ایک پنجابی کا دکھ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گرمیوں کی چاندنی راتوں میں ”لکن میٹی“ ہمارا پسندیدہ ترین کھیل ہوتا تھا۔ بعض اوقات مغرب کے وقت ہی ہم یہ کھیلنا شروع کر دیتے تھے۔ چھوٹی عمر کے لڑکے لڑکیاں سبھی مل کر کھیلتے تھے۔ وہ معصوم چہرے، پکڑے جانے کے خوف سے تیز دھڑکتے دل، نیم اندھیرے میں خوشی سے چمکتی آنکھیں، خاموش رہنے کی تنبیہ کے ساتھ ہونٹوں پر رکھی انگلیاں، بات بے بات نکلتی ہنسی، سبھی کہیں ماضی میں ہی گم ہو گئے ہیں۔

مٹی کی کوٹھڑیوں میں، کھڑی چار پائیوں کے پیچھے، صحن میں لگے درختوں کی اوٹ میں چھپنا، سبھی کچھ نہر میں گرے سکے کی طرح کہیں کھو گیا ہے۔ کبھی یادوں کی ڈبکی لگتی ہے تو نہر کی تہہ سے صرف مٹی ہاتھ آتی ہے۔

پاکستان میں اور کچھ میری طرح دیار غیر میں بیٹھی الف انار اور بے بکری والا قاعدہ پڑھنے والی آخری نسل یادوں کے دیے جلائے اپنے آخری دن پورے کر رہی ہے۔

یاد نئیں پیندا
کیہڑے ویلے
اِکڑ دُکڑ پنبے پوں
پُگ کے میں
سُکھاں تے سدھراں دے نال
لُکن میٹی کھیڈی سی

صدیاں لنگیاں
ساریاں خوشیاں
خورے کتھے جا کے لکیاں؟

لبھدیاں لبھدیاں بڈھا ہو گیا
لبھ نئیں سکیاں
ہن چپ دی بکل مار گیا واں
میں لُکن میٹی ہار گیا واں۔ (شاعر نامعلوم)

مجھے رہ رہ کر بابا چانن یاد آتا ہے۔ ایک گلُی بنوانے کے قیمت وہ ایک اینٹ وصول کیا کرتے تھے۔ جس لڑکے کو محلے کی کسی دیوار سے اینٹ نہیں ملتی تھی، وہ ایک چونی یا اٹھنی دیا کرتا تھا۔
گلُی بنوانے کے لیے محلے اور گرد و نواح کے سبھی لڑکے بابے چانن کے پاس ہی آتے تھے۔ اسی طرح بابے چانن کے گھر کی کچی دیواریں آہستہ آہستہ پکی ہوتی رہیں۔

بابے چانن کی کمر کماں کی طرح جھکی ہوئی تھی لیکن ایک مخصوص سٹائل تھا بابا جی کا۔ چھوٹی سی سفید داڑھی، لال رنگ کا کُھسہ، دھوتی، ہر وقت گڑ گڑ کرتا حقہ، پگڑی اور ناک پر موٹے شیشوں والی سیاہ فریم والی عینک۔

کسی کے گھر جا کر ٹوٹی چارپائی ٹھیک کرنی ہو، کسی خاتون نے نئی چوکی بنوانی ہو، کسی کی بیٹی کی رنگلی چارپائیوں کا مسئلہ ہو، بابے چانن کا تیسہ ہر مشکل وقت میں کام آتا تھا۔

کھیتوں کی بالکل ساتھ واقع پرائمری اسکول نمبر چار کی نہ تو چھتیں تھیں اور نہ ہی دیواریں۔ اسکول کے ساتھ ساتھ وسیع میدان تھے، جہاں سردیوں میں تو چاول سکھائے جاتے تھے لیکن گرمیوں میں وہاں گلی ڈنڈے کے میچ پڑتے تھے۔ لڑکے گرمیوں میں عصر کے وقت ہی وہاں جمع ہونا شروع ہو جاتے تھے جبکہ سردیوں میں جمعے کے بعد دور کے محلوں کے لڑکے بھی وہاں پھیریاں ڈالنا شروع کر دیتے تھے۔

واپس نوشہرہ ورکاں جاؤں تو اب وہاں نہ بابا چانن رہا ہے، نہ اس کا تیسہ ہے، نہ کچی دیواریں اور نہ ہی کوئی گلُی ڈنڈا کھیلنے والا باقی بچا ہے۔

پنجاب کا صدیوں پرانا یہ کھیل چند عشروں میں ہی اپنی شناخت کھو بیٹھا ہے، پانچ دریاؤں کی دھرتی کا یہ کھیل اپنے محافظوں کے ہاتھوں ہی لاوارث ہو گیا ہے۔ کبھی پنجاب کے شریں قد سکھ منڈے اور مسلمان گھبرو مل کر یہ کھیل کھیلا کرتے تھے۔ ماضی کی کتنی نسلوں نے اسے سینہ بہ سینہ ہم تک پہنچایا تھا۔ افسوس کہ ہماری سینے مٹی کے کچے گھڑے ثابت ہوئے اور اسے ہم آئندہ نسلوں تک نہ پہنچا سکے۔

امی جی گرمیوں کی دوپہر میں ہمیں سختی سے ایک کمرے میں دریاں بچھا کر سُلا دیتی تھیں۔ میں کبھی کبھار آنکھ بچا کر ساتھ والے گھر چلا جاتا تھا۔ یا جب بھی دوپہر کو لائٹ جاتی تو چھت والا گھوں گھوں کرتا پنکھا بند ہوتے ہی میں کچی دیوار پھلانگ کر تایا جی کے گھر چلا جاتا تھا۔

تایا جی کے گھر دوپہر کو سونے کا رواج نہیں تھا۔ وہاں اکثر رانو اور اس کی سہلیاں انار اور دریک کے پاس بیٹھی ”گیٹے“ کھیلا کرتی تھیں۔ میں بھی کبھی کبھار ان کے ساتھ شامل ہو جاتا تھا لیکن لڑکیاں ایک کنکر کو ہوا میں اچھال کر اسی ہاتھ سے نیچے پڑے مزید کنکر اٹھانے کی ماہر تھیں۔ رانو ( پروین رانی) اور اس کی سہیلیاں ہمیشہ ہی جیت جایا کرتی تھیں۔

گرمیوں اور سردیوں کے ہمارے پسندیدہ ترین کھیلوں میں ”کوکلہ چھپاکی“ بھی ہوتی تھی۔ نیکی، وڈی، باجی رجو، رانو، اپھی، گوگی، حبیب فیاض، سبھی لڑکیاں لڑکے گول دائرے میں بیٹھ جاتے تھے اور یہ کھیل کھیلا کرتے تھے۔ کسی کا دوپٹہ لے کر کوکلہ بنایا جاتا تھا اور یہ آواز کانوں میں مسلسل رس گھولتی رہتی تھی،
”کوکلہ چھپاکی جمعرات آئی اے۔ جیہڑا اگے پیچھے ویکھے اودی شامت آئی اے“ اور جو پیچھے دیکھتا تھا، اس کی شامت آجاتی تھی۔

اسی طرح گاؤں کی گلیوں، کچے صحنوں یا پھر بابے شریف کی کچی چھت پر ہم ”اسٹاپو“ بھی کھیلا کرتے تھے۔ بابے شریف کو جب بھی پتا چلتا تو وہ دور سے ہی اپنا کھسہ پکڑ لیتے تھے اور ہماری دوڑیں لگ جاتی تھیں۔ اکثر کہتے تھے کہ بارش ہوئی تو تمہارے ماں نے چھت کی لپائی کرنی ہے؟

لیکن ہمیں نہ چھت کی فکر تھی، نہ لپائی کی، نہ بارش کی اور نہ ہی چھت سے پانی ٹپکنے کی، ہمیں بس اپنے کھیلنے سے غرض تھی۔ چھتیں چھتوں سے جڑی ہوئی تھیں، کوئی ادھر سے ڈانٹتا تو چاچے مختار کی چھت پر بھاگ جاتے، وہاں سے ڈانٹ پڑتی تو گلی میں نکل جاتے۔

اسکول کے بعد ٹیوشن کا نام و نشان نہیں ہوتا تھا۔ امی جی کے ہاتھ سے سلے ہوئے تھیلا نما بستے میں چند ایک قلمیں، ایک دوات، چند ایک قاعدے اور بس لکڑی کی ایک تختی ہی ہوتی تھی۔ تختی لکھنے کے بعد کام ختم اور کھیل کھود شروع ہو جاتا تھا۔

جب کھیلنے کو کوئی جگہ نہیں ملتی تھی تو ہم بچے کسی درخت کی گھنی چھاوں اور چڑیوں کی چہچاہٹ کے سنگ ”کِکلی“ ڈالنا شروع کر دیتے تھے۔
ککلی کلیر دی
پگ میرے ویر دی
دوپٹا میرے بھائی دا
پھِٹے منہ جوائی دا

ویسے تو یہ لڑکیوں کا کھیل ہے کہ ایک دوسرے کے بازو پکڑ کر دائرے میں گھوما جاتا ہے لیکن ہم بچے تھے تو تب لڑکیاں لڑکے سبھی مل کر یہ کھیلتے تھے۔

اب نوشہرہ ورکاں جاتا ہوں تو کسی بھی گلی میں کوئی بچہ بنٹے (گولیاں ) کھیلتا نظر نہیں آتا اور نہ ہی کبھی کسی کے منہ سے لفظ ”کلی کہ جوٹا“ سنا ہے۔ ہم چھوٹے تھے تو ”کلی جوٹا“ بہت ہی شوق سے کھیلا کرتے تھے۔

اسی طرح چھوٹی بچیاں ”گڈیاں پٹولے“ کھیلا کرتی تھیں۔ گڈی گڈے کی شادی ہوتی تھی، بارات آتی تھی، کھانا پکتا تھا۔ اب میں مغربی دنیا سے اکتا کر اور سر پر سہانی یادوں کی گھٹڑیاں اٹھائے واپس پنجاب جاتا ہوں تو وہاں بھی بازاروں میں صرف پِنک رنگ کی باربی ڈول ہی دکھائی دیتی ہیں۔ نہ گڈی کے سوہے لال کپڑے ہیں، نہ گوٹا ہے، نہ ست رنگی پراندے ہیں اور نہ ہی سنہری ڈوریوں والے دوپٹے نظر آتے ہیں۔

پنجاب کے دریا سوکھے ہیں تو ساتھ ہی کھیلوں والی زرخیز زمین بھی بنجر ہو گئی ہے۔ کئی دریاؤں کا پانی پی کر جوان ہونے والے درخت کٹے ہیں، تو طوطوں کے ساتھ ساتھ پنجاب کی ماہیے، ٹپے اور بولیاں بھی مر گئی ہیں۔

گرمیوں میں دوپہر ڈھلتے ہی یا پھر سردیوں میں ہم سے بڑے لڑکے ”بندر کِلا“ کھیلا کرتے تھے۔ میدان میں ایک ڈنڈا گاڑے اس کے ساتھ رسی باندھ دی جاتی تھی۔ تمام لڑکے اپنی جوتیاں ڈنڈے کے ساتھ جمع کرتے تھے اور پھر ایک لڑکا کوشش کرتا تھا کہ جوتیوں کو کوئی پکڑ نہ سکے۔ مجھے سب سے زیادہ خوف اسی کھیل سے آتا تھا کہ ایک مرتبہ بھی باری آئی تو بہت جوتے پڑنے ہیں۔

