زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے
وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے ملتان میں کھڑے ہوکر اس بات کا اشارہ تو دیا ہے کہ ملتان، میانوالی روڈ کو دو رویہ کیا جائے گا لیکن اس بارے میں عثمان بزدار کی طرف سے کوئی تاریخ، مہینہ اور سال نہیں بتایا گیا ہے کہ ملتان، میانوالی روڈ جوکہ اب قاتل روڈ کی پہچان پا چکا ہے (قاتل روڈ کا نام پاتے پاتے یہ روڈ حادثات کے نتیجہ میں بہت بڑی تعداد میں انسانی جانون کو نگل چکی ہے ) ۔ آخراس خونی روڈ پر کام کب شروع ہوگا؟ اور کتنی مدت میں مکمل ہوگا؟
یا ملتان میانوالی روڈ پر صرف بیان بازی چلتی رہے گی، اور یاد رہے کہ یہ کوئی پہلی بار نہیں ہو رہا ہے کہ ملتان میانوالی روڈ کو دو رویہ کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے بلکہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک یہی سنتے چلے آرہے ہیں کہ بس ملتان میانوالی روڈ کو دو رویہ کیا جائے گا لیکن عملی کام آج تک شروع نہیں ہوا ہے۔ حکمرانوں کے چہرے بدلے، جمہوری نظام ڈکیٹر شپ سے ہو کر پھر بدل کے جمہوری ہوا لیکن تھل کے عوام کے لئے سلیبس نہیں بدلا ۔
میرا مطلب ہے جس طرح وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار اپنے ضلع ڈیرہ غازی خان، تونسہ شریف کے ترقیاتی منصوبوں میں وزیراعلی ہاوس میں پہنچنے کے بعد دلچسپی لے رہے ہیں اور مشہوری پا چکے ہیں کہ وہ پنجاب کے 36 ضلعوں کی بجائے ڈیرہ غازی خان کے وزیراعلی ہیں۔ اس طرح کی پھرتی تھل کے لئے کیوں نہیں دکھا رہے ہیں؟ وزیراعلی عثمان بزدار کے لئے تو شاید فی الحال بیان ہی کافی ہوگا لیکن تھل کے عوام کی زندگی اور موت کا سوال ہے، ادھر اس روڈ کی خاص اہمیت یوں بھی ہے کہ یہ چاروں صوبوں کو لنک کرتی ہے، چمشہ سے خیبرپختونخواہ کو راستہ دیتا ہے تو تھل کو چیرتا ہوا سندھ کو قریب کرتا ہے، ادھر ڈیرہ غازی خان سے بلوچستان کو اپنوں سے ملاتا ہے، وسطی پنجاب کے لئے بھی یہی موزوں روڈ ہے۔
ہونا تو یہ چاہیے تھاکہ ملتان، میانوالی روڈ کو موٹروے میں اسی طرح تبدیل کیا جاتا جس طرح فیصل آباد، ملتان روڈ کو موٹروے میں تبدیل کر دیا گیا ہے یا پھر ملتان، لاہور روڈ کو تبدیل کیا گیا ہے لیکن تھل کے لئے سیلبس تبدیل ہو گا تو بات آگے بڑھے گی۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ تھل کے عوام کو ایک حلقہ اس بات کا مشورہ بھی دیتا ہے کہ ہماری زندگیوں میں تبدیلی آنے دو، آپ کا بعد میں ہو جائے گا، حیرت ہوتی ہے کہ اپنے لیے چپڑی روٹی اور تھل کے لئے زندگی تنگ کرنے کا سیلبس ضروری سمجھتے ہیں۔
کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے۔ ضرورت مند دیوانہ ہوتا ہے۔ تھل کے عوام کی حالت پسماندگی سے لڑتے کی حالت تو دیوانوں جیسی ہوچکی ہے۔ تھل کے عوام کی بے چینی کو سمجھنے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ پاکستان کے قیام کو 71 سال ہوگئے ہیں اورانکی حالت زار یہ ہے کہ ابھی تک میانوالی ملتان روڈ کو دووریہ کروانے کے لئے کبھی ایک کی منت کبھی دوسرے کے سامنے جھولی پھیلاتے ہیں کہ تھل کے لئے بھی کچھ کرتے جائیں لیکن جیسے عرض کیا ہے کہ پاکستان کے قیام کو اب 71 سال پورے ہوگئے ہیں لیکن حکمران جو بھی تھا اس کا سیلبس ایک ہی تھاکہ تھل کے عوام کے مطالبہ پر کان نہیں دھرنے ہیں۔
تھل کے اضلاع خوشاب، میانوالی، بھکر، لیہ، مظفرگڑھ، جھنگ، چینوٹ کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کررکھو۔ وزیراعلی عثمان بزدار نے ملتان کے عوام کو خوشخبری دیتے ہوئے کہاکہ ان کو نشتر ہسپتال ٹو بھی دیاجائے گا مطلب ان کو اس بات کا پتہ ہے کہ ملتان جیسے ضلع کی بڑھتی ہوئی آبادی کے لئے صحت کی سہولیتں فراہم کرنا ضروری ہیں لیکن ظلم یہ ہے کہ وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار تھل کے معاملے میں یوں بھولے بن جاتے ہٰیں کہ جیسے تھل سے ناواقف ہوں۔
ان کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ تھل کے اضلاع خوشاب، میانوالی، بھکر، لیہ، مظفرگڑھ، جھنگ اور چینوٹ میں ایک بھی نشتر جیسا ہسپتال اور نشتر جیسا میڈیکل کالج نہٰیں ہے۔ ملتان میں عثمان بزدار کے مطابق ملتان ضلع کے لئے دو نشتر ہسپتال ہونے چاہیں تاکہ علاج معالج کی سہولتیں بہتر ہوسکیں، مکمل اتفاق ہے وزیراعلی کی اس سوچ سے لیکن حضور تھل کے سات اضلاع میں بھی تو انسان ہی بستے ہیں ہیں، ان کے لئے ملتان، بہاولپوراور ڈیرہ غازی خان جیسے وکٹوریہ اور نشتر ہسپتال کی ضرورت کیوں نہیں ہے تاکہ ان کو بھی پاکستان کے قیام کو 71 سال گزرنے کے بعد علاج معالج کی سہولت مل سکے۔
ایسا تو نہیں چلیگا کہ سارا کچھ ادھر ہی رکھیں اور تھل کی عوام کو بیان بازی پر زندگی گزارنے پر درس دیتے رہیں۔ ڈویثرنل ہیڈکوارٹرکے بارے میں ایک دن بات ہورہی تھی، اپنے ذکریا یونیورسٹی کے ساتھی طارق نیازی جوکہ آج کل اٹک کے بعد فیصل آباد میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہیں، موصوف کا کہناتھا کہ خوشاب، میانوالی اور بھکر جوکہ تھل کے مرکزی ضلع ہیں ان کو سرگودھا کے ساتھ نتھی کر دیا گیا ہے۔ مطلب خوشاب، میانوالی اور بھکر جو کہ ایک دوسرے سے جڑے ضلع ہیں، ڈویثرنل ہیڈ کوارٹر بنانے کی بجائے گھنٹوں کے فاصلے پر سرگودھا جانے کا حکم صادر ہوا ہے۔
بھکر کے ہمارے دوست انتخاب احمد بشر کا اس ایشو پر کہنا تھا کہ بھکر کے عوام کو اپنے ڈویثرنل ہیڈ کوارٹر تک پہنچے میں پانچ گھنٹے درکار ہوتے ہیں اور اسی طرح میانوالی کے عوام کو سرگودھا پہنچے میں اتنا ہی وقت لگتاہے۔ اب اندازہ کریں کہ تھل کے عوام کوکس طرح نہ کردہ گناہوں کی سزادی جارہی ہے۔ تھل (خوشاب، میانوالی، بھکر، لیہ۔ مظفرگڑھ، جھنگ اور چینوٹ ) میں چراغ تلے اندھیرے کی صورتحال یوں بھی ہے کہ یہاں نہ کوئی ڈویثرنل ہیڈ کوارٹرہے، نہ کوئی ہائی کورٹ کا بنچ ہے، نہ کوئی میڈیکل اور ڈئینٹل کالج ہے، نہ کوئی وویمن یونیورسٹی ہے، نہ کوئی ٹیکنالوجی کالج ہے، نہ ہی پنجاب، غازی، ذکریا اور اسلامیہ جیسی کوئی یونیورسٹی کا وجود ہے، نہ ہی کوئی زرعی یونیورسٹی ہے، نہ ہی کوئی انجئیرنگ یونیورسٹی ہے، نہ ہی کوئی انڈسٹریل زون ہے، نہ کوئی پاکستان ٹیلی ویثرن کا سنٹر ہے، نہ ہی کوئی دورویہ روڈ ہے، نہ ہی کوئی موٹروے کا لنک ہے اور نہ ہی پورے تھل میں کوئی ائرپورٹ ہے۔
اور نہ ہی قیام پاکستان کو 71 سال گزرنے کے بعد کوئی تاریخ دی جارہی ہے کہ تھل کو لہورجتنی نہیں تو ملتان، ڈیرہ غازی خان اور بہاولپور جتنی جینے کی سہولتیں قیامت کے دن سے پہلے کب نصیب ہوں گی۔ راقم الحروف ساغر صدیقی کے اس شعر پر اپنی بات ختم کررہاہے۔ زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے۔ جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں


