طیفا ان ٹَربَل

طیفے پہ ماسٹر حشمت کو ہمیشہ غصہ رہتا تھا۔ طیفا پچھلے کوئی دس سال سے ایک کلاس میں بیٹھا متھا ماری کررہا تھا۔ طیفے کا مقصد دسویں پاس کر کے جج کا چپڑاسی لگنا تھا۔ طیفا پلیٹھی کا ایک ہی پتر تھا۔ بہنوں کا بھائی ہو کے کئی دفعہ طیفا بات میں بھی جھول مار…

Read more

سیاست، گالیاں اور رشتے

میں نے تقریر کا ایک لفظ بھی نہیں سنا اور نہ سننا چاہتا ہوں۔ حقیقت میرے لیے کچھ پرائی نہیں۔ کیونکہ پاکستان میں بہترین تقریر تو ہر کوئی کر لیتا ہے، مگر افسوس کے ساتھ عمل نہیں۔ بھری جوانی میں اکثر جی ٹی روڈ اسلام آباد سے شکرگڑھ جاتے بیشمار معجون، پھکی بیچنے والے بہترین…

Read more

بیچاری بیوہ سفارتکاری

غریب بیوہ تین بچوں کے ساتھ تین دن سے بھوکی پیاسی تڑپ رہی تھی۔ چھوٹا چھے مہینے کا بچہ بھوک برداشت نہ کر سکا، انتقال کر گیا۔ بچے کے کفن دفن کے لیے محلے دار اکٹھے ہو گے۔ کھانا پینا بھی آنا شروع ہو گیا۔ معصوم بچے کی قربانی سے باقی دوبچے اور ماں کے…

Read more

نمکین گلابی چوہا

دیہاتی کلچر میں عام آدمی کی برادری کے ساتھ ساتھ زمین، فصل اور مویشی کل متاع ہوتی ہے۔ اسی چیزوں پہ اس کے رتبے کا پتہ چلتا ہے۔ دیہاتوں میں جب کسی سے دشمنی ہو تو اسے پالنے کا ایک شوق ہوتا ہے۔ دشمن کے ہر وار کا جواب فصلوں کے پکنے تک دیا جاتا ہے۔ گاؤں میں پکی فصل کی کسان ایسے حفاظت کرتا ہے۔ جیسے ماں جوان بیٹی کی یا پھر شوہر اپنے موبائل کے پاس ورڈ کی۔ عام طور گاؤں میں بدلہ لینے کے لیے فصلوں کو آگ لگائی جاتی ہے۔

Read more

جو کروا رہا ہے امریکہ کروا رہا ہے

ملک کے ایک اہم ترین شخص پہ دوسرے ملک کی جاسوسی کا الزام لگا۔ بات عدالتوں تک پہنچ گئی مگر الزام ثابت نہ سکا۔ با عزت بری ہونے کے بعد اس محترم نے با عزت نوکری مکمل کی۔ ریٹائرڈ زندگی گزارنے امریکہ چلا گیا۔ کسی دن موصوف چہل قدمی کرتے کرتے کسی صحافی کے سامنے آ گئے۔ صحافی نے سوال کیا، حضرت واقعی میں آپ امریکہ کے لیے روس میں جاسوسی کرتے تھے اس نے اثبات میں سر ہلایا، اور کہا میرا کام اہم کرسیوں پہ نالائق آدمی تعینات کرنا تھا۔ اس لیے میرا کام انتہائی خطرناک مگر عوامی لحاظ سے ایک غیر اہم تھا اس لیے میں باعزت بری ہو گیا۔ ویسے ہمارے ملک کے اہم عہدیدار جن کی سیکورٹی پہ کھربوں خرچ کیے جاتے، سب امریکہ بہادر کے تھنک ٹینک بن کے باقی زندگی کا امریکہ میں مزہ لیتے ہیں۔

Read more

خود پسند معاشرہ

خود پسندی کو تمام ترقی یافتہ ممالک میں شدید ترین ناپسند کیا جاتا ہے۔ اس نفسیاتی مسئلہ پہ بہت زیادہ تحقیق ہو چکی ہے۔ نیلسن مینڈیلا کی بڑی اصطلاحات میں سے ایک خود پسندی کا خاتمہ بھی شامل تھا۔ اسی بنیاد پہ جنوبی افریقہ سمیت تمام ترقی یافتہ ممالک میں خود پسندی پہ سخت قوانین بنائے گے ہیں تا کہ عوام الناس ایسے نفسیاتی مریضوں سے دور رہ سکے اورکسی بھی ایسے ایکشن کا بروقت تدارک ہو سکے۔ ویسے تو اس کی بنیاد ابلیس نے رکھی تھی جب اس نے خود پسندی کی بنیاد پہ آدم کو سجدہ نہیں کیا۔

Read more

ترقی پذیر ممالک میں سرمایہ دارانہ نظام کے اثرات

برصغیر بہت سے مذاہب، زبانوں، تہذیبوں اور رنگوں کی حکمرانی کے زیر اثر رہا۔ آخر کار تاج برطانیہ نے برصغیر پہ اپنے پنجے گاڑے، جو کہ اس وقت کے سرمایہ درانہ نظام کی بہترین مثال تھی۔ بی بی سی پہ ایک رپورٹ تھی جس میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے مقاصد لکھے گے تھے۔ اس میں…

Read more

قصور وار صرف مرد نہیں، عورت بھی برابر کی حصے دار ہے

زبان کے لفظوں کے بارے مخلتف کہاوتیں مشہور ہیں، جیسے تلوار سے تیز زبان، زبان کا لفظ کی واپسی نہیں، تیرا واپس وغیرہ، وغیرہ۔ اس سرمایہ دار معاشرے نے اس تکنیک کو بہت بہترین طریقے سے استعمال کر کے اپنے گاہکوں کو متوجہ کیا ہے۔ انہیں الفاظ کی بنا پر اب سیاسی قوتوں نے ایک دوسرے پہ گانے گا کے بہت جذباتی لوگوں کے دل موہ لیے ہیں۔ سنا ہے بدترین جرم جذبات سے کھیلنا ہوتا ہے۔ افسوسناک حد تک یہ کھیل ہمارے معاشرے میں ہر جگہ، طبقہ، رشتہ کھیل رہا ہے۔

Read more

طوائف اور انسانیت

طوائف ہمارے معاشرے میں دو تین پہلوؤں سے جانی جاتی ہے۔ طوائف کا اصل رول، اچھا گانا گانا، ناچنا اور اپنے جسم سے شتر بے مہاروں کے حیوانی جذبات کو تسکین پہنچاتی ہے۔ وہ رات بھر معاشرے کے منہ سر سانڈوں کو اپنے جذبات کی فصل کو بھر پور اجاڑنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں انسان کی حیوانیت کی کیفیت کو مکمل بدل کے انسانی شکل میں لانے والی شخصیت کو طوائف کہتے ہیں۔ وہ پوری رات حیوانوں کو انسان بنانے کی کوشش کرتی ہے اور صبح حیوانوں کی اجاڑی فصلوں اور زمینوں کو اچھے زمیندار کی طرح مکمل تیارکرتی ہے، تاکہ حیوان کسی کی کچی فصل کو تباہ برباد نہ کر دیں۔

Read more

ڈکٹیٹر معاشرہ اور سوال

ہمیں بچپن میں یہ سبق رٹایا جاتا ہے کہ بڑوں کی بات کو غور سے سنو، سوال مت کرو۔ سوال کرنے والا فرد بدتمیز تصور کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی فرد سوال کرنے کی عادت ختم نہ کرے تو اسے ایک بے ہودہ فرد کے طور پہ معاشرہ میں پہچانا جاتا ہے۔ سکول کی کلاس میں سوال کرنے والے کو استاد بھی طنزیہ مسکراہٹ سے دیکھتا ہے، کلاس فیلوز سوال کرنے والے کو کوئی بونگا تصور کرکے لگاتار اس کی عزت نفس مجروح کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں سوال کرنے والا دماغ ہمارے معاشرے میں ابنارمل سمجھا جاتا ہے۔ ایسے شخص پہ بعض اوقات کچھ فہم رکھنے والے لوگ ترس کھا کے، اسے ماہر نفسیات کو چیک کروانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اس طرح ایک ذہین قوم کا معمار ذہنی مریض بن کے روبوٹس کے ساتھ مس فٹ زندگی گزارتا ہے۔

Read more