جنگ، پروپیگنڈا اور اخلاقی جیت

دنیا میں جتنی بھی جنگیں ہوئی ہیں ان میں کسی کو ہار تو کسی کو جیت ملی ہے۔ لیکن جنگ نے آج تک سوائے ایک فرد کے کسی کو بھی فائدہ یا نقصان نہیں پہنچایا ہے۔ تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ایسی مثالیں موجود ہیں جن میں ایک بادشاہ، ظالم یا طاقت کے نشے میں چور لوگوں نے اپنے مفاد اور طاقت کامظاہرہ کرنے کے لئے جنگیں لڑی ہیں۔ تاہم ان جنگوں میں ہزاروں ایسے لوگوں کی جانیں بھی گئی ہیں جو اپنے مالک اور آقا کے حکم کے سامنے بے بس تھے۔

Read more

عالمی اردو کانفرنس اور ہندوستان کا سفر

ہندوستان جانا محض ایک اتفاق نہیں ہے بلکہ میری پیدائش ہندوستان میں ہوئی ہے جس کی وجہ سے میرا ہندوستان جانا لازمی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ آج بھی ہمارے خاندان کے لوگ وہاں آباد ہیں اور چاہنے والوں کا ایک جم غفیر ہے جو ہمیشہ بانہیں پھیلائے میرا استقبال کرنے کو تیار رہتا ہے۔ ہندوستان کی ثقافت، تہذیب، زبان پکوان تو دنیا بھر میں مقبول ہے۔ لیکن میں ان تمام باتوں کے علاوہ ہندوستان کے سیاسی اتار چڑھاؤ، تعصب، تعلیم، طبقاتی تفریق اور دیگر مسائل پر زیادہ توجہ دیتا ہوں۔ جو شاید موجودہ حالات میں انسان کے لیے دردِ سربنا ہوا ہے۔

ہر سال میں ہندوستان کا سفر کسی نہ کسی بہانے کر ہی لیتا ہوں لیکن اس بار کا سفر کچھ خاص تھا۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ ورلڈ اردو ایسو سی ایشن نے دلی میں عالمی اردو کانفرنس منعقد کیا تھا اور مجھے بھی اس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ تاہم لندن کی مصروف زندگی سے کانفرنس کے تینوں دن کے لیے وقت نکالنا میرے مشکل تھا اس لیے میں نے آخری دن ہی شرکت کرنے کا فیصلہ کیا۔

Read more

رام تیری گنگا میلی ہو گئی

15 جنوری کو لاکھوں ہندو زائرین نے پریاگ راج ( الہ آباد ) کے پاوِیتر (پاک) گنگا ندی میں مقدس غسل سے اپنے پاپ کو دھویا اور ایک اچھے انسان بننے کی بھگوان سے دعا مانگی۔ الہ آباد ہندوستان کا ایک قدیم شہر ہے جو گنگا اور جمنا کے سنگم پر آباد ہے۔ تاریخی مطالعہ…

Read more

سعودی لڑکی رہف کا ترک اسلام:کتنا سچ اور کتنا جھوٹ

سعودی عرب کی اٹھارہ سالہ لڑکی رہف محمد القنون کی اپیل پر اقوام ِمتحدہ سے لے کر انسانی حقوق کے حامی ممالک نے رہف پر ہمدردی دکھا کر اور سہارا کی بانہیں پھیلا کر اس کو پناہ دینے پر آمادہ ہوگئے۔ دراصل یہ پورا معاملہ اتنا پیچیدہ ہو چکا تھا کہ اگر اقوامِ متحدہ خاموش رہتی تو تو انسانی حقوق کے حامی اور مہم چلانے والے گروپ آسانی سے اس معاملے کو دبنے نہیں دیتے۔ ویسے یہ معاملہ سیدھا سیدھا سعودی عرب سے منسلک تھا۔ رپورٹ سے تو ایسا ہی لگ رہا ہے کہ کہیں نہ کہیں ایسی کوشش ضرور کی گئی ہے کہ رہف کو ڈرا دھمکاکر سعودی عرب واپس بھیج دیا جائے تاکہ یہ معاملہ منظرِ عام پر نہ آئے۔

