جیل میں ملاقات: میں نے میاں نواز شریف کو ایسا مرجھایا ہوا کبھی نہیں دیکھا


ہلکی برستی بارش میں جمعرات کی صبح میں کوٹ لکھپت جیل کے سامنے کھڑا تھا۔ سڑک کے ایک جانب ٹی وی چینلز کی ڈی ایس این جیز کی قطار سی لگی تھی اور دوسری طرف ملاقاتیوں کی سواریاں۔ جیل دروازے کی جانب راستے پہ سیکیورٹی بیریئرز تھے اور تیاری پکڑتے پولیس اہلکار، انتظار تھا کہ اب جیل دفتر سے پہلی لسٹ آئے گی اور ملاقاتیوں کا نام پکارا جائے گا۔ ساڑھے نو ہی بجے تھے اور بھیگتی صبح کی سردی میں ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی میلے کی تیاری ہو رہی ہو۔ مسلم لیگ کے کارکنوں کی نعرہ بازی آہستہ آہستہ جاگ رہی تھی اور ٹی وی رپورٹرز میدان میں اترنے کو کمر باندھ رہے تھے۔

سابق صدر ممنون حسین، مسلم لیگ کے رائے ونڈ سے ایم پی اے مرزا جاوید، سعید کرمانی، مسلم لیگی رہنما غلام مصطفیٰ اور راقم کے نام پہلی لسٹ میں آ چکے تھے۔ محترم غلام مصطفیٰ نے مجھے اسلام آباد کے مئیر شیخ انصر کے ساتھ ان کی جیپ میں بٹھایا اور ہم جیل کے گیٹ کی جانب روانہ ہوئے۔ ضابطے کی کارروائی پورا کرتے اندر کمرہ ملاقات میں پہنچے تو قطار لگی کرسیوں کی ایک جانب شیخ انصر بیٹھے دوسری طرف ممنون حسین، ان کے ساتھ مجھے جگہ ملی۔ کمرے میں بوجھل سی خاموشی تھی کہ کھڑکی کے باہر سے نواز شریف ایک قیدی کی حیثیت میں پولیس اہلکاروں کے جلو میں ہلکے قدموں کمرہ ملاقات کی طرف آتے دکھائی دیئے، ملاقاتی ان کے استقبال کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ فرداً فرداً سب سے مصافحہ کرکے وہ مرکزی کرسی، جو باقی کرسیوں جیسی ہی تھی، پر بیٹھ گئے۔

اور سچی بات ہے کہ انہیں دیکھ کر دکھ ہوا۔ انہوں نے ہلکے نیلے رنگ کا شلوار قمیض پہن رکھا تھا، ایک سکارف اور گہرے رنگ کی سردیوں کی جیکٹ جس کے نیچے جاگرز پہن رکھے تھے۔ ایک حس لطافت رکھنے والا شخص جب شلوار قمیض کے نیچے جاگرز پہن کر ملاقاتیوں سے ملنے چلا آئے تو اس کا مطلب ہے اب وہ اپنی خود کی شخصیت میں خاص دلچسپی نہیں رکھتا۔ میاں نواز شریف کو پہلی بار میں نے قریب سے تب دیکھا تھا جب میں سکول میں پڑھتا تھا۔ والد صاحب کے ساتھ میر شکیل الرحمان کی ہمشیرہ کی شادی کی تقریب میں لاہور پی سی گیا تھا، اس وقت میاں نواز شریف پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے سال شاید 1988 تھا۔ نواز شریف نے اس دن بھی ہلکے نیلے رنگ کا شلوار قمیض پہنا ہوا تھا۔

اس کے بعد والد صاحب کے ہمراہ نواز شریف سے کتنی ملاقاتیں رہیں، اس کا شمار تو کبھی نہیں کیا مگر جنرل مشرف کی آمد کے بعد سے اب تک نواز شریف سے میری گن کر محض پانچ ملاقاتیں رہیں۔ میاں نواز شریف کی سیاست کو زیر بحث لائے بغیر ان کے بارے میں یہ آسانی سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ ایک انتہائی حساس میزبان ہیں، ان کے چہرے کا رنگ کشمیری نسل سے ہونے کے باعث انتہائی گورا اور گلابی ہے، ان کا ہاتھوں کا رنگ بھی سرخ رنگ کو چھوتا ہوا گلابی ہے۔ میزبانی کا عالم یہ ہے کہ وہ مہمان کے لئے آئی کھانے کی اشیا سے سجی ٹرالی کے ساتھ خود کھڑے ہو جاتے ہیں اور ایک ایک چیز کا تعارف کروا کر خود مہمان کی پلیٹ کو اس شوق سے بھرتے ہیں کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے۔ اگر خود نہ اٹھ پائیں تو پھر سٹاف پر گہری نظر رکھتے ہیں کہ ان کے مہمانوں میں کہیں کوئی نظر انداز نہ ہو جائے۔

ان تمام باتوں کو یاد کر کے میں آسانی سے بتا سکتا ہوں کہ 1988 سے آج تک میں نے انہیں کبھی اتنا مرجھائے ہوئے نہیں دیکھا۔ آخری ملاقات ان سے بیگم کلثوم کی تعزیت کے سلسلے میں ان کے گھر کے ڈرائنگ روم میں ہوئی، تب بھی وہ آزردہ اور شکستہ تو ضرور تھے مگر کمزوری دکھائی نہیں دی۔ اب ان کے چہرے کا رنگ زردی مائل تھا، خاص طور پر ان کے ہاتھ پیلے پڑ چکے تھے اور ان کی مسکراہٹ میں پھیکا پن جھلک رہا تھا۔ وہ اپنے ہر ملاقاتی سے حال تو پوچھ رہے تھے مگر ظاہر ہے جیل میں کیا خاطر کرتے۔ جس کا انہیں شدت سے احساس تھا۔ مجھ سے انہوں نے والد صاحب کی طبیعت دریافت کی، حال چال پوچھا پھر وہی اپوزیشن والی باتیں، کچھ سوال جواب کچھ ہلکی گپ شپ۔

وقت کا ہیر پھیر بھی کیا ہوتا ہے۔ ایک چھوٹے سے کمرے میں سابق صدر ممنون حسین اور سابق وزیر اعظم نواز شریف ساتھ بیٹھے تھے، یہ دونوں تو وہی تھے، وقت بدل چکا تھا۔ ایک دوسرے کو دلاسہ دیتے یہ دونوں شاید سوچ رہے ہوں کہ محض چند ماہ قبل کس شان سے ایوان صدر اور وزیراعظم ہاؤس میں ملاقاتیں ہوتی تھیں۔ باوردی سٹاف کی فوج ان کے اشاروں کی منتظر اور اب ایک قیدی اور دوسرا ملاقاتی جونئیر ترین پولیس اہلکاروں کو تلاشی دے کر بیٹھا تھا۔ نواز شریف اس بے بسی پر ہنستے ہوئے بولے کہ یہاں وزیراعظموں کو تو جیل میں پھینک دیا جاتا ہے اور پھانسی بھی لگایا گیا مگر سابق صدر کا تو احترام ہونا چائیے مگر وہ بھی نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ آج کل شاعری کا مطالعہ کرتے ہیں۔ جو شعر انہوں نے پڑھا وہ تھا

زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالب

ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے

پیچھے سے کسی آواز لگائی کہ میاں صاحب فکر نہ کریں، صبر کریں، پھل ملے گا۔ تو ان کا جواب ایک پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ یہ تھا کہ اچھا صبر میں کرتا ہوں، پھل آپ کھا لیجئے گا۔ یہ پڑھ کے آپ کو سمجھ آ گئی ہو گی کہ ان کی ذہنی کیفیت کیا ہے۔ سابق صدر ممنون حسین اور ان کے ساتھ آئے ایک ساتھی نے میاں صاحب کو بتانا شروع کیا کہ کیسے کراچی کا بچہ بچہ نواز شریف کا پرچم اٹھائے کھڑا ہے اور کس طرح عوام اپنے لیڈر کی ایک کال کے منتظر ہیں کہ وہ حکم کرے اور عوام انقلاب لے آئیں۔ اتنے میں پرویز ملک، شائستہ پرویز ملک اور ان کے بیٹے علی پرویز ملک، سابق اداکارہ اور حال کی سیاسی رہنما کنول اور دیگر کمرے میں داخل ہو رہے تھے، کمرے کی جگہ چھوٹی پڑ رہی تھی۔ جیل اہلکار نے آواز دی کہ جگہ کم ہے، اس کی آواز کو سب نے جانتے بوجھتے نظر انداز کیا۔

تھوڑی دیر بعد ایک آواز اور پڑی، تب نواز شریف شرمندگی کا تاثر لئے اپنے مہمانوں کو الوادع کہنے کمرے کے دروازے پر کھڑے ہو گئے کہ موجودہ ملاقاتی نکلیں تو دوسرے اندر داخل ہوں۔ میں ان سے مصافحہ کر کے نکلنے کو تھا جب شاید انہیں گزرے وقت کی کسی یاد نے گھیرا، اور وہ میرا ہاتھ پکڑ کے باتیں کرنے لگے۔ تفصیل بے کار ہے میں نے محض اتنا عرض کیا کہ آپ کو ہلہ شیری دینے والے اپنے گھروں کے آرام سے لطف اندوز ہو رہے ہیں اور آپ یہاں انقلاب لانے کی کوشش میں ہیں۔ اگر کوئی ریلیف کہیں سے ملتا ہے تو دیر نہ لگائیں۔ باہر نکلا تو خواجہ آصف، دانیال عزیز، خرم دستگیر سمیت دیگر مسلم لیگی رہنما، ابصار عالم اور چند وکیل جوق در جوق چلے آ رہے تھے۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبایئے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2