بڑے اعتماد کے ساتھ دفتر پہنچا۔ سامنے جیٹ کی طرح میز کے پیچھے ایک محترم صاحب بڑی سی گھومتی کرسی پہ براجمان تھے۔ پہلے تو شک ہوا غلطی سے جو در چھوڑ کے ریسرچر بنے تھے۔ بھٹک کے دوبارہ اسی آٹھ سے چار والی کسی کمپنی میں آ گے ہیں۔ ہمیں عینک ضرور لگی ہے مگر داخل ہوتے ہوئے ہم نے ڈاکٹر ع غ، ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ دال فے عین پڑھا تھا۔ محترم مکرم کی گردن کے سریے کو دیکھ کے ہمارا تذبذب بڑھتا جا رہا تھا کہ غلط جگہ گھس گے ہوں۔
اسی دوران کڑک دار آواز آئی، جی کدھر آئے ہیں۔ ابھی جواب ہمارے حلق میں تھا، کہ صاحب نے تیزی کے ساتھ ہاتھ گھنٹی کی طرف لپکایا۔ ہمیں لگا آج تو دبا کے کٹاس ہو گی۔ خیر اللہ بھلا کرے نائب قاصد کا جس نے ہمارے حصے کی ڈانٹ کھائی۔ بلکہ ایسے موقع پہ وہ مثال یاد آ گئی۔ کہنا بیٹی کو سمجھانا بہو کو ۔ نائب قاصد ہمیں باہر لے گیا اور کہا صاحب بہت غصے کے سخت ہیں۔ آپ باہر بیٹھیں میں دس منٹ کے بعد صاحب کو آپ کے بارے میں بتاتا ہوں۔
Read more