سیاست، صحافت اور شدت پسندی کے تکون کی تفہیم
معروف ادیب رحمٰن عباس لکھتے ہیں ’جس عہد میں ہم سانس لے رہے ہیں اگر اس عہد میں اردو کی کوکھ سے سیاسی ناول پیدا نہ ہوئے تو اردو بیمار زبان تصور کی جائے‘ ۔ پروفیسر ارجمند آرا کے ذریعہ ناول The Ministry Of Utmost Happiness کا اردو کے قالب میں ڈھلنا، نہ صرف رحمٰن صاحب کے لئے تقویت کا سامان ہے بلکہ اردو کے عام قارئین کے لئے بھی خوش آئندبات ہے۔
ارجمند صاحبہ دہلی یونیورسٹی میں اردو زبان و ادب کی پروفیسر ہیں اور ترجمہ نگاری کے فن کی ماہر ہیں۔ رالف رسل کی سوانح سے لے کر انگریزی اور ہندی کی درجنوں کتابوں کو اردو میں منتقل کرنے کا تجربہ رکھتی ہیں۔ دی منسٹری آف اٹموسٹ ہیپی نیس کا ترجمہ بامحاورہ، سلیس اور رواں ہونے کے ساتھ ہی ادبی و تخلیقی معیار کے لحاظ سے اصل سے قریب تر ہے۔ دوران مطالعہ بعض اوقات قاری پر اس کے طبع زادہونے کا خیال گزرنے لگتا ہے کیوں ک خود مصنفہ کی تصدیق کے مطابق ناول کی کہانی پرانی دلی اور کشمیر پر مبنی ہونے کی وجہ کر اس کا کثیر حصہ بنیادی طور سے اردو میں ہی تخلیقی شعور میں نمو پاکر انگریزی میں صفحہ قرطاس پرابھرا ہے۔
دودہائی قبل ’دی گاڈآف اسمال تھنگز‘ سے شہرت کے آسمان پر پہنچنے والی معروف مصنفہ ارندھتی رائے کا دوسرا ناول ’دی منسٹری آف اٹموسٹ ہیپی نیس‘ 2017 میں فکشن کے افق پر نمودار ہوکر قارئین و ناقدین کی توجہ کا مرکز بنا اور اب تک پچاس سے زائد زبانوں میں منتقل ہو چکا ہے۔
بیس سالوں تک ادندھتی رائے نے نان فکشن کے ذریعہ جدید ریاست کے بگاڑ کے مختلف پہلوؤں پر اپنا تخلیقی جوہر دکھایا۔ 2014 کے بعد کے ہندوستان کے تیزی سے تبدیل ہوتے سیاسی منظرنامے کے خط و خال کو محفوظ کرنے کے لئے بقول مصنفہ نان فکشن کا دامن محدود ہوتا محسوس ہو تا دیکھ ادبی فکشن کی وسعت کاسہارا لینا ناگزیر ہوگیا۔ سیاسی مواد سے لیس اس ناول میں مصنفہ نے ا پنے کرب کے بیانیہ کے لئے میجک ریئلزم کے عناصر کو بڑی خوبصورتی اور مہارت کے ساتھ برتا ہے۔ ِ قصہ گوئی کے ہنر نے ناول میں سیاسی و مزاہمتی علامتوں کے امتزاج میں کمال صناعی اورانتہا درجے کی باریکی سے کام لیا ہے کہ دوران مطالعہ قاری، ناول کے کسی نا کسی کردار میں خود کو ڈھلتا ہوا محسوس کرنے لگتا ہے۔ بقول فیض احمد فیض:
دامن درد کو گلزار بنا رکھا ہے
آؤ اک دن دل پرُ خوں کا نظارہ دیکھو
یہ ناول ایک بالکل ہی مختلف فضا اور ماحول کی دین ہے اس لئے اپنے انفرادی اور سیاسی رنگ کے ساتھ اس کا پلاٹ کافی گھماؤدار اور قدرے پیچیدہ ہے۔ مصنفہ کے خاص نثری اسلوب نے مختلف طرح کے شوخ رنگوں کے امتزاج سے ایک پرکشش مگر المناک قوس قزح تعمیر کیا ہے۔ اس ناول کا قاری دوران مطالعہ زبان و بیان کی لذت سے جس قدر محظوظ ہوتا ہے اسی قدر اس کے مواد اور منظر و پس منظر کے ادراک و تفہیم پر انگشت بدنداں بھی ہو جاتا ہے۔
’قبروں کے درمیان راستہ ٹھک ٹھکاتی ہوئی ان کی چشم بینا چھڑی راہ میں پڑی شراب کی خالی بوتلوں اور متروکہ سرنجوں سے ٹکرا کر موسیقی پیدا کر رہی تھی۔ انجم نے انہیں روکا نہیں۔ اسے معلوم تھا وہ لوٹیں گے۔ تنہائی کے چہرے کا نقاب کتنا ہی دبیز کیوں نہ ہو، وہ جب بھی اسے دیکھتی، پہچان لیتی تھی۔ ۔ اور تجربے نے اسے سکھایا تھاکہ‘ ضرورت ’ایک ایسا گودام ہے جس میں بے رحمی کے لئے بھی خاصی گنجائش نکالی جا سکتی ہے۔‘
کہانی کا آغاز اور اختتام، دونوں ہی قبرستان جیسے المناک مگر طنزآمیز استعارے پرہیں۔ ’مسلمان کا ایک ہی استھان! قبرستان یا پاکستان!‘ جیسے نعروں کی ہولناکی اور دہشت کو مصنفہ نے بڑی شدت سے محسوس کیا ہے۔ مگر انہیں اس بات کا بخوبی علم ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے لئے پاکستان کسی بھیانک اور ڈراؤنے خواب سے کم نہیں ہے اور ان دنوں پوری دنیا میں اقلیتوں کے لئے ’بے پناہ شادمانی کی مملکت‘ کی حیثیت سے قبرستان ہی ایک قطعی متبادل ہے۔ اس ناول کی خوبی یہ ہے کہ واقعات اور کرداروں کی بہتات کے باوجود انجم اور تلوتما کے کردار اور کہانی کی مرکزیت کی گونج نے پورے پلاٹ پر اپنی موجودگی کو قطعی اہم اور نمایاں بنا رکھا ہے۔
فصیل بند شہر جہان آباد کے چتلی قبر علاقے میں جہاں آرا بیگم اور ملاقات علی کے یہاں طویل انتظار کے بعد آفتاب کی پیدائش نوید شادمانی سے کم نہیں ہے تبھی نو مولود کے مبہم جنسی عضو کا ماں پر منکشف ہونا دہشت کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ بجلی کے کوندے کی سی سرعت سے کئی گرم و سرد احساسات ان کے ذہن پر یکے بعد دیگرے گزرجاتے ہیں اسی حالت میں ان کے شعور کی سماعت میں ایک لفظ ’ہیجڑا‘ کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ ماں اپنے آفتاب کے اس نقص سے نجات کے لئے حضرت سرمد شہید کی مزار پرحاضر ہو کر سرگوشی کرتی ہے : ’میں اسے یہاں آپ کے پاس لائی ہوں۔ اس کا خیال رکھیے اور مجھے سکھائیے کہ کس طرح اس سے محبت کروں‘ ۔
ملاقات علی پر جب آفتاب کی اس حقیقت کا راز کھلتا ہے تو پریشان ہونے کے باوجود بڑی بردباری سے اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے جدید طب میں اس مسئلے کے حل کے لئے اعتماد کرتے ہیں۔ دوسری طرف آفتاب میں مردانگی کی خصوصیات کو ابھارنے کی غرض سے اپنے مبینہ جد امجد چنگیزخاں کی بہادری و دلاوری کے قصے سنا نا شروع کر تے ہیں مگر چنگیز خاں کے بر عکس آفتاب کی فطرت اس کی بیوی بورتہ خاتون کے کردار کو قبول کر نے کی طرف مائل ہے۔ عین شباب کے دنوں میں آفتاب کی فطرت کو شاہ جہان آباد کے ترکمان گیٹ پر واقع ’خواب گاہ‘ اور اس کے مکینوں کے یہاں اپنی متلاشی دنیا کا پتہ ملتا ہے اور وہ انجم کے نام سے خواب گاہ کو اپنا مستقل ٹھکانہ بنا لیتی ہے۔
2002 میں انجم اجمیر شریف کی درگاہ کی زیارت کے بعد گجرات کے احمدآباد میں ولی دکنی کی مزار پر فاتحہ گزارنے پہنچتی ہے اور اس پر قیامت بیت جاتی ہے۔ یہاں ارندھتی رائے کے قلم نے مسلمانوں کے قتل عام کا نقشہ اس فنکارانہ اختصار سے کھینچا ہے کہ قتل عام کی جزئیات اپنی پوری تفصیلی سفاکی کے ساتھ عیاں ہے۔ گجرات کے ان آدم زاد درندوں کے ’سو بھاگیہ‘ بننے کا تصور کر کے انجم کا ذہن مفلوج ہونے لگتا ہے۔ دہلی پہنچ کر وہ خواب گاہ کو خیر باد کہہ دیتی ہے اور ایک قبرستان (غالباٌ مہدیان) میں ’جنت گیسٹ ہاؤس‘ کے نام سے ’بے پناہ شادمانی کی مملکت‘ تعمیر کرتی ہے جہاں دنیا میں حیات تنگ کر دیے گئے لوگوں کے لئے امید اور زندگی سے بھرپور ایک نئی دنیا آباد ہوتی ہے۔
تلوتما یاتلو (ایسا قیاس ہے کہ مصنفہ خود ہی اس کردار میں ہیں ) ، جس کی تعلیم آرکیٹیکچرمیں ہے اور ایک انقلابی کارکن ہے ناول کا بہت ہی اہم کردار ہے۔ تلوتما کے سہارے ہی ناول کا قصہ کشمیر کی حسین و دلفریب وادیوں میں انسانیت سوزی کی باریک تفصیلات کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔ تلوتما کے تینوں عاشق ناگا، بپلب اور موسیٰ کے تکون سے کشمیر کے موجودہ حالات کے لئے ذمے دار شدت پسندی، سیاست اور صحافت کے کردار کو واضح کیا گیا ہے۔
تلو تما اپنے عاشق موسیٰ یسوی سے ملاقات کی خاطر کشمیر کا سفر کرتی ہے اور دہشت گردی کے الزام میں گرفتار ہو جاتی ہے۔ موسیٰ کی بیوی عارفہ اور بیٹی جبین کو ملٹری کی گولی لگنے سے موت ہو جاتی ہے اور وہ شدت پسند گروہ میں شامل ہوجاتا ہے۔ حکومت کی طرف سے سفارت کاری کے عہدے پر تعینات بپلب، ناگا کو تلوتما کی رہائی میں مدد کے لئے بھیجتا ہے۔ یہاں امریک سنگھ اور پنکی کے کردار کے ساتھ شیراز سنیما کے کردار حقوق انسانی کی پامالی سے پردہ اٹھانے میں بہت ہی اہم ہیں۔ جا بجا خون کے گرم چھینٹوں اور دھبوں، مہیب چیخوں اور نعروں سے ناول کے منظرو پس منظر میں ابھرتے شوراور سناٹے کی بازگشت سے سیاست کی بساط پر پیادوں کی زندگی و موت کے عیارانہ کھیل سے نقاب کشائی ہوتی ہے۔
’اس طرح شورش شروع ہوگئی۔ موت ہر جانب تھی۔ موت ہر شئے تھی۔ کرئیر، آرزو، خواب، شاعری، عشق، خود جوانی بھی۔ موت جینے کا بس ایک اور قرینہ بن گئی۔ قبرستان اگ آئے، پارکوں اور چراگاہوں میں، چشموں اور ندیوں کے ساحلوں پر، کھیتوں اور جنگلوں کے سبزہ زاروں میں۔ قبروں کے کتبے زمین سے یوں اگنے لگے جیسے چھوٹے بچوں کے دانت ‘ ۔
صدام حسین، ایک دلت کردار جو انجم کے ساتھ جنت گیسٹ ہاؤس میں رہتا ہے وہ سیاست کی پشت پناہی میں نچلی ذاتوں پر ہورہے مظالم اور گائے کے تحفظ کی آڑ میں ماب لنچنگ کی حقیقت سے پردہ اٹھاتا ہے۔ چھتیس گڑھ کے آدی باسیوں پرحکومت کی شہہ سے پیرا ملٹری کی بربریت اور درندگی کو اْدَیہ جبین کے کردار کے ذریعہ اجاگر کیا گیا ہے۔ جہاں اْدَیہ کی پیدائش پیراملٹری کے ذریعہ ایک آدی باسی خاتون کی عصمت دری کے باعث ہوتی ہے۔ ماں بچی کو جنتر منتر پر ایک مزاحمتی مظاہرے میں چھوڑ دیتی ہے۔ تلوتما اس بچی کو لے کر کسی طرح جنت گیسٹ ہاؤس پہنچتی ہے وہیں اسے موسیٰ کی موت کی دلدوز خبر ملتی ہے۔
یقیناًیہ ناول اپنے موضوع اور تکنیک کے لحاظ سے بہت اہم اور بڑا ہے اور پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ ادبی نزاکتوں اور رمزیت سے محدود طبقہ ہی لطف اندوز ہوا کرتا ہے جبکہ عام قاری فکری سادگی اور اس کے بیانیے سے متاثرہوا کرتا ہے جس میں ادبی اور صحافتی اسلوب کی سرحدیں ملتی ہیں۔ مغلظات جہاں اس ناول کے مطالعے کے دوران کچھ سعید روحوں کی طبیعت پر گرانی کا باعث ہوئے ہوں گے وہیں کرداروں کی بے بسی، غم و غصے اور کرب کے اظہارکے لئے ناگزیر بھی ہیں۔ ناول سے ایک شعر ملاحظہ کریں :
مر گئی بلبل قفس میں، کہہ گئی صیاد سے
اپنی سنہری گانڑ میں تو ٹھونس لے فصل بہار


