ٹیچر کا جہاں اور افسر کا جہاں اور

سکیل ایک لفظ۔ ٹھہرئیے! لفظ نہیں کہانی۔ اجی رکیے! کہانی نہیں داستان۔ کہاں جی! یہ تو اک احساس کا نام ہے۔ ہمم۔ احساس۔ حضور! یہ تعاون کی ایک شکل ہے۔ چلئے سب تعریفیں مان لیتے ہیں۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ ہماری زندگی میں سکیل کا بڑا کردار ہے۔ حصول علم کی دہلیز پار کرتے ہی جن علمی اوزاروں سے واسطہ پڑا، ان میں سرفہرست ”سکیل“ ، ہی تھا۔ ہم بچپن میں اسے ”فٹا“ کہتے تھے۔ لکڑی کا

Read more

ایک تنخواہ دار شوہر کی کتھا

وہ ایک اچھے سے ملک کا تنخواہ دار شوہر تھا۔ اس کے سارے سپنے پہلی تاریخ سے جڑے ہوتے تھے۔ چونکہ وہ شوہر تھا تو اس کی ایک عدد بیوی بھی تھی (تنخواہ دار تھا لہذا ایک عدد ہی تھی ) ۔ اس کی بیوی کا پیار اور غصہ بھی تنخواہ سے جڑا ہوا تھا۔ چونکہ وہ شوہر تھا اور چونکہ اس کی ایک بیوی بھی تھی چونکہ دونوں پاکستانی میاں بیوی تھے لہذا ان کے چھ عدد بچے تھے۔ ان بچوں

Read more

مزار قائد میں اطاعت سکھاتا ایک پٹھان

اس احاطے میں موجود مجھ سمیت بیشتر لوگوں کی آمد کا سبب عقیدت اور سیاحت تھی لیکن ”اس“ کی آواز کی سرشاری میں عقیدت اور سیاحت سے زیادہ اطاعت نمایاں تھی۔ کندھے پہ صافہ، کھلی قمیض، سفید داڑھی، بھاری ڈیل ڈول اور پاؤں میں پشاوری چپل، میرے لئے اتنے پرکشش نہیں تھے لیکن پھر بھی میری نظریں اس کا طواف کر رہی تھیں اور اس طواف میں عقیدت کی سی لذت تھی۔ میں زندگی میں دوسری دفعہ مزار قائد دیکھنے

Read more

فیس بک کے چوراہے پہ قائم شاپنگ مال

فیس بک ایک چوراہا ہے۔ جہاں بھانت بھانت کی بولیاں بولی جاتی ہیں اور ہر سوچ کی دکانیں بلکہ بڑے بڑے شاپنگ مالز بڑے دھڑلے سے اپنا کاروبار چمکاتے ہیں۔ ان شاپنگ مالز میں آپ کو مذہب، سیاست، تفریح، جنس غرض انسانی فطرت کے تمام روپ بدرجہ اتم ملیں گے۔ اب آپ کی صوابدید پہ ہے کہ آپ اپنا پڑاؤ کس دکان یا فرنچائز پہ ڈالتے ہیں اور کتنی دیر تک ڈالے رکھتے ہیں۔

لیکن جب سے رمضان شروع ہوا ہے فیس بک کے وہ محترم لکھاری جن کی قلم کی جولانیاں عموماً مذہب کے خلاف ہی صرف ہوتی تھیں۔ ان کا قلم کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی مانند یک دم دن دگنی رات چوگنی ترقی کر گیا ہے۔ لگ بھگ وہی پرانے اعتراضات نئے انداز سے رمضان کے مہینے میں اس تواتر سے مارکیٹ میں لائے جا رہے ہیں کہ نہ چاہتے ہوئے بھی ان کی دکان بلکہ شاپنگ مالز پہ کچھ دیر پڑاؤ ڈالنے کو دل کر ہی دیتا ہے اور اس پڑاؤ کا اختتام جذباتیت سے کیا گیا تحریری اور غیر تحریری کمنٹ ہوتا ہے۔

کہیں جنت اور دوزخ زیر بحث ہوتے ہیں۔ کہیں علما کی ”ٹکا“ کے کلاس لگی ہوتی ہے۔ کہیں دینی کتابوں کے وہ پرانے

Read more

کاش عمران خان کے پاس سعد رفیق جیسا ایک وزیر ہی ہوتا

ہماری باتیں ہی باتیں ہیں سید کام کرتا تھا نہ بھولو اس کو جو کچھ فرق ہے کہنے میں کرنے میں اکبر الہ آبادی نے یہ شعر مرحوم سر سید کے بارے میں کہا تھا۔ آج ٹرین میں بیٹھا ہوں تو یاد آ گیا۔ پانچ گھنٹے ہونے کو ہیں اور جعفر ایکسپریس چلنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ وہ کیفیت جو ہم مسافر ٹرینوں پر بلور دور میں ہوتی تھی، وہی بے بسی وہی بے کسی لئے لاہور اسٹیشن

Read more

فرشتہ پٹھان، زینب پنجابی اور ملکوال کی لاوارث بچی

وہ ایک پیغام تھا جو مئی کی اس صبح عام ہوا۔ تیری زینب پہ واویلا، میری فرشتہ پہ خاموشی تو مسلم پنجاب کا، میں کافر پختونخوا کا نیچے ننھی فرشتہ کی تصویر تھی۔ میں نے وہ تصویر دیکھی۔ مجھے تو وہ زینب سے مختلف نہ لگی۔ وہی آنکھوں میں چمک، وہی معصومانہ مسکراہٹ۔ وہی چھوٹی چھوٹی آنکھوں میں بڑے بڑے خواب۔ زینب اگر تین سال اور بڑی ہوتی تو بعینہ ایسی ہی ہوتی۔ مجھے تو اس فرشتہ اور اس زینب میں کوئی

Read more

سانحہ لورا لائی: ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخرو کر کے

میری کالی وردی نے پھر جانیں بچا لیں، پوری آٹھ سو جانیں۔ اپنی نو جانیں دے کر آٹھ سو جانوں کا سودا کوئی آسان کام تھا۔ لیکن سودا کرنے والے سودا کر گئے۔ تصویر میں ایک شہید کی لاش کا چہرہ پٹیوں میں چھپا تھا لیکن داڑھی کی سفیدی کہیں کونے سے نمایاں تھی۔ کالی وردی کا حق لہو سے ادا کر ہی دیا وہ بھی اس عمر میں۔ ”اگر پولیس دہشت گردوں کو نہ روکتی تو یہ سارا میدان

Read more