ہالینڈ کا ہینڈسم وزیراعظم اور دیانت دار گائے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 1.1K
  •  

ہالینڈ کے پچھلے وزیراعظم مارک رٹ سائیکل پر دفتر جایا کرتے تھے۔ ان کی تصاویر مشہور ہوئیں کہ دیکھو کتنا سادہ وزیراعظم ہے، پروٹوکول نہیں لیتا۔ بلکہ کسی دوسرے ملک کا حکمران بھی ان سے ملنے جاتا تو وہ اسے سائیکل چڑھا دیتے۔ نریندر مودی کے ساتھ بھی یہی کیا گیا تھا۔ لیکن یہ پرانے وقتوں کی بات ہے۔ ہالینڈ کے نئے وزیراعظم نہ صرف مارک رٹ سے زیادہ کفایت شعار ہیں بلکہ ان سے کہیں زیادہ معاشی سینس رکھتے ہیں۔

ہالینڈ کے نئے وزیراعظم بو ویلنڈر کا نام آپ نے سن رکھا ہو گا۔ وہ فٹنس کانشئس ہیں اور جوانی میں ہاکی کھیلتے تھے۔ لیکن وہ سائیکل پر دفتر نہیں جاتے۔ انہوں نے قدیم و جدید کا ایک حسین امتزاج پیدا کیا ہے۔ صبح سویرے وہ اٹھتے ہیں، منہ ہاتھ دھو کر اپنے گھر کے گیراج میں جاتے ہیں۔ وہاں انہوں نے ہالینڈ کی مایہ ناز فریزین گائے رکھی ہوئی ہے۔ فریزین نسل نے ہالینڈ والوں کو دودھ دہی کی فکر سے بے نیاز کر دیا ہے۔ بو ویلنڈر گائے کو اپنے ہاتھوں سے چارہ ڈالتے ہیں، پانی پلاتے ہیں، اس کی نرم نرم کھال پر برش مارتے ہیں اور پھر پالش مار کر اسے چمکا دیتے ہیں۔ وہ اپنے ملک پر فخر کرتے ہیں اور اس کی مقامی پیداوار کی قدر کرتے ہیں۔

اس کے بعد وہ منہ ہاتھ دھو کر وزیراعظم کا فارمل لباس پہنتے ہیں۔ کالے بوٹ، لمبی جرابیں، سفید شرٹ اور نیکر کے اوپر گیلس۔ پھر ناشتہ کر کے گیراج سے اپنی فریزین گائے نکالتے ہیں اور اس پر سوار ہو کر پندرہ منٹ میں پرائم منسٹر کے دفتر پہنچ جاتے ہیں۔ جیسے ہی ان کی گائے وزیراعظم ہاؤس پہنچتی ہے تو چاق و چوبند گارڈ ان کو سلامی پیش کرتے ہیں۔

ادھر گائے کو پارکنگ سٹینڈ سے باندھ کر بالٹی پکڑتے ہیں اور گائے کا دودھ دوہتے ہیں۔ اگر ملک کا وزیراعظم ایماندار ہو تو گائے بھی بغیر کسی ہچر مچر کے 40 لیٹر دودھ دے دیتی ہے۔ جن ممالک کے وزیراعظم کرپٹ ہوں ادھر کی گائے مشکل سے 6 لیٹر دودھ دے پاتی ہے۔

دس لیٹر دودھ سے دن بھر کے لیے چائے کافی بنتی ہے۔ جو مہمان آتا ہے اسے دودھ پتی بنا کر پلائی جاتی ہے۔ بقیہ تیس لیٹر دودھ بیچ کر دفتر کے اخراجات از قسم ملازمین کی تنخواہیں اور بجلی کے بل ادا کیے جاتے ہیں۔ دودھ بیچنے سے پہلے مکھن نکال لیا جاتا ہے کیونکہ ہالینڈ کے لوگ فٹنس کا بہت خیال رکھتے ہیں اور سکمڈ ملک پیتے ہیں۔ مکھن بیچ کر جو رقم بھی ملتی ہے وہ وزیراعظم کی ذاتی تنخواہ شمار ہوتی ہے۔ چالیس لیٹر دودھ سے دن کا کوئی دس کلو مکھن نکل آتا ہے کیونکہ حکمران ایماندار ہو تو نیچے گائے تک سب ٹھیک ہو جاتے ہیں اور کوئی ہیرا پھیری نہیں کرتے۔ اس کے بعد گائے کو پرائم منسٹر آفس کے لان میں چھوڑ دیا جاتا ہے جہاں وہ شام تک چرتی ہے۔ یوں اس کی خوراک پر قوم کا ایک دھیلہ تک خرچ نہیں ہوتا۔

شام کو وزیراعظم بو ویلنڈر اپنے دفتر سے نکلتے ہیں اور گائے پر بیٹھ کر واپس اپنے گھر چلے جاتے ہیں۔ گائے کو گیراج میں باندھتے ہیں اور اس کے بعد ملک بھر سے رپورٹ وصول کرتے ہیں کہ آج ہالینڈ کی ہر گائے نے اوسطاً کتنا دودھ دیا اور اس کے حساب سے اپنی گائے کا احتساب کرتے ہیں۔

ہالینڈ کی معیشت کا بیشتر بوجھ اس کی ایسی ہی ملکی پیداوار اٹھاتی ہے۔ ٹیولپ نامی پھول کو دساور بھیجا جاتا ہے۔ سیاحوں کو ہر گلی کوچے میں ارزاں داموں پر چرس مہیا کی جاتی ہے۔ فریزین گائے کا دودھ مکھن ایکسپورٹ کیا جاتا ہے۔ اور بجٹ کا باقی خسارہ ایمسٹرڈم کے ریڈ لائٹ ایریا سے پورا کر لیا جاتا ہے۔

جبکہ ہمارے ملک میں صورت حال یہ ہے کہ ستر برس تک کرپٹ قیادت کا شکار رہنے کے باعث ملکی معیشت تباہی کا شکار ہے۔ حکمرانوں کے اللوں تللوں اور شاہی خرچوں نے قومی خزانہ خالی کر دیا ہے جو تھوڑا بہت قرضہ ادھر ادھر سے ملتا ہے اسے عیاشیوں میں اڑا دیا جاتا ہے۔ کس دلگرفتگی سے عمران خان نے فرمایا ہے کہ ”ہمارے کسان گائے سے 6 لیٹر دودھ لیتے ہیں، ہالینڈ میں 40 لیٹر لیتے ہیں“۔ اکیلا کپتان کیا کیا ٹھیک کرے گا، ہمارے ملک کی تو گائے تک کرپٹ ہے۔

اگر ایک پاکستانی گائے بھی دن کا چالیس کلو دودھ دینے لگے تو اس کا پاکستانی مالک سو روپے کلو کے حساب سے دن کے دس ہزار روپے کما سکتا ہے۔ مرغی انڈے سے یہ کاروبار بہتر ہے کیونکہ مرغی انڈے کو اپنی محنت سے دو ڈھائی گنا کرنا ناممکن ہے۔ اب جیسی صاف شفاف اور ہینڈسم قیادت ہمیں میسر ہوئی ہے تو ہم امید کرتے ہیں کہ ہماری پاکستانی گائے ایمانداری سے چالیس کیا پورا ساٹھ لیٹر دودھ دیا کرے گی۔ بفرض محال کچھ کمی رہ بھی گئی تو وہ گائے کا مالک پوری کر دے گا۔ بس چند دن ہمیں برداشت کرنا ہو گا۔ ہمیں حوصلہ نہیں ہارنا چاہیے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 1.1K
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1117 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar