ترکی کا کمبل جس نے میرے باپ کو بھکاری بنا دیا


”وہ تو کیمپ میں ہیں۔ سڑک کے ساتھ۔ اب تو سورہے ہوں گے صبح آجائیں گے۔ “

میں تھکا ہوا تھا، کچھ سمجھا کچھ نہیں سمجھا۔ شاید کچھ زخمی ہوں گے تو کیمپ میں ہوں گے میں نے کہا بھی کہ انہیں دیکھ کر آتے ہیں مگر آسیہ نے کہا کہ اب سوگئے ہوں گے لہٰذا بہتر ہے کہ صبح ہی وہاں چلیں۔

گرماگرم پانی سے نہایا، آسیہ کے بنائے ہوئے کھانے کھا کر کچھ غنودگی کے ساتھ مجھے سردی سی لگی تو میں نے اسماعیل سے کہا کہ مجھے کمبل لا کر دے تو اس نے مجھے ایک کمبل جس میں لال اور نیلی لائنیں پڑی ہوئی تھیں لا کر دی اور کہا کہ یہ اوڑھیں، یہ ترکی کا کمبل ہے بہت ہی گرم۔

وہ بہت ہی اچھا، ملائم اور بہترین قسم کا کمبل تھا۔ میں اس کمبل میں لپٹا ہوا گہری نیند سوگیا کہ نہ جانے کس وقت میری آنکھ کھلی۔ مجھے ایسا لگا جیسے سخت گرمی ہوگئی ہے یا شاید کمبل میرے چہرے پر چبھ رہا تھا۔ میں کمبل کو ہٹا کر اپنا پرانالحاف تلاش کررہا تھا کہ آسیہ کی آنکھ کھل گئی وہ اُٹھ کر بیٹھ گئی اورمیرے لیے میرا سبز اور سرخ رنگوں میں بنا ہوا نرم روئی کا لحاف لے آئی۔

”یہ کمبل کہاں سے آیا ہے آسیہ؟ “ میں نے نیند میں پوچھا تھا۔
”یہ امدادی سامان کا کمبل ہے۔ بہت سارا سامان آیا ہے، بہت سارے کمبل آئے ہیں ناں، ملکوں ملکوں کے۔ اسماعیل لایا سی، بہت سارا سامان جمع کیا ہے اس نے۔ “

میں غنودگی کے عالم میں یہ سوچتا ہوا سوگیا کہ ہمارے گھر کو امدادی سامان کی کیا ضرورت ہے۔ مضبوط بنا ہوا گھر محفوظ تھا، یہاں تک کہ دراڑیں بھی نہیں پڑی تھیں۔ پانی اور بجلی بھی ٹھیک ٹھاک تھا۔ دیکھا جائے تو چٹہ بٹہ میں کوئی خاص نقصان تو ہوا بھی نہیں تھا۔

دوسرے دن میری آنکھ جلدی کھل گئی تھی میں عادت کے مطابق صبح اُٹھ کر چٹہ بٹہ سے گزرتی ہوئی بڑی سڑک پر چلا آیا۔ سڑک کے ساتھ ہی کھلی زمین پر فوجیوں نے امدادی کیمپ لگایا ہوا تھا، سامنے لائن لگی ہوئی تھی، مجھے پتہ لگا کہ نو بجے یہاں سے سامان بٹنا شروع ہوتا ہے، لائن میں مجھے چٹہ بٹہ کے بہت سے لوگ نظر آئے جن کے بارے میں مجھے آسیہ نے بتایا تھا کہ ان کے گھر بھی محفوظ ہیں۔ جانی نقصان بھی نہیں ہوا ہے۔ مجھے تھوڑی حیرت ہوئی کہ یہ لوگ اس امدادی سامان کے لیے کیوں لائن میں کھڑے ہیں۔

میں نے روڈ کے ساتھ پڑے ہوئے بڑے بڑے پتھروں پر بیٹھ کرنیچے وادی کی طرف نظر ڈالی ہی تھی کہ مجھے شور سا سنائی دیا۔ سامنے سے ایک ٹرک دھیرے دھیرے چلا آرہا تھا جس میں تین آدمی کھڑے تھے اور مختلف سامان پھینکتے ہوئے جارہے تھے، چٹہ بٹہ کے بہت سارے لوگ نوجوان بچے پیچھے پیچھے بھاگ رہے تھے، میں سمجھنے کی کوشش ہی کررہا تھا کہ مجھے ان دوڑنے والوں میں اسماعیل بھی نظر آیا۔ اس کے ہاتھوں میں چیزیں تھیں اور وہ روڈ پر پڑی ہوئی چنوں کی تھیلی اُٹھا رہا تھا کہ میں بھی بھاگ کر اس کے پاس پہنچ گیا۔ میری نظر دوسری طرف بیٹھے ہوئے رفیق پر پڑی وہ بہت سارے سامان کے ساتھ سڑک کے کنارے بیٹھا ہوا جیسے ان کی نگہداشت کررہا ہو۔

”یہ کیا ہے اسماعیل؟ “ میں نے سوال کیا تھا۔
”یہ آج سامان جمع کیا ہے ہم دونوں نے اور اب اسے گھر لے جائیں گے۔ “ اس نے مسکرا کر جواب دیا تھا۔
”مگر یہ سامان تو امدادی ہے غریبوں کے لیے، تو غریب کب سے ہوگیا۔ “ میں نے اسے ڈانٹ کر پوچھا تھا۔
”جی سبھی جمع کررہے سے تے میں بھی کرریاں۔ “ اس نے جواب دیا تھا۔
میں اسماعیل اور رفیق کا ہاتھ پکڑ کر انہیں گھر لایاتھا، انہوں نے کہا بھی کہ یہ سامان اُٹھالیں مگر میرے غصے کو دیکھ کر وہ بھی خاموش ہوگئے تھے۔

گھر پہنچا ہی تھا کہ اباجی گھر میں داخل ہوئے، ان کے ہاتھ میں گھی کا ڈبہ اور اماں کے ہاتھوں میں دودھ کے پیکٹ تھے، مجھے دیکھ کر ان کے چہرے کِھل اُٹھے، سامان بستر پر ڈال کر انہوں نے مجھے گلے لگایا، میری ماں نے میرے ماتھے کو چوما۔ ان کا چہرہ آنسوؤں سے بھر گیا تھا۔

مگر میں اپنے اندر کے غصے کو نہیں چھپا پا رہا تھا، وہ لوگ بیٹھے بھی نہیں تھے کہ میں نے غصے سے پوچھا۔
”ابا جی یہ سامان کہاں سے لائے ہو؟ “ میں نے سوال کیا تھا۔

”میں اِدھر کیمپ میں رہ رہا ہوں۔ ادھر ہی سامان دے جاتے ہیں تو پھر اسے ہم لوگ گھر لے آتے ہیں، “ انہوں نے جواب دیا۔ پہلی دفعہ میں نے اپنے باپ کو جھکی نگاہوں سے بات کرتے ہوئے دیکھا تھا۔

میں حیران رہ گیا۔ یہ میرے چٹہ بٹہ کے ابا جان جنہوں نے ساری زندگی مجھے محنت کرنا سکھایا جنہوں نے کبھی ہاتھ نہیں پھیلایا، جنہوں نے ہمیشہ دیا، آج ان کو کیا ہوگیا ہے۔ ان کا پوتا سڑکوں پر ٹرکوں کے پیچھے امدادی سامان لوٹ رہا ہے، وہ خود اس بڑھاپے میں کسی کیمپ میں لیٹے ہوئے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ امدادی سامان جمع کرسکیں۔ پورا شہر اگر بھکاری ہوجائے گا تو کیا یہ بھی بھکاری ہوجائیں گے؟ شہر میں تو ایسے بھی بہت لوگ ہیں جن کا گھر گِر گیا ہے۔ سامان دَب گیا ہے لیکن ان لوگوں نے امداد ٹھکرادی ہے۔

مجھے ایسا لگا جیسے بوڑھے ہونے کے ساتھ ساتھ وہ میرے لیے اجنبی ہوگئے ہیں۔ یہ زلزلہ جس نے لاکھ سے اوپر آدمی ماردیے اور پانچ لاکھ سے اوپر زخمی کردیے، پہاڑوں کو ہلادیا، بلڈنگوں کو گرادیا، ندی نالوں کے راستے بدل دیے، یہ سب تو مالی جانی نقصان تھے، یہ تو ہوتا ہی ہے، یہ تو ہوتا ہی رہے گا۔ مگر یہ زلزلہ میرے اباجان کو بھکاری بنادے گا، میرے بچوں کو فقیر کردے گا۔ میری بیوی، میری ماں امدادی سامان کا انبار لا کر گھر میں ذخیرہ کریں گے، میرے چٹہ بٹہ، مانسہرہ، ہزارہ، کشمیر، کوہستان اور بشام کے ایماندار، محنتی، غیرت والے لوگ اتنے بے غیرت ہوجائیں گے۔ میں صرف سوچتا ہی رہا، جلتا ہی رہا۔ نہ جانے کب تک اپنے گھر میں خود بھی مجرم بنارہا، خود ہی وکالت بھی کی اور خود ہی فیصلہ بھی دیا۔

اس دن چٹہ بٹہ کے لوگوں نے دیکھ لیا کہ میں نے اپنے گھر کے سامنے ترکی کا کمبل بچھا کر اس پر یو این او کے تیل کے ڈبے، لندن کے سوئیٹر، ملتان کی چادر، کراچی کے بسکٹ، لاہور کے دودھ، جرمنی کے ٹینٹ، ایک کے اوپر ایک رکھ کر آگ لگادی تھی۔ پورے چٹہ بٹہ کے لوگوں کے سامنے۔ آگ شام تک جلتی رہی تھی۔
اس دن افطار کے بعد میرا باپ، میری ماں گھر میں سوئے تھے، مجھے اپنے پرانے لحاف میں گہری نیند آئی تھی۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2