خود پسند معاشرہ

خود پسندی کو تمام ترقی یافتہ ممالک میں شدید ترین ناپسند کیا جاتا ہے۔ اس نفسیاتی مسئلہ پہ بہت زیادہ تحقیق ہو چکی ہے۔ نیلسن مینڈیلا کی بڑی اصطلاحات میں سے ایک خود پسندی کا خاتمہ بھی شامل تھا۔ اسی بنیاد پہ جنوبی افریقہ سمیت تمام ترقی یافتہ ممالک میں خود پسندی پہ سخت قوانین بنائے گے ہیں تا کہ عوام الناس ایسے نفسیاتی مریضوں سے دور رہ سکے اورکسی بھی ایسے ایکشن کا بروقت تدارک ہو سکے۔ ویسے تو اس کی بنیاد ابلیس نے رکھی تھی جب اس نے خود پسندی کی بنیاد پہ آدم کو سجدہ نہیں کیا۔

Read more

ترقی پذیر ممالک میں سرمایہ دارانہ نظام کے اثرات

برصغیر بہت سے مذاہب، زبانوں، تہذیبوں اور رنگوں کی حکمرانی کے زیر اثر رہا۔ آخر کار تاج برطانیہ نے برصغیر پہ اپنے پنجے گاڑے، جو کہ اس وقت کے سرمایہ درانہ نظام کی بہترین مثال تھی۔ بی بی سی پہ ایک رپورٹ تھی جس میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے مقاصد لکھے گے تھے۔ اس میں…

Read more

قصور وار صرف مرد نہیں، عورت بھی برابر کی حصے دار ہے

زبان کے لفظوں کے بارے مخلتف کہاوتیں مشہور ہیں، جیسے تلوار سے تیز زبان، زبان کا لفظ کی واپسی نہیں، تیرا واپس وغیرہ، وغیرہ۔ اس سرمایہ دار معاشرے نے اس تکنیک کو بہت بہترین طریقے سے استعمال کر کے اپنے گاہکوں کو متوجہ کیا ہے۔ انہیں الفاظ کی بنا پر اب سیاسی قوتوں نے ایک دوسرے پہ گانے گا کے بہت جذباتی لوگوں کے دل موہ لیے ہیں۔ سنا ہے بدترین جرم جذبات سے کھیلنا ہوتا ہے۔ افسوسناک حد تک یہ کھیل ہمارے معاشرے میں ہر جگہ، طبقہ، رشتہ کھیل رہا ہے۔

Read more

طوائف اور انسانیت

طوائف ہمارے معاشرے میں دو تین پہلوؤں سے جانی جاتی ہے۔ طوائف کا اصل رول، اچھا گانا گانا، ناچنا اور اپنے جسم سے شتر بے مہاروں کے حیوانی جذبات کو تسکین پہنچاتی ہے۔ وہ رات بھر معاشرے کے منہ سر سانڈوں کو اپنے جذبات کی فصل کو بھر پور اجاڑنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں انسان کی حیوانیت کی کیفیت کو مکمل بدل کے انسانی شکل میں لانے والی شخصیت کو طوائف کہتے ہیں۔ وہ پوری رات حیوانوں کو انسان بنانے کی کوشش کرتی ہے اور صبح حیوانوں کی اجاڑی فصلوں اور زمینوں کو اچھے زمیندار کی طرح مکمل تیارکرتی ہے، تاکہ حیوان کسی کی کچی فصل کو تباہ برباد نہ کر دیں۔

Read more

ڈکٹیٹر معاشرہ اور سوال

ہمیں بچپن میں یہ سبق رٹایا جاتا ہے کہ بڑوں کی بات کو غور سے سنو، سوال مت کرو۔ سوال کرنے والا فرد بدتمیز تصور کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی فرد سوال کرنے کی عادت ختم نہ کرے تو اسے ایک بے ہودہ فرد کے طور پہ معاشرہ میں پہچانا جاتا ہے۔ سکول کی کلاس میں سوال کرنے والے کو استاد بھی طنزیہ مسکراہٹ سے دیکھتا ہے، کلاس فیلوز سوال کرنے والے کو کوئی بونگا تصور کرکے لگاتار اس کی عزت نفس مجروح کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں سوال کرنے والا دماغ ہمارے معاشرے میں ابنارمل سمجھا جاتا ہے۔ ایسے شخص پہ بعض اوقات کچھ فہم رکھنے والے لوگ ترس کھا کے، اسے ماہر نفسیات کو چیک کروانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اس طرح ایک ذہین قوم کا معمار ذہنی مریض بن کے روبوٹس کے ساتھ مس فٹ زندگی گزارتا ہے۔

Read more

سیاسی لیڈرشپ اور چمپیئن لیڈرشپ

لیڈر راہنما کو کہا جاتا ہے۔ یہ رہنما گروپ، کمپنی، علاقے وغیرہ وغیرہ، کو رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ فالورز کو کمپنی کے مقاصد بتانا، اس پہ عمل کرنا اور کروانا کی ذمہ داری لیتا ہے۔ لیڈرشپ کی قسموں میں سے دو قسم ہوتی ہے، سیاسی لیڈرشپ اورچمپئن لیڈرشپ۔ سیاسی لیڈرشپ کے کچھ بنیادی جزو ہیں…

Read more

سوتیلی ماں کے جیسی ریاست؟

ریاست کا درجہ ماں کا ہوتا ہے۔ عام آدمی کی زندگی کی حفاظت کی ذمہ دار ریاست ہوتی ہے۔ تازہ ترین سانحہ نے یہ ظاہر کردیا ہے، اس ملک میں عام آدمی کتنا محفوظ ہے۔ مزید ضروری ہو گیا ہے، اگر آپ کوئی مرسیڈیز یا مہنگی گاڑی میں سفر کریں تو شاید محفوظ رہ سکیں…

Read more