رہف اپنی فیملی کو چھوڑ کر بنکاک ہوتے ہوئے آسٹریلیا جانے کی کوشش میں سنیچر 5 جنوری کی شام بنکاک ہوائی اڈے پر پکڑی گئی۔ اس پورے معاملے کی جانکاری رہف کے اس ٹویٹ سے شروع ہوئی جو اس نے بنکاک ہوٹل سے لکھا تھا۔ رہف نے اپنے چوبیس چاہنے والوں کو یہ پیغام لکھا کہ بنکاک میں اسے سعودی سفارت خانے نے روک رکھا ہے اور اسے اس کی مرضی کے خلاف سعودی عرب بھیجنا چاہ رہے ہیں تاکہ ان کے خاندان والے اسے جان سے مار دیں۔

Read more

حکومت ہاری لیکن برطانوی وزیر اعظم جیتی

15 ؍ جنوری کو دنیا کی نگاہ برطانیہ کی پارلیمنٹ پر لگی ہوئی تھی۔ اس کی اہم وجہ یہ تھی کہ پچھلے دوسال سے (Brexit) بریکسٹ کی وجہ سے حکومت یوروپین یونین سے مسلسل مذاکرات کر رہی تھی تاکہ برطانیہ یوروپین یونین سے باہر ہو کر بھی یوروپین یونین کے ساتھ تجارت، سیکورٹی اور دیگر…

Read more

2019 ایک ملا جلا سال ہو سکتا ہے

31 ؍ دسمبر 2018 کو پوری دنیا نئے سال کی آمد کی تیاری میں جٹی ہوئی تھی۔ لندن سردی میں لپٹا ہوا نئے سال کی آمد کا منتظر تھا اور حسبِ معمول پورے برطانیہ میں نئے سال کی پارٹی کا انعقاد زور و شور سے چل رہا تھا۔ لندن کے معروف ’لندن آئی‘ کے قریب نئے سال منانے والوں کا ایک جم غفیر امڈ پڑا تھاکیونکہ ’لندن آئی‘ پر آتش بازی کی عمدہ نمائش کو دیکھنے کے لئے لوگ پورے سال انتظار کرتے ہیں۔ اس با رونق محفل کو سجانے کے لئے لندن کے مئیر صادق خان نئے سال کا استقبال کرنے کے لئے اپنی ٹیم کے ساتھ تیار تھے۔ ٹرانسپورٹ سے لے کر اسپتال اور سیکورٹی کا عمدہ بندوبست کیا گیا تھا۔ تاکہ نئے سال کا جشن منانے والوں کو کسی قسم کی کوئی تکلیف نہ ہو۔

میں بھی دفتر جا کر اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔ لیکن سوشل میڈیا پر نئے سال کی آمد اور ڈھیر ساری نیک تمناؤں کا سلسلہ قبلِ از وقت شروع ہوگیا۔ تاہم آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے دوست نیا سال منانے کا جشن اپنے مقامی وقت کے مطابق شروع کر چکے تھے۔ دنیا بھر کی نظر سڈنی اور ہانگ کانگ کی آتش بازی پر ٹکی ہوئی تھی۔ میرے ہسپتال کے زیادہ تر اسٹاف اب بھی چھٹیوں کا مزہ لے رہے تھے اور دفتر میں زیادہ تر لوگوں کی کرسیاں خالی دِکھ رہی تھیں۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کرسمس اور نئے سال کے درمیان لندن کے لوگ اپنے قریبی رشتہ دار کے پاس چھٹیاں گزارنے چلے جاتے ہیں یا وہ بیرونِ ممالک جا کر چھٹیاں گزارتے ہیں۔

