ایدھی صاحب اور ڈوبتے ابھرتے ستارے

پاکستان ہمارا ملک ہے، ہم پر اچھے برے بہت سے وقت آئے۔ ہم نے اپنے وطن کے امکان پر اعتماد کبھی نہیں کھویا، ہمیں اچھے انسانوں کی نعمت بھی ہمیشہ میسر رہی۔ فیض صاحب نے جیل میں ایک نظم لکھی تھی۔ زنداں کی ایک صبح…. تین سطریں پڑھ لیجئے؛

ڈوبتے، تیرتے، مرجھاتے رہے، کھلتے رہے
رات اور صبح بہت دیر گلے ملتے رہے
شاعر کا کام لفظ کے معنی کو وسیع کرنا ہے۔ یہ جو فیض نے ڈوبنے اور ابھرنے کی بات کی کیا یہ انسانوں کے اس دنیا میں آنے اور جانے کا مضمون ہے؟ انسان موت کے نامعلوم میں اترتے جائیں اور نئے انسان سامنے آئیں۔ اجازت دیجئے کہ دو نسبتاَ کم عمر مگر قابل قدر صحافیوں کا ذکر کروں۔ بابر ستار تعلیم کے اعتبار سے ماہر قانون ہیں۔ لکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے، وطن کا مقدمہ پیش کر رہے ہیں۔ انتہا پسندی کے موضوع پر ایک کالم لکھا، ایک جملہ ایسا جامع لکھ دیا کہ طغرہ بنا کر درس گاہوں، دفتروں اور گھروں میں آویزاں کرنے کے لائق ہے۔ لکھتے ہیں "ریاست کا اصل مقصد کسی عقیدے کا پرچار نہیں بلکہ اپنے شہریوں کا تحفظ اور ایسی پالیسیاں وضع کرنا ہے جو ان کی بنیادی ضروریات کی تکمیل کے لئے معاون ہو۔” خورشید ندیم بھی ایک صحافی بھائی ہیں۔ کڑی کمان کے تیر ایسی استوار اردو لکھتے ہیں۔ طبیعت کا رجحان علمی ہے اور رنگ تحریر میں اس کی جھلک بھی ملتی ہے۔ اخبار کے جس صفحے پر خورشید ندیم کی تحریر چھپتی ہے، وہ روشن ہو جاتا ہے، خاک کا اتنا چمک جانا ذرا دشوار تھا۔ لکھتے ہیں "ایدھی معروف معنوں میں ایک مذہبی آدمی نہیں تھے مگر ان کی ذات اور کاموں سے مذہب کی روح نمایاں ہوتی ہے۔ ” کیا صحیح لکھا ہے۔ مگر بھائی ہم نے تو مذہب کی روح ہی کو تعصب کی تنگنائے میں قید نہیں کیا بلکہ ریاست کا نصب العین بھی مسخ کر ڈالا، سیاست کے پیمانے دھندلا دیے، علم پر مفاد کا پتھر رکھ دیا، شناخت کو تفرقے کی دیوار بنا دیا، آزادی کو جبر قرار دے دیا۔
چند عالی دماغ ایک مجلس میں رونق دے رہے تھے۔ پاکستان کے بڑی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کی بدلتی صورتوں پر بات ہورہی تھی۔ ایک طالب علم نے سوال اٹھایا کہ صاحب ایک دروازے سے اٹھ کر دوسرے دروازے پر بیٹھ جائیں گے تو مسئلہ وہیں کا وہیں رہے گا۔ ایک آزاد اور خود مختار قوم کے لئے کسی کی دریوزہ گری مناسب نہیں ہے۔ ہم اپنے شہریوں کی علمی فکری اور تمدنی توانائی کا کنواں کیوں نہیں کھودتے کہ ہماری فصلیں ہمارے پانی سے سیراب ہوں؟ ہمارے بچے علم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ علم کی پیداوار میں اپنا حصہ ڈالیں۔ ہماری مصنوعات منڈی میں اپنے معیار پر مقابلہ کریں۔ دو سو ستر ارب ڈالر کے چھوٹے سے کیک پر بیس کروڑ کی چھینا جھپٹی میں وقت ضائع کرنا ہے یا اس کیک کا حجم بڑھایا جائے۔ معیشت کے نیچے صلاحیت کا پہیہ لگایا جائے۔ صلاحیت کی کمی نہیں، ہم نے صلاحیت کی گاڑی کو تعصب، امتیاز، استحصال اور جہالت کے پتھروں پر رکھ چھوڑا ہے۔ ملک کی گاڑی کو مساوات، انصاف، علم اور ضابطے کے پہیوں پر نصب کر کے پٹری پر ڈال دینا چاہئے۔ یہ درست ہے کہ دنیا میں ناخواندہ لوگوں کی دوسری بڑی تعداد ہمارے ملک میں ہے۔ اور یہ ناخواندہ آبادی معیشت پر بہت بڑا بوجھ ہے کیوںکہ ناخواندہ ہاتھ کی محنت پیداوار میں تعلیم یافتہ ذہن کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ لیکن توجہ فرمائیے کہ ایدھی صاحب کی رسمی تعلیم کچھ زیادہ نہیں تھی۔ تعلیم ہماری اولین ترجیح ہونی چاہئے لیکن یہ بھی یاد رہے کہ اس ملک کو ناخواندہ لوگوں سے کہیں زیادہ پڑھے لِکھوں نے نقصان پہنچایا ہے۔
اپنے شہریوں کی بنیادی اچھائی، دیانت اور صلاحیت سے انکار نہیں لیکن معاف کیجئے گا اخبار کا ایڈیٹر قلم اٹھاتا ہے اور آمریت کا مطالبہ کرتا ہے، معیشت دان آئین ہی کو بے وقعت دستاویز قرار دے دیتا ہے، سیاسی جماعت کا رہنما سیاست ہی کو مطعون کرتا ہے، ماہر تعلیم علم کے بنیادی مفروضوں کو جھٹلاتا ہے، سائنس دان علت اور معلول کے رشتے سے انکار کرتا ہے۔ مذہب کا علم بردار ریاست کی سرحدوں ہی سے انکار کر دیتا ہے۔ صاحب تقویٰ رکن پارلیمنٹ ہو یا درجہ اول کا قانون دان، پبلک میں ناشائستہ زبان کے استعمال کو برا نہیں جانتے۔ بہترین کپڑے پہنے دو لاکھ روپے کی موٹر سائیکل پر بیٹھا صحت مند نوجوان سڑک پر ایک پہیہ ہوا میں اٹھا دیتا ہے۔ یہ کہنا مناسب نہیں کہ یہ سب لوگ تعلیم اور تہذیب سے عاری ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم تعلیم اور منصب کو اپنی ذات کے تابع سمجھتے ہیں اور پھر اسی مفروضے کو پھیلا کر ریاست پر منطبق کر دیتے ہیں۔ غلام قوموں کی آزادی کی جدو جہد اس اصول کی بنیاد پر کی گئی کہ انسان مذہب، نسل، رنگ، صنف اور ذات پات کے امتیازات سے قطع نظر اپنے اپنے ملکوں پر حکمرانی کا حق رکھتے ہیں۔ آزاد قوموں کے اس عالمی نظام کے اصول ضابطوں سے منہ موڑ کر قوم کو ترقی کی راہ پر نہیں ڈالا جا سکتا۔ استاد محترم فرمایا کرتے ہیں کہ دنیا کو بدلنے کی یوٹوپیائی خواہش کی بجائے حالات کو سمجھ کر خود میں تبدیلی لانا ترقی کی ضمانت دیتا ہے۔ ایدھی صاحب ایک روشن نشان تھے۔ یہ ستارہ اوجھل ہوا ہے تو روشنی کی ان گنت کرنوں کو آزاد کرنا چاہئے۔ آنکھ میں جستجو اور دل میں امید کو جگہ دینی چاہئے۔