اسکول نمبر چار کے ہی میدان اور کھیتوں کے درمیان ”پٹھو گرم“ کھیلا جاتا تھا اور وہاں ہی کئی لڑکے ”باڈا“ کھیلتے تھے۔

کچھ گھبرو کشتی کے شوقین ہوتے تھے اور کچھ کبڈی (کوڈی) کھیلنا پسند کرتے تھے۔ جب بھی کوئی میلہ لگتا تھا تو کبڈی کا خاص اہتمام ہوتا تھا۔ میلوں میں گرم گرم جلیبیاں، یاروں کی ٹولیاں، جوڑی والے، مرزا صاحبہ، ہیر وارث شاہ اور پورن بھگت کے قصے سنانے کی روایت اب ڈھونڈھنے سے بھی نہیں ملتی۔

اب چارپائیوں کو جوڑ کر کھیلا جانے والا یہ کھیل کہ ”میں نے بنگلہ بنایا، تم نے ڈھایا کیوں“ بھی کسی نے کبھی نہیں کھیلا۔

ہم رنگ برنگے لٹو خود بنوایا کرتے تھے۔ چاچے روشن کے بیٹے اقبال، افضال، گلو وغیرہ شرطیں لگایا کرتے تھے کہ کس کا لٹو کتنی دیر تک گھومتا رہے گا؟ اب لٹو گھومنا بند ہو گئے ہیں، بچوں کو مقامی لٹو کا تو نہیں ہزاروں میل دور سے آئے ”پوکے بال“ کا پتا ہے۔

اسی طرح بڑے بزرگ بیٹھ کر شطرنج طرز کا کھیل ”بارہ ٹہنی“ کھیلتے رہتے تھے، میرا بس چلے تو دوبارہ اسی دور میں چلا جاؤں۔

اب سوچتا ہوں کہ قصور وار ہم خود ہیں، جو اپنی نئی نسل کو ان کھیلوں سے روشناس نہیں کروا سکے۔ کبھی کبھار سوچتا ہوں کہ یہ کھیل کھیلنے والی شاید ہم آخری نسل تھے۔ کچھ عشروں بعد تو شاید کتابوں سے بھی ان کھیلوں کا وجود مٹ جائے۔ یہ ایک سوچ ہی لرزہ طاری کر دیتی ہے کہ ہماری آئندہ نسلوں کو یہ بھی پتا نہیں ہوگا کہ ہمارے آباؤ اجداد کی زندگی کیسی تھی؟ وہ دن کیسے گزارہ کرتے تھے اور ان کی شامیں کیسی ہوتی تھیں؟

چاندنی راتوں میں پریوں کی کہانیاں کیا لطف دیتی تھیں اور ٹیوب ویل کے چلنے کی آواز کتنی دلکش ہوا کرتی تھی۔

چند برس پہلے کی بات ہی کہ یونیورسٹی آف بون میں ایک جرمن پروفیسر لیکچر کے دوران آہ بھرتے ہوئے کہنے لگا کہ گلوبلائزیشن اور ایک ہی ثقافت کو پوری دنیا میں پھیلا دینے کی جنگ اس خوبصورت زمین کو کس قدر بے رنگ اور بے ذائقہ بنا دے گی؟

جب مختلف زبانیں، روایتی کھیلیں، لباس، بولیاں اور کھانے ختم ہو جائیں گی تو اس دنیا میں کیا کشش رہ جائے گی؟ یکسانیت تو بذات خود انسان کو موت کے مزید قریب کر دی گی۔
آج مجھے بھی بالکل اسی پروفیسر کی طرح محسوس ہوتا ہے۔ جب پنجاب کے مقامی کھیل، زبان، تہذیب، تمدن، لباس اور روایتیں ختم ہوں گی تو پنجاب بھلا کیا پنجاب رہ جائے گا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •