آسیہ بی بی بریت پر نظرثانی درخواست مسترد
سپریم کورٹ نے آسیہ بی بی کی بریت کے فیصلے پر نظر ثانی اپیل مسترد کر دی ہے۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ اس کیس میں بہت زیادہ جھوٹ بولا گیا، اگر عام مقدمہ ہوتا تو گواہان کے خلاف مقدمہ درج کرواتے، ہم نے بہت زیادہ تحمل سے کام لیا، سب گواہان کے بیانات میں واضح تضادات ہیں۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے درخواست گزار مولوی سلام کے وکیل سے کہا کہ آپ سارا پاکستان بلاک کردیتے ہیں کہ ہماری بات کیوں نہیں مانی گئی، الزام لگاتے ہیں کہ ایسے لوگ ہیں کہ بری کر دیا، اپنے گریبان میں بھی تو جھانکیں کیس کیا بنایا ہے۔ کیا اسلام کی یہ تصویر پیش کر رہے ہیں؟
آپ کہتے ہیں قابل اعتبار گواہ تھے ان کے بیانات پر پھانسی لگا دینی چاہیے، چیف جسٹس کا قاری سلام کے وکیل سے مکالمہ
گواہوں کے بیانات کی حیثیت بھی تو دیکھیں، چیف جسٹس نے کہا کہ ہم سے یہ چاہتے ہیں کہ کسی کو جھوٹی شہادت پر پھانسی لگا دیں۔
وکیل قاری سلام نے کہا کہ بیانات میں تھوڑا فرق ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ فرق ؟ یہ جھوٹ ہے۔
قاری سلام نے حلف پر جو بیان دیا وہ پہلے بیان سے مختلف تھا، چیف جسٹس۔
ایسا مدعی ہے جس کو یہ نہیں پتہ کہ اس کی درخواست کس نے لکھی، چیف جسٹس۔
قاری صاحب کو تو براہ راست بچیوں نے نہیں بتایا ہوگا۔
پھر ان کو کیسے پتا چلا کہ یہ الفاظ کہے گئے۔
کیا اسلام کی یہ تصویر پیش کر رہے ہیں
کیا اس طرح کے گواہ ہوتے ہیں
یہ بہت حساس اور قومی نوعیت کا معاملہ ہے، چوہدری غلام مصطفی وکیل مدعی قاری سلام
اس معاملے میں لارجر بینچ بنایا جائے جس میں مذہبی سکالرز شامل ہوں، غلام مصطفی وکیل
چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی تو مذہب کا معاملہ نہیں آیا، کیا اسلام کہتا ہے کہ شہادت نہ ہو تو سزا دے دی جائے
بینچ مذہبی سکالرز کی معاونت لے، غلام مصطفی وکیل
آپ شہادتوں کو پڑھیں بتائیں کہاں غلطی کی ہے، چیف جسٹس
آپ نے بریت کا فیصلہ کلمہ شہادت سے شروع کیا ہے، غلام مصطفیٰ وکیل
انگلش ترجمہ درست نہیں، غلام مصطفی وکیل
ترجمے کا فیصلے سے کیا تعلق ہے، چیف جسٹس
ہم دیکھیں گے ایسا ایشو ہے کہ لارجر بینچ بننا چاہیے، چیف جسٹس
چاہیے ہو گا تو ضرور بنائیں گے، چیف جسٹس
فیصلے میں کہا گیا کہ بار ثبوت مدعی پر ہے، وکیل قاری سلام غلام مصطفی
کیا آپ اس اصول سے اختلاف کرتے ہیں، چیف جسٹس
سپریم کورٹ کی کچھ نظائر کو نظر انداز کیا گیا، وکیل قاری سلام
اگر کسی بیان پر جرح نہ کی گئی ہو تو اسی بیان کو درست سمجھا جاتا ہے، وکیل قاری سلام
یہ لارجر بینچ کا فیصلہ ہے، وکیل قاری سلام
اگر کوئی وکیل ملزم سے سوال پوچھنا بھول جائے تو اسے پھانسی لگا دیں، چیف جسٹس
آپ میرٹ پر بات کریں، چیف جسٹس
بریت فیصلے میں آپؐ کے عیسائیوں کے ساتھ معاہدے کا حوالہ دیا گیا ہے، وکیل قاری سلام
تمام علماء نے اس معاہدے کو باطل کہا ہے، وکیل قاری سلام
عیسائیوں اور یہودیوں نے جزیہ سے بچنے کے لئے یہ معاہدہ کیا تھا، وکیل قاری سلام
ہم نے کتاب کا حوالہ بھی دیا ہے، چیف جسٹس
کیا معاہدے میں کہیں لکھا گیا ہے کہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے، چیف جسٹس
آپ ص نے فرمایا کہ اقلیتوں کا خیال رکھو، چیف جسٹس
سلامی معاشرے کی خوبصورتی یہی ہے کہ اقلیتوں کا خیال رکھنا ہے، چیف جسٹس
پہلے میرٹ پر بات کریں کہ غلطی کہاں ہے، چیف جسٹس
بتائیں کہ کہاں گواہوں کے بیانات کو ٹھیک نہیں پڑھا گیا، چیف جسٹس
اس کے بعد وہ سب باتیں آئیں گی کہ اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے، چیف جسٹس
اسلام کہتا ہے کہ سچی گواہی دو چاہے اپنے عزیز و اقارب کے خلاف بھی ہو، چیف جسٹس
اگر ہم نے شہادتیں ٹھیک نہیں پڑھیں تو فورا درست کریں گے، چیف جسٹس
فیصلے میں لکھا ہے کہ خواتین گواہان نے کہا کہ انہیں نہیں پتہ آسیہ کس سے بات کر رہی تھی، وکیل قاری سلام
فیصلے میں بھی تو یہی لکھا ہے، چیف جسٹس
آپ کہتے ہیں کہ آسیہ بی بی 25 لوگوں کو مخاطب کرکے کہہ رہی تھی، چیف جسٹس
کیا وہ کسی جلسے سے خطاب کر رہی تھی، چیف جسٹس

اس کیس میں اتنے سچے گواہ نہیں تھے جتنے ہونے چاہیں تھے، چیف جسٹس
تفتیشی افسر کہتا ہے کہ خواتین گواہان نے بیان بدلے، چیف جسٹس
تفتیشی افسر اور گواہان کے بیان میں فرق ہے، چیف جسٹس
فالسے کے کھیت کا مالک عدالت میں بیان کے لئے آیا ہی نہیں، چیف جسٹس
قانون کہتا ہے کہ 342 کا بیان نہیں ریکارڈ کرایا تو بیان کی کوئی حیثیت نہیں، چیف جسٹس
ایس پی نے جب تفتیش شروع کی تو تب فالسہ کھیت کا مالک آیا، چیف جسٹس
تفتیش کے 20 دن بعد یہ میدان میں آیا، چیف جسٹس
اس کے بیان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، چیف جسٹس
کوئی بات ہم نے ریکارڈ کے خلاف لکھی ہے؟ چیف جسٹس
مدعی قاری سلام نے اپنے بیانات بدلے، چیف جسٹس
قاری سلام کہتا ہے افضل نے اسے اطلاع دی، چیف جسٹس
افضل حلف اٹھا کر کہتا ہے کہ یہ اس کے گھر آئے، چیف جسٹس
ہم کچھ نہیں کہتے ہی سب مذہبی لوگ ہیں، چیف جسٹس
قاری صاحب کہتے ہیں کہ 5 دن غور کرتے رہے، چیف جسٹس
فوجداری قانون میں ایک گھنٹے کی تاخیر سے شکوک و شبہات شروع ہوجاتے ہیں، چیف جسٹس
مدعیوں کی جانب سے آسیہ کو کسی بدنیتی کی وجہ سے ملوث نہیں کیا گیا، وکیل قاری سلام
جن خواتین نے ابتدائی الزام لگایا وہ قاری صاحب کی بیگم سے قران پڑھتی ہیں، چیف جسٹس
قاری صاحب ایف آئی آر درج کروانے کے لیے 5 دن کیوں سوچتے رہے، چیف جسٹس
5 دن میں قاری صاحب نے ایک وکیل سے درخواست لکھوائی، چیف جسٹس
قاری صاحب کہتے ہیں کہ وہ وکیل کو نہیں جانتے، چیف جسٹس
کہیں وہ وکیل صاحب آپ ہی تو نہیں تھے، چیف جسٹس کا قاری سلام کے وکیل سے مکالمہ
قاری سلام کے بیان کے مطابق گاؤں والے اکٹھے ہوئے پھر ایف آئی آر درج ہوئی، چیف جسٹس
گواہوں کے بیانات کی حیثیت بھی تو دیکھیں، چیف جسٹس
قاری سلام نے حلف پر جو بیان دیا وہ پہلے بیان سے مختلف تھا، چیف جسٹس
ایسا مدعی ہے جس کو یہ نہیں پتہ کہ اس کی درخواست کس نے لکھی، چیف جسٹس
پھر ان کو کیسے پتا چلا کہ یہ الفاظ کہے گئے، چیف جسٹس
کیا اسلام کی یہ تصویر پیش کر رہے ہیں، چیف جسٹس
کیا اس طرح کے گواہ ہوتے ہیں، چیف جسٹس
سب گواہان کے بیانات میں واضح تضادات ہیں، چیف جسٹس
اور آپ سارا پاکستان بلاک کردیتے ہیں کہ ہماری بات کیوں نہیں مانی گئی، چیف جسٹس
الزام لگاتے ہیں کہ ایسے لوگ ہیں کہ بری کردیا، چیف جسٹس
اپنے گریبان میں بھی تو جھانکیں کیس کیا بنایا ہے، چیف جسٹس
بشکریہ پاکستان 24۔


