غزہ اسرائیل جنگ

تقریباً دو سال کے بعد بلاگ لکھنے کی کوشش کی۔ بوجہ روزگار لکھنے کا کام صرف ریسرچ آرٹیکل تک رہ گیا ہے۔ مگر کچھ دنوں سے گھٹن اس قدر ہو چکی ہے کہ قلم اٹھانے پہ مجبور ہو گیا۔ بہت سے دوست اور شاگرد غزہ، اسرائیل جنگ پہ تصاویر اور دکھ شیئر کرتے ملتے ہیں۔ سوچا میں بھی وہ کچھ لکھ دو جو میری ذاتی سوچ ہے۔ آپ کو اختلاف ہو سکتا ہے۔ برائے مہربانی گالی مت دیجئے گا۔ میرے

Read more

پیلا صحافی اور مارشل لاء کے فضائل

 بیرون ممالک باقاعدہ مہ نوشی کےلیے باقاعدہ میکدے بنے ہیں۔ جو میکدہ کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے اپنے گھر میں پیتے ہیں۔ لڑکھڑاتے جسم اور بیوقوفانہ باتیں کرتے بہت کم لوگ عوامی جگہ پہ دیکھے جاتے ہیں ۔ جبکہ پاکستان جیسے اسلامی ملک میں میکدوں پہ پابندی ہے۔ مذہب میں ویسے بھی نشہ حرام ہے، مگر پھر بھی لوگ نشہ کرتے ہیں۔ نشہ کرنے کے بعد یہی لوگ مین سٹریم میڈیا پہ آکے کچھ بھی اناب شناب بک جاتے ہیں۔

Read more

ماں بولی سے کھلواڑ

والدہ نے ہمیں اردو سکھانے کی بہت کوشش کی، مگر کامیاب نہ ہو سکیں۔ میرے بعد امی نے چھوٹے بھائی پہ اپنی بھرپور توانائی خرچ کی، جو بعد ازاں کارگر ثابت ہوئی۔ اس کا یہ فائدہ ہوا، تحصیل شکر گڑھ میں چند بچے اردو بولتے تھے۔ اس میں ہمارے خاندان کا نام بھی آ گیا۔ ہماری خالائیں فادی کو خصوصی طور پہ لے کے جاتی تھیں۔ بعض اوقات تو فادی کی بکنگ ڈیٹس اوور لیپ ہوجاتی تھیں۔ کبھی کبھار شوخی کے چکر میں، میں فادی کو ذاتی درخواست پہ اپنے دوستوں کے پاس اردو سنانے کے لیے لے کے جاتا تھا۔

Read more

بٹنوں والا موبائل نظام بدلنا ہو گا

جس طرح موبائل ٹیکنالوجی ترقی کی منازل طے کرتی کرتی، بٹنوں سے ٹچ سکرین تک آ گئی۔ بالکل اسی طرح دنیا کے آرڈر و قوانین بدلتے اور ترقی کرتے رہے۔ جیسے انگلستان برصغیر سے جان چھڑانے کے لیے بہت سے معاملات میں الجھا تھا، وہیں جنگ عظیم دوئم کے بعد سب سے پہلے برطانیہ بھی اہم ستون ثابت ہوا۔ یعنی برطانیہ بچاؤ یا برصغیر بچاؤ۔ قوم پرست تھیوری نے کام کیا، جس وجہ سے ہمارے لوکل لوگ ہیرو بن گے۔

Read more

غیر روبوٹ مردوں سے ہماری جان چھڑائی جائے

آج صبح صبح عابد کی کال آ گئی۔ جلدی جلدی میرے گھر پہنچو، والدہ کو ہسپتال لے کے جانا ہے۔ بوجہ ذاتی مصروفیت معذرت کرلی، مگر اس وعدے کے ساتھ کہ میں شام کو تیمارداری کے لیے آؤں گا۔ وعدے کے مطابق شام کو عابد کے پاس پہنچ گیا۔ عابد مجھے سیدھا اپنی والدہ کے کمرے میں لے گیا۔ کمرہ کیا تھا، ہسپتال کا ICU، جس میں آنٹی زندہ لاش کی طرح مکمل مصنوعی نظام تنفس اور انہضام پہ چل

Read more

ولائتی اور دیسی یہودی

ہماری یونیورسٹی میں ایک خطیم نام کا فلسطینی پڑھتا تھا۔ بہت جاندار ریسرچر ہے۔ لگاتار دو سال سے یونیورسٹی کا سٹوڈنٹ آف ائر کا ایوارڈ جیتتا آیا ہے۔ ہاربن انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی چین سمیت دنیا بھر کی چند بہترین درسگاہوں میں ہے۔ یہاں ایوارڈ کے لیے انتہائی کڑے معیار سے گزرنا پڑتا ہے۔ خطیم اب بیجنگ انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں اسسٹنٹ پروفیسر ہے ‌۔ خطیم سے ایک دن ملاقات ہوئی۔ میرے لیے ویسے بھی ایسے سپر سٹار لوگوں سے ملنا

Read more

آل مائٹی

آج پھر مجھے ہیری بلڈنگ کی پچھلی سیڑھیوں میں سگریٹ پیتا نظر آیا۔ میں یہاں نماز پڑھنے کے لیے آتا ہوں۔ جونہی اس نے مجھے دیکھا تو ہنستا ہوا گرمجوشی سے میری طرف بڑھا، حال احوال کرنے کے بعد معافی مانگنا شروع ہو گیا۔ کہنے لگا، معذرت تمہاری عبادت کی جگہ میں سگریٹ پیتا ہوں۔ مگر کوشش کرتا ہوں یہ بڑی سی سیڑھی پہ جہاں تم یہ کپڑا (جائے نماز) بچھاتے ہو گندا نہ کروں۔ میں نے جواب میں شکریہ ادا کیا۔ ہیری نیچے سیڑھیوں کی طرف نکل گیا اور میں نماز پڑھنا شروع ہو گیا۔

جب میں نماز پڑھ کے پلٹا تو ہیری نے پھر مجھے روک لیا، اور کہنے لگا یہ تم کیا کرتے ہو۔ میں نے کہا کہ ہم اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ اس نے کہا کیوں کرتے ہو۔ تھوڑے توقف کے بعد ٹالنے کے لیے میں نے کہہ دیا، کہ ہم ‌اپنی انرجی (روح) کو خالص کرنے کے لیے ایک آل مائٹی انرجی سے کنیکٹ کرتے ہیں۔

Read more

ہر شاخ پہ ’منقول’ بیٹھا ہے

میں اکثر فیس بک پر ’منقول‘ کے حوالے سے لکھی ہوئی بہت سی پوسٹیں پڑھتا ہوں۔ کچھ ایسی پوسٹیں واٹس ایپ کے ذریعے بھی پہنچتی ہیں۔ تحقیق کی زبان میں صرف کاپی لکھ دینے کی کوئی اہمیت نہیں ہے بلکہ آپ اگر کسی کی شائع کردہ تحریر کو اپنے نام سے منسوب کریں تو آپ بلیک لسٹ ہو جاتے ہیں۔ بلکہ ترقی یافتہ ممالک میں آپ کی ڈگری تک ضبط ہو جاتی ہے۔ خیر، یہ کام ہمارے ملک میں ایک

Read more

محقق سے پراپرٹی ڈیلر تک کا سفر

میرے بھانجے نے ایک دن پوچھا۔ ماموں یہ چین والے کیسے لوگ ہیں۔ ایک دن گاڑی کے ٹائر تبدیل کروانے چاہ سلطان، راولپنڈی گیا۔ دکاندار کو پتہ چلا، کہ ہم چین میں ہوتے ہیں۔ کہنے لگا، یار چین والے بہت فراڈیے ہیں۔ ایک دن اپنی یونیورسٹی کی رینکنگ فیس بک کی وال پہ لگا دی۔ غضب خدا کا یونیورسٹی نے ایم آئی ٹی کو رینکنگ میں پیچھے دھکیلا ہوا تھا۔ ایک صاحب جو کسی پاکستانی درسگاہ میں پڑھا رہے ہیں

Read more

کتوں کی اقسام

ہمارے دادا کو تازی کتے رکھنے کا شوق تھا۔ وہ کتوں کی دوڑ کا انعقاد بھی کرواتے تھے۔ یہ دوڑنے والے کتوں کو پنجابی میں تازی کہتے ہیں۔ انگریزی میں گرے ہاؤنڈ کہتے ہیں۔ ان کا جسم بالکل قحط زدہ پتلا، لمبا ہوتا ہے۔ یہ تیتر اور خرگوش کے شکار کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ یہ پورا سال سکون‌مارتے ہیں۔ لیکن دسمبر سے لے کے فروری تک یہ مختلف ریس کے مقابلوں میں جان مارتے نظر آتے ہیں۔ دوسرے کتے بل ڈاگ ہوتے ہیں جن کی گلیڈی ایٹرز کی طرح لڑائی کروائی جاتی ہے۔

Read more

ٹیکنالوجسٹ کے حقوق کی جنگ

میٹرک کے بعد تین سال ٹیکنیکل ڈپلومہ کیا جاتا ہے۔ جسے ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹ انجنئیرنگ کہا جاتا ہے۔ کسی زمانے میں۔ جب انڈسٹریز ہوا کرتیں تھیں۔ ان انڈسٹریز کو ماہر ٹیکنیشنز کی ضرورت پڑتی تھی۔ انجنیئرنگ کرنے کے بعد وائٹ کالر نوکری کرنے والے باقاعدہ پریکٹیکل کام کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے تھے۔ جس بنا پہ یہ ڈپلومہ پاکستان میں متعارف کروایا گیا۔ آہستہ آہستہ انڈسٹری سکڑنا شروع ہو گئی تو اس تعلیم سے وابستہ لوگوں نے آگے پڑھائی کی طرف دیکھنا شروع کر دیا۔

Read more

جوڑو مت بس کاٹ دو

آج کل کاٹنے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ کاٹ کی نوعیت معمولی، گہری اور مکمل طور پہ الگ کرنا ہے۔ موجودہ کاٹ ٹرینڈ، ایک خاص جنس اور رویے کے لیے ہے۔ جس میں میری طرح کے بہت سے لوگ کاٹنے کے حق میں ہیں۔ کچھ درد دل رکھنے والے اس کاٹ کے خلاف ہیں۔ وہ کہتے ہیں ایسی کاٹ سے چیلوں کوؤں کے وزن بڑھ جائیں گے۔ لیکن معاشرے پہ اس کاٹ کا اثر نہیں ہو گا۔ قوم پہلے ذہنی طور پہ کٹ کے مفلوج ہے، بس ایک اور عذر کا اضافہ ہو جائے گا۔

Read more

چین میں لوٹے نہیں ہوتے

زندگی میں ہم نے ڈائیوو سے بڑی گاڑی نہیں دیکھی تھی۔ ویسے اسلام آباد سے شکر گڑھ ساری کھٹارا بسیں چلتی ہیں۔ اس لیے اپنے گاؤں کی طرف اچھی گاڑی میں جانے کا اتفاق کبھی نہیں ہوا۔ غریب آدمی بہت ترقی کرے تو موٹرسائیکل سے مہران پہ آ کے زندگی کی شام ہوجاتی ہے ‌۔ خیر میرے علاقے یہ بیڈ فورڈ بسوں کو وہی مقام حاصل ہے، جو حکومتی بنچوں میں اسد عمر کو حاصل ہے۔ خیر ہمارے علاقے میں میاں صاحب جلسہ کرنے ہیلی کاپٹر پہ آیا کرتے تھے۔

اب تو وہ ہمیں یوں نظر آتے ہیں، جیسے ہمارے علاقے میں بھولا بھٹکا جہاز آ جاتا تھا، تو تمام بچے چھتوں پہ چڑھ کے جاج ای اوئے ، جاج ای اوئے کے نعرے لگاتے ہیں۔ ہماری بھی بچپن سے اس دور اڑتے جہاز میں بیٹھنے کی تمنا تھی، جو خدا خدا کر کے دو ہزار سترہ میں پوری ہوئی۔

Read more

حلال اور حرام پیزا

دوست بتا رہا تھا سردیوں میں منفی چالیس تک درجہ حرارت گر جاتا ہے ‌۔ ستمبر میں جرسی پہننا شروع ہو جاتے ہیں۔ ہم تیرہ ستمبر کو لینڈ کر رہے تھے اس لیے حفظ ماتقدم ہم نے پہلی لینڈنگ اناؤنسمنٹ پہ جرسی پہن لی۔ ہمارا حال ویسے ہی تھا جیسے کراچی والے مری دیکھنے آتے ہیں۔ تو کراچی سے سویٹر پہن کے آتے ہیں ‌۔ اتر کے فون کیا تو دوست نے بتایا اس کی پروفیسر کے ساتھ میٹنگ ہے، اس لیے لینے نہیں آسکتا‌۔ خیر ترقی یافتہ ممالک میں بہترین جنگلہ بسیں (میٹرو) چلتیں ہیں۔

Read more

عزت ہے تو صرف ایک کامیاب فراڈیے کی

بڑے اعتماد کے ساتھ دفتر پہنچا۔ سامنے جیٹ کی طرح میز کے پیچھے ایک محترم صاحب بڑی سی گھومتی کرسی پہ براجمان تھے۔ پہلے تو شک ہوا غلطی سے جو در چھوڑ کے ریسرچر بنے تھے۔ بھٹک کے دوبارہ اسی آٹھ سے چار والی کسی کمپنی میں آ گے ہیں۔ ہمیں عینک ضرور لگی ہے مگر داخل ہوتے ہوئے ہم نے ڈاکٹر ع غ، ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ دال فے عین پڑھا تھا۔ محترم مکرم کی گردن کے سریے کو دیکھ کے ہمارا تذبذب بڑھتا جا رہا تھا کہ غلط جگہ گھس گے ہوں۔

اسی دوران کڑک دار آواز آئی، جی کدھر آئے ہیں۔ ابھی جواب ہمارے حلق میں تھا، کہ صاحب نے تیزی کے ساتھ ہاتھ گھنٹی کی طرف لپکایا۔ ہمیں لگا آج تو دبا کے کٹاس ہو گی۔ خیر اللہ بھلا کرے نائب قاصد کا جس نے ہمارے حصے کی ڈانٹ کھائی۔ بلکہ ایسے موقع پہ وہ مثال یاد آ گئی۔ کہنا بیٹی کو سمجھانا بہو کو ۔ نائب قاصد ہمیں باہر لے گیا اور کہا صاحب بہت غصے کے سخت ہیں۔ آپ باہر بیٹھیں میں دس منٹ کے بعد صاحب کو آپ کے بارے میں بتاتا ہوں۔

Read more

گدھے سے پونڈ تک کا سفر

گدھا حضرت انسان کے لیے ہمیشہ سے کارآمد رہا ہے۔ اس کا ذکر ہر کامیابی اور ناکامی میں اہم رہا ہے۔ البتہ ناکامی میں بھی گدھے کا کردار کبھی بھی غدار نہیں رہا۔ ہمیشہ تاریخ دانوں نے گھوڑوں اور کتوں کو وفاشعار بہادر بتایا، مگر کبھی بھی گدھے کے لیے کوئی اچھے الفاظ بیان نہیں کیے۔ یہی وجہ آج تک گدھا بغیر قصور کے ہر میڈیم میں۔ ذلیل رہا ہے۔ خیر ہم پینڈوؤں کے لیے گدھے ایک اہم عہدے پہ

Read more

لات منات عزی

پہلے زمانے میں بت پرستی ہوتی تھی۔ جیسے مشرکین مکہ کے یہ تین بت لات منات اور عزی مشہور ہیں۔ جن کا نام قرآن کی سورہ نجم میں آیا ہے۔ ( 19۔ بھلا تم نے لات اورعُزّی پر غور کیا ہے۔ 20۔ اور تیسرے ایک اور منات پر۔ 21۔ کیا تمھارے لیے بیٹے ہیں اور خدا کے لیے بیٹیاں۔ 22۔ یہ تو بہت بے ڈھنگی تقسیم ہوئی۔ 23۔ یہ محض نام ہیں جوتم نے اور تمھارے باپ دادا نے رکھ

Read more

غدار کیسے بنتے ہیں؟

غدار کا لفظ آج کل ہر جگہ کہا سنا جارہا ہے۔ غداری عام طور پہ اپنے حلف سے پھرنے کو کہا جاتا ہے۔ ملک کے راز دشمن کو دینے اور ان پہ مختلف فوائد حاصل کرنے۔ اس کے علاوہ ایسے عمل کرنا جس سے ملک یا ملکی آئین کو نقصان پہنچے، کو غداری کہتے ہیں۔ غداری کے کچھ خطابات سیاسی طور پہ دیے گے جن سے مختلف شخصیات فائدہ اٹھاتی رہی۔ فاطمہ جناح، باچا خان، بھٹو، بے نظیر، نواز شریف

Read more

طیفا ان ٹَربَل

طیفے پہ ماسٹر حشمت کو ہمیشہ غصہ رہتا تھا۔ طیفا پچھلے کوئی دس سال سے ایک کلاس میں بیٹھا متھا ماری کررہا تھا۔ طیفے کا مقصد دسویں پاس کر کے جج کا چپڑاسی لگنا تھا۔ طیفا پلیٹھی کا ایک ہی پتر تھا۔ بہنوں کا بھائی ہو کے کئی دفعہ طیفا بات میں بھی جھول مار جاتا تھا۔ جیسے بات کرتے کرتے اک دم طیفا کہہ دیتا ’ہائے نی میں مر گئی‘۔ دوستی کے معاملے میں بالکل نہلا تھا۔ اکلوتا ہونے

Read more

سیاست، گالیاں اور رشتے

میں نے تقریر کا ایک لفظ بھی نہیں سنا اور نہ سننا چاہتا ہوں۔ حقیقت میرے لیے کچھ پرائی نہیں۔ کیونکہ پاکستان میں بہترین تقریر تو ہر کوئی کر لیتا ہے، مگر افسوس کے ساتھ عمل نہیں۔ بھری جوانی میں اکثر جی ٹی روڈ اسلام آباد سے شکرگڑھ جاتے بیشمار معجون، پھکی بیچنے والے بہترین لطیفے، شعر سنا کے تقریر کرتے تھے، پوری بس ان کے الفاظ سے محظوظ ہوتی تھی۔ بغیر کرایہ کے ایسے بہت سے چورن فروش مفت

Read more

بیچاری بیوہ سفارتکاری

غریب بیوہ تین بچوں کے ساتھ تین دن سے بھوکی پیاسی تڑپ رہی تھی۔ چھوٹا چھے مہینے کا بچہ بھوک برداشت نہ کر سکا، انتقال کر گیا۔ بچے کے کفن دفن کے لیے محلے دار اکٹھے ہو گے۔ کھانا پینا بھی آنا شروع ہو گیا۔ معصوم بچے کی قربانی سے باقی دوبچے اور ماں کے کھانے کا بندوبست ہو گیا۔ مگر کچھ عرصے بعد دوبارہ پرانے بھوک کے دن شروع ہو گے۔ لوگوں نے وقت گزرنے کے ساتھ بھلا دیا۔

Read more

نمکین گلابی چوہا

دیہاتی کلچر میں عام آدمی کی برادری کے ساتھ ساتھ زمین، فصل اور مویشی کل متاع ہوتی ہے۔ اسی چیزوں پہ اس کے رتبے کا پتہ چلتا ہے۔ دیہاتوں میں جب کسی سے دشمنی ہو تو اسے پالنے کا ایک شوق ہوتا ہے۔ دشمن کے ہر وار کا جواب فصلوں کے پکنے تک دیا جاتا ہے۔ گاؤں میں پکی فصل کی کسان ایسے حفاظت کرتا ہے۔ جیسے ماں جوان بیٹی کی یا پھر شوہر اپنے موبائل کے پاس ورڈ کی۔ عام طور گاؤں میں بدلہ لینے کے لیے فصلوں کو آگ لگائی جاتی ہے۔

Read more

جو کروا رہا ہے امریکہ کروا رہا ہے

ملک کے ایک اہم ترین شخص پہ دوسرے ملک کی جاسوسی کا الزام لگا۔ بات عدالتوں تک پہنچ گئی مگر الزام ثابت نہ سکا۔ با عزت بری ہونے کے بعد اس محترم نے با عزت نوکری مکمل کی۔ ریٹائرڈ زندگی گزارنے امریکہ چلا گیا۔ کسی دن موصوف چہل قدمی کرتے کرتے کسی صحافی کے سامنے آ گئے۔ صحافی نے سوال کیا، حضرت واقعی میں آپ امریکہ کے لیے روس میں جاسوسی کرتے تھے اس نے اثبات میں سر ہلایا، اور کہا میرا کام اہم کرسیوں پہ نالائق آدمی تعینات کرنا تھا۔ اس لیے میرا کام انتہائی خطرناک مگر عوامی لحاظ سے ایک غیر اہم تھا اس لیے میں باعزت بری ہو گیا۔ ویسے ہمارے ملک کے اہم عہدیدار جن کی سیکورٹی پہ کھربوں خرچ کیے جاتے، سب امریکہ بہادر کے تھنک ٹینک بن کے باقی زندگی کا امریکہ میں مزہ لیتے ہیں۔

Read more

خود پسند معاشرہ

خود پسندی کو تمام ترقی یافتہ ممالک میں شدید ترین ناپسند کیا جاتا ہے۔ اس نفسیاتی مسئلہ پہ بہت زیادہ تحقیق ہو چکی ہے۔ نیلسن مینڈیلا کی بڑی اصطلاحات میں سے ایک خود پسندی کا خاتمہ بھی شامل تھا۔ اسی بنیاد پہ جنوبی افریقہ سمیت تمام ترقی یافتہ ممالک میں خود پسندی پہ سخت قوانین بنائے گے ہیں تا کہ عوام الناس ایسے نفسیاتی مریضوں سے دور رہ سکے اورکسی بھی ایسے ایکشن کا بروقت تدارک ہو سکے۔ ویسے تو اس کی بنیاد ابلیس نے رکھی تھی جب اس نے خود پسندی کی بنیاد پہ آدم کو سجدہ نہیں کیا۔

Read more

ترقی پذیر ممالک میں سرمایہ دارانہ نظام کے اثرات

برصغیر بہت سے مذاہب، زبانوں، تہذیبوں اور رنگوں کی حکمرانی کے زیر اثر رہا۔ آخر کار تاج برطانیہ نے برصغیر پہ اپنے پنجے گاڑے، جو کہ اس وقت کے سرمایہ درانہ نظام کی بہترین مثال تھی۔ بی بی سی پہ ایک رپورٹ تھی جس میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے مقاصد لکھے گے تھے۔ اس میں بڑا مقصد برصغیر کے مسالہ جات تھے۔ جو آج بھی آپ کو دنیا کے کسی کونے میں چلے جائیں برصغیر کے ہی ملیں گے۔ سرمایہ

Read more

قصور وار صرف مرد نہیں، عورت بھی برابر کی حصے دار ہے

زبان کے لفظوں کے بارے مخلتف کہاوتیں مشہور ہیں، جیسے تلوار سے تیز زبان، زبان کا لفظ کی واپسی نہیں، تیرا واپس وغیرہ، وغیرہ۔ اس سرمایہ دار معاشرے نے اس تکنیک کو بہت بہترین طریقے سے استعمال کر کے اپنے گاہکوں کو متوجہ کیا ہے۔ انہیں الفاظ کی بنا پر اب سیاسی قوتوں نے ایک دوسرے پہ گانے گا کے بہت جذباتی لوگوں کے دل موہ لیے ہیں۔ سنا ہے بدترین جرم جذبات سے کھیلنا ہوتا ہے۔ افسوسناک حد تک یہ کھیل ہمارے معاشرے میں ہر جگہ، طبقہ، رشتہ کھیل رہا ہے۔

Read more

طوائف اور انسانیت

طوائف ہمارے معاشرے میں دو تین پہلوؤں سے جانی جاتی ہے۔ طوائف کا اصل رول، اچھا گانا گانا، ناچنا اور اپنے جسم سے شتر بے مہاروں کے حیوانی جذبات کو تسکین پہنچاتی ہے۔ وہ رات بھر معاشرے کے منہ سر سانڈوں کو اپنے جذبات کی فصل کو بھر پور اجاڑنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں انسان کی حیوانیت کی کیفیت کو مکمل بدل کے انسانی شکل میں لانے والی شخصیت کو طوائف کہتے ہیں۔ وہ پوری رات حیوانوں کو انسان بنانے کی کوشش کرتی ہے اور صبح حیوانوں کی اجاڑی فصلوں اور زمینوں کو اچھے زمیندار کی طرح مکمل تیارکرتی ہے، تاکہ حیوان کسی کی کچی فصل کو تباہ برباد نہ کر دیں۔

Read more

ڈکٹیٹر معاشرہ اور سوال

ہمیں بچپن میں یہ سبق رٹایا جاتا ہے کہ بڑوں کی بات کو غور سے سنو، سوال مت کرو۔ سوال کرنے والا فرد بدتمیز تصور کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی فرد سوال کرنے کی عادت ختم نہ کرے تو اسے ایک بے ہودہ فرد کے طور پہ معاشرہ میں پہچانا جاتا ہے۔ سکول کی کلاس میں سوال کرنے والے کو استاد بھی طنزیہ مسکراہٹ سے دیکھتا ہے، کلاس فیلوز سوال کرنے والے کو کوئی بونگا تصور کرکے لگاتار اس کی عزت نفس مجروح کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں سوال کرنے والا دماغ ہمارے معاشرے میں ابنارمل سمجھا جاتا ہے۔ ایسے شخص پہ بعض اوقات کچھ فہم رکھنے والے لوگ ترس کھا کے، اسے ماہر نفسیات کو چیک کروانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اس طرح ایک ذہین قوم کا معمار ذہنی مریض بن کے روبوٹس کے ساتھ مس فٹ زندگی گزارتا ہے۔

Read more

سیاسی لیڈرشپ اور چمپیئن لیڈرشپ

لیڈر راہنما کو کہا جاتا ہے۔ یہ رہنما گروپ، کمپنی، علاقے وغیرہ وغیرہ، کو رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ فالورز کو کمپنی کے مقاصد بتانا، اس پہ عمل کرنا اور کروانا کی ذمہ داری لیتا ہے۔ لیڈرشپ کی قسموں میں سے دو قسم ہوتی ہے، سیاسی لیڈرشپ اورچمپئن لیڈرشپ۔ سیاسی لیڈرشپ کے کچھ بنیادی جزو ہیں جن میں اہم یہ ہیں۔ ایماندار، سچا، درد دل رکھنے والا، پر اعتماد، نرم مزاج۔ طاقت کو عوام تک پہنچانے والا جس میں عوام کا

Read more

سوتیلی ماں کے جیسی ریاست؟

ریاست کا درجہ ماں کا ہوتا ہے۔ عام آدمی کی زندگی کی حفاظت کی ذمہ دار ریاست ہوتی ہے۔ تازہ ترین سانحہ نے یہ ظاہر کردیا ہے، اس ملک میں عام آدمی کتنا محفوظ ہے۔ مزید ضروری ہو گیا ہے، اگر آپ کوئی مرسیڈیز یا مہنگی گاڑی میں سفر کریں تو شاید محفوظ رہ سکیں گے۔ ورنہ تین چار لاکھ کی پرانی تھکی ہاری گاڑی کو دیکھ کے آپ کی اوقات بھی پتہ چل جائے گی۔ سرعام آپ کو چند

Read more