تحریک انصاف خوفزدہ کیوں ہے؟


مبصرین اور سیاسی تجزیہ نگار اس بات پر متفق ہیں کہ اپوزیشن پنجاب یا مرکز میں تحریک انصاف کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اور نہ ہی اسٹریٹ پاور کے ذریعے کوئی بڑا بحران پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ عمران خان نے کچھ اور کیا ہو یا نہ کیا ہو لیکن وہ عرب ملکوں سے کثیر مالی امداد لینے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ سعودی عرب کے علاوہ خلیجی ممالک بھی پاکستان میں کثیر سرمایہ کاری کے بارے میں غور و خوض کر رہے ہیں۔ چین کے ساتھ سی پیک منصوبوں پر پیدا ہونے والے اختلافات پر قابو پالیا گیا ہے۔ نئی حکومت دھیرے دھیرے امور مملکت کو سمجھ رہی ہے اور اپنی کمزوریوں پر قابو پانے کی پوزیشن میں بھی ہے۔ اس کے باوجود حکمران جماعت پر خوف اور پریشانی کی کیفیت طاری ہے۔

اس خوف کو پیدا کرنے میں ساہیوال جیسے غیر متوقع سانحہ نے بھی کردار ادا کیا ہے۔ اس سانحہ کے نتائج کے بارے میں شبہات بھی تحریک انصاف کی پریشانی اور بے یقینی میں اضافہ کا سبب بن رہے ہیں۔ ساہیوال میں سی ٹی ڈی کے آپریشن کے بعد کمانڈ لائن کی عدم موجودگی نے تحریک انصاف کی خود اعتمادی کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار اس معاملہ کی سنگینی کو سمجھنے اور اس سے نمٹنے کی قائدانہ صلاحیت کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔

عمران خان نے ٹویٹ پیغام جاری کرنے کے علاوہ براہ راست کوئی فیصلہ نہیں کیا اور نہ ہی کوئی اقدام کرنے کی ضرورت محسوس کی۔ یہ بے عملی خاص طور سے اس لئے بھی ناقابل فہم تھی کہ عمران خان پنجاب حکومت کو براہ راست کنٹرول کر رہے ہیں۔ اگرچہ مناسب حکمرانی اور صوبائی خود مختاری کے اصول کے تحت یہ غلط حکمت عملی ہے لیکن پنجاب کے بارے میں یہ پالیسی اپنا لینے کے بعد کسی بڑے سانحہ کی صورت میں بھی انہیں خود آگے بڑھ کر اس سے نمٹنا چاہیے تھا۔

اس کی بجائے انہوں نے ’بے خبر‘ عثمان بزدار کو خود ساہیوال جانے کی ہدایت کی جو پھولوں کا گلدستہ لے کر پولیس کی غنڈہ گردی کی وجہ سے یتیم ہونے والے زخمی بچوں کی عیادت کے لئے پہنچ گئے۔ اس کے بعد میڈیا کو معلومات فراہم کرنے کی ذمہ داری پنجاب کے وزیر قانون راجہ بشارت کو سونپ دی گئی جن کی متضاد بیانی نے صورت حال کو مزید پیچیدہ کیا۔ اس کے بعد وزیر اعلیٰ نے 72 گھنٹے میں انصاف فراہم کرنے کا دعویٰ کر کے نئے پاکستان کے نئے حکمرانوں کی مستعدی کا چرچا شروع کر دیا۔ اس طرح وہ خود اپنی اور پارٹی و حکومت کی تضحیک کا سبب بنے۔ اب تحریک انصاف کو یہ اندیشہ لاحق ہے کہ اس واقعہ کا حکومت کے مستقبل پر کیا اثر مرتب ہو سکتا ہے؟ اور اس بدحواسی میں غیر متعلقہ لیڈر غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز بیانات کے ذریعے صورت حال کو غیر موافق کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔

اس دوران حکومت پر ان حلقوں کا دباؤ بھی بڑھ رہا ہے جو اپنے ایجنڈے کے مطابق کارکردگی اور نتائج چاہتے ہیں۔ حکومت نے اگرچہ اس ایجنڈے پر اسکول کے سلیبس کی طرح عمل شروع کیا ہے لیکن اس کے طرز عمل سے لگتا ہے کہ وہ فیصلے کرنے والوں سے ہی کام کرنے کی توقع بھی کر رہی ہے۔ اسی لئے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے یہ دعویٰ کرنے کا حوصلہ کیا ہے کہ عرب ملکوں سے امداد لانے کا کام آرمی چیف نے کیا ہے، حکومت کا اس میں کوئی کردار نہیں ہے۔ حکومت اس چیلنج کو سمجھنے اور اس سے نمٹنے میں کامیاب نہیں رہی۔

اب طاقت کے مراکز سے کبھی آزمائے ہوئے طریقوں سے حکومت کو یہ ’پیغام‘ بھجوایا جاتا ہے کہ اسے چھے مہینے کا وقت دیا گیا تھا جو اب پورا ہونے والا ہے۔ اس مدت میں اگر کارکردگی دیکھنے میں نہ آئی تو قوت فراہم کرنے والا ’دست شفقت‘ میسر نہیں رہے گا۔ اور کبھی ’کمپنی نہ چلنے‘ کا اشارہ دے کر واضح کیا جاتا ہے کہ حکومت کو جو کرنا ہے، وہ اب کر لے پھر دیر ہوجائے گی۔ ماضی کی سب سیاسی حکومتوں کی طرح تحریک انصاف کی حکومت بھی دوسروں کے فیصلوں سے پیدا ہونے والی غلطیوں پر احتجاج کرنے کا حوصلہ نہیں کرتی اور نہ ہی فیصلہ سازی کو اپنے اختیار اور پارلیمنٹ کے مینڈیٹ کا حصہ بنانے کی قدرت رکھتی ہے۔

یہ صورت حال ہی تحریک انصاف کے خوف کی بنیادی وجہ ہے۔ اس کا اظہار اشتعال انگیز بیانوں اور اپوزیشن کو دھمکیوں کی صورت میں تو ہوتا ہے لیکن اسے تبدیل کرنے کے لئے جس حوصلہ اور قائدانہ صلاحیت کی ضرورت ہے، وہ دکھائی نہیں دیتی۔ عمران خان اور تحریک انصاف کا رویہ ان الزامات کی تائید کرتا ہے جو اس کے اقتدار کی راہ ہموار کرنے والے عوامل کے بارے میں لگائے جاتے رہے ہیں۔

 ’ایک پیج‘ کا منتر اپنا جادو کھونے لگا ہے اور منتخب حکومت ووٹروں کی حمایت کو قوت سمجھ کر خود فیصلہ ساز بننے کی بجائے، خود کو فیصلہ سازوں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر اپنے انجام کا انتظار کر رہی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ایسا انجام کبھی اچھا نہیں ہوتا۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali