ڈیل کی خبریں بے بنیاد ہیں
ڈیل یا این آر او کی خبروں پر یقین ہے لیکن اس بات پر یقین نہیں اسٹیبلشمنٹ کی شرائط پر کچھ ہونے جا رہا ہے۔ میاں نواز شریف کو یقینی طور پر طبعی بنیادوں پر ضمانت مل جائے گی لیکن یہ بات یاد رکھنے کی ہے ڈی جی آئی ایس پی آر نے قوم سے صرف چھ ماہ مانگے تھے۔ مشہور زمانہ پریس کانفرنس میں تین جملے خاصے کے تھے۔ کہا تھا حکومت اگر عوام کی حمایت کھو بیٹھے تو ایک دن بھی نہیں رہ سکتی۔ کہا تھا چھ ماہ میں معیشت بہت اچھی ہو جائے گی یا بہت خراب۔ کہا تھا چھ ماہ تک حکومت پر تنقید نہ کریں۔
مسلم لیگ ن کے سربراہ کی ووٹ کو عزت دینے کی ضد نے حالات کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے۔ عدالتوں کی ساکھ ہی بری طرح متاثر نہیں ہوئی، اداروں پر بھی کھلے عام انگلیاں اٹھنے لگی ہیں۔ پاک فوج دشمن کی فوج نہیں، یقینی طور پر معاشی حالات کا جائزہ لیا گیا ہے اور درپیش چیلنجز کا بھی۔ چینی سفیر نے لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران جس طرح معاشی پالیسوں میں عدم تسلسل پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا تھا ”ان حالات میں چینی سرمایہ کار پاکستان آنے کے لئے تیار نہیں“۔ سانحہ ساہیوال جس طرح پوری قوم کے اعصاب پر سوار ہوا ہے۔ نواز شریف کے ساتھ بات چیت اور مسائل کا حل ہی ایک بہترین آپشن ہے اور ہمیں لگتا ہے طاقتور حلقوں نے یہ آپشن لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
اس وقت کمزور وکٹ پر میاں نواز شریف یا آصف علی زرداری نہیں بلکہ خود وہ ریاستی ادارے ہیں جن کے متعلق، وزیرخارجہ جنہیں امریکہ طالبان مذاکرات کے نزدیک پھٹکنے بھی نہیں دیا گیا، کھلے عام اعلان کرتے ہیں اسٹیبلشمنٹ کے لئے نواز شریف یا آصف علی زرداری قابل قبول نہیں۔ معاملہ حقیقت میں یہ ہے خود تحریک انصاف والے قابل قبول نہیں رہے۔
چھ ماہ کے دوران معیشت کا جو حال کر دیا گیا اور جس طرح کی احمقانہ حرکتیں کی گئی یہ لوگ صرف اداروں پر بوجھ نہیں بنے، معاشی خرابیوں سے ملکی سلامتی کے لئے بھی سوالیہ نشان بن گئے ہیں۔ ڈیل کی خبریں پہلے بھی اڑائی گئیں اور خوب اڑائی گئیں عام انتخابات سے دو روز قبل تو دو مخصوص نجی چینلز پر ڈھولچیوں کے ذریعے این آر او کا ڈھول اتنی طاقت سے پیٹا گیا گویا نواز شریف لندن سے آیا ہی این آر او کے لئے تھا۔
میاں نواز شریف کی طرف سے ووٹ کو عزت دو کے نعرے نے کسی کے پلے کچھ نہیں چھوڑا۔ ان کی ضد نے جس طرح اداروں اور طاقتور لوگوں کا ناطقہ تنگ کیا ہے، دل ہی دل میں کہتے ہوں گے ”نواز شریف تیرا ککھ نہ روے“۔
حکمرانی کے لئے خونی رشتوں کو خون میں نہلا دینے کے واقعات سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ آفرین ہے شہباز شریف پر اپنے بڑے بھائی سے بے وفائی یا بغاوت نہیں کی۔ نیب مقدمات میں جیل جانا قبول کر لیا۔ سپریم کورٹ کے گزشتہ مدارالمہام نے بھری عدالت میں شہباز شریف کو آئندہ وزیراعظم بننے کی نوید بھی سنا دی تھی لیکن شہباز شریف قابو نہیں آئے۔
میاں نواز شریف نے جو حاصل کرنا تھا، کر لیا ہے۔ عقل مندوں نے عمران خان کا تجربہ کر لیا ہے اور اس تجربہ کا مزا بھی چکھ لیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ پسپائی کی طرف ہے اور شواہد اس بات کی دلیل ہیں۔ نقیب اللہ قتل کیس میں نقیب اللہ بے گناہ قرار پایا ہے۔ خیسور واقعہ کے بعد گھر کا سربراہ لاپتہ نہیں رہا، گھر واپس پہنچ گیا ہے۔ بلوچستان اور فاٹا میں مسلسل لاپتہ افراد گھروں کو پہنچ رہے ہیں۔ ہمیں بہتری کی امید رکھنا ہو گی اور اس بات پر یقین کرنا ہو گا یہاں ملک دشمن قوتوں کے ایجنٹ نہیں بلکہ محب وطن قوتیں فیصلے کرتی ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ اگر اپنی غلطیوں سے رجوع کرتی ہے تو یہ حب الوطنی ہے اور کچھ نہیں۔
میاں نواز شریف کے حق میں سب سے طاقتور دلیل یہ ہے انہوں نے اگر ڈیل کرنا ہوتی، وہ گرفتاری دینے کے لئے کبھی وطن واپس نہ آتے۔ ہمیں ایک جمہوری پاکستان کی امید ہے، جہاں عوام کے حق رائے دہی پر پالتو اینکرز، مولوی خادم حسینوں اور ناپسندیدہ سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کی وفاداریاں تبدیل کرا کے ڈاکہ نہ مارا جائے بلکہ عوام کو آزادانہ طور پر اپنے نمائندے چننے کا اختیار ہو۔
امریکی افغانستان سے واپس جا رہے ہیں، بھارتی افغانستان میں اپنے محفوظ ٹھکانے کھو چکے ہیں اور افغانستان میں پاکستان مخالف حکومت کی زبانیں کاٹ دی گئی ہیں۔ مستقبل کا افغانستان پاکستان کے لئے ماضی کی طرح خوفناک چیلنج بھی بن سکتا ہے اور ترقی کے نئے مواقع کی نوید بھی۔ بہتر تو یہ ہے مستقبل کے افغانستان کے لئے بھارت کو بھی آن بورڈ لے لیا جائے اور شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم سے افغانستان کی مستقبل کی مالی مشکلات کا حل نکالا جائے۔ اسٹیبلشمنٹ مستقبل کی منتخب حکومت کے ساتھ مل کر آئین اور قانون میں دیے گئے اپنے اختیارات کے ساتھ مشرقی اور مغربی سرحدوں کے چیلنجز سے نپٹنے، جو چیلنجز سے زیادہ مواقع بن سکتے ہیں۔ ماضی کی طرح مارشل لا لگانے کا موقع نہیں کہ معیشت مزید بدنامی کا باعث بنے گی۔


