قانون کی بالا دستی کا خواب!
ہر مہذب معاشرہ اپنے لئے کچھ اصول طے کرتا ہے جن میں سرِ فہرست قانون کی بالا دستی ہے۔ اقوام عالم کے بڑے ممالک اپنی فلاح اور ترقی کا راز قانون کی بالادستی کو قرار دیتے ہیں۔ پاکستان میں ابھی یہ سفر شاید شروع نہیں ہوا پاکستان ایک نیا ملک ہے اپنی مختصر تاریخ میں سیاسی بحرانوں کی لپیٹ میں رہنے والے ملک میں آج بھی قانون کی بالا دستی اداروں کی حدود اور گورننس جیسے موضوعات پر ہر طرح کا ابہام موجود ہے۔ آئین میں ان موضوعات کی تشریح موجود ہے مگر جتنے تجربات کا شکار خود آئین رہا، شاید عمومی ابہام اسی وجہ سے ہے۔
جب قانون کی بالا دستی کا ذکر ہوتا ہے صرف پولیس کچہری، سی ٹی ڈی یا سرکاری دفاتر کا رویہ یا ان محکموں کی طرف سے روا رکھے جانے والی تفاوت قانون کی بالادستی کا موضوع نہیں ہے۔ یہ صرف ایک پہلو ہے۔ قانون کی بالادستی ایک سوچ ہے جس کو ریاست اصول کے طور پر اپناتی ہے اور خود سے جڑے ہر شخص کو برابر حقوق دیتی ہے۔ اور برابری کے اصول کو ملحوظ رکھتے ہوئے اداروں کو ذمہ داریاں تفویض کرتی ہے۔
وہ برابر حقوق برابری کی بنیاد پر وسائل میں حصہ بھی ہیں اور امارت اور غربت کی لکیر کو مٹاتے صحت تعلیم اور انصاف کی یکساں فراہمی بھی ہے۔ بات کہنے کی یکساں آزادی اور بات سنے جانے کے یکساں مواقع بھی ان بنیادی حقوق میں آتے ہیں۔ اگر تفصیل اور گہرائی سے ان بنیادی آزادیوں کا مطالعہ کیا جائے تو شہری اور ریاست کا رشتہ ان آزادیوں کا احترام اور بنیادی حقوق کا تحفظ ہے!
انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے میں جن بنیادی آزادیوں کا ذکر ہے وہ سب ہی پاکستان کے آئین میں تسلیم شدہ ہیں۔ ان بنیادی انسانی حقوق میں سیاسی حقوق بھی شامل ہیں ہر شہری اپنے نظریے میں آزاد ہے اور کسی بھی سیاسی جماعت کی حمایت کر سکتا ہے۔
ان ہی بنیادی حقوق کے تحت آئین ہر ملزم کو قانونی چارہ جوئی کا حق دیتا ہے۔ چاہے اس ہر قتل جیسے سنگین جرم یا ریاست کے خلاف بغاوت کا الزام ہی کیوں نہ ہو۔ ریاست ہر شہری کو یہ حق دیتی ہے کہ وہ اپنے اوپر لگے الزامات کر غلط ثابت کرے یا صحیح ثابت ہونے پر قانون کے مطابق سزا بھگتے۔
پاکستان میں دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ نے غیر معمولی صورتحال پیدا کی ہے۔ حالات جتنے بھی مخدوش رہے ہوں ہیجانی صورتحال بہر حال عروج پر رہی ہے یا رکھی گئی ہے۔ غیر معمولی صورتحال میں غیر معمولی قوانین کا سہارا بھی لیا اور پھر یہ سہارا معذوری بننے لگا۔ جب لنگڑا کر چلنے والے کی ٹانگ کا قابل علاج زخم نظر انداز کر کے اسے لاٹھی پہ چلنے پہ شاباش دی جاتی ہے تو پھر وہ زخم ناسور بن جاتا ہے۔ انصاف کے متوازی نظام اور عارضی سہاروں نے نظام عدل کے ساتھ یہی کیا ہے۔ انصاف کا پسماندہ نظام ناسور بن گیا ہے اور غیر معمولی حالات کی زد میں عام شہری آنے لگ گئے ہیں۔
ساہیوال میں قتل کیا جانے والا خاندان آخر مرنے کے بعد حکومت کی طرف سے اعلان کیے گئے دو کروڑ کا کیا کرے گا۔ ان کے پاس یہ حق تھا کہ ان کو گرفتار کیا جاتا اور ان پر الزامات عائد کر کے انہیں ثابت کیا جاتا۔ سزا پہلے دینا اور پھر الزامات ثابت کرنا یا نہ کرنا لفظ انصاف کی اس سے زیادہ توہین اور نہیں ہو سکتی۔ آئین ریاستی اداروں کو من حیث المجموعی اور ان اداروں میں کام کرنے والے افراد کی طرف سے کیے گئے کسی غیر قانونی کام کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا استثنی نہیں فراہم کرتا۔
آئین اور قانون کی بالا دستی کو یقینی بنانا حکومت وقت کی اولین ذمہ داری ہے۔ ریاست اور حکمرانی کا تصور نظام عدل کو قائم کیے بغیر ناممکن ہے۔ اپنے کسی فعل کے لئے تو جہیہ پیش کرنا بھی ہر فرد کا قانونی حق ہے مگر ریاستی اداروں کو اپنے رد عمل ریاست کے مفادات کو سامنے رکھ کر ترتیب دینا چاہئیں۔ حکومت وقت کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سیکیورٹی اور احتساب کے ادارے اسی معاشرے کے افراد پر مبنی ہیں ان افراد میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت شاید ذرا زیادہ ہو مگر انہیں کامل سمجھنا یا کامل کے طور ہر پیش کرنا انصاف کے لولے لنگڑے نظام کی خدمت نہیں ہے۔
کسی ایک واقعے پر سوال اٹھانا اداروں پر سوال اٹھانے اور قربانیوں سے قطع نظر کرنے کے مترادف کیوں سمجھا جا رہا ہے۔ یہ بھی حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اداروں کے تشخص کا تحفظ کرنے کے ساتھ ساتھ ہر شہری کے حقوق کا تحفظ کرے۔ اس میں کسی کوشک نہیں ہونا چاہیے کہ قوم نا صرف عسکری اداروں کی قربانیوں پر فخر کرتی ہے بلکہ اس قوم نے استطاعت سے زیادہ ان قربانیوں میں حصہ ڈالا ہے۔ اور کسی واقعے کی تحقیق کا مطالبہ صریحاً سیکیورٹی اداروں کے تشخص کے خلاف سازش نہیں ہے۔
اس تمہید کے بعد مؤدبانہ گزارش یہ ہے کہ اگر کسی سے غلطی ہوئی ہے اس کو مان لینے اور آیندہ کے لیے پیش بندی کا کوئی انتظام ہونا ضروری ہے۔
ریاست ہم سب کو سوال کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ اور ریاست سب اداروں کو جواب دہی کا پابند کرتی ہے۔ ریاست قانون کا تحفظ کرنے والوں کو بھی قانون کے دائرے میں رہنے پر پابند کرتی ہے۔ آئین پر عملدرآمد محض آرٹیکل چھ کی با ت نہیں۔ آئین جو ذمہ داریاں ہر ادارے کے لئے طے کرتا ہے ان ذمہ داریوں کو پورا نہ کرنا بھی آئین کی خلاف ورزی ہے۔ آئین کو نہ ماننے والے صرف وہ نہیں جو ملک کے خلاف سازشیں کرتے ہیں وہ بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں جو ایسے حالات پیدا کرتے ہیں کہ ملک کے خلاف سازش کرنا ممکن نظر آئے۔
ساہیوال میں گولیوں کا شکار ہونے والے خاندان کی زندگی کا تحفظ آخر اسی ریاست کی ذمہ داری تھا اور اگر ریاست ناکام ہوئی ہے تو اس کا جواب اور ذمہ داری کس پر ڈالی جائے؟
کیا صرف غیر معمولی حالات کے لفظ پر بے گناہوں کی زندگیاں ضائع کرنا انصاف ہے؟