Read more

مراکش شہر اور جامع الفناء اسکوائر

سنیچر 22 ؍دسمبر کو ہم نے ایک گاڑی کرایہ پر لی اور شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا۔ سب سے پہلے ہم مدینہ پہنچے جو مراکش شہر کے پرانے علاقے میں ہے۔ یہاں پہنچ کر سب سے پہلے ہم نے ’جامع الکتبیۃ مسجد‘ دیکھی۔ یہ مراکش کی سب سے بڑی اور قدیم مسجد ہے جس کی تعمیر ( 1184۔ 1199 ) میں خلیفہ یعقوب المنصور نے کروائی تھی۔ اس مسجد کو لال پتھروں سے تعمیر کیا گیا ہے اور یہ 260 فٹ لمبا اور 200 فٹ چوڑی ہے جبکہ اس کے مینار کی اونچائی 253 فٹ ہے۔ اس کے قریب ہی جامع الفناء کے پاس عالیشان ’قصبہ مسجد‘ بھی واقع ہے جسے خلیفہ یعقوب المنصور نے بارہوی صدی میں تعمیر کروایاتھا۔

شام دھیرے دھیرے اپنی سیاہی پھیلا رہی تھی اور مدینہ علاقے کا معروف جامع الفناء میں لوگوں کی بھیڑ بڑھتی جارہی تھی۔ تھوڑی دیر انتظار کے بعد پورا اسکوائر تفریح کے ماحول میں تبدیل ہو گیا۔ چھوٹے چھوٹے گروپ کی شکل میں لوگ بھیڑ لگائے اپنے اپنے شوق سے لطف اندوز ہو رہے تھیں۔ پورا جامع الفناء اسکوائرسیاحوں سے بھرا پڑا تھا۔ کہیں موسیقی بجائی جارہی تھی تو کہیں کھیل کود دِکھایا جارہا تھا۔ ایک جگہ تو کئی دکانوں میں صرف کھانے پینے کی چیزیں بک رہی تھیں اور لوگ دیوانہ وار کھانے کے لئے امڈ پڑے تھے۔ کچھ جگہوں پر سانپ کا کھیل دِکھایا جا رہا تھا۔ بہت ساری عورتیں حنا لگارہی تھیں۔ جوتشی قسمت کا حال بتا رہے تھے تو کہیں بندر کا کھیل بھی دِکھایا جا رہا تھا۔ گویا جامع الفناء کا پورا علاقہ ہندوستان کے میلے کی یاد دلا رہا تھا۔ جامع الفناء کو 1985 میں یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثہ کا درجہ دیا ہے۔

Read more

مراکش میں ہر سومرحبا مرحبا

دنیا کتنی خوبصورت اور دلچسپ ہے اس کا انداز ہ تب ہوتا ہے جب انسان مختلف ممالک کا دورہ کرتا ہے۔ میں نے اس بات کو محسوس کیا ہے کہ دنیا کی ترقی یافتہ قوموں میں سیر کرنے کا ایک جنون ہوتا ہے۔ جس کی ایک وجہ مالی حالت کی بہتری ہوتی ہے اور تجارت بھی ایک ایسا ذریعہ ہے جس کے ذریعہ انسان ایک ملک سے دوسرے ملک سفر کرتا رہتا ہے۔ میں نے بھی دنیا کے کئی ممالک کا سفر کیا ہے اور مجھے اس بات کو اقرار کرنے میں کوئی جھجھک نہیں ہے کہ پچھلے تین برسوں میں ہم نے ان ممالک کی ثقافت، مزیدار پکوان، لوگ اور آب و ہوا سے خوب لطف اندوز ہوئے ہیں اور ہماری معلومات میں بے پناہ اضافہ بھی ہوا ہے۔

مراکش جانے کا ارادہ تو کافی عرصے سے تھا لیکن اس سال ہی جائیں گے اس کا طے تب ہواجب میری بیٹی زارا فہیم نے کرسمس کی چھٹیوں میں مراکش چلنے کی خواہش ظاہر کی۔ 18 ؍ دسمبر کی صبح اپنی بیگم ہما سید اور زارا فہیم کے ہمراہ گیارہ بجے ہم لندن کا دوسرے معروف ائیر پورٹ (Gatwick) گیٹ وِک کی طرف روانہ ہوگئے۔ لگ بھگ پینتالیس منٹ کے بعد ہم ائیر پورٹ کے لمبی مدت والے پارکنگ پہنچ گئے۔ گاڑی کی چابی کاؤنٹر پر دے کر پارکنگ کمپنی کی بس پر سوار ہو کر گیٹ وِک کے نارٹھ ٹرمنل کی جانب چل ئیے۔ مراکش پہنچنے کی چاہت سے دل میں فرحت محسوس ہونے لگا۔ تھوڑی دیر میں چیک ان ہوجانے کے بعد (Easy Jet) ایزی جیٹ جہاز پر سوار ہو گئے۔ پائلٹ نے ہمارا استقبال کیا اور ساڑھے تین گھنٹے میں مراکش پہنچانے کا یقین دلایا اور جہاز اپنی منزل کی طرف روانہ ہوا۔

Read more

جمہوریت اور ہندوستانی الیکشن

ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہے اورجمہوری ملک ہونے کی وجہ سے دنیا بھر کی نگاہیں ہندوستان کے سیاسی اتار اور چڑھاؤ پر ٹکی رہتی ہیں۔ برطانیہ میں بھی بسے لاکھوں ہندوستانیوں پر اپنے ملک کی سیاست کا بخار ویسا ہی چڑھا رہتا ہے جیسے ہندوستان میں بسے لوگوں پر ہوتا ہے۔ تاہم نئی نسل ہندوستان کی موجودہ سیاست سے دور ہی رہتی ہے۔ ہندوستانی عوام کے علاوہ انگریز بھی ہندوستانی الیکشن میں خوب دلچسپی دکھاتے ہیں۔

ہر سال ہندوستان میں کہیں نہ کہیں الیکشن ہوتا ہی رہتا ہے خواہ وہ ریاستی الیکشن ہو یا پھر پنچایتی الیکشن، ان چناؤ میں عام آدمی خوب بڑھ چڑھ کر حصّہ لیتے ہیں۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ ہندوستانی سیاست میں جمہوریت کا مذاق بھی بننے لگا ہے۔ آئے دن سیاست میں اخلاق کی گراوٹ پائی جارہی ہے اور کسی بھی قیمت پر الیکشن جیتنے کے لیے نئے نئے ہتھکنڈے استعمال کیے جارہے ہیں۔ جس سے زیادہ تر لوگوں کا جمہوری طرزِ حکمرانی سے اعتبار اٹھتا جارہا ہے۔

Read more

ہندوستان کے مشکوک پولیس مقابلے

ہندوستان میں آج کل جہاں آئے دن انکاؤنٹر سے لوگ خوف زدہ ہیں تو وہیں سوجھ بوجھ رکھنے والا طبقہ پریشان بھی ہے۔ عالمی اخبارات اور میڈیا کی رپورٹنگ پر بھی ہندوستان میں بڑھتے ہوئے انکاؤنٹر سے عالمی برادری حیران و ششدر ہے۔ پوری دنیا میں ہندوستان کے لوگ آباد ہیں جو اپنے ملک کی سلامتی اور وقار پر کسی قسم کا کوئی دھبّہ نہیں دیکھنا چاہتے ہیں۔ تاہم بہت سارے ہندوستانی خاموش ہیں اور اس طرح کی نا انصافی کے خلاف بولنا مناسب نہیں سمجھ رہے ہیں۔ ممکن ہے ہندوستان میں زیادہ تر انکاؤنٹر ایک خاص طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا ہو رہا ہے۔ جس کی وجہ سے ایسے لوگ جو ایک خاص طبقے کے تعلق سے دل میں نفرت رکھتے ہیں، وہ اس جرم کے خلاف آواز اٹھانا مناسب نہیں سمجھ رہے ہیں۔

Read more