سانحہ لورا لائی: ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخرو کر کے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میری کالی وردی نے پھر جانیں بچا لیں، پوری آٹھ سو جانیں۔ اپنی نو جانیں دے کر آٹھ سو جانوں کا سودا کوئی آسان کام تھا۔ لیکن سودا کرنے والے سودا کر گئے۔

تصویر میں ایک شہید کی لاش کا چہرہ پٹیوں میں چھپا تھا لیکن داڑھی کی سفیدی کہیں کونے سے نمایاں تھی۔ کالی وردی کا حق لہو سے ادا کر ہی دیا وہ بھی اس عمر میں۔

”اگر پولیس دہشت گردوں کو نہ روکتی تو یہ سارا میدان لاشوں سے بھرا ہوتا۔ ہم آپ کو یہ بتانے کے لئے زندہ نہ رہتے“ وہ نوجوان موبائل پہ ریکارڈ کرنے والے کو بتا رہا تھا۔ اس کی اور اس کے ساتھ کھڑے نوجوان کی عمریں بیس بائیس سال کی لگ رہی تھیں۔ دونوں کے حواس بحال ہو چکے تھے۔ دونوں شاید ان آٹھ سو نوجوانوں میں شامل تھے جو آج محکمہ پولیس میں ہونے والے کلرک کے ٹیسٹ میں شریک ہونے آئے تھے۔

کوئٹہ سے 263 کلومیٹر مشرق میں واقع پنجاب اور بلوچستان کی سرحد پہ موجود لورالائی باداموں کا شہر کہلاتا ہے۔ بلوچستان میں لورالائی کے دو تعارف تھے۔ بلوچستان ریزیڈیشنل کالج لورا لائی بلوچستان کا صف اول کا تعلیمی ادارہ اور بادام۔ اب ایک تیسرا تعارف بھی شامل ہوچکا ہے اور وہ ہے لہو کی سرخی۔

محبتوں کے رنگ میں گندھے لورا لائی میں خون کی سرخی پھر نمایاں ہوگئی۔ سفید پھولوں کے شہر نے پھر لہو رنگ لبادہ پہن لیا۔ لوارالائی کے باسی جنہیں خوف کے ہجے بھی معلوم نہ تھے اب خوف کے عادی ہونے لگے۔ خوف بھی عجیب سی مخلوق ہے جب یہ اپنے شکنجے میں کس لے تو پھر زندہ دلی، بھروسا، اطمینان سمیت بہت کچھ لے کر ہی پیچھا چھوڑتی ہے۔

بی آر سی ( بلوچستان ریزیڈیشنل کالج ) کے مین گیٹ پر فائرنگ ہوئی۔ شہر کی پرامن فضا اس سانحے سے سنبھل نہ پائی تھی کہ کینٹ میں حملہ آور گھسے، ایف سی اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا۔ وہ زخم ہرے ہی تھے کہ ایدھی کے ایک سماجی رکن کو شہید کردیا گیا۔ اور اب۔ ڈی آئی جی کا آفس گولیوں سے گونج اٹھا۔ اور پھر اس شہر نے نو جنازے اٹھائے جن میں آٹھ میری کالی وردی والوں کے تھے۔

بلوچستان پولیس کی یہ شہادتیں نئی نہیں ہیں۔ شاید ہی بلوچستان کا کوئی شہر ہو جہاں پولیس نے مقتل کو سرخرو نہ کیا ہو۔ کبھی جیکب آباد سے کوئٹہ تک کا سفر کریں راستے میں بے شمار پولیس کے ناکے آئیں گے۔ یہ سب کسی نہ کسی شہید کے نام سے منسوب ہیں۔ ڈیرہ مراد جمالی سے کچھ آگے ایک ادھڑا پولیس اسٹیشن ”عزیز بلو شہید“ پولیس کو ملنے والی سہولیات کی گواہی بھی دیتا دکھائی دیتا نظر آئے گا۔

اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ پاکستان کی سب سے مظلوم پولیس کہاں کی ہے تو میرا ایک ہی جواب ہوگا بلوچستان پولیس۔ اور اسی بلوچستان پولیس کے مظلوم سپاہیوں نے آج آٹھ سو ماؤں کے خواب ٹوٹنے سے بچا لئے۔

لورالائی کے سول ہسپتال میں ایدھی کے کفن میں ملبوس شہدا کے لاشے شاید اپنے لہو کے خراج سے لورا لائی کا امن لوٹا دیں۔

شاید بادام کے باغوں میں پھیلنے والا خوف اپنی موت آپ مر جائے۔

شاید یہ حملہ آخری ہو۔

شاید ایک بھرپور کارروائی ذمہ داروں کے خلاف ہو۔

شاید میری کالی وردی کی قربانی بھی کسی درجہ شمار ہو۔ شاید انھیں بھی اپنا سمجھا جائے۔

یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا

ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخرو کر کے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •