ویزے میں نرمی کے پیچھے کیا چھپا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اعلیٰ سطح اجلاس میں غیر ملکیوں کے لئے ویزے کی شرائط نرم کرنے کے لئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، وزیر خارجہ، وزیر اطلاعات اور وزیر مملکت داخلہ شریک ہوئے۔ سیکرٹری خارجہ، سیکرٹری داخلہ، ڈی جی ایف آئی اے اور چیئرمین نادرا نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

پنچوں نے یہ فیصلہ کیا کہ 97 ممالک کے شہریوں کے لئے ویزا شرائط میں نرمی کی جائے گی۔ 60 ملکوں کے شہریوں کو ائرپورٹ آمد پر ویزا دے دیا جائے گا، اور ان میں ایسے بھارتی نژاد افراد بھی شامل ہوں گے جن کے پاس برطانوی یا امریکی پاسپورٹ ہے۔ 175 ممالک کے شہری آن لائن ویزا حاصل کر سکیں گے۔ عمران خان کی حکومت کا یہ منصوبہ بہترین ہے اور یہ ملک کی معیشت اور سماجی مزاج میں ایک بڑی تبدیلی لا سکتا ہے۔

فواد چوہدری نے بتایا کہ سنہ 1965 تک پاکستان کی اوپن ویزا پالیسی تھی اور یہ دنیا کی مقبول سیاحتی مقامات میں سے ایک تھا۔ ”نئی پالیسی سے سیاحت کو فروغ ملے گا۔ ہمارے پاس پہاڑی سیاحت، مذہبی سیاحت، ساحلی سیاحت، شہر اور بہت بڑا فوڈ ٹورازم ہے“۔

جنوری 2018 میں نون لیگ کی حکومت کے وزیر داخلہ احسن اقبال نے نئی ویزا پالیسی پیش کرتے ہوئے امریکہ اور برطانیہ سمیت ایشیا اور یورپ کے 24 ممالک سے گروپ کی صورت میں آنے والے سیاحوں کو ملک میں داخلے کے بعد 30 دن کا ویزا دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس سے پہلے وزیر داخلہ چوہدری نثار ویزا میں سختی کی پالیسی کے حامی تھے۔ بہرحال پاکستان کی عمومی پالیسی ویزا مشکل بنانے کی ہی تھی۔ ہمیں ہر غیر ملکی دہشت گرد اور جاسوس دکھائی دیتا تھا۔

سنہ 1965 تک پاکستان ایک سیکیورٹی سٹیٹ بننے کی طرف گامزن نہیں ہوا تھا۔ اس کا کراچی ائیرپورٹ اس وقت اسی اہمیت کا حامل تھا جو آج دبئی کو حاصل ہے اور ایشیا کا رخ کرنے والی فلائٹس کراچی کو مستقر بناتی تھیں۔ اس کی خوش قسمتی کہ یہ مشہور ہپی ٹریل پر واقعہ تھا۔ حشیش کے متلاشی یورپ سے نکلتے اور ترکی، ایران اور افغانستان سے ہوتے ہوئے پاکستان میں داخل ہوتے۔ یہاں سے وہ انڈیا کا رخ کرتے اور پھر نیپال نکل جاتے۔ سنہ 1979 میں ایرانی انقلاب اور افغان جنگ نے یہ روٹ ختم کر دیا۔ باقی دنیا میں تو سرد جنگ 1991 میں ختم ہو گئی لیکن ہمارے خطے میں یہ اب تک جاری رہی ہے۔

ہمارے اداروں کو یہ خطرہ تھا کہ سیاحوں کے بھیس میں جاسوس اور تخریب کار آئیں گے اور ہماری ملکی سلامتی کے لئے خطرہ بنیں گے۔ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ ترکی جیسا ملک اوپن ہونے کے بعد اور سیاحت کو اہمیت دینے کے باعث پاکستان کی کل برآمدات سے بھی زیادہ رقم صرف سیاحت سے کماتا ہے۔ شامی جنگ میں کودنے سے پہلے ادھر کوئی خاص دہشت گردی بھی نہیں ہوتی تھی۔

مسئلہ یہ ہے کہ ایک مذہبی اور سیکیورٹی سٹیٹ کبھی بھی ٹورسٹ سٹیٹ نہیں بن سکتی۔ ہاں مذہبی ٹورسٹ آتا ہو تو دوسری بات ہے۔ لیکن پھر بس وہی آتا ہے۔ اسی وجہ سے سعودی عرب کی معیشت کا تیل نکل گیا ہے تو وہ ایسے علاقے ڈیویلپ کر رہا ہے جہاں نہ تو مذہبی قانون ہو گا اور نہ ہی سیکیورٹی سٹیٹ کا دائرہ اختیار۔ وہاں سیکولر یورپی قانون چلے گا۔ یہی سیکولر قانون ترکی اور دبئی جیسے مسلم ممالک میں چلتا ہے جو سیاحوں کو اپنی طرف کھینچنے میں کامیاب رہے ہیں۔

