سوتیلی ماں کے جیسی ریاست؟
ریاست کا درجہ ماں کا ہوتا ہے۔ عام آدمی کی زندگی کی حفاظت کی ذمہ دار ریاست ہوتی ہے۔ تازہ ترین سانحہ نے یہ ظاہر کردیا ہے، اس ملک میں عام آدمی کتنا محفوظ ہے۔ مزید ضروری ہو گیا ہے، اگر آپ کوئی مرسیڈیز یا مہنگی گاڑی میں سفر کریں تو شاید محفوظ رہ سکیں گے۔ ورنہ تین چار لاکھ کی پرانی تھکی ہاری گاڑی کو دیکھ کے آپ کی اوقات بھی پتہ چل جائے گی۔ سرعام آپ کو چند فٹ کے فاصلے سے بھاری مشین گنوں کے ساتھ کہیں بھی مکئی کے بھٹے کی طرح بھونا جا سکتا ہے۔
پاپ کارن کے دانوں کی طرح آپ پھولے ہوئے بھی مل سکتے ہیں، کسی اندھے کنویں میں یا کسی گندے نالے میں۔ ریاست کی کیا ذمہ داری یہ تو ہم عام آدمی ہونے کے ناطے نہ بتا سکتے ہیں نہ لکھ سکتے ہیں۔ اب تو ماشائاللہ سے بڑے بڑے لکھاری جنہیں پڑھ پڑھ کے ہمیں لکھنے کی عادت ہوئی وہ بھی اب پریوں کے دیس، ٹارزن اور منکو، سیر گاہوں چراگاہوں کی باتیں لکھ کے اخبارات کے خالی صفحے پورے کرتے ہیں۔ ہر کوئی اپنی جان بچا رہا ہے، دانہ پانی چلا رہا ہے۔
اسی دانہ پانی والے ملک میں ایک معصوم محنتی خاندان مطمئن، خوش و خرم زندگی گزار رہا تھا۔ کوئی دو مہینوں سے شادی کی تیاریاں زور شور پہ چل رہی تھیں۔ غریب شوہر دن میں مزدوری واپس گھر پلٹنے پہ بیوی کی لمبی باتیں سننے کے لیے تیار ہوتا تھا۔ جس میں سب سے زیادہ تر خلیل میاں کے بھائی کی شادی اور شاپنگ کے باتیں، ساتھ میں بیوی بچوں کی خواہشات کی لمبی لسٹ ہوتی تھیں۔ یہ بیٹیاں بھی بہت پیاری، روح کا سکون ہوتی ہیں۔
رب نے مرد کا پہلا پیار بھی عورت رکھا اور آخری بھی۔ بس یہ عورت بھی مرد کی محبت کا اظہار، ہمیشہ مرد کی خدمت کرکے دیتی ہے۔ ماں بن کے اپنا خون پلا کے بیٹا جوان کرتی ہے، بہن بن کے اس ہیرو کے ناز نخرے اٹھاتی ہے، بیوی بن کے اس کے بچوں کی نوکرانیوں کی طرح خدمت کرتی ہے۔ جب مرد کے سب سہارے بوڑھے ہو جائیں، تو مرجانی عورت بیٹی بن کے اس کی خدمت میں لگ جاتی ہے۔ یہ عورت تو بس بنی ہی محبت نچھاور کرنے کے لیے قربانی کے لیے۔
خلیل صاحب بھی تین بیٹیوں کے باپ تھے۔ ان کی چھوٹی چھوٹی خواہشات پوری کرتے ایک پیاری زندگی گزار رہے تھے۔ شادی کی خوشی میں شریک ہونے کے لیے بچوں کی خواہش پہ ایک کار بھی بک کی، تا کہ گاؤں میں شادی کے موقع پہ بیوی، بچوں کو کسی قسم کے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ خوشی کے نغمے گاتا یہ خاندان اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھا۔ جب ناکہ عبور کر کے یہ لوگ آگے بڑھ رہے تھے، کہ پنجاب پولیس کے بہادر جوانوں نے انتہائی تیزی سے اس چھوٹی سی بیچاری کار کو روکا۔
بہادر کمانڈوز نے ان معصوم دہشت گردوں پہ ایسا حملہ کیا، انہیں سنبھلنے کا موقع ہی نہیں دیا۔ عزرائیل بھی حیران تھا، اس کی لسٹ میں ان معصوموں کا نام درج نہیں تھا۔ پنجاب پولیس کے عزرائیلوں کے حملوں نے اصل عزرائیل کو بھی حیرت میں ڈال دیا، ہم مار سکتے ہیں ہم نے بیشمار لوگوں کو بغیر لسٹ کے مارا ہے نقیب اللہ ہو یا خلیل شہید کا خاندان۔ کوئی بھی کہیں بھی مر سکتا ہے۔ مگر قدرت حیران رہ گئی اور ایک عظیم مثال دے گئی وہ تمام لوگ شہید ہو گے جو ماں کی گود میں نہیں تھے۔
صرف تین معصوم محفوظ رہے جنہیں ماں نے اپنی گود میں سمو لیا تھا، ہائے افسوس! کہ ایک تیرہ سالہ بیٹی نہ بچ سکی۔ اس کا آدھا جسم بھی چھلنی نہیں ہوا تھا، جو ماں کی گود میں تھا۔ اصل ماں نے جگر کے ٹکڑے محفوظ کر کے دیکھا دیے۔ جن کے کپڑوں پہ خون کے دھبے ان کی ماں کی قربانی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ریاست جو ماں ہے اس نے اپنی ذمہ داری عام آدمی کے لیے کتنی نبھائی ہے اس کا ثبوت ہمیں نقیب اللہ محسود کے بے گناہ قتل، راؤ انوار کی رہائی نے بھی بتا دیا ہے۔ اب امتحان ہے! ان معصوموں کا ہے، جو بن ماں کی گود زندگی گزاریں گے۔ اور ریاست کی گود تو پہلے ہی عام آدمی کے لیے کیسی ہے، ہم سب اس پہ ضرور سوچیں؟
ماواں باجو باز نئیں چک دے
ٹورے بوٹی کھو لیندے نے
کلے بچے جد پاندے نے


