کیا زیر التوا مقدمات کا بوجھ نہیں ہوتا؟
میں ریگولر سپریم کورٹ جاتا ہوں۔ ثاقب نثار کے بعد عدالت کی رونقیں مانند سی پڑگئی ہیں۔ ان کی عدالت کمرہ نمبر ایک میں لگتی تھی۔ کمرہ نمبر ایک دیگر بینچوں کی نسبت زیا دہ بڑا ہے اور کافی تعداد میں لوگ بیٹھ سکتے ہیں اور کھڑے ہونے کی جگہ موجود ہے۔ صحافیوں کے لئے بھی کرسیاں مخصوص ہیں لیکن ان کے دور میں مجھے آج تک نہیں یاد کہ صبح جب ہم عدالت پہنچے ہوں تو کوئی کرسی خالی ملی ہو۔ کمرہ ان کی آمد سے پہلے ہی بھر جاتا تھا اکثراوقات تو کھڑا ہونا بھی مشکل ہوتا تھا۔
پہلی صف میں تمام جید وکلا اور درمیان میں بڑے بڑے سائلین اور آخر پہ کہیں سرکاری محکموں کے ڈی جیز اور ڈائیریکڑز کچھ لوگ کو مستقل بنیادوں پہ وہاں دیکھے جاتے تھے خاص طو ر پہ ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن۔ ثاقب نثار کی عدالت میں صحافیوں کی انگلیاں تھک جاتی تھی، پنسلیں ختم ہو جاتی تھی اور صفحے بھی اپنے اپنے لانے ہوتے تھے، کبھی کبھی کسی جملہ پہ صحافیوں کی دروازہ کی جانب ٹکر اور بریکنگ کے خبط میں ایسی دوڑیں لگتی تھی کہ خاد م رضوی کے دھرنے کے مناظر یاد آجاتے تھے۔
ریاست کا آدھا زمام کار وہاں سے چلتا تھا۔ وہ پریکٹس کیسی تھی، وقت یہ فیصلہ کرے گا لیکن اب کھوسہ صاحب کی عدالت اسی کمرہ نمبر ایک میں لگتی ہے۔ جب سے کھوسہ صاحب آئے ہیں کمرے کی آدھی کرسیاں خالی ہیں۔ باہر گاڑیوں کا رش ہوتا تھا فیصل کمال پاشا صاحب کو گاڑی کھڑی کرنے کے لئے بہت دور جانا پڑتا تھا لیکن اب آسانی سے مین پارکنگ میں جگہ مل جاتی ہے۔ اب ایسا وقت بھی دیکھا میں نے کہ اسی کمرے میں چھ وکیل، ایک میں، تین سائلین، دو ججز اور سات لوگ ان کے سٹاف کے تھے باقی سناٹا۔
میں وہاں دور دور سے آئے ہوئے سائلین سے ملتا ہوں۔ عجیب عجیب کیس بھی دیکھنے سننے کو ملتے ہیں کئی ایسے بھی کہ انسان شرما جائے، سن بھی نہ پائے کہ کیا ایسا بھی ہوتا ہے یا ہو سکتا ہے۔ ہمارے نظام انصاف اور اس کی مبادیات پہ ہزاروں باتوں کی گنجائش ہے لیکن میں ایک انتہائی اہم اور حساس نوعیت کی جانب آپ کو لے کر جانا چاہتا ہوں۔
ہم بیک وقت ایک طاقتور اور ایک کمزور ترین ریاست کے شہری ہیں۔ ہمارے ہاں مسائل پیچیدہ نوعیت کے نہ ہوں توبھی بنا دیے جاتے ہیں۔ ہمیں ایک توانا ریاست اور نظام عدل کی ہمہ وقت ضرورت رہتی ہے اس لئے کہ ہم ہر لحاظ سے ایک بیمار ذہنیت کا جذباتی معاشرہ ہیں اورملک میں جرائم کی شرح انصاف کی ڈلیوری کی نسبت کم اور سلو ہے۔ انصاف کی مبادیات میں بے شمار مسائل ہیں جن پہ لکھا جائے اور کلام کیا جائے ان میں سے ایک اہم مسئلہ زیر التواء کیسز ہیں۔
انصاف کی امتیازی خصوصیات میں فوری، سستا اور قریب ترین انصاف اہم ترین سمجھے جا تے ہیں۔ لیکن کبھی کبھی دوران سماعت مجھے ایسا لگتا ہے کہ ہمارا آئین جدید مسائل کے لئے ناکافی ہو چکا ہے۔ اور ہمارا نظام انصاف اپنے بنیادی اوصاف سے بالکل خالی ہے۔ دور دور سے لوگ آتے ہیں دھکے کھاتے ہیں۔ ملک کی موجودہ عدالتوں میں زیرالتواء مقدمات کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ گزشتہ سال اس سے پیوستہ کی نسبت مقدمات میں اضافہ ہوا۔
کیا زیر التواء مقدمات عدالت عالیہ کے کندھوں پہ بوجھ نہیں؟ کیا اس بو جھ کی شدت کو کوئی محسوس نہیں کرتا؟ اگر یہ بوجھ ہے تو کیا کسی کو اس بات کا ادراک ہے کہ یہ کس نوعیت کا بوجھ ہے؟ میں بتاتا ہوں یہ کس نوعیت کا بوجھ ہے شاید یہ فزکس کا مادہ نہیں جو جگہ گھیرتا ہوں، جس کی مخصوص ہیت ہو، جس کا کوئی وزن بھی ہولیکن یہ اس سے بھی زیادہ آتش گیر اور تباہ کن مادہ ہے۔ اس کے بوجھ کا تعلق محسوس کرنے سے ہے۔
آج کل کریمنل کیسز خود کھوسہ صاحب سن رہے ہیں جو ان کی وجہ شہرت بھی ہے۔ کسی بھی کریمنل کیس کی بنیاد اس کی آیف آئی آر کا متن طے کرتا ہے لیکن بہت سے کیسوں میں جان بوجھ کر ایسی غیر ضروری چیزیں ڈال دی جاتی ہیں جو اس کیس کا سارا لیگل ڈسکورس خراب کر دیتی ہیں یہ بذات خود ایک بوجھ ہے۔ کتنے بے گناہوں کا بوجھ، آسیہ بی بی کے نو سالوں کا بوجھ، اس دوران اس کے خاندان کی پریشانیوں کا بوجھ، اس کی بھرپور جوانی کا بوجھ کون اٹھائے گا؟
تمام گناہ گاروں اور بے گناہوں کا بوجھ جن کو ابھی تک عدالت نے کسی طور بھی مجرم نہیں کہا جن کے جرائم ابھی establish ہونے ہیں ان کے ورثا کا بوجھ، تمام قاتلوں اور تمام مقتولوں کا بوجھ جن کو ابھی تک انصاف نہیں ملا، ان قیدیوں کا جو اللہ کی بارہ گاہ میں بے گناہ ہیں لیکن جن کی بھرپور جوانیاں سلاخوں کے پیچھے اپنے مقدمے کی تاریخ لگنے میں کٹ گئی، ان کا بوجھ جن کے حسن کو جیل کی مہیب دیواروں نے مانند کیا، جن کی دنیا کو دیکھنے کی خواہشیں حسرتوں میں بدل گئی، جن کو ماورا عدالت مارا گیا ان کا بوجھ، ان کی ماؤں کی سسکیوں اور آہوں کا بوجھ، ان کے و الدین کے صبر او ر بیماریوں کا بوجھ، اغوا برائے تاوان، جبری گمشدگیوں اور لاپتہ افراد کے بجھے ہوئے چولہوں کا بوجھ، د س دس سال بعد بے گناہ ثا بت ہونے والوں کے دس سالوں کا بوجھ، جیلوں میں اپنا جیون کاٹ دینے اور زندگی کا سب کچھ ہار دینے والوں کا بوجھ،
مقدمے کے جج کی عدالت تک پہنچنے کی امید پہ اپنے بال سفید کرنے والی، ماں، بیوی، اور بیٹی کی بے بسی کا بوجھ، بلوچستان کے اللہ راضی، سندھ کے بخت زمین ہزاروی، میلسی کے بے داد، اور ملتان کی سکینہ کا بوجھ ان تمام گناہ گاروں اور بے گناہوں کا بوجھ کون اٹھا رہا ہے اور چل بھی رہا ہے لیکن تھک نہیں رہا؟ آئیں اس کو تلاش کریں۔ مجھے پتا ہے وہ کون ہے اسے بھی پتاہے کہ وہ کون ہے لیکن کاش وہ یہ بوجھ محسوس کرتا کاش وہ جھوٹی گواہی، اور ایف آئی آر کا متن خراب کرنے والے کو بھی سمن کرتا۔ وہ کرے نا کرے لیکن میں نے اپنا بوجھ اتار دیا۔


