کیا مونس الٰہی اور حمزہ شہباز کے درمیان خفیہ ملاقاتیں ہو رہی ہیں؟
صحافی چوہدری غلام حسین کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین، اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویزالٰہی، مونس الٰہی اور طارق بشیر چیمہ نے لاہور کے علاقے گلبرگ میں ایک میٹنگ کی ہے۔ اس ملاقات میں کہا گیا کہ عمران حکومت نے ہمارے مطالبات نہیں مانے۔ اس کے بعد مونس الٰہی اور حمزہ شہباز شریف کی خفیہ ملاقات ہوئی۔
سینئر صحافی کے مطابق مونس الٰہی اور حمزہ شہباز کی سیاسی معاملات پر تفصیلی گفتگو کے لیے تین سے زائد ملاقاتیں ہوئیں۔ حمزہ شہباز اور مونس الٰہی کی ملاقاتیں لاہور اور اسلام آباد میں ہوئیں۔ ان ملاقاتوں میں تبادلہ خیال کیا گیا کہ اگر ن لیگ اور ق لیگ متحد ہو جائیں تو کیا ہم پنجاب حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوں گے۔ اگر ایسا ممکن ہو گیا تو پرویز اٰلٰہی وزیراعلیٰ بن جائیں گے جب کہ حمزہ شہباز سینئر وزیر بن جائیں گے۔ اس صورت میں تحریک انصاف کے ممکنہ ارکان مین سے ایک کو اسپیکر پنجاب اسمبلی بنا دیا جائے گا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کو بھی کچھ وزارتیں مل سکتی ہیں۔
تاہم چوہدری شجاعت حسین اس تجویز پر قائل نہیں ہوئے۔ چوہدری شجاعت حسین کا خیال ہے کہ اگر تحریک انصاف میں کوئی فاروڈ بلاک بن جائے تو ق لیگ اس کے ساتھ مل کے حکومت بنائے جو کہ ن لیگ کے ساتھ اتحاد سے زیادہ موثر ہو گی۔


