رام تیری گنگا میلی ہو گئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

15 جنوری کو لاکھوں ہندو زائرین نے پریاگ راج ( الہ آباد ) کے پاوِیتر (پاک) گنگا ندی میں مقدس غسل سے اپنے پاپ کو دھویا اور ایک اچھے انسان بننے کی بھگوان سے دعا مانگی۔ الہ آباد ہندوستان کا ایک قدیم شہر ہے جو گنگا اور جمنا کے سنگم پر آباد ہے۔ تاریخی مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ’الہ آباد‘ شہر کا نام 1583 میں مغل شہنشاہ اکبر نے رکھا تھا۔ فارسی میں الہ آباد کے معنی ’خدا کی طرف سے آباد‘ ہوتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ نے تاریخی شہر الہ آبادکا نام بدل کر ’پریاگ راج‘ کر دیا ہے۔ جو کہ موجودہ بی جے پی حکومت کی محض مسلمانوں سے بغض اور مغلیہ حکومت سے نفرت کی ایک مثال ہے۔

ہندؤں کو مقدس غسل کرنے کا موقع کمبھ میلے میں کئی برسوں بعد نصیب ہوتا ہے۔ الہ آباد میں کمبھ میلہ 49 دنوں تک جاری رہے گا اور 4 مارچ کو اپنے اختتام کو پہنچے گا۔ میلے کے پہلے دن لگ بھگ ایک کروڑ سے زیادہ لوگوں نے گنگا ندی میں ڈبکی لگا کر اپنے پاپ دھوئے۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق اس سال کمبھ میلے میں بارہ کروڑ سے زیادہ ہندو زائرین کی شرکت کی امید کی جارہی ہے۔ ہندو دھرم کے مطابق اس موقع پر گنگا ندی میں نہانے سے ان کے پاپ دھُل جاتے ہیں اور انہیں گناہ سے نجات ملتی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ کمبھ میلہ لگ بھگ دو ہزار سال پرانا ہے۔ اس بات کا ثبوت چینی سیاح ’زوان زنگ‘ کی تحریر سے ملتاہے جو راجہ ہرش وردھن کے دور میں ہندوستان آیا تھا۔ کمبھ میلہ ہندوؤں کی اکثریت کا عقیدہ ہے جس میں دنیا بھر کے ہندو جمع ہو کر کے مقدس غسل کرتے ہیں۔ کمبھ میلے کی شروعات ہندو مذہب کے مطابق صدیوں پرانی ہے اور جب ہندو دیوتاؤں نے بد روحوں سے لڑ کر انہیں شکست دی تھی تو الہ آباد، ہری دوار، اجین اور ناسک میں پانی کے چند قطرے ان جگہوں پر گرے تھے۔ جسے ہندو کافی مقدس مانتے ہیں۔ اسی لئے کمبھ میلہ پاوِتر گنگا، جمنا اور سروستی ندیوں پر منعقد ہوتا ہے۔ جب جب کمبھ میلہ منایا جاتا ہے ہندو دھرم کے ماننے والے یہاں آکر اپنا پاپ دھوتے ہیں۔

کمبھ میلہ تین طرح کے ہوتے ہیں۔ پہلا عام طور پر ’کمبھ میلہ‘ کہلاتا ہے جو ہر تین سال بعد منعقد ہوتا ہے۔ دوسرا ’اردھ‘ کمبھ میلہ ہے جو ہر چھ سال کے بعد الہ آباد اور ہری دوار پر منایا جاتا ہے اور تیسرا ’پورنا‘ کمبھ میلہ ہے جو بارہ سال میں ایک بار الہ آباد، ہری دوار، اجین اور ناسک میں منعقد ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک ’مہا کمبھ میلہ‘ بھی الہ آباد میں منایا جاتا ہے جو 144 سال بعد منعقد ہوتا ہے۔ جو کہ ہر بارہ ’پورنا‘ کمبھ میلے کے بعد منایا جاتا ہے۔

کمبھ میلے کے انعقاد کی تاریخ، جگہ اور مدت کا تعین جوتشی کرتے ہیں۔ ہندو مذہب میں پیدائش سے لے کر شادی اور دیگر لوازمات کا تعین جوتشی ہی کیا کرتے ہیں۔ ہندو مذہب میں شگون کی بڑی اہمیت ہے۔ اسی لئے ہندو مذہب کے ماننے والے کسی بھی کام کو شروع کرنے سے پہلے پنڈت اور جوتشی کے مشورے کو کافی اہمیت دیتے ہیں۔

الہ اباد شہر کو جدید آرائش سے سجایا گیا ہے اور بارہ اسکوائر میل زمین پر زائرین کو ٹھہرنے کے لئے عارضی خیموں کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔ زائرین کے سہلوت کے لئے لگ بھگ سو کلومیٹر نئی سڑکیں بنائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ہسپتال، بینک کی سہولیات اور فائر سروس کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔ زائرین کو بیت الخلا استعمال کرنے کے لئے ایک لاکھ بیس ہزار ٹوائلٹ بھی بنائے گئے ہیں۔ ہزاروں نئی ٹرینیں چلائی جا رہی ہیں تا کہ زائرین آسانی سے دوسروے شہروں سے کمبھ میلہ پہنچ سکیں۔ اس کے علاوہ دلی سے ہوائی جہاز کی بھی سروس شروع کی گئی ہے جو کہ ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں زائرین کو کمبھ میلے میں پہنچا رہی ہے۔

مقدس غسل کے لئے روایتی طور پر سب سے پہلے ناگا سادھو برہنہ حالت میں گنگا ندی پہنچے۔ ان کے ہاتھ میں ننگی تلواریں، برچھی، بھالا اور دیگر اسلحہ تھے۔ جو شاید بد روحوں کی شکست کا جشن منانے کا ایک انداز تھا۔ سادھو اپنے بدن پر راکھ لگائے ہوئے تھے جس سے ان کا خدوخال کافی عجیب و غریب دِکھ رہا تھا۔ مقدس غسل لیتے وقت سادھو ’ہر ہر گنگا‘ ، ’گنگا میّا‘ اور ’گنگا ماں‘ کے زور دار نعرہ لگا رہے تھے اور اپنی خوشی کا اظہار بھی کررہے تھے۔

کمبھ میلے میں اکھاڑے کی کافی اہمیت ہوتی ہے۔ ان اکھاڑوں میں گھوڑے، ہاتھی، اونٹ اور مختلف گاڑیوں پر سادھو، سنیاسن اور مہنت سوار ہوتے ہیں جو رنگ برنگے پھول اور پتوں سے سجے ہوتے ہیں۔ ناگا سادھو بنا لباس گھوڑے پر سوار ہو کر سڑکوں کی دونوں جانب کھڑے مدّاحوں اور زائرین کو خوب لبھاتے ہیں۔ اکھاڑے میں سب سے پہلے ناگا سادھوؤں کا اکھاڑہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد دیگر اکھاڑے ایک کے بعد ایک تعین کیے ہوئے راستوں سے گزرتے ہیں۔

لیکن اس بار کمبھ میلے میں ایک خاص بات یہ دیکھنے کو ملی کہ ایک اکھاڑہ ہیجڑوں کا بھی تھا۔ اس اکھاڑے کی سردار رنگ برنگے کپڑے میں ملبوس تھیں اور بہت سارے زائرین ان سے آشیرواد (دعائیں ) لے رہے تھے۔ ہندوستان میں لگ بھگ بیس لاکھ ہیجڑے رہتے ہیں اور 2014 میں سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے کے بعد ہیجڑوں کو تیسری جنس مان لیا گیا ہے۔ کنر اکھاڑے کے سربراہ لچھمی نرائن ترپاٹھی کا کہنا ہے کہ ’سماج میں اپنے آپ کی ایک پہچان بنانے کے لئے کمبھ میلے کے اکھاڑے میں بطور‘ کنر اکھاڑہ ’نکالنا ایک اہم قدم ہے‘ ۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’ہندو دھرم میں کافی دیوتاؤں کو ہیجڑوں سے منسوب کیا جاتا ہے اور کچھ دیوی دیوتا تو ہیجڑے ہیں‘ ۔ تاہم کنر اکھاڑے کو اب بھی سرکاری طور پر تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔

الہ اباد کے کمبھ میلے میں سیاست کا بھی پرچار دیکھا جا رہا ہے۔ جس کی ایک اہم وجہ شاید ہندوستان میں آنے والا عام چناؤ ہے۔ یوپی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے اور وزیر اعلیٰ نے الہ آباد کا نام بدلنے سے لے کر میلے کے عمدہ انتظام میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی تصویر جو کہ ایک کارڈ بورڈ پر بنائی گئی ہے اور جسے پورے میلے میں جگہ جگہ نصب کیا گیا ہے۔ گویا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ کمبھ میلہ نہیں ہے بلکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی الیکشن مہم ہے۔

کمبھ میلہ ہندو مذہب کا ایک انوکھا اور اہم تہوار مانا جا تا ہے۔ کیونکہ کمبھ میلہ ہر تین، چھ اور بارہ سال کے بعد ہوتا ہے اس لئے اس کی اہمیت کافی زیادہ ہے۔ ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ کمبھ میلے میں ایک دفعہ مقدس غسل کرنا ان کے لئے کافی اہم ہے۔ جس کی وجہ سے ہر ہندو اپنی زندگی میں کمبھ میلہ میں شرکت کرنا ایک اہم فرض سمجھتا ہے۔ دیکھا جا رہا ہے کہ پچھلے دو دہائیوں سے کمبھ میلے کی اہمیت کا فی بڑھی ہے۔ جس سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ شاید اب لوگ گناہ زیادہ کر رہے ہیں۔ اسی لئے اتنی بڑی تعداد میں ہندو زائرین مقدس غسل کو کرلینا اپنی زندگی کا ایک اچھا موقع سمجھتے ہیں۔

میں ہندو مذہب کی اس روایت کا احترام کرتا ہوں اور ہندوستان کے کمبھ میلے پر دنیا بھر سے شرکت کرنے والے کروڑوں ہندو زائرین کے لئے اپنی نیک تمنائیں دیتا ہوں۔ لیکن مجھے یہ تشویش بھی ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مقدس غسل کرنے کے بعد بیچاری گنگا ندی کا کیا حال ہوگا۔ جس طرح حکومت نے کروڑوں روپے خرچ کر کے زائرین کے لئے سہولیات کا انتظام کیا ہے، کیا اسی طرح حکومت کمبھ میلے کے اختتام پر صفائی کا کام کروائے گی یا گنگا ایک بار پھر یہی آواز لگائے گی کہ ’رام تیری گنگا میلی ہوگئی‘ ۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •