راؤ انوار کو بچانے کی ایک اور کوشش: نقیب اللہ قتل کے واحد عینی گواہ کا بیان غائب
اسے پولیس کی غلطی سمجھا جائے یا راؤ انوار کو بچانے کی ایک اور کوشش۔ نقیب اللہ قتل کیس کے ضمنی چالان میں مقابلے کو جعلی قرار دینے والے واحد عینی شاہد پولیس اہلکار کا بیان غائب ہے۔ عینی گواہ کا ذکر ہی نہیں کیا گیا۔ چالان منظور کر کے مزید کارروائی کے لئے متعلقہ عدالت کو بھیجنے کا حکم دے دیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی کی عدالت میں زیر سماعت نقیب اللہ قتل کیس اہم رخ اختیار کر گیا ہے۔ ایس پی ڈاکٹر رضوان نے کیس کا ضمنی چالان عدالت میں پیش کر دیا ہے۔ ضمنی چالان کے متن سے واحد عینی شاہد پولیس اہلکار کا بیان غائب کر دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق عینی شاہد پولیس اہلکار کا پورا بیان حتمی چالان میں موجود تھا۔ اس نے بتایا تھا کہ جعلی مقابلہ اس کے سامنے ہوا تھا۔ عینی شاہد کے مطابق نقیب اللہ محسود اور دیگر کو ایک گھر میں لایا گیا۔ شعیب شوٹر اور امان اللہ مروت اندر گئے اور فائرنگ کی آوازیں آئیں۔
جعلی مقابلے کے بعد عینی شاہد پولیس اہلکار نے ہی واقعے کی رپورٹ بنائی تھی لیکن اب ضمنی چالان سے عینی شاہد پولیس اہلکار کا ذکر ہی نکال دیا گیا ہے۔ ضمنی چالان میں دو مغویاں سمیت 99 گواہ رکھے گئے ہیں۔ ضمنی چالان میں راؤ انوار سمیت دیگر ملزمان کو قصوروار ٹھہرایا گیا ہے۔ عدالت نے ضمنی چالان منظور کر لیا جبکہ مزید کارروائی کیلئے متعلقہ عدالت کو بھیجنے کا حکم دے دیا ہے۔


