پابلو نیرودا کی محبوب عورتیں


ہم سب حیران رہ گئے۔ مٹلڈا کے گھنے بالوں کی چھوٹی چھوٹی لہروں میں پابلومسکرا رہا تھا۔ وہی چہرہ، وہی پیشانی، وہی گال، وہی تھوڑی اور پچکی ہوئی ناک کے نیچے وہی پتلے نیلے مسکراتے ہوئے ہونٹ۔

وہ مٹلڈا کے گھنے بالوں میں، لاچس کولا میں چھپا رہا۔ لکھتا رہا، اس کمرے کے دوسری جانب بنے ہوئے چھوٹے سے میخانے میں سرخ اور سیاہ انگور کی شراب پیتا رہا۔ کمرے کی دیواروں میں بنی ہوئی جہازی کھڑکیوں سے دیوار کو چھوتی ہوئی مصنوعی سمندر کی لہروں کو گنتا رہا اور لکھتا رہا۔ اپنی محبتوں کے بارے میں، ان فوجیوں کے بارے میں جو غاصب بھی تھے اورغدار بھی۔ ان سیاسی کارکنوں کے بارے میں جن کی لاشیں کسنگر، نکسن اور فوجی حکمرانوں کی مرضی سے راتوں کو ہیلی کاپٹروں میں بھر کر بیچ سمندر میں شارک مچھلیوں کی خوراک بنا دی گئیں۔ وہ محبتوں کے دوران اور عشق کے کربناک لمحوں میں بھی ان مزدوروں، صحافیوں اور اُن باضمیر انسانوں کا درد لے کر فوجی جنتا کے جسم و روح پر بوجھ بن گیا تھا۔

ہم اب لاچس کولا کے دوسرے کمرے میں پابلو کے چھوٹے سے میخانے میں اور اس کے ساتھ بنے ہوئے باورچی خانے میں وائن کی پرانی بوتلوں، مختلف انداز و اطوار کے جام اور ہندوستان اور افریقہ سے جمع کیے ہوئے برتنوں کو دیکھ رہے تھے۔ اس کمرے کے ساتھ ہی پابلو کی خواب گاہ تھی، پرانے زمانے کا اونچے ستونوں والا پلنگ جیسے کسی جہاز کے کیبن میں رکھا ہوا تھا۔ ”پابلو نے دو خواب گاہیں بنائی تھیں ایک یہ، اور ایک اوپر، کتابوں کے کمرے کے ساتھ۔ مجھے افسوس ہے کہ میں کتابوں کا وہ کمرہ نہیں دکھا سکوں گا مگر اس خواب گاہ کی ایک خاص بات ضرور بتانا چاہتا ہوں۔ “ یہ کہہ کر گونسالو نے دیوار سے لگی ہوئی الماری کادروازہ کھول دیا۔ یہ ایک سادہ سی الماری تھی۔ اس نے بیچ کا دروازہ بھی کھول کر دکھایا۔ یہ بھی ایک سادہ سی الماری تھی۔ جس میں ہینگر لٹکانے کے لیے راڈ لگی ہوئی تھی جہاں پابلو اپنے کپڑے لٹکاتا ہوگا۔ الماری کے تیسرے دروازے کو کھولا گیا تو وہ بھی ایک سادہ سی الماری ہی تھی مگر اوپر سے نیچے تک اس میں کسی ہینگر کی جگہ نہیں تھی۔ غور سے دیکھنے پر پتہ لگا کہ درحقیقت الماری کے اندر ایک اور دروازہ تھا۔ اس دروازے کا ایک پوشیدہ ہینڈل تھا۔ گونسالو نے آہستہ سے ہینڈل کو گھمایا تو دروازہ کھل گیا تھا۔ ہم سب الماری کے اس دروازے سے پابلو کے گھر سے باہر آچکے تھے۔ ”آج تک کوئی نہیں سمجھ سکا کہ پابلو کو اس خفیہ دروازے کی ضرورت تھی۔ شاید وہ جاننے والوں سے چھپتا رہا۔ شاید یہ دروازہ فوجی جاسوسوں کو دھوکہ دینے کے لیے بنایا گیا تھا۔ خواتین و حضرات میں گونسالو ایتورا، الورتینا کا نواسہ جو پابلو کی محبوبہ تھی، پابلو کے اس راز سے پردہ اٹھانے کے قابل نہیں ہوں۔ “

”مجھے پتہ ہے آپ لوگ پابلو کی لائبریری دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان بیش قیمت پینٹنگز کو دیکھنا چاہتے ہیں جو پکاسو نے خود بنا کر پابلو کو دی تھیں۔ چلیے میں آپ کو لے چلتا ہوں، مگر افسوس کہ آپ انہیں نہیں دیکھ سکیں گے۔ “

یہ کہہ کر وہ خاموش ہوگیا، ہم کچھ نہ سمجھتے ہوئے آہستہ آہستہ اس کے قدموں کے نشان پر چل رہے تھے۔

”یہ سارا مکان لوٹ لیا گیا۔ ایک رات پنوشے کے فوجیوں نے اس پر دھاوا بول دیا۔ بے شمار کتابیں، بیش قیمت پینٹنگز اور پابلوکے جمع کیے ہوئے مختلف نوادرات فوجی اٹھا کر لے گئے۔ آج تک پتہ نہیں چل سکا کہ وہ کتابیں، فن کے وہ نادر نمونے کہاں گئے۔ فوجیوں نے جہاں لوٹ مار کی وہاں لاچس کولا کو بھی تباہ برباد کر دیا۔ جہازی مکان کی کھڑکیاں، کھڑکیوں کے باہر کھڑا ہوا پانی کا نظام جسے پابلو سمندر کی طرح دیکھا کرتا تھا، ان لوگوں نے سب کچھ ختم کردیا۔ “ میں نے سوچا فوج کہیں کی ہو، کسی زمانے کی ہو صرف فوج ہوتی ہے۔ حالت امن میں بھی لوٹ اور حالت جنگ میں بھی لوٹ۔ شاید لوٹ فوجی تربیت کا بنیادی جز ہے۔

لائبریری کے سامنے سے گزرتے ہوئے ہم اس کمرے میں پہنچے جہاں پابلو اپنے مہمانوں کی دلداری کرتا ہوگا۔ کمرہ ابھی بھی کچھ بچی ہوئی چیزوں سے سجا ہوا تھا۔ مجھے پتہ نہیں تھا کہ پابلو ہندوستان میں سفارت کاری بھی کرتا رہا تھا اور افریقہ میں بھی گھومتا رہا تھا۔ راجستھان، یو پی، حیدرآباد اور کیرالا سے جمع کی ہوئی چھوٹی چھوٹی خوبصورت چیزیں فوجیوں کی دستبرد سے محفوظ رہی تھیں۔ وہ تمام چیزیں اب بھی پابلو کی موجودگی کا احساس دلاتی ہیں۔ پابلو کو گلاس جمع کرنے کا بڑا شوق تھا۔ ملک ملک کے گلاس، طرح طرح کے پیالے گھر میں موجود الماریوں میں ابھی بھی سجے ہوئے تھے۔

لوگ انہماک سے پابلو کے جمع کیے ہوئے نوادرات دیکھ رہے تھے۔ میں گونسالو کے قریب کھڑا ہوگیا، پھر میں نے ہمت کرکے دھیرے سے پوچھا ”مجھے اپنی نانی الورتینا کے بارے میں کچھ بتاؤ۔ “

وہ ہنس دیا ”تم سارے لوگ، جو ہندوستان سے آتے ہو ایسے ہی سوال کرتے ہو۔ تمہارا اگلا سوال یہ ہوگا کہ میں اس کے بارے میں کیا محسوس کرتا ہوں اوراس کے آگے کے سوال بھی مجھے پتہ ہیں لہٰذا میں سارے سوالوں کا ایک ساتھ جواب دے دیتا ہوں۔ “

گونسالو دبلا پتلا اٹھائیس تیس سال کا لڑکا سا آدمی تھا۔ اس کے گہرے سیاہ بال تھے جو بہت بڑھے ہوئے تھے۔ اس نے بالوں کو پونی ٹیل کی طرح باندھا ہوا تھا۔ اس کی وسیع پیشانی سے بال کھینچ کر پونی ٹیل میں بندھ گئے تھے۔ اس کی بھنویں گھنی تھیں اورنمایاں ناک کے ساتھ پتلے پتلے ہونٹ تھے۔ وہ خود بھی ایک خوبصورت آدمی تھا۔ میں نے سوچا کہ اس کی نانی بھی بہت خوبصورت عورت رہی ہوگی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3