صحرائے تھر کی زبان اور لوک ادب
انسان اپنے وجود سے لے کرلاکھوں سال ارتقائی سفر طے کرکے اپنی موجودہ منزل پے پہنچا ہے ارتقائی سفر کے دوران اندرونی بیرونی کیفیت کا طریقہ اظہار، فکر، رہن سہن اور جسمانی بناوٹ میں بیشمار تبدیلیاں آئی ہیں۔ انسان کی سفری کہانی میں کبھی تاریخ، کبھی روایات، کبھی سائنسی نقطہ نظرسے کچھ اصول بناکراس کی روشنی میں تحقیق ہوتی رہی ہے، نہ کبھی انسانی سفر رکا ہے، نہ کبھی تحقیق کا عمل بند ہواہے۔ انسانی کہانی پہ تحقیق کا سائنسی عمل علم بشریات جسم، آثارقدیمہ، زبان اور ثقافت جیسے چارمرکبات پہ مشتمل ہے۔
ضلع تھر پارکر میں یہ چاروں مرکبات اپنی انفرادیت اور کثرت سے ملتے ہیں۔ صحرائے تھر کا خطہ تہذیبی، ثقافتی اور تاریخی حوالے سے منفرد رہا ہے، تھر کی زبان اور رہن سہن سے لے کر رسم رواج تک زندگی منفرد اور سادی ہے۔ تپتی ہوئی ریت اورجلتی ہوئی دھوپ میں ویرانی کا روپ دکھائی دینے والا ریگستان برسات کی حسین رت میں قدرت کا عظیم شاھکار بن جاتا ہے۔ ریگستان جہاں قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، وہاں شاعری وموسیقی میں بھی درجا کمال کے روحانی سکون کا سبب ہے۔
کہا جاتا ہے یہ ریگستان ایک گم ہوجانے والے سمندر کا پیٹ ہے، یہ ریت کے ٹیلوں والی زمین کبھی سمندر تھی۔ صوبہ سندھ میں اس ریگستانی حصے کو مُردھر یا مروستھل بھی کہا جاتا ہے، شمش العلما ڈاکٹرعلامہ عمربن داؤد پوٹہ اپنے ایک قلمی نسخے میں ایک تھری لوک دوہا لکھا ہے اس کا مطلب ہے کہ آج میرے خطے پے کالی گھٹائیں ہوئی ہیں، مردھر پہ بارش ہو رہی ہے، پر ہوتے تو ایک پل میں اڑ کر گھر پہنچتا۔ مُردھر یا مروستھل کے نام کی وجہ سے ریگستان کے لوگوں کی زبان کو مروبھاشا کا نام دیا گیا۔
مُردھر یا مروستھل کے نام کی وجہ سے ریگستان کے لوگوں کی زبان کو مروبھاشا کا نام دیا گیا۔ 778ع میں کولیامالیا نام کی ایک کتاب میں اس وقت کی قابل ذکرزبانوں کا تذکرہ کیا گیا ہے، ان میں مُروبھاشا بھی ہے۔ 11ھیں صدی میں مروگجر کا اصطلاح سننے میں آیا زبان کے ماہرین نے ضلع تھر پارکر کے پارکری لہجے کو اسی مروگجر سے بیان کیا ہے۔ پارکر کا حصہ ثقافتی طور بہت شاہوکار ہے، ان کی اہم ثقافتی پہچان ان کی زبان ہے جوکہ جتنی میٹھی ہے اتنی پرانی ہے۔
سارنگ دھر مروگجر کے دور کا خوبصورت شاعر ہے، جس کا تھر کے حسین پرندے مور متعلق ایک شعر ملتا ہے، جس کا ترجمہ ہے۔ اے مور تیری آوازشعرا کے دل میں اتر جاتی ہے جس طرح دلہن کی مانگ پھولوں سے سجی ہوئی خوبصورت لگتی ہے، اسی طرح تیرے پر بھی دلکش ہیں۔ تیری دوستی کالے بادلوں سے ہے، سمجھ میں نہیں آتا کہ قدرت نے یہ انعام تجھے کس وجہ سے دیا ہے۔ مروگجر اور مروبھاشا کی طرح ریگستانی زبان کے لئے پنگل اور ڈنگل کا اصطلاح بھی 15 ویں اور 16 ویں صدی میں مشہور ہوئی۔
برصغیر کی زبانوں پہ تحقیق کرنے والے سر گئریسن نے سندھ کے ڈاٹ والے خطے کی زبان کو پنگل اور ڈنگل کے دائرے میں شامل کیا ہے۔ یہ لہجہ علم و ادب خاص طور پہ لوک ادب میں اہم لہجہ سمجھا جاتا ہے۔ ڈنگل کا اصطلاح سب سے پہلے 15 صدی کے شاعر کشلابھ نے استعمال کی، زبان کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈنگل ریگستانی زبانوں میں ایک شاعری کی صنف ہے۔ جس کا موضوع رزمیہ شاعری ہے، اور کچھ کا خیال ہے کہ یہ بولی نہیں چرواہوں اور کسانوں کا لہجہ ہے، کچھ بھی ہو یہ لہجہ باجھرا کے لہلاتے ہوئے کھیتوں گاؤں کے میدانوں ریت کے ٹیلوں اور رات کی ٹھنڈک میں بیٹھک کی کچھریون کا میٹھا لہجہ ہے، ریگستان کے دانشوروں، ادیبوں اور عالموں کا جھکاء پنگل کے طرف رہا ہے، تھر کے مشہور لوک گیت راسوڑ پنگل میں لکھے ہوئے ہیں، پارکری زبان میں ایک راسوڑا ہے، مانرا مٹھڑا بھلیں آویا ہوں تان کھڑی کراں منوار، یہ راسوڑا گیت تھر آنے والے ہر شخص نے سنا ہے۔
تھر پارکر درواڑی اور راجپوتی تہذیب کا سنگم ہے، تھر پارکر کی علاقائی تاریخ کی طرح زبان کی تاریخ بھی قدیم ہے۔ تھر کی زبان پے موھن جو دڑو کی امر مُہر لگی ہوئی ہے، دوسری زبان کے الفاظ کو اپنے ماحول کا رنگ دے کر اپنے وجود میں شامل کرنے سے اس بولی کی وسعت بڑتی گئی، تھر پارکر کی علاقائی بولی میں جہاں پانچ ہزار سال پرانے سندھی اور دراوڑی زبانوں کے الفاظ ملتے ہیں وہاں جدید دور کے سائنسی ایجادات کے سائنسی نام جنم لے رہے ہیں۔
تھر پارکر علاقائی لحاظ سے سات حصوں ڈاٹ، ونگو، کنٹھو، کھاہوڑ، پارکر، سامروٹی اور وٹ پے مشتمل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان حصوں میں ہر ایک حصے کا اپنا لہجہ ہے۔ مگر مجموعی طور تھر پارکر میں بولی جانے والی زبان کے تیں لہجے ہیں۔ 1۔ سندھی تھری لہجہ، 2۔ پارکری لہجہ، 3۔ ڈاٹکی لہجہ۔ سندھی تھری لہجے سے مراد وہ لہجہ ہے جو اپنے مخصوص الفاظ، اچار، کہاوتوں، اصطلاحات کے ساتھ تھر میں بولا جاتا ہے۔ اس لہجے میں تھر کے بیلوں، درختوں، گھاس کے ساتھ ہر جاندار و بے جان کا اپنا نام ہے۔
انسانی ارتقا کے سفر کو سمجھنے کے لئے کتنی ہی تاریخی کہاوتیں، سماجی و معاشی جائزے کے فقرے، الفاظ کا مخصوص اچار اس لہجے کی خوبصورتی ٰہیں اس لہجے پے تحقیق کے حوالے سے بہت کم کام ہوا ہے، مگر یہ سندھی زبان کا اہم لہجہ ہے۔ سندھ کے کلاسیکل اور جدید شاعری میں اس لہجے کا استعمال ہوا ہے۔ سندھ کے عظیم شاعر شاہ لطیف سے لے کر سچل سرمست، نبی بخش قاسم اور شیخ ایاز جیسے نامور شعرا نے اپنی شاعری میں اس لہجے کے کئی الفاظ استعمال کیے ہیں۔
ادب میں زرخیز تھر کی دھرتی پے پیدا ہونے والے مشہور و معروف شخصیات میں رائچند ہریجن، مگھارام اوجھا، عبدالقادر جونیجو، عثمان ڈیپلائی، ماٹھینو اوٹھو، ولیرام ولبھ، پروفیسر سائینداد ساند، پروفیسر نوراحمد جنجھی، سہیل سانگی، سروپچند شاد، خلیل کنبھار، امر ساہڑ، دلیپ کوٹھاری، نصیر کنبھار، سنبھوہمیرانی، عثمان ادیب، محمد ہنگورجو، خالد جوگی، ناشاد سموں، ساگر خاصخیلی، حسن نوشاد، دوست محمد ڈیپلائی، علی اکبر راہموں، حاجی محمد کنمبھر، امام آزاد جنجھی، گل گومانی، شنکر ساگر، پریم شوانی، ارباب احسان، شھاب نھڑیو اور دیگر مقامی نامور تخلیق کاروں نے اس لہجے کو اپنایا ہے پارکری لہجہ کارونجھر کے پہاڑی سلسلے میں بولا جانے والا ایک لہجہ ہے، پارکری لہجے کی عربی رسم الخط میں سندھی الف ب کے ساتھ چار حروف مخصوص پارکری تلفظ کا شامل کر کے پارکری الف ب تیار کی گئی ہے، ایک برطانوی نوجوان اسکالر رچرڈ ہائیکل کے پارکری بولی کے لئے خدمات تعریف جیسی ہیں۔
1985ع میں سندھی نصاب کا پارکری ترجمہ ہوا ہے، پارکری میں پونم پاسکل کی کوشش سے پربھات نامی ایک جریدہ شایع ہوتا ہے۔ پارکری لہجے میں کئی کہانیاں، کہاوتیں اور لوک گیت مشہور ہیں۔ پارکری کے اہم شعرا میں سے ایک چندیرام بھاٹ بھی ہے، جس کے لئے جدید سندھی شاعری کے بڑے نام شیخ ایاز نے کہا ہے ان کے شعر نہیں، پتھر پے لکیریں ہیں، جو کبھی مٹ نہیں سکتیں، چندیرام کے مشہور اشعار میں سے ایک شعر ہے کہ کارونجھر نی کور، مرین تو بھی مھلیں نہیں، ماتھے ٹھوکے مور، ڈونگر لاگے ڈیپتو ڈاٹکی ایک لہجہ ہے یا مکمل بولی، دونوں صورتوں میں ڈاٹکی کو تھر کے ریگستان میں نمایاں حیثیت حاصل ہے۔
سندھ کے مشہور و معروف لسانیات کے ماہر ڈاکٹر غلام علی الانا نے ڈاٹکی کو سندھی زبان کا چوتھا (4) لہجہ قرار دیا ہے، ادیب ڈاکٹر عبدالجبار جونیجو اور ہدایت پریم نے اپنے مشہور کتاب تھر جی بولی میں لکھا ہے کہ ڈاٹکی کو سندھی زبان کا محاورہ نہیں کہا جا سکتا بلکہ ان کی اپنی ایک علیحدہ حیثیت ہے، لسانیات کے دو بیرونی ماہرین پیٹاگرینگر اور نیٹا گرینگر اپنی تحقیق پرائمری سروے لینگوئج آف سندھ میں ڈاٹکی کو مارواڑی کے قریب دکھایا ہے۔
مختصر الفاظوں میں بات یہ ہے کہ ڈاٹکی تھر کی اہم زبان ہے، جس کو سوڈکی بھی کہتے ہیں۔ ایک غیر سرکاری سروے مطابق ضلع تھر میں 54 فیصد لوگوں کی مادری زبان ڈاٹکی ہے، 97 فیصد تھر کی آبادی ڈاٹکی سمجھتی اور بول سکتی ہے، ضلع عمرکوٹ میں 40 فیصد لوگوں کی مادری زبان ڈاٹکی ہے، 60 فیصد سے زیادہ آبادی ڈاٹکی سمجھتی اور بول سکتی ہے۔ اسی طرح کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص، ٹنڈوالھیار، سانگھڑ، بدین اورٹھٹھہ میں ڈاٹکی بولنے والے مل جاتے ہیں۔
ڈاٹکی پے تحقیق کے حوالے سے سندھ کے بڑے اسکالر ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ کی خدمات قابل تعریف ہیں۔ انہوں نے اپنے کتاب سندھی بولی ادب جی مختصر تاریخ میں لکھا ہے کہ ڈاٹکی کا بنیادی مرکز سندھی زبان کا ہے۔ لوک ادب اور سماج کا پائیدار رشتا ہے، لوک ادب سماج میں ہونے والے کام کاج کارہھنوار ہے، تھر کا لوک ادب بھی اسی حوالے سے کافی منفرد، دلچسپ اور پوری دنیا میں مشہور ہے، یہاں کا لوک ادب اور ثقافتی رنگ اپنی اصلی روپ میں موجود ہے۔
لوک ادب اور ثقافتی حوالے سے تھر کی زمیں بہت زرخیز ہے، دنیا کے لوک ادب کی طرح بادشاہوں اور پریوں کے ساتھ ساتھ یہاں کے مقامی لوک کرداروں کی کہانیوں اور شعر و شاعری کا بڑا ذخیرہ ملتا ہے، قاضی قادن، شاہ لطیف، سچل سرمست اور دیگر صوفی شعرا نے تھر کا تذکرہ اور ڈاٹکی زبان کا استعمال اپنی شاعری میں دلچسپ اندازمیں کیا ہے۔ ڈاٹکی کی موسیقی بڑی درد بھری ہے۔ لوک گیتوں میں سادگی کا حسین رنگ بھرا ہوا ہے۔ لوک گیت کسی ایک شاعر کی تخلیق نہیں بلکہ صدیوں کا ورثا ہے۔
چارن، بھاٹ، بھان اور منگنھار قبیلوں کا ڈاٹکی لوک ادب میں بڑا کردار ہے۔ ان کی وجہ سے یہ ادب آج تک زندہ ہے۔ موروں کے دلربا رقص اور حب الوطنی کے عظیم کردار مارئی کے داستان میں مھکتے ہوئے ڈاٹکی کے گیتوں کو مقامی گلوکاروں مراد فقیر، مائی بھاگی، مائی ودھائی، موہن بھگت، استاد حسین فقیر، استاد شفیع فقیر، صادق فقیر، فوزیہ سومرو، عارب فقیر، حیدررند، بھگڑو ناچیز، انب فقیر، مصری ڈیپلائی، رجب فقیر، رفیق فقیر اور دیگر گلوکاروں نے دل و روح سے گایا ہے، جنہیں جب کوئی سنتا ہے، تو ان کے دل کی دھڑکن ساز کے ساتھ دھڑکنے لگتی ہے۔
ڈاٹکی میں جو پرانے ادب کے نمونے ملتے ہیں، ان میں سڈونت سارنگا، ڈھولا مارو کے دوھے شامل ہیں۔ تاریخ نویسوں کے مطابق سڈونت سارنگا کا قصا پاری نگر کے دوْر کا ہے، مگر شاعری کی بناوٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ دوھے سومروں کے پہلے دوْر 11ھیں صدی کے ہیں۔ 1226 ع میں سودھا خاندان کے دور حکومت میں ڈاٹکی کو پذیرائی ملی۔ عربی رسم الخط میں سندھی الف ب کے تعاون سے ڈاٹکی کی الف ب تیار کی گئی ہے۔ حروف کا تعداد 34 رکھا گیا ہے۔
جس طرح گنے میں رس اور مہندی میں رنگ چھپا ہوا ہوتا ہے، اسی طرح بولی کے کھیت میں کہاوتوں کا سٹائل حسن دکھاتا ہے۔ ڈاٹکی میں بہت ساری کہاوتیں ملتی ہیں۔ ڈاٹکی سیکھنے کے کچھ کتاب شایع ہوئی ہیں۔ مگر اب تک ڈاٹکی کا کوئی جریدہ نھیں نکلتا۔ ریڈیو پاکستان مٹھی پے دو ڈاٹکی کے پروگرام ڈاٹی مانھجا دھول اور تھر ری سرہان روزانہ نشر ہوتے ہیں۔ پیارو شوانی اور رقم الحروف نے شیخ ایاز کی شاعری کو ڈاٹکی روپ دیا ہے۔ ڈاٹکی شعر و شاعری اور موسیقی کا اپنا مقام ہے۔ مائی بھاگی کے ایک مشہور اور مقبول لوک گیت کے بول ہیں
ای پریتم تیرے لئے کھڑی ہوں نیم کے نیچے تنہا،
کوئی دیکھ نہ لے آتے جاتے راہرو
رم جھم بارش برس رہی ہے، جھوم ہوا رہی ہے،
مور پپیا میٹھا بولیں کوئل شور مچا رہی ہے،
میرے پریتم مجھے بتاوْ میں جو اکیلی ہوں
کوئی دیکھ نہ لے آتے جاتے راہرو
گھر کے آنگن میں مٹی کا چھوٹا سا گولا جیسے سرکتا جائے،
ساسُو ماں تیرا البیلا بیٹا مجھ سے ایسے کھنچتا جائے
کوئی دیکھ نہ لے آتے جاتے راہرو
اُجلی اُونچی ماڑی، سجی سجائی کھاٹ،
سونے کو پریتم نہیں، سخت سردی کی رات
کوئی دیکھ نہ لے آتے جاتے راہرو


