فاطمہ علی کینسر کے ساتھ جنگ میں جان کی بازی ہار گئی
سابق اٹارنی جنرل اشتر آوصاف کی بیٹی فاطمہ علی کینسر کے ساتھ جنگ میں جان کی بازی ہار گئی ہیں یہ بین الاقوامی طور پر مشہور شیف تھیں۔ خبر۔ پتا ہے میں نے یہ خبر کیوں شیئر کی؟ سوشل میڈیا پر متحرک رہنے کے لئے؟ نہیں، اس خبر کے نیچے 500 کے قریب کمینٹس پڑھ کر مجھے فاطمہ کی وفات کے بجاب قوم کے ضمیر اور سوچ پر رونا آیا۔ جس جس نے خبر پڑہی نیچے ”انا للہ و انا الیہ راجعون“ اور اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے، لکھا۔
کسی ایک نے بھی یہ سوال نہیں کیا آخر کتنی فاطمائیں، نسرین باجی، محمد رمضان، دلبر، حسن، حاجی اسحٰق، اسحاق پلی، اور ہزاروں افراد اس مرض کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہار بیٹھیں گے؟ مانا کہ حکومت وقت کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ اس مرض کا علاج فراہم کر سکے۔ لیکن ہماری ذہنی سوچ کو کون سی کینسر لگ چکی ہی کہ کسی آفت کے سد باب کے بجائے دو تعزیتی کلمات کہہ کر بری ہو جاتے ہیں؟ آج اشتر اوصاف کی بیٹی اس کا شکار ہوئی ہیں کل ہم میں سے کوئی اس کے ہاتھوں بے وقت مارا جائے گا۔
ایک بل گیٹس دنیا سے پولیو کے خاتمے کے لئے پر عزم ہیں۔ لیکن ہمارے شیخ، اسلام کے محافظ، صرف تلور کے شکار پر پیسہ لٹا رہے ہیں، پھر اگر عوامی ردعمل ظایر ہوتا ہے تو حرمین شریفین کے تحفظ کا نعرہ لگا کر مسلمانوں کی توجہ کو ہٹایا جاتا ہے۔ ملک ریاض، جہانگیر ترین، میاں منشاء جیسے لوگ اربوں روپے شاہی خاندانوں کی خوشامد پر لٹاتے ہیں لیکن ایک کینسر ہسپتال تعمیر نہیں کر سکتے ہیں۔ کراچی کے سیٹھ افغان مجاہدین کو کروڑوں چندہ بھیج کر مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمان کا خون کراتے ہیں لیکن کینسر کے خلاف ایک تحقیقاتی ادارہ نہیں بنا سکتے ہیں۔
میڈیا والے ایک مجنون شخص کی خوشامد میں 12 ارب کے اشتہارات چلاتے ہیں لیکن کینسر کے خلاف مہم نہیں چلا سکتے ہیں۔ اعلیٰ ایوانوں میں بیٹھے آدھے سے زیادہ پارلیامینٹیرین کینسر کے مریض ہیں، لیکن مجال ہے کسی نے کبھی اس اشو کو اجاگر کیا ہو۔ انہیں کیا وہ تو لندن اور USA سے علاج کرواتے ہیں، تڑپ تڑپ کر عوام مرتے ہیں۔ اے سوشل میڈیا کے دوستو! اس میں آپ کا ہم سب کا قصور ہے، ہم سانحہ ساہیوال پر پانچ روز ماتم کرتے ہیں لیکن ان سانحات پر انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھ کر بھول جاتے ہیں۔
اپنی ترجیحات کو سمجھنے کی ضرورت ہے، آپ کے گھر کی طرف کچی سڑک ہے پھر بھی سفر کرسکتے ہیں لیکن اگر جان نہیں تو کارپیٹیڈ روڈ کس کام کے؟ پیارے حیدر ملاح صاحب کی طرح اٹھیں اور پاکستان سے کینسر کے خاتمے کے لئے جدوجہد کا آغاز کریں۔ اس مہم میں حکومت پر تنقید کے بجائے تعاون کے فارمولے پر عمل پیرا ہونا چاہیے۔ ہم گلیوں میں بازاروں میں مساجد میں مندروں میں میلوں میں جھولی پھیلا کر چندہ جمع کریں گے۔ یہ جہاد ہے یہ عبادت ہے، اگر ہر بندہ اپنے اپنے حصے کا چراغ روشن کرے تو میرا ملک کینسر سے پاک ہو سکتا۔