ٹورسٹ کسی علاقے میں دن بھر تو گھومتے پھرتے ہیں۔ کوئی مسجد دیکھ لی، مندر دیکھ لیا، گرجے چلے گئے، باغ اور قلعہ دیکھ لیا، لیکن شام کو وہ صرف پارٹی کے موڈ میں ہوتے ہیں۔ انہیں نائٹ کلب بھی چاہیے ہوتے ہیں اور وہ پینے پلانے میں رات کر دیتے ہیں۔ پینے پلانے کا سرکاری سا بندوبست صرف بڑے ہوٹلوں میں ہوتا ہے۔ اگر یہ ٹورسٹ بڑی تعداد میں آئیں گے تو دو اور تین ستارہ ہوٹلوں کو بھی پرمٹ دینا ہو گا۔ 1970 کی دہائی کی طرح نائٹ کلب بھی کھلیں گے۔

کیا شدت پسندی کی زد میں آئے عام لوگوں کے درمیان یہ ممکن ہو گا؟ یا پھر سعودی عرب کی طرح سیاحوں کے لئے الگ سیاحتی شہر بنائے جائیں گے؟ اگر ایسا کرنا ہے تو اس کے لئے ایک ہی شخص سب سے بہتر ہے، جو کراچی سے گوادر تک پوری کوسٹل میرین اور جزیروں کو پرکشش سیاحتی مقامات میں تبدیل کر سکتا ہے۔ لیکن ملک ریاض تو معتوب ہے۔ بہتر ہے کہ ان حضرت پر ہاتھ ہلکا کر کے ان منصوبوں میں شامل کر لیا جائے۔ ننکانہ ہو یا کرتار پور، لاہور ہو یا گوادر، ٹیکسلا ہو یا ہنگلاج، ہر قسم کی مذہبی اور غیر مذہبی سیاحت کے لئے بحریہ ٹاؤن کی مہارت سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ میں اس کے ساتھ پراجیکٹ کیے جائیں ورنہ باہر سے پارٹنر لانے ہوں گے جو ظاہر ہے اپنی کمائی باہر لے جائیں گے۔

سیاحت میں ایک چیز اہم ہوتی ہے۔ کسی چیز کے بارے میں افواہ پھیلا دی جائے کہ وہ اہم ہے اور اسے نہیں دیکھا تو بس زندگی بے مقصد بسر کر دی۔ دبئی میں تاریخ تو ہے نہیں، لیکن وہ اسی فارمولے پر عمل کرتے ہوئے دنیا کا سب سے بڑا فلانا اور کائنات کا سب سے بڑا ڈھمکانا بناتا رہتا ہے۔ مختلف ٹورسٹ اٹریکشن بنائی جاتی ہیں۔ ہمارا ملک دبئی سے بہت بہتر ہے۔ یہاں چپے چپے پر تاریخی آثار بکھرے ہیں، بہترین پہاڑ اور دریا ہیں۔ ہندو مت، بدھ مت، سکھ مت اور صوفی اسلام کے اہم مقامات یہاں موجود ہیں۔ ان سب سے اچھی کمائی کے امکانات ہیں۔ باقی مشہور کر دیں کہ وزیر آباد کی قینچیاں اور لاہور کا لٹھا خریدنا، کراچی کی بریانی اور گوجرانوالہ کے پکوڑے کھانا لازم ہے اور یہ چیز پوری دنیا سے منفرد ہیں۔ ٹورسٹ اپنی لسٹ پر ٹک مارک لگانے کے لئے یہ سب کچھ کریں گے۔ ساری دنیا میں وہ یہی کرتے ہیں۔

ویزے کھولنے کے اس عمل سے سرد جنگ کے خاتمے اور پاکستان کو 1965 سے پہلے کی طرح کا اوپن ملک بنانے پر آمادگی سے کئی چیزوں کے امکانات  بھی دکھائی دیتے ہیں اور کچھ پیش گوئیاں کی جا سکتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ افغانستان میں واقعی امن قائم ہونے لگا ہے اور اسی باعث پاکستان بھی سرد جنگ کے خاتمے پر تیار ہو گیا ہے۔ دوسرا یہ کہ پاکستان اب ڈالروں کے لئے امریکہ اور آئی ایم ایف سے پیچھا چھڑانے کے موڈ میں ہے، اس لئے وہ مغربی حکومتوں کی بجائے مغربی سیاحوں سے ڈالر کھینچنے کی تیاری کر رہا ہے۔ تیسرا یہ کہ سیکیورٹی سٹیٹ سے فوکس ہٹا کر اب معیشت پر توجہ دی جائے گی۔ نتیجہ یہ کہ اگلے چند برسوں میں انڈیا سے بھی تعلقات نارمل ہوں گے اور اس سے تجارت اور ٹورسٹ دونوں آنے شروع ہوں گے۔ عین ممکن ہے کہ مستقبل میں سی پیک کے روٹ پر بھارتی سامان بھی جا رہا ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1239 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar