سانحہ ساہیوال: مشکوک دہشتگرد وں کا اصل مقابلہ
ساہیوال سانحہ۔ ثابت ہوچکا ہے کہ ایک غلط مقابلہ تھا۔ اب جو ثابت ہونا باقی ہے وہ یہ ہے کہ یہ مجرمانہ غلطی تھی یا (ضرورت یا ذمہ داری سے زیادہ کرنا) اوور ایفیشنسی۔ اور ذمہ دار کون کون ہیں اگر یہ مجرمانہ غلطی تھی تو پولیس اور سی ٹی ڈی کے ماضی کے بہت سے آپریشنز پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے کیونکہ ان کی ویڈیوز بنی نہ ہی ان کے بچے گواہیاں دینے سامنے آسکے اور نہ انھیں کور کرنے کے لئے میڈیا کی رسائی ممکن ہوئی بلکہ ان پر کٹنے والے مقدمات پر بھی یقین نہیں کیا جا سکتا کیونکہ جس انداز میں اس فیملی کو مقدمے میں دہشتگرد ظاہر کردیا گیا تھا اس کے بعد کسی کو بھی مقدمے میں اپنی من گھڑت کہانی سے چور، ڈاکو، دہشتگرد حتی کہ داعش کا کارکن بھی بنا دینا شاید نہایت آسان ہے ادارے یہ جھوٹ بول کر سب بھونڈا پن اس وقت میں کرنے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ پورا ملک ان کے اوپر میڈیا کے ذریعے نظریں جمائے بیٹھا ہے۔ اس سے بڑا ظلم کیا ہوگا کہ معصوموں کو ناجائز مار دیا جائے اور اس کے بعد ان کے پیاروں کی ساری زندگی اور خاندان پر دہشتگردوں کے رشتہ دار ہونے کا ٹھپا لگا کر معاشرے کی تھو تھو کے لئے چھوڑ دیا جائے
جب بھی کوئی خفیہ ایجنسی۔ پولیس یا کاونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے آپریشن کرتی ہے تو پولیس اہلکاروں کو جیسے مادر پدر آزادی مل جاتی ہے وہ کسی کی چادر چار دیواری اور ذاتی اور بنیادی حقوق کو سلب کرنا جیسے اپنا حق سمجھتے ہیں ایسے میں آپریشن والی جگہ کو تب تک گھیرے میں رکھتے اور محفوظ کر لیا جاتا ہے جب تک وہاں سے دہشت گردوں کی لاشیں ان کے قبضے سے ملنے والا اسلحہ اور شواہد نکال نہ لئے جائیں حتی کہ فورینزک شہادتیں تو اکٹھی کرنا آپریشن کا حصہ ہوتا ہے جس میں ان کا ڈی این اے اور پوسٹ مارٹم رپورٹ تک لیکن ساہیوال آپریشن میں معصوموں کو گولیاں مارنے کے بعد سی ٹی ڈی کی آپریشن ٹیم لاشوں کو چھوڑ کرایسے بھاگی جیسے کچھ غلط ہوگیا ہے اور ان کے بھاگ جانے سے چھپ جائے گا وہاں جی ٹی روڈ کے راہگیر لاشوں کی ویڈیوز اور تصاویر بناتے رہے اور وہاں کوئی نہ تھا سی ٹی ڈی کی ٹیم تین بچوں کو کار سے نکال کر لے گئی اور اگلے پیڑول پمپ پر چھوڑ دیا۔ پھر نا جانے انھیں کہاں سے دوبارہ حکم موصول ہوا کہ یہ واپس آئے اور لاشیں نکالیں اور بچوں کو پمپ سے اٹھا کر اسپتال کے باہر چھوڑ گئے پولیس مفرروں کی طرح کام کیوں کر رہی تھی۔ سوچئے کہ اگر یہ وہاں علاقے کو گھیرے میں لے لیتے اور کسی کو پاس نہ آنے دیتے کوئی ویڈیو بنتی نہ کوئی فوٹو سامنے آتی تو میڈیا ابھی تک ان کی پریس ریلیز پر ہی چل رہا ہوتا کیونکہ معصوم خاندان کے بچ جانے والے تو اتنی طاقت نہیں رکھتے جو ادارے کے ساتھ پاکستان جیسے ملک میں لڑ سکیں۔
دہشت گردی میں سب سے بڑی کامیابی ملزم کا زندہ پکڑے جانا ہوتی ہے کیونکہ ان سے یہ معلومات مل جاتی ہے کہ وہ کسی نیٹ ورک اور کہاں کہاں سے ہوتا ہوا یہاں تک پہنچا ہے ورنہ دھماکے کے ساتھ ہی مرنے والے اپنی ساری معلومات ساتھ لے جاتے ہیں اب یہاں پہلی گولی چلانے کے بعد ذیشان، خلیل اور کی بیوی اور بیٹی زندہ تھے پھر چھوٹے زخمی بچوں کو نکالنے کے بعد انھیں بھی پکڑ کر ساتھ لے جائیں اور معلومات کے بعد مار دیں لیکن اتنی عجلت دکھائی گئی جیسے سفید کا کالا اورکالے کو سفید کرنے کے منصوبہ پہلے بن چکا تھا اور پورے واقعے پر مٹی ڈالناضروری تھا
سی ٹی ڈی کے بدلے بیانات اور انویسٹیگیشن تو ایسی بھونڈی تھی کہ وہاں بیان جاری کرنے والے ذمہ داروں پر ادارے کو بدنام کرنے کا مقدمہ فورا درج کرکے انھیں بھی عبرت بنا دینا چاہیے کیونکہ ان بیانات نے قوم کے درمیان اس ادارے کی حیثیت ٹکے ٹوکری کر دی ہے
اب جے آئی ٹی کا کام اتنا سا ہے کہ یہ گولی کیوں چلائی گئی کس کے حکم پر چلائی گئی اور اس کی خفیہ معلومات کیوں اتنی غلط ہوگئی کہ ایک معصوم خاندان کے ساتھ خون کی ہولی کھیلی گئی۔ یہاں میں ایک بات گوش گزار کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اگر یہ آپریشن کسی انٹیلیجنس ایجنسی کے حکام کے کہنے یا معلومات کی بنیاد پر کیا گیاتھا تو ایسا نہیں کہ وہ بچ جائیں گے کیونکہ انٹیلیجنس ایجنسیز کے اپنے بہت سے ایس او پیز ہوتے ہیں اور احتساب کا نظام ہے چاہے وہ ملڑی انٹیلیجنس سروسز ہوں یا سول حساس ادارے۔ یہ اپنی طاقت اور وسائل کس طرح استعمال کرتے ہیں ان کے لئے ان کے اپنے حکام خود بھی کاونٹر انٹیلجیس سسٹم کے ذریعے چیک کرتے رہتے ہیں۔ یہاں تک ہے چند سال پہلے جب دہشت گرد ی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی تھی اور ایجنسیز کے اپنے دفاتر کو دھماکوں سے اڑایا جارہا تھا تو اس وقت بھی ایک خفیہ نظام کا یہاں تک احتساب شروع ہو گیا تھا کہ جس علاقے میں واردات ہوئی اس کا خفیہ والا ذمہ دار کون تھا اور کیوں وہ انٹیلیجنس سسٹم کے ذریعے اس کارروائی کو روک نہیں پایا اس سے باقاعدہ پوچھ گچھ ہونے لگی۔
میرے بتانے کا مقصد یہ ہے جیسے تھانوں نے اپنے علاقے گلیوں اور چوراہوں تک بانٹے ہوتے ہیں اسی طرح خفیہ ادارے بھی اپنے اپنے دائرے پر مکمل نظر رکھنے کے ذمہ دار ہیں اور جو کسی غفلت کا مرتکب پایا جاتا ہے اس کا احتساب بھی ہوتا ہے شاید کچھ عرصہ پہلے تک ایسا نہ تھا۔ فوج میں آج بھی کور کمانڈز ایجیسیوں کے سربراہان سے زیادہ طاقتور اور سیکیورٹی کے ذمہ دار ہیں
جب اداروں سے ایسی کوئی غلطی یامجرمانہ غفلت ہو جاتی ہے تو ناصرف کرنے والے بلکہ ان کے آفسران اپنے ادارے کے مفاد میں اسے میڈیا یا قوم کی نظر وں سے بچانے میں لگ جاتے ہیں حقائق کو مسخ کرنا یا پھر جھوٹ بول کر ثابت کرنا کہ ان کی غلطی نہیں۔ بابا اگر آپ اتنے خطرناک دہشت گردوں کے خلاف کام کرتے ہیں تو ظاہر ہے قوم سمجھے گی کہ غلطی ہو سکتی ہے لیکن اگر غلطی کو صیحیح ثابت کر دیا تو وہ غلط کر کے ٹھیک ثابت ہونے کا نظام بن جائے گا لہذا وہ نہ ادارے کے لئے فائدہ مند ہے نا افسران کے لئے اور نا ملک و قوم کے لئے۔
ممکن ہے بلکہ میرے صحافتی تجربے کی بنیاد پر یقین ہے کہ یہ قصہ بھی بہت معمولی اثرات چھوڑ کر ختم ہو جائے گا۔ ہو سکتا ہے کچھ گولی چلانے والی سپاہی مقدمے میں جیل بھی چلے جائیں لیکن وہ نظام تبدیل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا جس کی اصل میں ضرورت ہے۔ یہ اچھا موقع ہے سسٹم کو بدلنے کا۔ وہ نظا م کیا ہے کہ مارنے کا آرڈر دینے والے کو اتنی احتیاط کی ضرورت ہو کہ اسے لگے کہ غلطی پر اس کی اپنی جان جا سکتی ہے اور اسے یقینی بنانا سیکیورٹی فورسز کے حکام کا کام ہے کیونکہ نالائقوں اور نااہلوں کے ہاتھ کبھی اتنی طاقت نہیں کی جاتی کہ وہ فیصلہ کرسکیں کہ گولی کب اور کس پر چلانی ہے فیصلہ کرنے والی پوسٹ پر ٹرانسفر اور پوسٹنگ کرتے ہوئے بھی اتنی ہی احتیاط برتی جائے اور اگر ایسی غلطی سرزد ہو جائے تو پھر جواب دہی کا سامنا کریں۔


