کیا یہ دنیا آزاد ہے؟
صبح کے گیارہ بج رہے تھے اسٹینڈ بائے مکمل ہوچکا تھا اور میں عموماً اس وقفے میں نیوز روم جایا کرتی ہوں۔ آج ہر روز کی طرح یہی سوچا کہ بقیہ آرٹیکل پڑھوں گی اور 12 بجے کے بلیٹن کے لگے رن ڈاون پر ایک نظٖر ڈالوں گی تاکہ آج کے اہم ایشو کے بارے میں تیاری کر لی جائے۔ اس بات کو سوچتے ہوئے اسٹوڈیو سے اٹھی اور نیوز روم کا رخ کیا۔ نیوز روم پہنچ کر اپنی نشست کے قریب پہنچی تو ان پٹ ہیڈ اور انٹرنیشنل ڈیسک کے ایک صاحب کسی اہم ایشو پر تبادلہ خیال کر رہے تھے، ۔
سلام کرنے کے بعد مناسب یہی سمجھا کہ ان اشخاص کے پاس بیٹھا جائے۔ اور جو موضوع زیر بحث ہے اسے سنا جائے۔ چونکہ وہ ایک انٹرنیشنل ٹاپک پر گفتگو کر رہے تھے اس لئے شغف بڑھ گیا۔ موضوع تھا کہ 17 سال سے امریکہ نے جو کچھ بھی افغانستان میں کیا ہے اس کے بعد کیا افغانستان اپنی اصل حالت میں واپس آپائے گا؟ باتیں ہوتی رہیں او میں بھی یہ گفتگو غور سے سنتی رہی۔ اس ساری گفتگو میں جو ایک بات توجہ طلب تھی اس نے مجھے سوچنے اور لکھنے پر مجبور کردیا۔ یونہی ایک سوال اٹھا کہ کیا واقع ہی یہ دنیا آزاد ہے؟
پہلی جنگ عظیم کے بعد 10 جنوری 1919 کو لیگ آف نیشن کا قیام عمل میں آیا۔ جس کے ابتدائی 42 رکن ممالک تھے۔ اس کا مقصد امن کی پاسداری تھی۔ مگر اس لیگ کی ناکامی دوسری جنگ عظیم کے رونما ہونے سے کھل کر سامنے آگئی۔ چونکہ دوسری جنگ عظیم نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی اور مزکورہ ممالک کو مجبور کیا کہ وہ مل کر ایک ایسی تنظیم کا قیام ممکن بنائیں کہ جس سے یورپ واپس بحالی کی جانب جائے۔ اس ضمن میں سن فرانسسکو نے 50 ممالک جن میں امریکہ بھی شامل تھا۔
مل کر بیٹھے اور ایک میثاق تیارکیا۔ اور اس طرح 24 اکتوبر 1945 کو اقوام متحدہ کا وجود عمل میں آیا۔ شروع میں اس کے صرف 51 رکن ممالک تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس کے 193 رکن ممالک ہیں۔ اقوام متحدہ نے ڈی کالونائزیشن پر کام کیا اور کئی ممالک نے اس تسلسل میں آزادی حاصل کی۔ بہتری کا آغاز ہوا لیکن صرف امریکہ اور یورپ کے لئے۔ 29 نومبر 1947 کو اقوام متحدہ کا ایک سیاہ فیصلہ سامنے آیا۔ اور فلسطین کی سرزمین پر اسرائیل کے وجود کی منظوری دی گئی۔
وقت گزرتا گیا اور اقوام متحدہ کی بے بسی سامنے آتی گئی۔ 1947 سے لے کر ابتک ایک جنت نظیر وادی میں بھی روز خون کی ہولی کھیلی جاتی ہے۔ اقوام متحدہ کی تنظیم انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس اس پر بھی سیرے ہی خاموشی اختیار کیے یوئے ہیں جیسے فلسطینی مسئلے پر۔ لیکن ابھی معاملہ یہیں تھما نہیں۔ 11 / 9 کا واقعہ روہنما ہوتا۔ انسانی جانوں کے زیاں پر افسوس کا اظہار ہوتا ہے مگر اس کے نتیجے میں اقوام متحدہ میں متفقہ طور پر بل پاس ہوتا ہے۔
اور یہ بات طے کی جاتی ہے کہ دنیا کو دہشت گردی سے نجات دلائے گا امریکہ۔ ایک جنگ کا آغاز ہوتا ہے جس کو آپریشن اینڈیورنگ فریڈم کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ جنگ بظاہر طور پر طالبان کے خلاف ہوتی ہے مگر وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ امریکی محرکات بے نقاب ہوتے چلے جاتے ہیں۔ آج اس جنگ کو 17 سال بیت چکے ہیں۔ گوکہ امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معائدہ طے پا گیا ہے، ۔ اور 18 مہینے بعد امریکی فوجی انخلاء بھی شروع ہو جائے گا مگر ان 17 سالوں میں ”کاسٹ آف وار“ پراجیکٹ کے تحت براون یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق 2001 سے 2017 تک تقریباً ایک لاکھ 70 ہزار عام افغان شہری اس جنگ کی نظر ہوئے ہیں۔
2018 کے آٹھ مہینوں میں 8 ہزار 425 لوگ مارے گئے۔ ہزاروں کی تعداد میں افغان شہریوں نے نقل مکانی بھی کی ہے۔ اتنا ہی نہیں نام نہاد امن کے قیام میں امریکہ نے عراق میں بھی خون کی ندیاں بہائی ہیں 2003 میں شروع ہونے والی جنگ میں 2 لاکھ 5 ہزار 217 افراد موت کی آغوش میں چلے گئے جس پر امریکہ کی ہزار مرتبہ مانگی گئی معافی بھی قابل قبول نہ تھی۔ بش، باراک اور اب ٹرمپ ان تمام چہروں میں دنیا کو صرف خوف ہی ملا ہے۔
تو پھر بچنا کس سے چاہیے؟ کس نے اس دنیا میں زیادہ قتل و غارت کی ہے۔ کس نے کولیٹرل ڈیمیج کے نام پر بے گناہوں کا خون بہا یا ہے، ۔ کس نے امریکہ کو جرات دی ہیں کہ وہ افغانستان اور عراق میں گھس کر ان کے استحکام کو برباد کرے۔ ؟ اور پھر یہ راگ الاپا جائے کہ دنیا آزاد ہے۔ کس نے امریکہ کو یہ حق دیا ہے کہ وہ پاکستان کو اقلیتی حقوق سلب کرنے والے ممالک کی فہرست میں ڈالے اور بھارت میں مسلمانوں کے قتل عام پر چپ سادھ لے۔
کیا اقوام متحدہ کو یہ چیزیں نظر نہیں آتیں۔ عورتوں کے حقوق کے تحفط کی بات کرنے والے اقوام متحدہ کو افغانستان میں امریکی فوجیوں کے ہاتھوں وہاں کی عورتوں کی عزت سے کھواڑ دکھائی نہیں دیتا ”۔ بچیوں کے تحفظ پر آواز اٹھانے والی اقوام متحدہ کو نیٹو بمباری سے مرنئے والے معصوم بچیوں کی روتی ماؤں کے آنسو نظرنہیں آتے؟
مذہبی حقوق کی آزادی کی بات کرنے والی اقوام متحدہ کو فلسطینی زمین لال نظر نہیں آتی؟ جب آپ ناحق قتل و غارت نہیں روک سکتے، مذہبی استحصال نہیں روک سکتے، عورتوں کی بے حرمتی نہیں روک سکتے، تو آج کی دنیا آزاد ہے کی گردان کیسی؟ الفاط تک محدود آزادی دنیا کے لئے نہیں بلکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لئے ہے۔


