پاکستان بناؤ سرٹیفکیٹ: وزیر اعظم کی ایک اور خود فریبی
’پاکستان بناؤ سرٹیفکیٹ‘ جاری کرنے کے موقع پر عمران خان کی باتیں ایک بار پھر یہ تکلیف دہ حقیقت سامنے لائی ہیں کہ وزیر اعظم معروضی حالات کو سمجھنے اور ان سے نمٹنے کی صلاحیت پیدا کرنے کی بجائے، سابقہ حکمرانوں کو مسائل کا ذمہ دار قرار دے کر بیک وقت اپنی مشکل اور کامیابی کا نعرہ بلند کرتے ہیں۔ پھر ایسے عجیب و غریب منصوبے اور ترجیحات پیش کرتے ہیں کہ انسان دانتوں میں انگلی دبا لے۔ جیسا کہ وزیر اعظم نے آج فرمایا ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے پاس جانے کے ’آسان‘ راستہ کو اختیار کرنے کی بجائے دوست ملکوں سے امداد لے کر معیشت کو بہتر بنانے کا فیصلہ کیا تھا کیوں کہ تحریک انصاف کی حکومت ملکی معیشت کی بہتری کے لئے طویل المدت منصوبہ بنانا چاہتی ہے۔
زمینی حالات کی روشنی میں یہ مضحکہ خیز دعویٰ ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت تو آئی ایم ایف کے پاس ہی جانا چاہتی تھی اور اس کا اعلان اسد عمر وزیر خزانہ بننے سے بھی پہلے کرتے رہے تھے لیکن جب آئی ایم ایف اور امریکہ سے موصول ہونے والے اشارے اس خواہش کے راستے کا پتھر بن گئے اور عرب ملکوں سے امداد ملنے کی امید پیدا ہوئی تو آئی ایم ایف کے بارے میں یہ تاثر دیا جانے لگا کہ وہ عوام دشمن شرائط عائد کرنا چاہتا ہے جس سے ملک کی خود مختاری متاثر ہوگی۔ یہ عوامی حکومت ایسی شرائط کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ حکومت یا وزیر خزانہ یہ بتانے پر تیار نہیں ہیں کہ آئی ایم ایف کی وہ کون سی شرائط ہیں جو عوام دشمن ہیں اور جن سے ملک کی خود مختاری پر سودے بازی کی کوشش کی جا رہی ہے؟ دوسری طرف آئی ایم ایف کے خلاف بیان بازی کرنے کے باوجود اس آپشن کو مسلسل کھلا رکھا گیا ہے۔
وزیر خزانہ یا وزیر اعظم اس حوالے سے معاشی مارکیٹ کی حساسیات کو سمجھنے سے نابلد دکھائی دیتے ہیں۔ معیشت میں استحکام کے لئے نعرے لگانے اور شبہات پیدا کرنے کی بجائے یقین اور اعتماد کی فضا ضروری ہوتی ہے۔ جب حکومت خود ہی بے یقینی کا ماحول پیدا کرے گی تو ملکی معاشی استحکام اور بیرونی سرمایہ کاری کے لئے مشکلات سامنے آنا فطری امر ہے۔ حکومت کے نمائیندے سابقہ حکمرانوں کی گرفت کرنے کے شوق میں ایسے بیانات دینے کا سبب بن رہے ہیں جن سے سرمایہ کاروں کے خوف میں اضافہ ہوتا ہے۔
تارکین وطن پاکستانیوں سے سرمایہ اکٹھا کرنے کا منصوبہ پہلی بار متعارف کروایا گیا ہے لیکن مالی بانڈ کی بنیاد پر بیرون ملک سے سرمایہ اکٹھا کرنے کا کام سابقہ حکومتیں بھی کرتی رہی ہیں۔ لیکن ایسے بانڈ عام طور سے مالی منڈیوں میں سرمایہ کاروں کے لئے جاریکیے جاتے ہیں، جن کا ہدف بھی پہلے سے مقرر کر لیا جاتا ہے کہ اس منصوبہ سے کتنا سرمایہ اکٹھا کرنا مقصود ہے۔ ان بانڈز کے ذریعے غیر ملکی سرمایہ کار منافع کی شرح دیکھ کر بانڈ یا سرٹیفکیٹ خریدنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ ان میں بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
اب خاص تارکین وطن کے لئے سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے اقدام سے یہ شبہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ بیرونی مالی منڈیوں میں حکومت پاکستان کے جاریکیے گئے بانڈز کی فروخت آسان نہیں رہی جس کی وجہ سے اب حکومت تارکین وطن پاکستانیوں کی حب الوطنی کو ٹارگٹ کر کے سرمایہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ یہ صورت حال وزیر اعظم کے دعوؤں کے برعکس ترقی معکوس کی تصویر پیش کرتی ہے۔
پاکستان نے عرب ملکوں سے امدادی پیکیج کے نام پرقلیل المدت سرمایہ حاصل کیا ہے۔ تاہم حکومت ان شرائط اور مطالبوں کی فہرست سامنے لانے کے لئے تیار نہیں جو مجبوری کے عالم میں حاصل کی جانے والی اس امداد کے عوض پاکستان کو پورے کرنے پڑیں گے۔ اس قسم کے غیر تحریر شدہ معاہدوں یا وعدوں کے نتیجے میں ملکی خود مختاری اور مفادات پر علی الاعلانکیے جانے والے معاہدوں کے برعکس زیادہ ضرب پڑتی ہے۔ عرب ملکوں کی امداد کو برادر ملکوں کی سخاوت کہنا یا سمجھنا خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہوگا۔ البتہ حکومت فی الوقت اس بارے میں مہر بہ لب ہے۔
پاکستان کی اقتصادی مشکلات کے بارے میں کوئی شبہ نہیں لیکن ان کی ساری ذمہ داری کسی ایک سابقہ حکومت پر ڈالنا بھی حقیقت سے نگاہیں چرانا ہو گا۔ پاکستان کی معیشت کو پیداواری مندی کا سامنا ہے۔ قومی پیداوار میں اضافہ کے لئے نعروں کے مزاج اور خود فریبی سے نجات حاصل کرنا بے حد ضروری ہے۔ اس مقصد کے لئے معاشی استحکام اور سیاسی بے چینی کو ختم کرنا اہم ہے۔

