ایک کروڑ نوکریاں: ایک یتیم بیٹے کا ارمان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پھوپھی زاد بہن کی ناگہانی موت کی خبر شام کو ملی تھی، لیکن ابھی تدفین نہیں ہوئی تھی۔ رات بھر آنکھ نہیں لگی۔ صبح سویرے اٹھا اور روانہ ہوا۔ برف باری کے باعث سڑک بہت خراب تھی اور مجھے جلدی نماز جنازہ اور تدفین کے لئے پہنچنا تھا لیکن ڈرایئور بڑی احتیاط سے گاڑی چلا رہا تھا۔

مجھے اندازہ تھا کہ ہم بہن کی نماز جنازہ میں شرکت نہیں کر پائیں گے۔ جیسے ہی میں گاوں میں داخل ہوا تو دیکھا قبرستان میں لوگوں کا ہجوم تھا۔ میں تیز قدموں سے چلنے کی کوشش کرتے ہوئے وہاں پہنچا تو دیکھا بہن کی جسد خاکی لحد میں اتار دیا گیا تھا۔ بہن کا آخری دیدار نہیں ہوسکا جس کا افسوس تھا۔ اس بات کا بھی دکھ تھا کہ کافی عرصے سے بہن سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔

دل رو رہا تھا آنسووں پر زبردستی قابو رکھا تھا۔ یہ سوچ کر کہ آخر مرد ہوں لوگ کیا کہیں گے۔ لیکن پھر بھی آنکھیں نم ہوگئی تھیں۔اب عالم دین آیات اور دعا پڑھ کر فارغ ہو گیا تھا۔ خاندان کا ایک پڑھا لکھا شخص تدفین میں شرکت کرنے والوں کا شکریہ ادا کر رہا تھا، اسی دوران کہ میرے تعاقب میں سے آواز آئی۔ پیاری ماں مجھے یوں بے سہارا چھوڑ کر کیوں گئی؟ آپ نے ہمیں جنم دیا پالا پوسا نہ جانے کس قسم کی تکالیف اور مشکالات کا سامنا کیا؟ آج ہم بڑے ہوکے اس قابل ہوچکے تھے کہ ہم آپ کی خدمت کریں آپ ہمیں چھوڑ کر چلی گئی۔ اب میں کیا کروں میں کہاں جاوں، یااللہ یااللہ یہ الفاظ سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے میں چاہتا تھا کہ پیچھے مڑ کر ان کو حوصلہ دوں لیکن یہ ممکن نہیں تھا۔

ان کے قریب بیٹے شخص نے ان کو دلاسہ دیتے ہوئے کہا بیٹا یہ دنیا کا نظام ہے ہر ایک نے جانا ہے۔ آپ صبر اور شکر کا دامن نہ چھوڑ دو۔ اپنے ابو اور دیگر بھائیوں کا خیال رکھو، بیٹا چپ کرو۔ یہ دونوں آہستہ آہستہ گفتگو کر رہے تھے۔ان کی گفتگو سن کر میری آنکھوں میں آنسو بھر جاتے اور میں ان کو پی جاتا تھا۔ وہ اس شخص کو اپنی ماں کے بیماری کے بارے بتا رہا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ میں نے اپنی ماں کی بہت خدمت کی، اور ہر وقت وہ اس کے لئے دعائیں دیتی تھی۔ میری زندگی کی ایک خواہش تھی جو پوری نہیں ہوسکی ، مجھے نوکری مل جاتی اور میں اپبی پہلی تنخواہ لے کر اپنی ماں کے ہاتھ میں رکھ دیتا وہ کتنی خوش ہوتی۔ وہ بہت ہی فکر مند تھی میرے مستقبل کے حوالے سے لیکن میری بد قسمتی یہ خواہش، خواہش ہی رہ گئی۔

بہن کے لڑکے کی یہ مختصر سی گفتگو جو وہ قریب بیٹھے شخص سے کر رہا تھا سن کر میری تکلیف میں مزید اضافہ ہو گیا۔ اب میرے دماغ میں ایک طرف یتیم اور اپنی ماں کی شفقت اور محبت سے محروم ہونے والے بے روزگار نواجوان کی خواہشات گردش کررہی تھیں تو دوسری جانب عمران خان کی ایک کروڑ نوکریاں دینے والی تقریر۔

میں سوچ رہا تھا کاش عمران خان چند سال قبل وزیر اعظم بن جاتے، کاش نواز شریف اور زدرادی کی جگہ طیب اردگان جیسا لیڈر ملتا۔ کاش اس ملک میں ہر نوجوان کو اس کی قابلیت اور صلاحیت کے مطابق نوکری مل جاتی۔ کاش ہر نوجوان کی یہ خواہش پوری ہوتی کہ وہ اپنی پہلی تنخواہ اپنی ماں کے ہاتھ میں رکھ دیتا۔ لیکن ایسا نہی ہوسکا۔ نہ جانے کتنے ہی نوجوان کے دلوں میں اس طرح کی خواہشات پیدا ہوتی ہیں۔

کیا معلوم کہ یہ خواہشات پورے ہوتے ہوتے کتنے نوجوان اپنوں کو کھو دیتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں یہ ان ناقص اور ناکام پالسیوں کا نتجہ ہے۔ لیکن آج بھی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد عمران خان کی ایک کروڑ نوکریوں کے انتظار کر رہی ہیں۔ عمران خان کو اپنے وعدوں کی تکمیل کرنا ہو گا اس سے قبل کہ پھر کوئی نوجوان اپنی ماں کو کھو دے۔ اللہ تعالی تمام ماوں کو سلامت رکھے آمین۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •