پابلو نیرودا کی محبوب عورتیں
”نہیں ہمیں کوئی پشیمانی نہیں ہے، اس بات پہ کہ ہماری نانی الورتینا، پابلو کی محبوبہ تھی۔ درحقیقت یہ بات توشاید کبھی کبھی منظر عام پر نہیں آتی، شاید ہمیشہ ایک راز رہتی۔ دراصل پابلو کی محبت ایک راز رہی تھی۔ پابلو نے خود بھی کہا ہے کہ میں اس زمانے میں دوغلا تھا۔ الورتینا سے محبت کرتا تھا مگراس کا برسرعام اقرار نہیں کرسکتا تھا۔ اس وقت چلّی اورسانتیاگو روایتوں اور مذہبی انتہا پسندوں کے چنگل میں پھنسا ہوا تھا۔ “
وہ پابلو کا ابتدائی دور تھا۔ وہ ڈرتا رہا، شاعری کرتا رہا، محبت کے نغمے گنگناتا رہا، چھپ چھپ کر الورتینا سے ملتا رہا۔ وہ بھی محبت کے خاموش طوفان میں چھپتی رہی اور کوشش کرتی رہی کہ اس کے اور پابلو کے کے تعلقات کو قانونی شکل مل جائے۔ مگر سماج کا نیٹ ورک زیادہ مضبوط تھا۔ وہ دونوں نہ شادی کر کے ساتھ نہ رہ سکے اور الورتینا کی شادی میرے نانا سے ہو گئی۔“
”میں نے پابلو کواپی نانی سے سمجھا ہے، پڑھا ہے، دیکھا ہے، محسوس کیا ہے۔ شاید اس دنیا میں پابلو سے سب سے شدید محبت اسی نے کی ہے۔ “
”میرے نانا کے مرنے کے کئی سال کے بعد جب پابلو بھی مرچکا تھا، میری ماں کو جوتے کے دو ڈبوں میں چھپاے ہوئے پابلو کے خطوط مل گئے۔ اس وقت پہلی دفعہ میری نانی نے اقرار کیا کہ وہ پابلو کی محبوبہ رہی ہے۔ وہ پابلو کی محبوبہ ہے۔ “
”شروع میں ہمارے خاندان کے لیے یہ بڑے شرم کی بات تھی مگر میری ماں نے میری نانی کو پابلو سمیت قبول کرلیا۔ وہ ہمارے گھر میں بہت اطمینان سے اپنے بچوں کے درمیان پابلو کی تحریروں، نظموں کو دہراتی ہوئی ایک دن شاید اس کے پاس چلی گئی۔ “
گونسالو واقعات کو کسی نظم کی طرح بیان کر رہا تھا۔ اس کا دبلا پتلا جسم اپنے لمبے بالوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے زور زور سے ہلتا تھا۔ ”مجھے تو تم بھی شاعر لگتے ہو۔ “ میں نے ہنستے ہوئے کہا۔
”ہاں میں بھی شاعر ہوں اورشاعری کرتا ہوں۔ رومانی شاعری، سیاسی شاعری، امریکا کے خلاف ظلم وغربت کے خلاف، انصاف اور امن کے لیے، علم و آگہی کے لیے، ایک ایسے سماج کے لیے جہاں ظلم نہ ہو، انصاف ہو۔ “
”تمہاری انگلش بہت اچھی ہے، چلّی میں زبان کا بہت مسئلہ ہے۔ ہر کوئی ہسپانوی بولتا ہے، کوئی انگلش سمجھتا ہی نہیں ہے؟ “ میں نے سوال کیا۔
”میں امریکہ میں پڑھا ہوں اورمیری بیوی بھی امریکن ہے، اس وجہ سے میری انگلش بھی امریکن ہے۔ “
”تو تم امریکہ واپس چلے جاؤگے اپنی بیوی کے ساتھ۔ “
