آئیڈیا


اس تحریر کا عنوان انگریزی میں ہے۔ میں نہیں جانتا اس کا اردو مطلب کیا ہے۔ میں ڈھونڈ کر نکال بھی لیتا تو شاید لوگوں کو سمجھ نہ آئے مگر میں چاہتا ہوں کہ زیادہ سے زیادہ اس تحریر کو لوگ پڑھیں۔ اس تحریر میں کوئی ادبی اصولوں کا خیال نہیں رکھا گیا۔ نہ ہی جملوں اور پیروں میں کوئی ربط کا خیال رکھنا مطلوب ہے۔

لیونارڈو ڈی کیپریو کی ایک فلم ہے انسیپشن۔ جس میں مرکزی کردار کے الفاظ ہیں :

”جانتے ہیں ناقابل تسخیر ترین طفیلیہ (parasite) کون سا ہے؟ ایک جرثومہ؟ ایک وائرس؟ ایک انتڑی کا کیڑا؟

ایک آئیڈیا! ناقابلِ تسخیر، انتہائی حد تک وبائی۔ جو کہ ایک بار ذہن میں جگہ بنا لے تو اسے مٹانا نا ممکن ہے۔ ایک آئیڈیا جو سمجھ میں آ جائے، پروان چڑھ جائے۔ ایسا آئیڈیا کہیں نہ کہیں آپ کے ذہن میں موجود ہے۔ ”

کہیں بھی جنگل آباد ہونے سے پہلے جڑی بوٹیاں ہوتی ہیں یا کچھ نہیں ہوتا۔ پھر اچانک ایک پرندہ ایک بیج گرا جاتا ہے جو کہ مناسب آبپاشی پر ایک کونپل اور پھر آہستہ سے ایک تناور درخت بن جاتا ہے۔ اور پھر اس کے بیج ایک جنگل آباد کرتے ہیں۔ لیکن اگر وہاں پہلے سے ہی جنگل آباد ہو تو ایک بیج کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہوتی کیوں کہ دوسرے درختوں کی جڑیں اسے زیادہ جگہ بنانے سے روکتی ہیں۔ کم ہی ہوتا ہے کہ وہ درخت بھی اپنی قسم کا جنگل بنانے میں کامیاب ہو۔

اسی طرح ایک آئیڈیا بھی ایک بیج کی طرح ہمارے ذہن میں آتا ہے اور لاشعور یا subconscious میں بسیرا کر لیتا ہے، اگر وہاں پہلے سے ہی مضبوط نظریات موجود ہوں تو اس نئے بیج یا آئیڈیا کی کم اہمیت ہے، ورنہ وہی آئیڈیا مناسب آبپاشی پر نظریہ یعنی مضبوط درخت بن جائے گا اور اور نظریے کو عقیدہ یعنی کہ جنگل بنتے دیر نہیں لگتی۔ آئیڈیاز ہمارے حواس کے سامنے آتے رہتے ہیں اور ذہن نشین ہوتے رہتے ہیں۔ اگر ذہن میں اپنے نظریات کے دفاع میں بھی خیالات موجود ہوں تو بیرون سے خطرات کم ہوتے ہیں۔ اگر دفاع میں کچھ نہ ہو تو ظاہر ہے، جو نیا آئیڈیا آئے گا وہی مضبوطی پائے گا اور لاشعور کی تعمیرنو کا باعث بنے گا۔ ہاں مگر آئیڈیا جتنا ہی چھوٹا ہو، ذہن میں بیٹھ ضرور جائے گا۔ اہمیت اس بات کی ہے کہ اسے مناسب آب پاشی ملتی ہے یا نہیں؟

آج زمانے میں جتنے بھی ازمز (isms) ہیں، ابتداء میں سب معمولی خیالات ہی تھے۔ دنیا خود بخود بن گئی، اس پر چند سال پہلے یقین رکھنے والے کم ہی تھے۔ یہ ہالی ووڈ کی فلموں سے اٹھنے والے آئیڈیاز ہی تھا کہ اکیسویں صدی کے آغاز سے ملحدین تاریخ میں پہلی بار پاکستان کی سرزمین پر کثرت سے بڑھے۔ Atheism بھی ابتدائی طور پر ایک آئیڈیا تھا جس کا سیلاب پاکستان میں پہلی بار نوے کی دہائی کے بعد کچھ لوگوں کے دماغ میں Niezsche کے الفاظ God is dead اور evolution کا کانسیپٹ کہ دنیا خود بخود بن گئی اور آج ہر سرکش شخص جو دنیا کے یا مذہب کے نظام سے نالاں تھا، الحاد کی طرف آنے لگا اور کچھ لوگ جو trends کے دلدادہ تھے وہ بھی آئے۔

بالکل جیسے یہاں ہنی سنگھ اور بلال سعید اور پھر قندیل بلوچ اور آج کل tik tok کا ٹرینڈ چل رہا ہے۔ یہ Bollywood کی جانب سے آنے والے آئیڈیاز ہی تھے کہ ہم نے نظریہ پاکستان قبر کی دیواروں تک پہنچایا۔ ہندوستانیوں کو اپنا ہیرو سمجھا، ہم نے کہا کہ borders don ’t matter۔ اور پھر یہ آئیڈیاز ایسی پروان چڑھے کہ ہمیں Bollywood اور بھارت کی ہر بات سچی لگی اور اپنے ہر ادارے اور ہر محسن کی ادا بری لگی۔ ہم نے اپنے ہیروز کو ”لٹیرے“ اور ”invaders“ کہا۔

ہم نے حریت پسندوں کو دہشت گرد کہا۔ اور پھر محترمہ اندرا گاندھی نے کہا کہ ”ہم پاکستان کو ثقافتی لحاظ سے فتح کر چکے ہیں۔ “ ہم شادی کے مخالف ہوئے، ہمیں ڈراموں میں دکھایا گیا کہ باپ، بھائی، شوہر عورت کے دشمن ہیں اور ان کی salvation کوئی external lover ہی ہو سکتا ہے، ہم نے مان لیا۔ ہمارے میڈیا نے ہر ولن مرد کو داڑھی میں دکھایا گیا، ہر ولن عورت کو نمازی دکھایا گیا تو ہم داڑھی اور نماز سے ڈرنے لگے اور پھر جب ان آئیڈیاز کو کہیں سے تقویت ملی تو نفرت کرنے لگے۔

انسانی لاشعور یا sub conscious ایک باغ کی مانند ہیں۔ جہاں وہی آئیڈیا اگتا ہے جس کی ادب یا میڈیا کاشتکاری کرے۔ اور کاشتکاروں میں فنکار، شعراء، ادباء وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔ بد قسمتی سے ہمارے کاشتکاروں یعنی کہ ادب دانوں نے بھی ہمیں صرف شراب و شباب یا پھر مالیخولیا تک محدود کیے رکھا، اور ان کے بعد ان کے گدی نشینوں نے ساتھ میں لاقانونیت، عدمیت یا nihilism، نرگسیت یاnarcissism کا تڑکہ لگایا اور اب یہ ہے کہ ہماری قوم نہ ہی مذہب کے قابل رہی اور نا ترقی کے۔ اگر ہے تو انتشار، رونا دھونا، ناچنا گانا، اور پھر مذہب، حکومت یا پھر گزری نسلوں کو الزام دینا باقی رہ گیا ہے۔ ہمارا moto ابتداء میں ”چار دن کی زندگی ہے، جھومو، ناچو، گاؤ، موج اڑاؤ“ اور انتہا میں ”مذہب ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ “ ہوتا ہے۔

ہر قوم نے لاشعور کے میدان میں ہمیں نہ صرف ہرایا اور پیچھے چھوڑا، بلکہ بات یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ہم اپنی شناخت تک کھو چکے ہیں۔ ہم نہیں جانتے ہم کون ہیں۔ ہم آئیڈیاز کی جنگ بلامقابلہ ہارے ہیں۔ صرف چند ہی لوگ تھے جو اپنی حقیقت کو یاد کر گئے، کچھ نظمیں پڑھ گئے، کچھ باتیں لکھ گئے، مگر اس سے بھی ہمیں اختلاف ہی رہتا ہے۔

سب جانتے ہیں کہ نمرہ احمد اور عمیرہ احمد کی تحریر ابھی نا پختہ ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ نسیم حجازی نے تاریخی واقعات کو بہت زیادہ romanticize کر دیا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ارطغرل سیریز کا ایک بڑا حصہ مکمل طور پر افسانوی ہے۔ مگر انہوں نے کچھ لکھا ہے۔ انہوں نے ان ذہنوں میں اپنی مٹی، اپنی origin کے بارے میں کچھ آئیڈیاز implant امپلانٹ کیے ہیں جو کہ روز سنگ مر مر پر چلتے ہیں اور روز پھسل کر گرتے ہیں۔ جو بھی انہیں پڑھے گا، فکشن ہی سہی، مگر اس سے تجسس ضرور بیدار ہوگا، تجسس تحقیق کو جنم دے گا اور پھر ممکن ہے تحقیق پڑھنے یا دیکھنے والے کو حقیقت کے احساس کی طرف گامزن کر دے۔

ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کی بائیو پکچرز میں بھی تو کئی کہانی کی کئی کمیوں اور خامیوں کو پورا کرنے کے لیے افسانوی اضافے کا سہارا لیا جاتا ہے اور اسی طرح وہ جسے چاہیں ہمار اذہان میں saviour اور جسے چاہیں evil بنا دیتے ہیں۔ ہمارے پاس زمانہء حال میں ایسے لوگ سرے سے موجود ہیں نہیں ہیں جو pop culture کے مطابق کچھ لکھیں، کچھ بنائیں جو آج کے ذہنوں کو کی توجہ بھی حاصل کر سکے۔

مندرجہ بالا مسلم شخصیات کی کوششیں بے شک قابل تعریف ہیں، مگر ابھی ناکافی ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری قوم باقی رہے، ہم باقی رہیں، ہمارے ایمان کا ذکر کرنے والے اگلی صدیوں میں بھی موجود ہو تو ان میدانوں میں بڑھیں۔ چھوڑ دیں stereotypical جھگڑے اور rating games اور اپنی شناخت کے بارے میں لکھیں۔ اپنی origins کے بارے میں لکھیں۔ پڑھیں۔ یا کم سے کم بات اور بحث ضرور کریں۔ اپنے خیالات، اپنے آباء، اپنے ایمان، اپنے شیخین کو اپنی اور اپنی آنے والی نسلوں کی inspiration میں شامل کریں۔ لاشعور کی جنگ میں ہار جائیں گے تو شاید آپ تو رہیں مگر آپ کی شناخت مٹ جائے۔ اور اگر اپنے خیالات اور میڈیا کی ترسیل میں ہی تھوڑی سی بھی کامیابی حاصل کر لیں تو آپ نہ بھی رہیں تو آنے والے وقتوں میں آپ اور آپ کی شناخت زندہ ہی رہیں گے۔

Facebook Comments HS