے سچن ٹنڈولکر رانجی ٹرافی کے لیے منتخب ہوئے اور پندرہ سال کی عمر میں بمبئی کی طرف سے رانجی ٹرافی میں اپنے پہلے میچ میں ناقابل شکست سنچری سکور کر کے سب سے کم عمری میں یہ اعزاز حاصل کرنے کا ریکارڈ بنایا۔ اس کے بعد ریسٹ آف دی انڈیا ٹیم کی طرف سے رانجی ٹرافی کی فاتح ٹیم دہلی کے خلاف سنچری بنائی اوراس مقابلے میں سنچری بنانے والے کم عمر کھلاڑی بن گئے۔ اسی سال وہ قومی ٹیم کاحصہ بنے اور اس کے بعد جو ہوا وہ سب تاریخ ہے، جس کا خلاصہ بین الاقوامی کرکٹ میں ان کی سو سنچریوں میں سمٹ آتا ہے۔

کرکٹ میں ساری رفعتوں کے باوجود ٹنڈولکر نے استاد کو کبھی فراموش نہیں کیا۔ ہر ٹور اور سیریز سے پہلے وہ ان کے پاؤں چھونے جاتے۔ زندگی کے ہر اہم موقع پر انھیں یاد رکھتے۔ ٹنڈولکر نے ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی الوداعی تقریر میں سٹیڈیم میں اچریکر کو ان کی موجودگی میں شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور اس سمے کو یاد کیا جب شیوا جی پارک میں بیٹنگ کے بعد ان کے ساتھ سکوٹر پر بیٹھ کر آزاد میدان کا رخ کرتے جہاں انھوں نے ایک دوسرے میچ میں بیٹنگ کرنی ہوتی۔ ٹنڈولکر نے ازراہ مذاق کہا کہ 29 برسوں میں اچریکر سر نے مجھے میرے کھیل پر کبھی ویل ڈن نہیں کہا کہ مبادا میں اپنے سے مطمئن ہو کر بیٹھ جاؤں اور محنت سے جی چرانے لگوں، اب اس سٹیج پر وہ مجھے ویل ڈن کہہ سکتے ہیں کہ اب میں نے کوئی اور میچ نہیں کھیلنا۔

اس برس دو جنوری کو اچریکر دنیا چھوڑ گئے، ان کی آخری رسومات میں سچن ٹنڈولکرکے چہرے پر غم اور اداسی کی وہ کیفیت تھی جو کسی پیارے کے بچھڑنے پر ہوتی ہے۔ ایسا استاد اور ایسا شاگرد قسمت والوں کو ملتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے باعثِ فخر ہیں۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2