”نہیں کبھی نہیں۔ امریکہ میں کیا ہے۔ نہ تاریخ، نہ زبان، نہ کلچر صرف دوسرے اقوام کومحکوم بنانے کی خواہش۔ اگر مجھے چلّی چھوڑنا پڑا تو میں یورپ جاؤں گا، اسپین، فرانس یا اٹلی۔ “
”سنیتاگو کی یہ خاص بات ہے۔ ریسٹورنٹس میں کام کرنے والے بے شمار بیرے، ٹیکسیاں چلاتے ہوئے ٹیکسی ڈرائیور، ہزاروں کی تعداد میں نظر آنے والے وہ فنکار جو سڑکوں اور چھوٹے موٹے تھیٹروں میں کام کرتے ہوئے نظر آتے ہیں معاشی خوشحالی نہ ہونے کے باوجود امریکہ نہیں جانا چاہتے ہیں، بلکہ یورپ جانا بڑے فخر کی بات مانی جاتی ہے۔ آخر کیوں؟ “ میں نے اس سے ایک طویل سوال کر ڈالا۔
”ارے! یہ تو بہت سادہ سی بات ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پورے جنوبی امریکا میں زیادہ تر لوگ اپنے آپ کو یوروپ کی ان انقلابی تحریکوں سے وابستہ کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں اور انہیں اپنی شناخت بنانا چاہتے ہیں جن کا مقصد جمہوریت کا حصول، شخصی آزادی کی بالادستی اور انسانی حقوق کی بحالی ہے۔ امریکہ میں یہ سب کچھ نہیں ہے، ان کے اصول مختلف اور پیمانے جدا ہیں۔ وہ امریکہ میں امریکیوں کے لیے جو چاہتے ہی وہ سب کچھ دنیا کے عوام کو دینا پسند نہیں کرتے ہیں۔ پابلو جیسے شاعروں کا یہی کمال ہے انہوں نے جنوبی امریکہ کے عوام کو اور نوجوانوں کو شناخت دی ہے، ان میں ان بلند انسانی اقدار کی روح پھونکی جس نے انہیں دنیا سے تھوڑا مختلف کردیا ہے۔ “
”پابلو نے مٹلڈا سے شادی کیوں نہیں کی۔ “ میں نے ایک اورسوال کیا۔
”وہ لاچس کولا میں چھپا رہا۔ مٹلڈا کے گھنے بالوں میں اپنے آپ کو چھپا کر اپنے آپ کومحفوظ سمجھتا رہا۔ اس نے اپنی بیوی کو چھوڑ دیا تھا مگراس نے مٹلڈا سے بھی شادی نہیں کی۔ شاید وہ شادی کے ادارے کو ہی نہیں مانتا تھا۔ وہ چلّی کے اشرافیہ کے اس دوغلے پن سے شدید نفرت کرتا تھا جہاں وہ ایک بیوی اورخاندان کے ساتھ خوش وخرم رہنے کی نمائش کرتے تھے اور ہر ایک نے داشتائیں بھی رکھی ہوئی تھیں۔ یہ اس کی زندگی کا ایک بھید نہی تھا، بلکہ مکمل طور پر اعلان تھا کہ وہ کس قسم کے سماج پر یقین رکھتا تھا۔ اگراس کی شادی میری نانی سے ہو جاتی تو شاید اس کی زندگی کچھ اور ہوتی، مگر بہت سارے ’شاید‘ ہیں اور بے شمار سوالات جن کے جواب نہ مل سکے ہیں اور نہ ملیں گے۔“
گروپ کے دوسرے لوگ لاچس کو لانے کے سامنے والے دروازے پر پہنچ چکے تھے جو سڑک پر کھلتا تھا جس پرحکومت کی جانب سے پابلو کی یادگار کی تعمیر کی گئی تھی۔ ہم لوگوں نے یادگار کی سیڑھیوں پربیٹھ کر تصویر کھینچوائی اور پابلو کے پسندیدہ ریسٹوران میں دوپہر کا کھانا کھانے چل دیے۔


