جیل میں ملاقات: میں نے میاں نواز شریف کو ایسا مرجھایا ہوا کبھی نہیں دیکھا


تنقید ہو یا لڑائی، تب ہی اچھی لگتی ہے جب حکمران پر ہو، اگر وہ وزیر اعظم ہاؤس سے جیل منتقل ہو چکے ہیں تو اب ان کو بتا کر یا یہاں لکھ کر کیا حاصل کرنا کہ وہ کہاں پر اور کیوں غلط تھے۔ ایک فرق تو ہے کہ وہ بھاگے نہیں اور اس وقت پاکستان واپس آئے جب جیل سامنے تھی اور اس کا انہیں سیاسی فائدہ بھی ہوا ورنہ جو سیٹیں اور پارٹی وہ لے کر بیٹھے ہیں اس کا نصف بھی شاید ان کے پاس نہ ہوتا اگر وہ واپس نہ اتے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اب ان کا کوئی سیاسی مستقبل ہے میرے نزدیک اس کا جواب ہاں میں ہے۔ ان کا سیاسی سفر کسی عدالتی یا انتظامی فیصلے سے نہیں روکا جا سکتا جو چیز روکی جا سکتی ہے وہ عہدہ ہے۔ میرا احساس ہے کہ وہ خود بھی اب کسی منصب کی خواہش ترک کر چکے ہیں۔ ان کی دلچسپی مریم نواز کے مستقبل میں چھپی ہے۔

طاقت کا کھیل بھی کیا عجیب کھیل ہے اس نشے میں آدمی سب کچھ پاتا بھی ہے کھوتا بھی ہے، جان بھی آزادی بھی مگر اس کو چھوڑنا بڑا مشکل ہے۔ ان کے لئے حالات یقیناً مشکل ہیں اور یہ پہلی بار ہوا بھی نہیں مگر ایک چیز پہلی بار ہو چکی ہے اور وہ ہے آج کی سیاست میں ان کے بھائی شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ کا نیا کردار۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا کہ نواز شریف جیل میں ہیں، شہباز شریف باہر بھی ہیں اور اندر بھی، قومی اسمبلی میں بھی ہیں اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین بھی۔ سلمان شہباز ملک سے باہر، حمزہ شہباز پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور مریم نواز گھر پہ خاموش۔ یہ صورت حال کب تک چلے گی۔ اگلی لڑائی مریم نواز اور حمزہ شہباز میں پڑنی ہے کہ اس پارٹی کی قیادت کس نے سنبھالنی ہے؟

نواز شریف کا بڑا امتحان ہو گا کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں۔ اس وقت یہ فیصلہ کرنا ان کے لئے بہت مشکل ہے مگر یاد رہے کہ وہ اس مشکل کو ہمیشہ کے لئے ٹال نہیں سکتے۔ یہ فیصلہ کرنے کے لئے کون سا وقت مناسب ہو گا، کیا جیل سے نکل آنے کے بعد، کیا دوبارہ حکومت میں آنے کے بعد اگر آئے تو، کیا اگلے انتخابات کے اعلان کے بعد اگر ہوئے تو، یا اس وقت جب پہلے ہی جیل بیٹھے ہیں۔ اس تحریر کو لکھنے والے اور اس کو پڑھنے والے دونوں کو ایک دن دنیا چھوڑنا ہے اور امتحان گاہ میں کس کا وقت کب ختم ہو گا، کچھ نہیں پتہ۔ ماضی کو دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ بے نظیر بھٹو جب اچانک دھشت گردی کا شکار ہو گئیں تو ایک وصیت سامنے آئی تھی جس میں ان کی سیاسی وراثت طے کر دی گئی۔ کیا نواز شریف وصیت لکھ چکے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ وہ ایسا کر چکے ہیں۔

دوسری جانب عمران حکومت جان چکی ہے کہ یہ وہی پاکستان ہے جو ان سے پہلے والوں کو ملا تھا۔ نیا پاکستان جس کا خواب وہ دکھا کر آئے تھے یا اب بھی کبھی کبھی جس کی بات وہ کرتے ہیں صرف خواہشوں میں پایا جاتا ہے۔ عمران خان نہ تو پاکستان کو فتح کر کے آئے ہیں نہ ہی انقلاب کے ذریعے۔ وہ خوش نصیب ضرور ہیں کہ انہیں طاقتوروں کی حمایت حاصل ہے مگر یہ حمایت کبھی نواز شریف کو بھی حاصل ہوا کرتی تھی ایک بار نہیں، تین بار۔ مطلب یہ کہ نہ تو پہلی حمایت مستقل تھی اور نہ موجودہ حمایت مستقل ہو گی۔

مجھے دستیاب اطلاعات کے مطابق عمران حکومت اس حمایت کو تیزی سے کھو رہی ہے۔ اس سے قبل ہم بےنظیر بھٹو کی پہلی حکومت دیکھ چکے ہیں جو طاقتور حلقوں کی ناپسندیدگی کے باوجود حالات کے جبر تلے وجود میں تو آ گئی تھی مگر اٹھارہ مہینے میں ہی اس کی فاتحہ پڑھی گئی۔ اب یوں لگتا ہے کہ عمران خان، بے نظیر بھٹو کی پہلی مختصر یعنی اٹھارہ ماہ بعد فارغ ہونے والی حکومت کا ریکارڈ توڑنا چاہتے ہیں۔ اور وہ بھی اس طرح کہ بی بی کو تو بڑی مشکل اور کراہت کے ساتھ قبول کیا گیا تھا، مگر عمران کو تو محنت کر کے لایا گیا مگر پھر بھی وہ اس ریکارڈ کو توڑ ڈالیں تو کمال ہو گا۔

قومی نوعیت کے اہم ترین مسائل پر بے چینی کے ثبوت کیوں گھوم گھوم کر سامنے آ رہے ہیں۔ آئین کے موجود ہوتے چارٹر آف گورننس کی بات کیا اتفاق ہے، کون ہیں وہ لوگ جو قائید اعظم کی سوچ سے صدارتی نظام کھرچ کھرچ کے سامنے لا رہے ہیں۔ قائد اعظم کوئی معمولی انسان نہیں تھے، ان کی زندگی کے ایک ایک پہلو پر کتابیں لکھی جا چکیں ہیں۔ تاریخ میں وہ ایک زندہ حقیقت کے طور پر موجود ہیں پھر یہ ان کے ہاتھ کے لکھے کون سے نوٹس ہیں جو ان تمام مصنفین کو تو نہ مل پائے جنہوں نے سالہا سال ان پر تحقیق کی مگر ہمارے دوستوں کے ہاتھ لگ گئے۔ یہ کون سی تاریخ ہے جو دوبارہ لکھنے کی کوشش ہو رہی ہے۔

مضبوط مرکزی حکومت کی خواہشات کس طرف اشارہ کرتی ہیں؟ میرے نزدیک تو یہ کھلی دھمکیاں ہیں۔ خان صاحب آپ کو تسبیح پڑھنے نہیں بھیجا گیا تھا، کام کرنے بھیجا گیا تھا۔ یا تو کھل کر اپنے منشور، اگر کچھ بچا ہے تو، عمل کریں ورنہ ان تمام سوالوں کا کھل کر جواب دیں جو اٹھائے جا رہے ہیں۔ آپ کی خاموشی سے وقت اور بےچینی دونوں نہیں رکیں گے۔ اس سے قبل کے آپ کی حکومت کی تسبیح پڑھی جائے لکیر کے کسی جانب تو کھڑے ہوں۔ ان کو معلوم ہونا چائیے کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر متبادل وزیراعظم ہو سکتا ہے جو شہباز شریف ہیں اور نہایت خاموشی سے اپنا کام کر رہے ہیں ۔ کیا اسمبلی کی گئی ان کی تقریر میں حکومتی کامیابیوں کو جنرل قمر باجوہ کے کھاتے میں ڈالنا محض اتفاق تھا۔ ریاست کے دو اہم ترین اداروں کے چیفس کی مدت ملازمت ایک سال سے کم رہ گئی ہے، اگر کوئی چارٹر آف گورننس خود سے نمودار ہو گیا تو پھر؟

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2