چند ضروری ہدایات جن کی پاکستان میں کوئی قدر نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جتنی بے قدری پاکستان میں ’ضروری ہدایت‘ کی ہوتی ہے شاید ہی کسی چیز کی ہوتی ہو۔ خاص طور پر وہ ہدایت جو سرکاری سطح پر دی جائے ایسی ہدایت کو تو ہم عوام نے ہمیشہ پاؤں تلے روندا۔ اور نجی بندے کی ہدایت کو تو کبھی ہدایت سمجھا ہی نہیں۔ چند ایسی ہی ہدایات پیش خدمت ہے جیسا کے ہر دوائی پر لکھا ہوا جملہ ’ڈاکٹر کی ہدایت پر استعمال کریں‘ لیکن خدا گواہ ہے اکثر دوائیوں کا استعمال ماما، تایا، پھوپی کی ہدایت پر کیا جاتا ہے اور یوں یہ سلسلہ سینہ بہ سینہ منتقل ہوتا ہے رہتا ہے وہ دوائی مارکیٹ میں آنا، بند ہوجاتی ہے لیکن یہ سلسلہ نہیں رکتا۔

اسی طرح اگر ہائی وے پر سفر کیا جائے تو بورڈ لگا ہوتا ہے ’رفتار آہستہ کریں آگے آبادی ہے‘ ۔ آبادی کی جگہ اگر گندگی لکھ دیا جائے تو بھی بات سمجھ میں آجائے۔ جب تک آبادی رہتی ہے گندگی کا ڈھیر سڑک کے ساتھ ساتھ رہتا ہے۔ اچھا تو پبلک ٹرانسپورٹر یہ پڑھ کر سپیڈ بڑھا دیتے ہیں کہ جلد از جلد پہنچا جائے تاکہ دو تین سواریاں ہی مل جائے اس سے پہلے کے اور لے اڑے۔ اسی طرح سڑک کراس کرتے ہوئے زبرا کراسنگ استعمال کریں لیکن ہم کو تو آج تک کسی سڑک پر یہ ملی ہی نہیں، جہاں ملی وہاں اس پر تین رکشے، پانچ موٹرسائیکل ایک گاڑی کو اس پر پہلے سے موجود پایا۔

اسی طرح ہدایت دیواروں پر لکھی ہوتی ہے کہ یہاں کوڑا پھینکنا منع ہے۔ عوام کوڑا پھینکنے سے تو کیا رکے الٹا ہوشیار ہو جاتے ہیں اچھا تو کوڑا ادھر پھینکنا ہے۔ شادی کے کارڈ پر لکھا ولیمہ، سیاست دان کا جلسہ، مولوی کی تقریر، نعت خواں کی نعت جس دن اپنے وقت پر ہو جائے تو سمجھ لیا جائے پاکستان کو اب آئی ایم ایف سے قرضے کی ضرورت نہیں کیوں کے اس پر عمل کے لئے ایک دو سال کئی دہائیوں کی ضرورت ہے۔ چلتے چلتے ہوٹل پر آجائیں ہدایت لکھی ہوگی ’سیاسی، مذہبی گفتگو کرنا منع ہے‘ ۔

اب اس بات پر عمل کرنا بنتا بھی ہے۔ اب یہ کیسے ممکن ہے اب ہم اپنے قومی موضوعات کو ہی بھول جائیں۔ مانا کے ہم نے اپنی قومی ائیرلائن کا قومی کھیل کا بیڑا غرق ہی کر دیا لیکن اتنے ہرجائی نہیں اب ان موضوعات کو ہی چھوڑ دیں۔ کیوں کے یہ دو ایسے موضوعات جن پر بات کرنے کے لئے ہماری قوم کو کسی قسم کی تعلیم یا علم کی ضرورت نہیں اس کے لئے ٹاک شوز، اور مولوی کی جمعہ والی تقریر ہی کافی ہے۔ ویسے ہم پاکستانی کیوں ہدایات پر عمل کریں جبکہ ہمارے بڑے سیاستدانوں، حکمرانوں، آمر جرنیلوں نے کبھی آئین تک کی پاسداری نہیں کی اور ہم اک معمولی ہدایت پر عمل کریں یہ کیسے ممکن ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •