جنرل ضیاء الحق کے سائنس دان؟


 

پاکستان کے سابق فوجی حکمران جنرل ضیاء الحق کے سائے تلے پروان چڑھنے والے سیاست دانوں کے نام اور "کارناموں” سے پاکستانی بخوبی آگاہ ہیں۔ ان میں جنرل ضیاء الحق کے اوپننگ بیٹسمین راجہ ظفر الحق اور میاں نواز شریف دو معروف نام ہیں وگرنہ ایسے سیاست دانوں کی لمبی فہرست ہے جو جنرل ضیاء الحق کے دور میں اقتدار کی راہداریوں میں ان کے دست شفقت تلے وارد ہوئے اور آج تک سیاسی منظرنامے پر کسی نہ کسی طور موجود ہیں۔

تاہم جنرل ضیاء الحق کے دور میں سائنس دانوں کی جانب سے برپا کیے جانے والے کارنامے اس قوم کے بڑے طبقے کی نگاہوں سے اوجھل ہیں۔ جنرل ضیاء الحق کے ” اسلامائزیشن پروگرام” کی زد میں جہاں ہر شعبہ زندگی آیا تو پھر سائنس کا شعبہ کیونکر اس سے محفوظ رہتا۔ اس دور میں شعبہ سائنس میں کیا کیا "کارنامے” انجام دیے گئے اس کا خیال پڑوسی ملک ہندوستان میں مودی سرکار کی زیر سر پرستی دور جدید کی محیر العقول سائنسی ایجادات کو ہزاروں قبل ہندو دیو مالائی کرداروں کے کھاتے میں ڈالنے کی روش سے سوجھا جس پر باقاعدہ کانفرنسیں منعقد کی گئی ہیں۔

بھارت کے ایک حلقے کی جانب سے کیے جانے والے دعوؤں کے مطابق دور جدید کی بہت ساری دریافتوں کا سہرا قدیم بھارت کو جاتا ہے جس میں ٹیسٹ ٹیوب بے بی ، ڈرون ٹیکنالوجی، ہوائی جہازوں، کششِ ثقل سے لے کر کاسمیٹک سرجری، گوگل ٹیکنالوجی وغیرہ شامل ہیں جن کا سہرا وہ ہندو مذہب کے دیوتاؤں اور قدیم کرداروں کے سر باندھتے ہیں اور اس کے حوالے ہندو مذہب کی مقدس کتابوں سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکالتے ہیں۔

ہندوستان میں ہندو بنیاد پرست اور انتہا پسند بی جے پی کی سرکار ہے جو ہندوتوا کے ایجنڈے پر کارفرما ہے۔ پڑوسی ملک سے ایسی خبریں آنے پر کچھ اہل قلم نے ایسے دعوؤں کو مضحکہ خیز قرار دیا تو کچھ نے ازراہ تفنن نے پاکستانیوں کو بھی کچھ ایسا نابغہ روزگار دعوے کرنے کی دعوت دے ڈالی جس سے بھارتیوں کو مات دی جا سکے۔ تاہم اہل وطن اس بات سے بے خبر ہیں کہ جو ہندو بنیاد پرست آج دعوے کر رہے ہیں اس نوع کے سائنسی نظریات یا ان سے ملتے جلتے فارمولے جنرل ضیاء الحق کے دور میں پیش کیے جا چکے ہیں ۔

جنرل ضیاء الحق نے اس ملک میں انتہا پسندی کو کیسے فروغ دیا اس پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے مذہب کو ایک آلے کے طور پر کیسے استعمال کیا۔ اسی رو میں انہوں نے سائنس کو بھی اسلامی بنانے کی بہت سی کوششیں کیں جس میں سائنس دانوں نے ایسے ایسے نظریات پیش کیے کہ سننے والا انگشت بدنداں ہو کر رہ جائے۔

۔ مثلآ اکتوبر 1987 میں "سائنسی اسلامی معجزات کانفرنس” منعقد کی گئی۔ اس کانفرنس میں مذہب میں معجزات کو کس طرح سائنسی لحاظ سے صحیح ثابت کرنے کی کوشش کی گئی اس پر "روؤں دل کو پیٹوں جگر کو میں” والا معاملہ درپیش تھا۔ اس کانفرنس کا افتتاح جنرل ضیاء الحق نے کیا ۔ اس میں پیش کیے گئے مقالات پر ڈاکٹر پرویز ہود بھائی اپنی تصنیف "Islam and Science”  میں کچھ یوں رقم طراز ہیں:

"ہر مقالہ پر پڑھے جانے کے بعد مباحثے بھی ہوئے۔ ایک مبصر کی حیثیت سے میں نے خود کو اجنبی محسوس کیا کیونکہ ان میں بہت سے اجلاسوں کے عنوانات کے میری فہم سے بالاتر تھے۔ مثلآ ان چیزوں پر گروہی مباحثہ جن کا علم اللہ کو ہے۔ میں اکثر تعجب سے سوچتا ہوں کہ وہ کیا راز تھے جن کے رازداں مباحثہ کرنے والے گروہ کے اراکین تھے".

جون 1986میں "قرآن اور سائنس” کے موضوع پر ایک سیمنار میں ایک سائنس دان نے منافقت کو جانچنے کا فارمولا پیش کیا۔ اس فارمولے کے تحت کسی بھی معاشرے میں منافقت کو جانچا جا سکتا ہے۔ ان صاحب نے مخلتف ملکوں میں پائی جانے والی منافقت کو مختلف درجوں میں تقسیم کیا، تاہم پاکستان کے معاشرے میں پائی جانے والی منافقت سے صرف نظر کر گئے۔ یہ ان سے نادانستگی میں ہوا یا دانستہ انہوں نے اس سے گریز کیا کیونکہ اس وقت جنرل ضیاء الحق برسر اقتدار تھے اور ان کے بارے میں مخالفین کی رائے عام طور پر معلوم تھی۔ شاید اس لیے مذکورہ سائنس دان پاکستان میں منافقت کو جانچنے سے گریز پا رہے۔

اسی دور میں جنات کو بھی سائنس کی کسوٹی پر پرکھنے کی کوششیں کی گئیں۔ خدا نے انسان کو خاک اور جنوں کو آگ سے پیدا کیا۔ اس دور کے ایک سائنس دان کے مطابق جن ایک زندہ آتشی حقیقت ہے اور ان کا تخلیقی منبع میتھن گیس کے ساتھ سیر شدہ ہائیڈرو کاربن گیس بھی ہے۔ اسی طرح ایک اور سائنس دان نے یہ نظریہ پیش کیا کہ آگ سے بنے ہوئے جنوں کو توانائی کے منبع کے طور پر استعمال کرنا چاہیے۔ کاش ان صاحب کی سفارش پر عمل درآمد کیا جاتا تو آج ہم ناہنجار توانائی بحران نہ بھگت رہے ہوتے۔

1983میں ایک اسلامی سائنس کی کانفرنس میں جرمنی سے ایک صاحب خصوصی طور پر تشریف لائے جنہوں نے ریاضی کے فارمولے کے تحت "خدا کے زاویے” کا حساب لگانے کا نظریہ پیش کیا۔ ان صاحب کے پاکستان آنے اور قیام کے مصارف اس وقت کی حکومت نے برداشت کیے۔ خدا کے زاویے کا حساب لگانے والے جرمن صاحب نیاز خیلوی کا لکھا ہوا کلام "تم اک گورکھ دھندہ ہو” بزبان استاد نصرت فتح علی خان سن لیتے تو خدا کے زوایے کے حساب لگانے سے بھی باز رہتے اور خواہ مخواہ اپنے اوپر پاگل ہونے کا ٹھپہ لگوانے سے بھی بچ جاتے۔

 

Facebook Comments HS