اے میرے وطن تجھے ہمارے کتنے ارمانوں کا خون چاہیے؟


بات پی ٹی ایم کی کرنی ہے۔ ارمان لونی کے قتل کی بھی کرنی ہے۔ اس کی اپنے دونوں بچوں کے ساتھ اک فوٹو ہے۔ وہ نہ دیکھیں، ارمان کی بہن اپنی والدہ کے ساتھ ایمبولینس میں بیٹھی ہے۔ اپنے بھائی کو پوسٹ مارٹم کے لیے لے جا رہی ہے۔ ایک فوٹو یہ بھی ہے۔ دیکھیں نہ دیکھیں۔

یہ سب ہماری نظروں سے گزرتا رہتا ہے۔ ہمیں اب فرق نہیں پڑتا، اکثر ایسا کچھ برا دیکھتے ہم عادی ہو چکے ہیں۔

وزیرستان سے ہمارے دو منتخب نمائندے ہیں۔ علی وزیر اور محسن داوڑ۔ ان کی بھی فوٹو اب سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔ ژوب سے یہ بلوچستان میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہیں ارمان کے جنازے پر جانا ہے۔ روک لیا گیا ہے۔ شاید پہنچ جائیں شاید واپس کر دیا جائے۔ یہ دونوں ڈھیٹ بھی بہت ہیں ہو سکتا ہے واپسی سے انکار کر دیں۔ پھر نظربند ہوں گے، رہا کر دیے جائیں گے۔

منتخب نمائندوں کو بلوچستان میں داخلے سے سیکیورٹی فورسز نے روکا ہے۔ اکثر جوانوں نے چہروں پر نقاب ڈال رکھے ہیں۔ یہ تصویر اچھی نہیں ہے۔ اسے ضرور دیکھیں۔
فوج پاکستان کی فوج ہے۔ اس کے کسی سپاہی کو کسی بھی وجہ سے اپنے کسی ہم وطن سے چہرہ چھپانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر ایسی ضرورت پڑ گئی ہے تو پھر ہمیں رک کر سوچنا ہے۔ کہیں کچھ بہت غلط ہو رہا ہے۔ اسے ٹھیک کرنا ہو گا۔

پی ٹی ایم والے جب بہت تپ جاتے ہیں۔ دو نعرے لگاتے ہیں، ایک ”یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے“۔ دوسرا ”یہ جو نا معلوم ہے یہ ہمیں معلوم ہے“۔ منظور پشتین سے جب پہلی بار ملاقات ہوئی۔ تب اس نے آن ریکارڈ کہا کہ وہ جذباتی ہو گیا تھا بہت۔ اس نے پشاور میں خود یہ نعرے لگائے۔ وہ اب ایسا نہیں کرے گا۔ اپنے ساتھیوں کو بھی منع کرے گا۔ پی ٹی ایم کی سٹیج سے اب یہ نعرہ نہیں لگتا۔

میڈیا ڈر کے ادارے لکھتا ہے، میں فوج کا ذکر کر رہا ہوں تو نام لیتا ہوں۔ پی ٹی ایم کو ڈیل کرنے میں فوج نے بہت کمال برداشت کا مظاہرہ کیا ہے۔ بہت مشکل سے فاٹا میں امن بحال ہوا۔ اس کی قیمت یہ تھی کہ لوگوں نے ہجرت کی، مصائب سہے۔ بہت سے جوان امن لوٹاتے اپنی جانیں دے گئے۔ بہت زخمی ہوئے کئی معذور۔ لوگ اپنے علاقوں کو واپس آئے تو انہیں سیکیورٹی چیک پوسٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بارودی سرنگوں سے واسطہ پڑا۔ اجڑے ہوئے بازار اور گھر ملے۔

فوج ابھی امن بحالی کے کام میں مصروف تھی کہ پی ٹی ایم کی تحریک شروع ہو گئی۔ یہ تحریک بہت ہی بنیادی فوری انسانی مسائل کی وجہ سے شروع ہوئی۔ یہ ہرگز زور نہ پکڑتی اگر امن بحالی کے ساتھ سول انتظامیہ بھی ری سٹور ہو جاتی اپنے پورے اختیارات کے ساتھ۔

ہمارا بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم فاٹا کو نہیں سمجھتے۔ فاٹا والوں کو بھی نہیں جانتے۔

جب اسلام آباد، لندن یا واشنگٹن میں بیٹھا کوئی کلرک طبعیت افسر فاٹا کو دیکھتا ہے تو اسے کم شرح تعلیم، روزگار کے کم ذرائع، تھکا ہوا انفراسٹکرچر۔ ہر قسم کی جدید سہولیات سے بے نیاز علاقہ اور لوگ ہی سمجھ آتے ہیں۔

کسی کو سمجھ نہیں آتی کہ فاٹا والے بہت ماڈرن بہت اپ ڈیٹ بھی ہیں۔ یہ عالمی منڈیوں سے رابطے رکھتے ہیں۔ ڈالر یورو پونڈ ریال درہم سے واقف ہیں۔ اپنے زور بازو سے کماتے ہیں۔ دنیا بھر میں گھومتے پھرتے ہیں۔ دنیا کی ترقی سہولت نظام کو دیکھتے ہیں۔

خیر سے یہ انڈر ورلڈ ڈررگ ٹریڈ اسلحہ کی مارکیٹ کو بھی پاکستان بھر میں سب سے زیادہ جانتے ہیں۔ گڈز ٹرانسپورٹ پر ان کا کنٹرول ہے۔ غیر روایتی کرنسی کے لین دین اور ٹرانسفر کو بھی جانتے سمجھتے ہیں۔ چالیس سال سے افغانستان میں عالمی طاقتوں کا جنگی کھیل دیکھ رہے ہیں۔ اس کا کافی حد تک حصہ بھی رہے۔ کشمیر کی لڑائی سے بھی واقفیت ان کی شاید عام پاکستانی سے زیادہ ہے۔

فاٹا میں سرداری نظام نہیں ہے۔ وہاں ملک یا مشر معتبر ہے۔ یہ معتبری اگر وراثتی بھی ہو تو اس کی لازمی شرط سمجھ بوجھ ہے۔ وہ مشر یا معتبر ہو ہی نہیں سکتا جو مسائل کا حل نہیں دیتا۔ وہی مشر ہے جو حل فراہم کرتا ہے۔

ہمارے ہاں نوجوان آبادی کا سب سے بڑا حصہ ہیں۔ فاٹا میں بھی ایسا ہی ہے۔ جوانی کے ارمان الگ ہوتے ہیں۔ خواب دیکھنا چیلنج قبول کرنا۔ اچھی زندگی گزارنا۔ اپنے لیے سہولیات حاصل کرنا۔ اپنا حق مانگنا۔ آگے بڑھنا ترقی کرنا دوسروں کے برابر حصہ مانگنا۔ اک اضافی خوبی بھی ہے فاٹا والوں میں وہ ہے محنت کرنا۔ چوکیداری مزدوری حتی کے پالش کر کے اپنے ہاتھوں کی محنت سے اپنی قسمت بدلتے اور کوشش کرتے یہ لوگ ہم سب دیکھتے ہیں۔ پی ٹی ایم ان لوگوں کی آواز بن کے اٹھی ہے۔ ابھی امید ہے راستہ کھو کر بھٹک جائے گمراہ ہو جائے کہا نہیں جا سکتا۔ اسے امید ہی رہنا چاہیے۔

بدقسمتی سے اک وزیرستانی وائس چانسلر کا خطاب سنا۔ اس نے کہا کہ وہ ایسی تعلیم پر لعنت بھیجتا ہے جو ان کی لڑکیوں کو گمراہ کر دے۔ تعلیم کسی کو گمراہ نہیں کرتی وہ ظالم خود گمراہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسی تھکی ہوئی سوچ باقی پاکستان کی طرح فاٹا میں بھی ہے۔ زیادہ ہے۔

ارمان لونی اس سوچ کے خلاف مضبوط علامت تھا۔ وہ پی ٹی ایم کے جلسوں کے انتظامات کرتا تھا۔ اس کی بہن وڑانگہ لونی جلسے سے خطاب کرتی تھی۔ دونوں اکٹھے آتے تھے۔

اس نے کچھ تو حیا پی ٹی ایم والوں میں دیکھی ہو گی۔ کتنی جرات خود کی ہو گی، کتنے بیریر توڑ کر اس نے وڑانگہ لونی کے لیے راستے بنائے۔ ایسا بھائی جو آپ کا بھی تھا میرا بھی تھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ پولیس نے اس کی گردن توڑ دی۔ اب چاہیں تو اس کی فوٹو دیکھ لیں۔ اس کی بیٹی اکیلی رہ گئی ہے اک سخت زندگی گزارنے کو۔

اک انتظار ہے کل سے نہ ہمارے وزیر اعظم نے نہ ہمارے چیف نے اب تک ارمان لونی کے لیے مذمتی بیان نہیں دیا۔ یہ بیان اگر اشرف غنی کا پہلے آ گیا تو پھر لر و بر یو پختون پر گلہ کرنا بنتا نہیں ہے۔


وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 407 posts and counting.See all posts by wisi